ہلکا پھلکا روس کے بارے میں

ایک عرصہ ہو چکا ،کہ ہر سال روس کے ایک دو چکر لگ ہی جاتے ہیں۔کیو ںکہ ہمارے کاروبار کا زیادہ تر انحصار روسی گاہکوں پر ہی ہے۔ اس لئے تعلق کو پائیدار رکھنے کیلئے ان کی شکلیں دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔پہلی بار جب رشیا گیا تھا تو کوڑا کرکٹ گندگی سڑکوں کی بد حالی امن و امان کی تباہی دیکھ کر یہی محسوس ہواتھا کہ سویت یونین کا سرخ ریچھ تو بس اجڈ اور بیوقوف ہی ہے۔
ویسے بھی ہم رشین کسٹمر سے حقارت سے ہی پیش آتے رہے ہیں۔(یہ سچ ہے)

اپنا پاکستان رشیا سے لاکھوں درجے بہتر لگتا تھا۔
لیکن ان چند سالوں میں اس ملک نے جو ترقی کی الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔سان پیٹر برگ اور ماسکو تو تاریخی و مرکزی شہر ہونے کی وجہ سے کافی خوبصورت اور بہتر حالت میں تھے۔لیکن دیگر اندرونی علاقوں کا امن و امان تباہ تھا۔ مافیا کا ہی طوطی بولتا تھا۔لیکن پوٹن کی بادشاہت میں تقریباً سارے ہی بڑے بڑے بدمعاشوں کو انڈر گراونڈ کر دیا گیا یا پھر ہڈیاں بھی بے رحمی کے ساتھ غائب کر دی گئیں۔

کرپشن ہمارے پاکستان کی طرح ہی عام ہے۔ہر سرکاری کام کیلئے سفارش یا رشوت عام سی بات ہے۔پولیس کی کرپشن بھی عام سی بات ہے۔لیکن عام شہریوں کی زندگی میں کافی بہتری آگئی ہے۔
گلی کوچے گندگی سے پاک ہوچکے ہیں۔ سڑکیں خوبصورت کشادہ اور دیدہ زیب ہیں۔ آج سے چار پانچ سال پہلے طوائفیں اوردلال گلی کوچوں میں کھڑے ہوتے تھے۔ اب نظر نہیں آتے۔ شام اندھیرا ہونے کے بعد باہر چہل قدمی کرنا خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب رات دیر تک ریسٹورنٹ اور دکانیں کھلی رہتی ہیں۔
پولیس کن ٹٹوں سے سختی سے پیش آتی ہے۔

ایک دلچسپ بات جو میں نے پہلی بار رشیا میں دیکھی تھی اور اب بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ ٹریفک کا نظام ہے۔ پہلے تو ٹریفک سگنل نا ہونے کے برابر ہوتے تھے۔ اب موجود تو ہیں لیکن بہت ہی کم تعداد میں۔
ٹریفک کا ہجوم بہت ہوتا ہے۔ لیکن مجال ہے کہ ہمارے پاکستان کی طرح پوں پاں کا شور ہو۔ اور "میں " پہلے جیسی دھکم پیل بھی نہیں ہوتی۔لوگ ایک دوسرے کو اطمینان سے رستہ دیتے ہیں۔ ایک انچ کی خالی جگہ ملنے پر وحشی بیل کیطرح گھسے نہیں چلے آتے ۔

یہ بات نہیں کہ رشین میں آپا دھاپی نفسا نفسی کا فقدان ہے۔اس معاملے میں ہم پاکستانیوں سے کسی طرح کم نہیں، مادہ پرستی ان لوگوں میں بے انتہا پائی جاتی ہے۔ لیکن "اندرونی" طور پر ان لوگوں میں  اپنے حال پر عجیب سی بے چینی پائی جاتی ہے۔زیادہ تر ملحد ہیں لیکن خدا کی جستجو میں بھی ہیں۔
نچلے درجے کی مزدوری کرنا عام رشین پسند نہیں کرتے ۔زیادہ تر مزدور طبقہ چائینز اور ازبک تاجک قزاف وغیرہ کا دیکھا ہے۔

جس حساب سے روس کی آمدنی ہے اس حساب سے حکمران طبقہ عوام کی سہولیات پر خرچ نہیں کرتا۔ زیادہ تر آمدنی بالا بالا ہی کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے۔
لیکن پہلے کی نسبت اب کافی حد تک عوام کی سہولیات پر خرچ کی جا رہی ہے۔
کھیل کود کی میدان پارک سڑکوں کی تعمیر تیز رفتاری سے جا رہی ہے۔
سال بہ سال شہر خوبصورت ہوتے جا رہے ہیں۔

