قوت

مغربیوں اور دیگر مشرقی ترقی یافتہ اقوام سے مراسم سے ہمیں ان کی عقل کا انداز خوب کھلتا ہے۔عقل و دانش کی افراط کے باوجود یہ اقوام مذہبی خیالات کی صفائی کی سمجھ مطلق نہیں رکھتیں۔ ہمیں اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عقل دنیا اور عقل دین دو بالکل علیحدہ چیزیں ہیں۔


ہمارے اس جدید زمانے میں بہت سی عقلمند و دانشور قوموں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے۔جو باوجود "پیداوار" کی عقل و دانش سے دنیاوی ترقی میں یکتا ہیں لیکن مذہبی معاملات میں عاجز نظر آتی ہیں،
یہ قومیں دنیا حاصل کرنے کے ہزاروں علمی طریقے جانتی ہیں،جدید علوم و فنون میں درجہ کمال رکھتی ہیں۔لیکن مسئلہ توحید سے تقریباً تمام تر ہی بے خبر ہیں۔

خالق واحد کی پرستش کا "علم" ان کی سمجھ میں ہی نہیں آتا! اہل مغرب ہوں یا مشرقی ترقی یافتہ قوموں میں سے اہل جاپان ہی کیوں نہ ہوں بت پرستی توہم پرستی سے قطعی خالی نہیں ہیں۔

اہل مغرب ہوں یا دیگر ترقی یافتہ اہل مشرق کی اقوام ہوں ۔اعلی تہذیب ، اعلی اخلاق ، شائستگی میں نمونہ سمجھی جاتی ہیں۔ اگر یہ اقوام واحدانیت کی سمجھ نہیں رکھتیں بت پرستی سے خالی نہیں ہیں تو ہمارے لئے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔"شرک" کے باوجود اگر ان کا معاشرہ پُرامن ہے تو بھی کوئی تعجب کی بات نہیں!۔

ہمیں تعجب تو اہل اسلام سے ہوتا ہے کہ "سیزن" کے دنوں میں واحدانیت کا "علم" رکھنے والے ان ترقی یافتہ اعلی اقوام کی پیروی میں "خالص دینی" انداز میں ان کی "مشرکانہ مذہبی تقریبات یا ایونٹ"  میں نقل کرتے ہیں۔
جشن ولادت عیسی علیہ السلام یعنی کرسمس ڈے کی نقل بھی اہل اسلام ذوق و شوق سے مناتے ہیں تو عیسائیوں کی "خود اذیتی"کی نقل بھی اہل اسلام خوب دھوم سے مناتے ہیں۔عیسی علیہ السلام کو جلوس میں صلیب پر لٹکانے کا تعزیہ نکالنے کا "نقلی"بندوبست بھی اہل اسلام کے پاس موجود ہے۔

عیسی علیہ السلام کےحواریوں میں سے "غداروں" کو پہچان کر ان کی ہجو گوئی کا "نقلی"بندوبست بھی اہل اسلام کے پاس موجود ہے۔
پادریوں سے گناہوں کی بخشش کی طرح کا بندوبست بھی "مولوی و پیرومرشد" کی شکل میں اہل اسلام کے پاس موجود ہے۔

تیرویں صدی عیسوی تک اہل مغرب جس مذہبی "مقدس جنون" کا شکار تھا۔یہی حالت اس وقت اہل اسلام کی ہے۔نظریاتی، عقائدی اختلاف رکھنے والے کو قتل کرنایا قتل کی دھمکیاں دینا تشدد کرنا اس وقت کے اہل اسلام میں مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔(صاحب آپ کے پاس قوت انکار ہے؟)۔

اہل شرک کیطرح مزارات پر نذرانے چادریں چڑھانا مزارات پر جشن میلہ منانے کی تقریبات "دینی عقیدت" سے منانے کے "شرعی دلائل " اہل اسلام کے پاس کثرت سے موجود ہیں۔

