بیچارا کمبل

واہ یارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تاتاریوں کی افواج کو منت ترلے کرکے بغداد پر حملے کیلئے تیار کروانے والے مولوی صاحب یاد آرہے ہیں۔تاتاری خلیفہ پر حملے کرنے سے ڈر رہے تھے کہ مسلمانوں کا خدا ناراض ہو جائے گا۔مولوی صاحب نے راضی کر ہی لیا تھا! اور دیگر مولوی عوام کو فرقہ وارانہ حق و باطل کے جہاد میں مشغول کئے ہوئے تھے۔

پھر صلیبی جنگیں شروع ہوئیں تو مسلمان ہی اپنے ننھے ننھے ٹکڑوں پر حکمرانی کے شوق میں صلیبیوں کے معاونین بن جایا کرتے تھے۔تیمور لنگ (عظیم مسلمان ہیرو)جو ایک عالم دین بھی تھا۔نے ایک مجاہد کو جس نے صلیبیوں کو نتھ ڈالی ہوئی تھی۔اپنے رومان کی خاطراس مجاہد کو پنجرے میں بند کرکے مسلمانوں کو سرکس کا شیر دکھایا تھا۔
فدائی صلاح الدین ایوبی کو مارنے کے جتن کرتے رہے۔وجہ ابھی تک نامعلوم !!۔۔۔۔ہیں جی

پھر میری" ولادت باسعادت" ہوئی تو میں نے افغانستان کا مجاہدانہ دور امیر المومنین ضیا کے سائے تلے دیکھا۔پھر کشمیر کو فتح کرنے کی تڑپ میں مبتلا اپنے "آس پاس "  کےہم عمروں کو غائب ہوتے دیکھا۔

پھر امیر المومنین سید مشرف شاہ صاحب کو ہر داڑھی والے کو "بحکم خلیفۃ الخصوصین بش" دہشت گرد بناتے دیکھا۔اور "غائب ہونے  کا سلسلہ " ہنوزجاری ہوتے دیکھا ۔مولویوں کو گلی محلے کی مسجد سے لیکر سوشل میڈیا ،یو ٹیوب ،فیس بک پر اپنے مخالف فرقے سے جہاد کرتے دیکھا ۔
لال مسجد کے مولوی صاحب کی  زنانہ افواج کو ڈنڈے لئے شریعت کے نفاذ اور معاشرے سے برائیوں کے اختتام کیلئے جہاد کرتے دیکھا۔

پھر انہیں بے دردی ،بے حیائی ، سے جلاکر بھسم کرتے دیکھا۔عربوں کا تعصب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ہر دردمند مسلمان سے لیکر عالم دین و علما سو کوبھی امت محمدی کے اتحاد کا رونا روتے دیکھا۔

"مجاہدین" کو مسلمانوں کے ہی پڑ کھچے اڑاتے دیکھا۔فلسطینیوں کے الم کو کشمیریوں کے الم کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا۔ عراقیوں ، افغانیوں کے تہس نہس ہونے پر اپنے ہی دل کو  "حیرت" سے خون کے آنسو روتے دیکھا!
ہر طرف افراتفری دیکھی۔یہود و ہنوو نصاری کو اتنی بے دردی بے رحمی سے مسلمانوں کو مارتے نہیں دیکھا ۔جتنی بے دردی سے اسلام کے نام لیواؤں کے ہاتھوں مرتے دیکھا۔

ایک نہیں کئی بار اپنے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے حیائی کے ساتھ فسق و فجو ر ڈھٹائی کے ساتھ مذہب کے نام پر دھوکہ ہوتے دیکھا۔
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہی انتہائی بے حیائی کے ساتھ اسلام کا  نام لینے والوں کے ہاتھو ں مسلمان  کی حق تلفی ہوتے دیکھا۔
سیاسی جماعتوں ، مسلکی اختلافات کی بنیادوں پر ایک دوسرے پر فحش گوئی کرتے دیکھا۔
مصر میں مسلمانوں کے  ہاتھوں مسلمانوں کو قتل ہوتے دیکھا۔شام میں مسلمانوں کے ہاتھو ں مسلمانوں کا بہیمانہ قتل ہوتے دیکھا۔
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قاتل و مقتول دونوں کے "پرزور" حامیوں کو ایک دوسرے کی "مٹی پلید" کرتے دیکھا۔اب امریکہ شام پر چڑھ دوڑا ہے اور مسلمانوں کوامریکہ کی حمایت اور مخالفت پر "لڑتے " دیکھ رہا ہوں۔

