میڈیا اور سوشل میڈیا

ایذا رسانی ، بد خوئی ، بد گمانی،کردار کشی ،کیڑے نکالنا، وڈے وڈے علمی ،نسلی ، ولائتی(ولی اللہ آلے) جدی پشتی خاندان والوں کو شاید نہ معلوم ہو کہ کچھ زیادہ پرانے وقتوں کی بات نہیں ابھی شمپو "میرے جیسے نچلے طبقے کے لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوتا تھا"۔یہ شمپو عام نہیں ہوا تھا .

تو کرانچی کے ساحل سے لیکر تابہ اے خاک وزیرستان تک کی زنانیاں ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے سر سے جوئیں نکالا کرتی تھیں۔

اور پورے گاؤں ،محلے کی خبریں بی بی سی کے اینکرز کی طرح رپورٹ کرتی تھیں، بریکنگ نیوز کسی ایک "خوش باش" ،" خوش شکل"،"خوش مزاج" یا کسی اپنے حال میں مست رہنے والے /والی کی کردار کشی پر اس دائرے سے نشر ہو کر پورے گاؤں ،محلے میں پھیل جایا کرتی تھی.
ہوتا یہی تھا کہ اس "خبر" کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی تھی، اپنے آپ کو "اللہ کے خاص بندے" "شو" کرنے والوں کی " ذہنیت" کی تسکین کیلئے چلائی ہوئی بریکنگ نیوز ہوتی تھی۔

بس بات اتنی سی ہے کہ ہماری اکثریت اس "دائرے کی زنانیوں" والی  عادات کا شکار ہو چکی ہے۔ہماری زبانوں سے  قصہ گوئی، بہتان " ، الزام تراشی، جھوٹ اتنی روانی سے جاری ہوتا ہے کہ سننے اور کہنے والا دونوں سمجھ رہے ہوتے ہیں،لیکن اس "دروغ گوئی" کے چسکے کو چھوڑنا نہیں چاھتے۔

اخبارات ،ٹی وی ہو سوشل میڈیا ہو،۔ہماری روزمرہ کی محفلیں ہوں۔یا دو بندوں کا اجتماع ہو،ہمارا موضوع اسی "چسکے"سے شروع ہوتا ہے اور اسی چسکے پر ختم ہوتا ہے، ملیں گے اگلی بار تک اگلا "چسکا" پیش خدمت ہو جاتا ہے۔ہماری محفلوں کا موضوع سیاست،ملکی حالات، مذہب، یا دوسروں کی "جیبوں" میں جھانکنا ہوتا ہے۔
اور یہی کچھ ہمیں آجکل کے "میڈیا" اور "سوشل میڈیا" پر نظر آرہا ہے۔

ہم مان لیتے ہیں کہ "میڈیا" صیہونی طاقتوں کے ہاتھوں بکا ہوا ہے۔یہ میڈیا عموماً کسی "خصوصی" مفاد کیلئے عوام کے "اذہان" کا رخ موڑنے کیلئے متحرک ہوتا ہے اور اس کی "قیمت"وصول کرتا ہے۔
میڈیا اگر "قیمت" وصول کرتا ہے تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟ میڈیا کی آمدنی ہی اشتہار بازی ہے،جو پیسہ لگائے گا وہ اپنا اشتہار چلا سکتا ہے۔

"میڈیا"۔۔ اخبار یا ٹی وی فی سبیل اللہ دکان کھول کر نہیں بیٹھا ہوا۔انہیں اپنی "دکان" چلانے کیلئے "فنڈ" کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کا مقصد ہی کاروبار کرنا ہوتا ہے۔
اصل "اہمیت" ناظرین ،قارئین، سامعین کی ہوتی ہے،کہ ان کی ذہنی بلوغت کتنی ہے۔یہ ان "خبروں" سے کیا سمجھتے ہیں۔اپنا اچھا برا سمجھنے کی "ذہنی صلاحیت"رکھتے ہیں کہ نہیں۔۔۔یا صرف بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہیں جدھر مرضی ہے ہانک لیا جائے۔

مان لیا "میڈیا" شیطانوں کا ٹولہ ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اچھے اچھے "نیک پروین" مذہبی و سیاسی ہستیوں کو بھی "جھوٹ" اوربے بنیاد باتوں کا پروپاگنڈا کرتے دیکھا ہے۔
مجھے تو ایسا ہی لگتا ہےکہ ہماری قومی ذہنیت ہی "دائرے کی زنانیوں" جیسی ہے اور ہم میڈیا ہوں یا سوشل میڈیا یا ہماری نجی محفلیں ہوں ہم "چسکے"کی بری عادت کا شکار ہیں جو کہ لاعلاج ہے۔
ہم اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنے کی تکلیف گوارہ ہی نہیں کرنا چاھتے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا میڈیا اور سوشل میڈیا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:19 PM Rating: 5

13 تبصرے:

افتخار راجہ کہا...