اہل اسلام کی اعلی تہذیب ، اعلی اخلاق ، شائستگی پر "زبان درازی" کی ہم ہمت نہیں رکھتے۔قومیں یا تو اپنے ماضی کے تفاخر میں مبتلا ہوکر "نرگسیت" کی تباہی کا شکار ہو جاتی ہیں یا پھر حقیقت پسندی سے اپنی پسماندگی کا حل تلاش کرتی ہیں۔فی الحال اہل اسلام ماضی پر فخر سے زیادہ تکبر کا شکار نظر آتے ہیں اور  خود پسندی کی غایت نے اہل اسلام کے اذہان کو ماؤف کیا ہوا ہے۔

اسلام سے پہلے کی تاریخ میں نامور ترقی یافتہ اور اب تک ایک روشن اور تابناک تاریخ کے "وارثین" اہل روم اور اہل یونان ہیں۔لیکن اہل روم بھی اہل یونان کیطرح نیست ونابودہو گئے۔
رومیوں کی بربادی کے بعد کی کئی صدیاں یورپ جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا ہوا تھا۔عیسائیوں کے راہبوں کے علاوہ بہت ہی قلیل لوگوں کو لکھنا پڑھنا آتا تھا۔

یہ راہب اکثر اپنی چھوٹی چھوٹی حکومتیں رکھتے تھے یا حکومتوں میں بادشاہ سے زیادہ اثرو رسوخ رکھتے تھے۔اپنے اپنے کلیسا میں اپنے اپنے "خدا" سجائے بیٹھے ہوتے تھے اور "بعض" ملاؤں کیطرح ہر دوسرے اختلاف رائے رکھنے والے کو باطل ،واجب القتل ، سمجھتے تھے تو جنت پر صرف اپنا حق سمجھتے تھے۔

جسے خدا بھی بخش دے ان کی نظر میں ناقابل معافی ہوتا تھا۔"مذہب" ان عیسائی علماء کیلئے اپنے سے مختلف خیالات رکھنے والوں سے بغض عناد، نفرت کرنے کا ہتھیار بنا ہوا تھا۔

جب یورپ پر ظلمتِ جہالت چھائی تھی تو اس وقت اہل اسلام علوم پروری میں شہرہ آفاق ہورہے تھے ،اہل یورپ کا حال ایسا ہی تھا جیسا اس وقت اہل اسلام کا ہے، امن و امان کا فقدان ،امراء و عیسائی علماء کی کرپشن حبِ مال عوام کی زبوں حالی  کاچرچہِ عام تھا۔

اہل اسلام یورپ کے اسپین تک میں ایک عظیم سلطنت قائم کر چکے تھے اور ان کی علم پروری کی شہرت کا طوطی بولتا تھا۔صرف قرطبہ کے شہر میں سینکڑوں مدارس تھے، اور عیسائی دنیا سے عیسائی طلبہ "جدید علوم" سیکھنے اہل اسلام کے شہر قرطبہ کا رخ کرتے تھے۔یہ غیر ملکی غیر مسلم طلبہ مسلمان طلبہ کے ساتھ ایک ہی جگہ پر علم حاصل کرتے تھے!۔

اسی طرح جیسے دورِ حاضر میں دور دراز کے مسلمان طلبہ یورپ کا رخ کرتے ہیں اور انہی کے طلبہ کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں۔
یہ عیسائی طلبہ اہل اسلام سے علم حاصل کرتے تھے اور اپنے اپنے وطن واپس جاکر لوگوں کو علوم و فنون سکھاتے تھے یہ سلسلہ علم اندوزی ایک عرصے تک چلتا رہا۔

جس کے سبب اہل یورپ کی مختلف اقوام تعلیم یافتہ ہو گئیں۔اور علم کے ساتھ ساتھ طاقت ور بھی ہو گئیں۔ سچ یہی ہے کہ اصل طاقت علم ہی ہے۔ یہ علم ہی ہے کہ جو ایک آرام دہ کمرے میں ہاتھ میں چائے کا مگ لئے آرام سے بیٹھ کر دشمن کو" ٹارگٹ کِل" کیا جاتا ہے۔

