مہاتما جی کی تلاش

اتنے پرانے زمانے کی بات بھی نہیں ہے۔ بڑی بوڑھیوں نانیوں دادیوں سے ایک سبق آموز کہانی تو ہر کسی نے سنی ہوگی۔
ایک شخص کو کاہلی اور سستی نے مجبور کیا تو اسے بھوت کو قابو کرنے کی سوجھی تو "چلے" کاٹنے لگا کہ کوئی جنتر منتر سیکھ کر بھوت کو قابو کیا جائے۔جب کچھ نہ بن پڑا توجنگل کے باسی ایک مہاتما کے پاس گیا اور دست بدستہ عرض کیا کہ  بھگوان مجھے کوئی ایسا منتر بتائیں کہ بھوت میرے قابو میں آجائے ۔
اور میرا ہر کام کر دیا کرے۔
مہاتما نے پہلے تو سمجھایا بچہ بھوت قابو کرنے کا خیال چھوڑ اور محنت کر سستی نہ کر۔بھوتوں میں اچھے بھوت اور برے بھوت ہوتے ہیں ۔
اچھے بھوت تو ویسے ہی کسی کے قابو میں نہیں آتے اور ہر کسی کے کام آتے رہتے ہیں۔
جو بھوت قابو میں آتے ہیں وہ ہمیشہ برے بھوت ہی ہوتے ہیں۔
جب "کام" نہیں رہتا تو بھوت بندہ کھا جاتے ہیں۔
لیکن وہ شخص نہ مانا اور مہاتما کو مجبور کیا کہ اسے بھوت قابو کرنے کا منتر سکھایا جائے۔


مہاتما نے مجبور ہو کر آخر کار اسے بھوت کو قابو کرنے کا منتر بتا دیا۔
اس شخص نے بھوت کو قابو کر لیا۔اب بھوت نے کہا۔
کام بتا۔۔۔۔۔
بھوت والے صاحب نے کہا ایک محل بنادے، فٹ محل تیار۔
کام بتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب محل کو مال ودولت سے بھر دے۔
مال و دولت حاضر
کام بتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس اسی طرح یہ کاہل اور سست ھڈ حرام شخص اپنے کام کرواتا رہا۔ بھوت کا مقصد تو "جواز" بنا کر اس ہی ہڑپ کرنا تھا۔کسی سے کام لینا بھی ایک محنت طلب کام ہوتا ہے۔ جاپان میں کسی کمپنی یا فیکٹری کے مالک کو" شاچو" کہا جاتا ہے۔ اور جاپانی کہتے ہیں کہ "شاچو" بننا انتہائی آسان ہے لیکن "کام"حاصل کرنا اورکسی سے کام لینا انتہائی کٹھن ہے۔
جب سارے کام ختم ہوگئے تو بھوت  سر پر سوار کہ
کام بتا۔۔۔۔۔۔
ورنہ میں تجھے ہی کھا جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھاؤں کھاؤں
وہ شخص مہاتما کے پاس گیا اور جان بخشی کا کوئی نسخہ پوچھا۔
بس جناب مشہور معروف کام بھوت کو کرنے کیلئے مہاتما نے اس شخص کو بتا دیا۔
یعنی بھوت کو کتے کے دم سیدھی کرنے پر لگا دیا گیا۔
بھوت سے جب کتے کی دم سیدھی نہ ہوئی تو  "ٹیبل ٹاک" کے بعد "ڈیل" ہوئی کہ جو کچھ دے دلا دیا وہ تیرا  کتے کی دم سیدھی کرنے کا کام مجھ سے نہ لے اور میری جان چھوڑ!!۔
بحرحال کتے کی دم تو ٹیڑھی کی ٹیڑھی رہی اور بھوت نے بھی شکر کیا کہ جان چھوٹی لاکھوں پائے!!۔
لیکن سبق اس کہانی سے جو مجھے حاصل ہوا اور اس کے بعد میں بھی "بھوت" قابو کرنے کا سوچتا ہی رہا ہوں۔
یعنی "وہ شخص" تو مالدار ہو ہی گیا نا!!۔
ایک بار مجھے ایک مہاتما صاحب ملے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ کوئی"بھوت" قابو کرنے کا طریقہ ہی سمجھا دیں!۔
مہاتما جی نے ہنس کر مجھے بتایا تھا کہ جیسے تمہاری نانی ،دادی نے تمہیں "بھوت" اور "کتے کی دم" والی سبق آموز کہانی سنائی ہے اسی طرح "بھوت کی نانی" نے بھی بھوت کو یہ سبق آموز کہانی سنائی ہوئی ہے۔
اب اگر بھوت کے بچے سے کہا جائے کہ کتے کی دم کو سیدھا کر تو وہ کہے گا ٹھیک ہے سیدھا کر دیتا ہوں۔
"کتے کی دم" سیدھی ہو نہ ہو بھوت نے دم کاٹ کرتیری "کٹ" لگانی ہے اور ساتھ ساتھ کہنا یہ دم سیدھی اسی طرح ہی ہوگی کہ  تیری اس سے "کٹ" جاری رکھی جائے۔
میں یہ سن کر بھوت کو قابو کرنے سے تائب ہو گیا تھا!!۔
لیکن آجکل مجھے مہاتما جی کی  تلاش ہے، کہ میرے ہاتھ بھوت کو مصروف رکھنے کا نسخہ لگ گیا ہے۔
بھوت میرے قابو آگیا تو پہلے تو میں  اس سے خوب مال حاصل کروں گا۔
جب میرا "کام" نکل جائے گا اور بھوت کہے گا کہ
کام بتا۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ تجھے کھا جاؤں گا ۔۔تو
میں نے اس بھوت کوپاکستان کے مسائل حل کرنے پہ لگا دینا ہے۔ اول تو ہمارے ابا جی سے ملاقات کرتے ہی بھوتنی کا بھاگ جائے گا ہمارے ابا جی سے بچ گیا تو مسئلہ ہی کوئی نہیں، ہمارے پاس پورا مسائلستان ہے۔
تحریک پاکستان طالبان والے  ہی اسے بھوتنی کا بنا دیں گے۔ چل بھوتنی کے پھٹ
الطاف بھائی کو تو پہلے ہی اس کا سائز بتا دوں گا۔۔۔۔ایک ہی بار میں بوری بند۔۔۔۔۔ بے شک لگا رہے ۔۔کھاؤں ۔۔ کھاؤں۔۔۔
شریف برادران نے تو ایسی کورنشیں اس سے بجوانی ہیں کہ کمر فولڈ کروا کر فاؤنڈری سے نئی بنوانے جائے گا۔
اپنے پیارے سابق صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان زرداری صاحب کو کیسے سرٹیفائی کرے گا؟
دو چار جرنیلوں نے ہی اس سے سوسائیٹیاں بنوا بنوا کر اس کی سٹیاں بجا دینی ہیں۔
پنجاب ٹو، سندھ ٹو، بلوچستان ٹو، پختونخواہ ٹو بنانے پہ لگا دوں گا ۔۔آپے ہی کھاؤں ،، کھاؤں کے بجائے ٹوں ٹوں کرتا پھرے گا۔
بجلی ، پانی ، گیس کی قلت کو دور کرنے پر لگا دیا تو اپنا ہوا پانی بھول جائے گا۔
اس کے علاوہ نا ختم ہونے ہزاروں کام بھوت صاحب کو دیئے جا سکتے ہیں۔
فی الحال مہاتما جی کی تلاش ہے۔