ہمارے معاشرے میں تعلیم تو بہت نہیں تو کافی عام ہوچکی ہے، مگر تربیت کی کمی ہے، لوگوں کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں زور ان سے چھڑوائی کی کوشش تو درکنار محرک بھی موجود نہیں ہے۔
اسی وجہ سے، غیبت، چغلی، بہتان تراشی، جھوٹ، رشوت، اقرباء پروری، حق بات کا فقدان یہ سب مسائل معلوم ہونے کے باوجود بھی انکے تدارک پر کوئی کام نہیں ہورہا، قوموں کو اجتمائی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، میڈیا اس میں بڑا کردار ادا کرسکتا ہے، مگر نہیں کرتا کہ اسکے اپنے کچھ ٹارگیٹس ہیں، اب ذمہ داری سوشل میڈیا پر ہے۔ ہم پر ہے آپ پر ہے

جواد احمد خان کہا...

ارے بھائی یہ کہیں مجھ پر تو نہیں لکھ دیا ہے؟

شیخو کہا...

بہت ودیا اور چھبتی ہوئی تحریر

Ashraf کہا...

مان لیا “میڈیا” شیطانوں کا ٹولہ ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اچھے اچھے “نیک پروین” مذہبی و سیاسی ہستیوں کو بھی “جھوٹ” اوربے بنیاد باتوں کا پروپاگنڈا کرتے دیکھا ہے۔ agree sir

ایم بلال ایم کہا...

بے شک میڈیا (ٹی وی چینل اور اخبار وغیرہ) چلانے کے لئے اشتہار کی ضرورت ہوتی ہے مگر پھر بھی کچھ اصول ہونے چاہیئں۔ میڈیا ریاست کا اہم ستون ہوتا ہے، لہٰذا ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ کوئی بھی مالدار اسے خرید کر اپنی مرضی سے چلائے۔
بہرحال آپ کی تحریر سے کافی حد تک متفق ہوں۔ سوشل میڈیا کے بارے میں میرا کہنا ہے کہ یہ عوام کا آئینہ ہے۔ عوام کی ساری اخلاقیات اور بہت کچھ یہاں کھل کر سامنے آتا ہے۔ جیسے عوام ویسا ان کا سوشل میڈیا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹرجواد صاحب
کیوں بیست کرتے ہیں جی
ایسی گستاخی اور ہم توبہ توبہ جناب۔
یہ ایک میڈیا پر ایک لکچر سننے کو ملا تھا۔
لیکن موقع ایسا تھا کہ کچھ بولنا خطرہ جان بن جاتا اس لئے یہاں پر لکھ دیا ؛ڈڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

متفق راجہ جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شکریہ جناب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ریاست کی چھت ہی "موروں موری " ہو رہی ہے جناب
پانچویں ستون نے کھوکھلا ہی ہونا ہے۔
اس دور میں تو میڈیا ریاست کیلئے ایک اہم طاقت ہے۔
عوام کی ذہنی تربیت اخلاقی تربیت معاشرتی تربیت
یہ سب ترقی یافتہ ممالک میں میڈیا کر رہا ہے
اور ہمارا میڈیا "ہمیشہ کیطرح" ساڈی کتی چوراں نال رل گئی اے۔
اب یہ "اللہ والوں" کا پرو پاگنڈا ہے یا حقیقت کسی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔

محمد سلیم کہا...

میں نے ساری تحریر بغور پڑھ لی ہے، یہ بے شک ڈاکٹر جواد خان صاحب پر تو نہیں لکھی گئی مگر کہیں ---- ؟ اللہ معافی دے جی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب
مجھے قطعی نہیں معلوم کہ ڈاکٹر صاحب اور آپ کو کیوں شک ہوا؟
اگر مجھے کسی "خاص" شخصیت پر لکھنا ہوتا ہے تو
میرا گمان ہے کہ آپ اور ڈاکٹر صاحب میرے مزاج کو سمجھتے ہوں گے۔
میں لگی لپٹی بغیر لکھتا ہوں۔

جاويد گوندل - بارسيلونه ، اسپين کہا...

زبردست - آئينه تحرير-

افتخار راجہ کہا...

یہ مرشد ملاقات کرچکے میڈیا کا ایک بابے سے المشہور اوریا مقبول جان ادا، بس اسی کا دورہ لگے مجھے تو

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.