"جہد" جستجو، محنت کرنے والوں کیلئے "علمِ دعا" ضرور کامیابی کا باعث بنتا ہے ورنہ "کام دہن" کا ایک وسیلہ ہی بن کے رہ جاتاہے۔چاہے اس کے لئے کتنے ہی پاکیزہ ، بزرگیدہ ،اور پہونچی ہوئی ہستی کے در پر سر ٹیک کر" منت" ہی کیوں نہ مانی جائے۔

اسپین کے اہل اسلام کی علم پروری اور علوم و فنون کی ترقی کی بدولت اہل یورپ صاحب علم اورصاحب قوت ہوئے۔ دن بدن لمحہ بہ لمحہ ان میں ترقیاں ہوئیں۔آخر کار اہل یورپ اُس پائیہ شائستگی کو پہنچ گئےجس کا حال ہم لوگ اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں جو دیکھ نہیں پاتے وہ سنتے ہیں۔اہل یورپ کی شائستگی اور قوت کا حال اہلِ واقفیت سے پوشیدہ نہیں۔ چاھے ہم کتنی ہی نفی کریں یا سر پٹخ لیں۔

اہل یورپ نے ایام جہالت میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا اور علوم جدیدیہ کو اسپین کے اہل اسلام سے حاصل کیا۔  یورپ والے جب اہل علم ہوکر طاقتور ہوگئے تو اہل اسلام والوں کو اپنے علاقوں سے "مار بھگایا"۔اسپین و پرتگال میں اب اہل اسلام کی "علمی و فنی نشانیاں" بچی کھچی نظر آتی ہیں ۔باقی "وہ " ہیں ، "تم" ہیں ، "ہم" ہیں، ہی بچا ہوا ہے۔
لیکن اہل یورپ  "قوت" کی حقیقت کو سمجھ گئے اور سختی کے ساتھ علم پروری کے "مقلد" ہو گئے۔

اہل اسلام اگر اس بات کے قائل ہیں کہ اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی  "علم" کی تکمیل ہوگئی تو پھر باقی اہل اسلام کیلئے "راہبانیت" ہی بچتی ہے ۔

اہل اسلام اگر "علم الدعا" میں دنیا و آخرت کی بہتری مانگتے ہیں تو اس کیلئے "عملی"جستجو ،،محنت ، ریاضت کی ضرورت کی نفی نہیں کر سکتے کہ اہل یورپ تو اس وقت بھی"ماضی کے حکمائے اہل اسلام"کے منکر نہیں ہیں،حکمائے اہل اسلام کے فلسفے کے اثرات جدید علم و فنون کے یورپ میں اب موجود ہیں۔

اہل اسلام اگر دنیا و آخرت میں سرخرو ہونا چاھتے ہیں تو "علم کی قوت" حاصل کرنا باگزیر ہے۔اس وقت دنیا اہل یورپ کی مفتوح ہے،اس کا ایک عام سا ثبوت ہمیں "کرسمس" کے دنوں میں ملتا ہے۔کہ ایسے ممالک جو کہ "واحدانیت" یا خدائے واحد کے "علم" سے بے خبر ہیں،وہ بھی انتہائی شوق سے "کرسمس" مناتے ہیں،اور نوے فیصد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ کس قسم کا "ایونٹ" ہے۔

یہ صرف اور صرف اہل یورپ کی "دنیاوی علمی برتری" کے ثمرات ہیں کہ ان کی مذہبی تقریبات مذہب سے قطعی دلچسپی نہ رکھنے والی "عوام و اقوام" بھی دھوم دھام سے مناتی ہیں۔
اگر اہل اسلام "علم پروری"سے دور رہے ان کا مذہب صرف "ملا ازم" اور "خانقاہیت" اور "جلوسوں"کا ہی رہا تو دنیاوی و آخری کامیابی ان سے دور ہی رہے گی۔