اور مستقبل قریب میں مجھے نظر آرہا ہے۔ کہ امریکہ دور دور سے مزائیل پھینکے گا آسمان سے قہر بر سائے گا ۔اور مسلمان اسلام کے نام پر ایک دوسرے کی مجاہدانہ گردن زنی ہی کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔یارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں کہ "ادھر جاپان" میں ہر  کسی مسلمانی بیچنے والے سے دور میں کتنی "پُرسکون" اور "پُرامن " زندگی گذار رہا ہوں۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ساتھ بھی مسئلہ ہے۔کہ مسلمانی تو مجھے چھوڑ چکی ہے۔میں مسلمانی کو نہیں چھوڑ پا رہا!!
یعنی کمبل تو مجھے چھوڑ چکا ہے میں ہی کمبل کو نہیں چھوڑ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچارا کمبل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیچارا کمبل بیچارا کمبل Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:40 AM Rating: 5

18 تبصرے:

افتخار راجہ کہا...

بادشاہو آپ نے دو چیزیوں کا ذکر نہیں کیا کہ جنرل ضیاء کو مارکے کےلئے امریکہ نے اپنے دو جرنیلوں کی قربانی بھی دی، تو کچھ تو اسکے اندر تھا ناں رہی بات مشرف کی تو یہ تو انسانوں سے نیچے کے درجے میں آتا ہے، صرف طریقہ کار ہی نہ دیکھو کام بھی دیکھو، حضرت عمر بن عبدلعزیز بھی تھے اور انکی نسل کے ان سے پہلے اور بعد والے بھی، آپ نے سلاطین اسپین کا ذکر نہیں کیا، سسلی کی طوائف الملوکی کو بھول گئے، خوارزم شاہ کو بھول گئے، پرسوں کی بات ہے ٹیپو سلطان کے حق میں، نظام دکن نے کتنی کوشش کی، بنگال میں ہندوستان نے جو 71 مین کیا، سب وہی فلم ہے جو اب چل رہی ہے

اللہ ہی رحم کرتے تو کرے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

محترم ۔ وہ مولوی کون تھا جس نے تاتاریوں کو دعوت دی تھی ؟

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ خواجہ محمد بن محمد بن الحسن الطوسی المعروف ناصرالدین طوسی کی بات تو نہیں کر رہے ؟ وہ سائنسدان تھا ۔ مولوی عِلم کی اعلٰی سند رکھنے والے کو کہا جاتا تھا ۔ فی زمانہ تو مولوی لفظ کی مٹی پلید کر کے رکھ دی گئی ہے اور یہ انگریز قابض حکمرانوں کی پیروی میں ہوا ۔ انگریزوں نے ایک تحقیقی بنیاد والے نظامِ تعلیم کی جگہ کلرک بنانے والا نظام نافذ کرنے کیلئے تمام موجود مدرسے (تعلیمی ادارے) ختم کر کے علماء (علم رکھنے والے) قتل کر دیئے تھے یا جیلوں میں ڈال دیئے تھے ۔ طوسی نے تاتاریوں کو دعوت تو نہیں دی تھی رابطہ ہونے پر طوسی نے بتایا تھا کہ لوگ دین کی پیروی چھوڑ کر دین پر مناظروں میں مشغول ہیں ۔ بعد میں تاتاریوں نے طوسی کو وزیر اعظم بنا دیا تھا

افتخار اجمل بھوپال کہا...

سرکس کے شیر والی کہانی من گھڑت ہے ۔ اسی طرح جیسے بنگال کا حادثہ بلیک ہول

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی میں ناصر الدین طوسی کی ہی بات کر رہاہوں
میرے خیال میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہوں گے،کہ
اس دور کے سائینسدان دنیاوی و دینی علم کی اعلی ترین سند رکھتے تھے۔
بے شک سرکس کے شیر والی بات مشکوک ہے۔لیکن جنگ ہوئی تھی اور جیت بھی امیر تیمور کی ہی ہوئی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D9%84%D8%B7%D9%88%D8%B3%DB%8C

لیکن ان کے متعلق بعض کتب میں یہ بھی ملتا ہے بلکہ زیادہ اسطرح ہی پڑھنے کو ملا کہ خلیفہ کے ہاتھو ں قتل ہونے کے خوف بھاگ کر تاتاریوں کے پاس چلے گئے تھے۔

کاشف نصیر کہا...

