کوئی چہچہے کرتا ہے، کسی کو قلق ہے

بلبل کو خزاں میں جان کھوتے پایا
صیاد کو سِرپٹک کے سوتے پایا


گُل چیں کی بھی نیند اڑگئی ،لِیک سرور
جو اَہلِ دَدَل تھے ، ان کو بھی سوتے پایا
مدتوں صداے مُرغ سَحَر کے رنج اٹھائے ، کبھی دَم نہ مارا ، شکوہ لب پر نہ لائے۔
برسوں نِداے اَللہ اَکبَر کے صدمے سہے ،شکر کیا، چُپ رہے۔
مہینوں گَجَر کی آواز نے دم بند کیا ، قَلَق جی پر لیا، نالہ نہ بلند کیا۔


سُوچے تو وصل مَہ رویاں، خواب شب تھا۔
لطف اُن کا عین غضب تھا۔ تمام عالم کی خوب سیر کی ،کبھی حَرَم مُحتَرم میں مَسکَن رہا، گاہ دھونی رَمانی کُنشت و دَیر کی۔
عالم سے آیہ ،فاضل سے حدیث ، ناصح سے پند سنا۔
ناقوسِ برہمن سُن سُن بُت ہو گئے۔ سِر دُھنا۔
وہ بدکیش، مانِعِ ملت صنم ، لُطفِ زیست ، حَظِ نَفس کا دشمن تھا۔
یہ کُوتہِ اَندِیش ، رَخنَہ پَردازِ اَہلِ ایماں ، دین کا رہ زَن تھا۔
تَاَ مُل کیا تو ان دونوں سے دور حسد ، بُغض ، بیر ہونا معلوم۔
اپنے نزدیک اِن کا انجام بہ خَیر ہونا معلوم۔ واللہ اعلم ، یہ لوگ کیا سمجھے!۔
خود اچھے ٹھہرے ِ اور کو برا سمجھے۔
مطلب کی بات ہَیہات دونوں کی سمجھ میں نہ آئی۔ افراط تفریط نے گونگا بہرا کیا ،لوگوں کو بے بہرہ کیا ، ذلت دلوائی ۔سب سے بہتر نظر آیا کُنج تنہائی۔
اچھے کو بُرا ، بُرے کو اچھا سمجھے
کتنی یہ بُری سمجھ ہے ،اچھا سمجھے
ماخوذ ـ فسانہ عجائب
از رجب علی بیگ سرور

کوئی چہچہے کرتا ہے، کسی کو قلق ہے کوئی چہچہے کرتا ہے، کسی کو قلق ہے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:21 AM Rating: 5
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.