اہل اسلام "علمی قوت" سے اپنے دین کی حقانیت کو سمجھ  کر اہل طاقت ہوئے تو ضرور ان کی مذہبی تقریبات اقوام عالم بھی نہایت شوق سے منایا کریں گئیں۔ فی الحال اہل اسلام اپنے اندر کی "حق وباطل" کی جنگ میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ اور کیا دینوی کیا دنیاوی "علم" سے دور ہی نہیں انتشار کا شکار ہیں۔
قوت قوت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:08 PM Rating: 5

5 تبصرے:

شیخو کہا...

بہت اہم اور سوچنے کے قابل تحریر
اللہ آپ کو اس کی جز ا دے

خورشید آزاد کہا...

واہ ۔۔۔۔۔ یاسر یار آپ تو خواہ مخواہ جاپانی نہیں ہو بالکہ خاص جاپانی انداز میں ذہن کو استعمال کرنے کا ہنر سیکھ کر اصلی جاپانی بن گئے ہو۔

میں اتنا ہی کہوں گا کہ انسا نی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جب جب انسان مذہب کے نام پر اپنی عقل سے دستبردار ہوا ہے تباہی و بربادی اس کا مقدر بن گئی۔ اس زمین پر رہنے والی ترقی یافتہ اقوام یہ بات بہت پہلے سمجھ گئیں کہ مذہب کو عقل کا راستہ روکنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور اسی طرح مذہب کو عقل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش بھی فضول ہے۔

مذہب عام انسان کی ضرورت ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ مذہب عام انسان کی نفسیاتی ضروریات کے لیے انتہائی اہم دوا ہے، لیکن جیسے ہی عام انسان اس دوا کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرتا ہےمذہب عقل پر حاوی ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں مذہب کی دوا وبا بن جاتی ہے اورعام انسان نیم پاگل ہوجاتا ہے۔۔۔اسی کے نتیجے میں عام انسان اپنی عقل سے مکمل دستبردار ہوجاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور وہ ہر چیز کو ایک ہی زاویے سے دیکھتا ہے، اور ایک ہی پیمانے سے ناپتہ ہے، اور وہ زاویہ اور پیمانہ ہوتا ہے مذہب!!

محمد ریاض شاہد کہا...

گڈ جاب

محمدزین کہا...

بھائی جان! آپکی دو تحریریں پڑھیں، بڑا خُوب نقطہ نظر ہے آپکا۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک چیز مجھے سمجھ نہیں آئی کہ یہ مزاروں پہ چادریں چڑھاوے چڑہانا غلط ہے، لیکن اگر وہ چڑھاوے میرے نزدیک کسی غریب میں بانٹ دیے جائیں تو کسی کا پیٹ ہی بھر جائے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن عقیدت اور محبت میں اگر کوئی چادر چڑھائے کیا یہ بھی غلط ہے؟ میری تصحیح کیجیے!! دیکھا جائے تو غلط ہی لگتا ہے کیونکہ اگر اُسی چادر کا کوئی سُوٹ کسی غریب کا تن ڈھک دیتا تو کیا ہی مزہ آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی میرا نہیں خیال بیچارے قبر والے کیا کہتے ہونگے کہ جناب میری عزت تو آپ لوگ کرتے ہو، پر یار میری تعلیم پر بھی تو توجہ دو جو میں نے تُم تک پہنچائی۔۔۔ باقی بھید کی باتیں تو مجھے سمجھ نہیں آتیں۔۔۔ میری عقل تو ابھی اتنی ہی پروان چڑھی۔۔۔ کہ یہ مجذوب وغیرہ کا کیا چکر ہے۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جو دل کرے ویسا ہی کریں جناب۔
ہونی وہی ہے جو پیدا کرنے والے کو منظور ہو گی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.