"پیالہ و جام"

"فارمی چوزے" سے پوچھا جائے کہ
"مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا؟"
فارمی چوزا "عینکاں" ٹھیک کرے گا انگلیوں میں دبے گولڈ لیف کے امپورٹڈ سگریٹ کو "ٹَشن" سے چٹخ جھاڑے گا۔
اور دانشورانہ انداز میں "ارشادے" گا کہ
انڈا "مشین" میں گرمایا جاتا ہے ،گرمائش سے انڈے سے چوزا نکلتا ہے  چوزا "مرغی" بنتا ہے۔اور مرغی انڈا دیتی ہے۔ اس لئے "چوزا" پہلے پیدا ہوتا ہے۔
فارمی چوزا مزید نخوت سے "ارشادتا" ہے۔کہ تم مسلمان اسی لئے جدید سائینس میں ترقی نہیں کرسکے کہ سوچوں پر پہرے بیٹھا رکھے ہیں!

"ٹھیکیداری چوزے" سے پوچھا جائے کہ
"مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا "
پاؤں میں "رُلتی" ٹوپی اٹھا کر جھاڑے گا دوچار پھونکیں مار کر اس ٹوپی کو باوضو کرے گا۔
بھنگ میں "ٹُن" سر اور کندھے جھٹک کر۔
اورپُرجلال آواز میں چنگھاڑے گا!
او ملحد ، سیکولر، تُجھے مرغی اور انڈے کی تخلیق پر سوچنے کی جراءت کیسے ہوئی!
کافر۔۔۔۔۔۔۔تجھ جیسوں کی وجہ سے ہی آج اسلام کی یہ حالت ہے اور مسلمان ذلیل ہورہا ہے۔

دونوں طرف سے دھتکارے جانے کے بعد "ککڑ" نے" بانگیں" ہی دینی ہوتی ہیں۔
بوجہ" مذکر" انڈے نہیں دیئے جا سکتے۔
"فارمی" چوزے کا مسئلہ" دنیا" دیکھ کراس سے مرعوب ہوکر اپنے پیدائشی "پراسس" پر احساس کمتری کا شکار ہونا اور اپنے "ڈی این اے" سے "الرجک" ہوجانا ہوتا ہے۔
"الرجک" ہوجانے کی وجہ سے یہ "اماں ابا" سے بھی حقارت کا سلوک کرتا ہے۔ اسے "اماں ابا" میں بھی "کیڑے" نظر آتے ہیں۔
اس "فارمی چوزے" کو یہی غم کھائے جا رہا ہوتا ہے ،کہ اس کے "اماں ابا " ، "ہیلری و کلنٹن" کیوں نہیں ہیں۔

"ٹھیکیداری چوزا" بھنگ کے پیالے سے سڑوکا لگا کر سرشاری سے مست "آہ" (سڑکاہ؟)بھرتا ہے۔ جب اس کے پیالے کیطرف حیرت سے دیکھا جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لال جلالی آنکھوں سے فٹ کفر کا فتوی دے گا۔
کافر "حرام شے" کی طلب کرتا ہے!۔
"ہم پیئیں تو حلال تو پئے تو حرام"
بچپن میں ہماری نانی ماں جب ہم سے خوش ہوتی تھیں تو ایک دعا دیا کرتی تھیں۔ہم دعا کا مطلب سمجھے بغیر خوش ہو جایا کرتے تھے۔
اس وقت صرف خوش ہوا کرتے تھے ،لیکن اب اس دعا کی گہرائی کو سمجھ کر صرف تڑپ کر پہلو بدل لیتے ہیں۔
دعا کچھ اسطرح ہوتی تھی۔
"تجھے اللہ ایمان کی زندگی دے اور ایمان پر خاتمہ کرے"
اس دیس میں ہماری ایمان کی حالت یہ ہے، کہ "صبح جیتے ہیں تو شام کو غیرمرئی کانٹوں سے لہو لہان ہو کر زخموں کو چاٹتے بستر پر مر جاتے ہیں"۔

صبح سے شام تک ایمان کے ترازو پر تولیں تو نظر نہ آنے والی خاردار جھاڑیاں ہی جھاڑیاں "پیراہن" تار تار کر رہی ہوتی ہیں۔
"دعوت" دیں تو کس طرح دیں؟
کس "شے" کی دیں؟
"اخلاقیات" ، "معاملات" جو کہ بتا دیا گیا ہے کہ "دینِ کامل" ہے۔
اس "دینِ کامل" کے معاملے میں تو" یہ" ، "مکمل" ہیں۔
اپنا تو "پیراہین" ہی تار تار ہے۔
"اپنے" اندر جھانکیں تو "دین کامل" سے کوسوں دور ہیں۔
رہ جاتا ہے ان کا  "حرامخور" ،خنزیر خور" ،"عیاش" ، "شرابی کبابی" ہونا!!
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھنگ کے پیالےکو تین دن چھٹی دے کر دیکھ لیں "سب" ،"حلال" ہو جائے گا۔
" ہم پیئیں تو حلال تُو پئے تو حرام"

رہ جاتا ہے ،ایک ہی "کام" کا ڈھنکے کی چوٹ پر مقابلہ ۔
کہ کس معاشرے میں "کمزورں" ،"کمسنوں" کی حرمت زیادہ پامال ہوتی ہے۔
"پیالہ و جام" "پیالہ و جام" Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:53 AM Rating: 5

7 تبصرے:

بنیاد پرست کہا...

صبح صبح اک اچھی تحریر پڑھنے کو ملی..
صاحب ہنسا بہلا کر اک دم بندے کو سنجیدہ کردیتے ہو.کمال ہے.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بات بڑی مختصر اور چھوٹی سی ہے ۔ شاید اس وجہ سے بہت سوں کی نظر نہیں پڑتی ۔ اللہ نے اپنا کلام اقراء سے شروع کیا ۔ اسیئ وجہ سے نہ ہم درست دین کا علم ہے اور نہ عمل

ali کہا...

وہ خوش قسمت ہیں جانتے تو ہیں کون ہیں ہم تو نہ فارمی ہیں نہ ٹھیکیدار

SIKANDAR HAYAT BABA کہا...

اچھی تحریر
اس تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کے اچھی نثری نظم لکھہ سکتے ہو

pardese کہا...

ایک اچھی اور سبق آموز تحریر

عمران اسلم کہا...

پیارے بھیا لکھا بہت خوب ہے، کاٹدار.

مہتاب عزیز کہا...

واہ مزاہ آگیا جناب۔ لگتا ہے بہت جل کر لکھا ہے، لیکن لکھا بہت خوب ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.