سرکاری سکول کالج کے تعلیمی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تعلیمی معیار بھی بہتر ہے۔شرح خواندگی تقریباً سو فیصد ہے۔مشرقی علاقوں کی زیادہ تر آبادی شکل و صورت اور مزاجاً ہمارے شمالی علاقہ جات کے لوگوں کی طرح ہی ہے۔ایشیائی علاقوں کے لوگ "مکس" ہونے کی وجہ سے حسین و جمیل ہیں ۔یورپ کی طرف کے لوگ لمبے چوڑے اور بے ڈھنگے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر دیگر روز مرہ کے استعمال کی اشیاء تقریباً چائینا ، کوریا، وغیرہ سے ہی درآمد کی جاتی ہیں۔ مہنگائی بے تحاشہ ہے۔پرائیس کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے تاجروں کی من مانی لوٹ مار عام ہے۔ لیکن پھر بھی عوام افورڈ کرنے کی معاشی طاقت رکھتے ہیں۔ذہین اور پڑھا لکھا یا پھر مالی طور پر مضبوط طبقہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔

زیادہ تر کی وجوہات عدم تحفظ اور موسمی حالات کی سختی ہے۔لیکن زیادہ تر آبادی محب وطن ہی ہے۔عوام دیگر "معاملات" میں "اچھے" نہ ہونے کے باوجود نظم و ضبط کے پابند نظر آتے ہیں، اس کی وجہ صرف ایک ہی سمجھ آتی ہے۔ کہ ہر بالغ ہونے والے مرد پر ایک سال کی فوجی ملازمت لازمی ہے۔
چند سال پہلے تک یہ فوجی ملازمت دوسال تک لازمی ہوتی تھی اور اب ایک سال تک کر دی گئی ہے۔روس کے ملکی حالات کا مشاہدہ کرنے سے یہی بات محسوس ہو تی ہے۔ کہ یہ ملک چند سالوں میں معاشی طور پر بہت ترقی کرے گا۔

ہم پاکستانی "باہر" کی کمائی کے حسن کے گرویدہ ہیں اور اپنی اگلی پچھلی نسلوں کو "غلامی میں دیس بدر" کرکے زرمبادلہ کمانے کو قابل فخر محسوس کرتے ہیں۔اب رشیا کو بھی غلام برآمد کر سکتے ہیں۔ عام مزدور ہزار سے پندرہ سو ڈالرآسانی سے کما سکتا ہے۔گلی کوچوں سے کچرا اٹھانا ٹٹیوں کی صفائی تعمیراتی کاموں کی مزدوری وغیرہ مزدوری روس میں نہایت آسانی سے مل سکتی ہے۔یورپ اور عرب ممالک کی معاشیت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ان ممالک میں اب مزدوری آسانی سے نہیں ملتی ۔ابھی سے اگر روس کیطرف "غلام" برآمد کرنا شروع کر دیئے جائیں تو  مستقبل میں ہمارے پیارے وطن کو "تارکین محب وطن" کا زرمبادلہ آنا شروع ہو جائے گا اور ہماری "باہر" کی کمائی کا جگاڑ لگا رہے گا۔
جیوے ملالہ و ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان پائیندہ باد

ہلکا پھلکا روس کے بارے میں ہلکا پھلکا روس کے بارے میں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:12 PM Rating: 5

7 تبصرے:

raina jaffri کہا...

bohat achay.

مہتاب عزیز کہا...

جناب عالی روس میں بہت کچھ تھا جس کی معلومات آپ ہمیں مہیا کر سکتے تھے لیکن معلوم نہیں کہ آپ اجکل اتنے سڑے ہوےٴ کیوں لگ رہے ہیں۔ روس سے برنال خرید لیں۔ ہمیں آپ کی مزید تحرروں کا انتظار رہے گا۔

نعیم اکرم ملک کہا...

کم از کم ایک لحاظ سے تو روس ہم جیسا ہے، کہ پڑھے لکھے ترقی یافتہ بندوں کا جوں ہی ہاتھ پڑتا ہے باہر بھاگ جاتے ہیں۔
پریشان مت ہوں، راستہ کھلتے ہیں ایجنٹوں نے رشیا کو بھی پاکستانی محنت کشوں سے بھر دینا ہے۔ ویسے میرے حساب میں روس والوں کو سنٹرل ایشیائی ممالک سے سستی لیبر مل جاتی ہو گی؛ شاید ہمار جگاڑ نہ لگے۔
اگر محسوس نہ کریں تو بتانا پسند کریں گے کس قسم کا کاروبار کرتے ہیں آپ؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں پرانی گاڑیاں بچتا ہوں جی

ali کہا...

روس ہمارا بھی دیکھنے کا دل کرتا ہے پر ڈر لگتا ہے کوئی روسی ریچھ "چماٹ" مار کر کیمرہ تے بٹوا کھچ کے نہ دوڑ جائے کہ ان کے مقبوضات والوں کے حال ہم دیکھ چکے ہیں ۔
پر معاشی ترقی میں یہ بہت آگے نکلے گا ۔لکھ کر دے رہے ہیں ہاں کوئی ہمارے حکمرانوں سا چول آ گیا تو ہمارا ذمہ نشتہ

Aneesah کہا...

jANAB END PE AA K AAP KO mULLA Q yaad aa gaya?

منیر عباسی کہا...

بلاگستان ایگریگیٹر پر بھی اس بلاگ کی فیڈ نہیں آ رہیں۔ وہ تو اتفاقا پتہ چل گیا کہ آپ اب اپنے دل کی بھڑاس اس ٹھئے پر نکال رہے ہیں آج کل۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.