مہاتما جی کی تلاش مہاتما جی کی تلاش Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:23 PM Rating: 5

7 تبصرے:

محمد سلیم کہا...

آپ مہاتما کی تلاش جاری رکھیں، میں نے تو ابھی سے ہی کام سوچنے شروع کر دیئے ہیں، آخر میں بھی تو اسی پاکستان کا ہی باسی ہوں ناں۔ کچھ حق تو میرا بھی ہے ناں اس بھوت پر۔

افتخار راجہ کہا...

یا سرکار یہ کچھ آپ پاکستان کے زیادہ ہی خلاف لکھ گئے ہیں، اور اس پر آپ کو کسی محب وطن پاکستان سے گالیاں پڑنے کے شدید امکانات ہیں۔
آپ پاکستان کی خوبیاں بیان کیا کریں، سبزہ ذاروں کا ذکر کریں، مزاروں کا مت کریں۔
محنتی کاریگروں کا ذکر کریں، خرکاروں کا مت کریں
4000 روپئے ماہانہ پڑھانے والے استادون کا ذکر کریں، پانچ کروڑ ڈکارنے والے سیاہ ست دانوں کا مت کریں

پاکستان کو بھوت کی لوڑ نہین ہے، ادھر کچھ کرنے والوں کی ضرورت ہے، مگر وہ ہین نہین

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سلیم بھائی مہاتما جی کو تلاش کریں۔۔کام سوچنے پر وقت ضائع نہ کریں ؛ڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہم کونسے پاکستان کے سبزہ زاروں میں "چر" رہے ہیں۔'ڈ

علی کہا...

ماشااللہ نیک کام ہے۔ تلاش جاری رکھیں لیکن مل جائے تو ایک آدھ ہزار ہمارے کام بھی کروا دیں

سعد کہا...

بھوت نے آپ کی تحریر پڑھ لی ہے!!!۔

ابوعبداللہ کہا...

بہت عمدہ پاکستان میں ایسے بھوت پہلے ہی بڑے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا ہر مسلہ کتے کی دم ہے سو بڑے بھوتوں کے بعد اب اگلی نسل عوام کو کتے کی دم سے پھنٹی لگانے کی تاڑ میں ہے-

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.