شام کے معاملے کو صرف شیعہ سنی مسئلہ قرار دینا درست نہیں، یہ ظالم اور مظلوم کا معاملہ ہے۔ بشارالسد ظالم ہے اور شامی مسلمان مظلوم۔اسد خاندان ظالم تھا، ظالم ہے اور ظالم رہے گا، کوئی امریکی دھمکی اور نام نہاد حملہ اسے "ہیرو" نہیں بناسکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ظلم اور جبر میں کوئی دوسرا عرب حکمران بشارلسد اسد اور حافظ السد کا مقابلہ نہیں کرسکتا، جنرل سیسی نے تین ہزار اخوانی شہید کئے تو اسد خاندان کے سر پر دسیوں ہزار اخوانیوں کا خون ہے۔حافظ السد کے بیٹے بشاراسد سے کسی بھی درجے میں ہمدردی کا اظہار کرنا شہدائے مصر و شام کے ساتھ بغاوت ہے۔ یہ وہی شخص جس نے لاکھوں شامیوں کو قتل کیا ، جس کے باپ نے 1981 تیس ہزار اخوانیوں کو حماۃ شہر میں شہید کیا اور جو مصر میں اخوان المسلمون کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اسلامی بنیادپرستوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلمانوں کو حزب اللہ کا انجام نہیں بھولنا چاہئے، اسرائیلی مخالفت میں بہت سے لوگوں نے انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا لیکن اس حمایت کا فائدہ اٹھا کر جس طرحزب اللہ نے مشرق وسطی میں اپنے پاوں جمائے اور لبنان کو قابو کیا، اسکی مثال نہیں ملتی۔ آج وہی حزب اللہ مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن بن کر ابھری ہے، اسرائیل دشمنی سمندر میں بہ چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جزبات سے نہیں، دانش سے سوچیں!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جنگ چھڑنے کے بعد بشار الاسد تو صرف ماضی کا کردار ہو جائے گا۔۔یہ سنی شیعہ معاملے سے شروع ہونے والی جنگ عراق کی الٹی فلم بنے گی۔عراق کی جنگ اب سنی شیعہ معاملہ بنی ہوئی ہے تو شام کی جنگ اب سنی شیعہ معاملہ نہیں رہے گی۔۔باقی اللہ بہتر جانے ہے۔

مانی کہا...

وزیر اعظم !! اتنا قابل اعتبار و اعتماد بندہ رہا ہو گا زرا سوچئے۔ صلاح الدین ایوبی کو بیت المقدس کی جانب مہاریں موڑنے سے پہلے "فاطمیوں" کا قلع قمع کرنا پڑا تھا۔ (وہ بھی فرقہ پرست تھا؟) میر جعفر، میر صادق استعارہ ہیں بےوفائی، غداری اور ایمان فروشی کا۔ کون تھے؟

ویسے کتنی خوشی کی بات ہے امریکہ جہاں قبضہ جماتا ہے وہاں "لیبیا، عراق، افغانستان اور حالیہ مصر میں"" اسی "طوسی" کے بھائی بند اقتدار میں بیٹھے ہوئے۔

کاشف نصیر کہا...

کاش یہ خیال شیعوں کو بھی عراق اور افغانستان جنگ کے دوران آجاتا لیکن انہوں نے اپنے مفادات دیکھے اور خاموش رہے۔ کاش یہ خیال شیعوں کو مصر میں اخوان المسلمون کے خلاف کاروائی کے وقت آجاتا لیکن وہ تو اخوان اور ایران کے پرانے تعلقات بھی بھول گئے اور خاموشی کو ہی غنیمت جانا۔ کاش یہ خیال شیعوں کو لیبیا ء پر امریکی اور نیٹو حملے کے وقت آتا لیکن وہ اس وقت خاموش رہے۔ آج شیوں کو شیعہ سنی بھائی بھائی کی باتیں یاد آرہی ہیں؟ کیوں کچھ دن پہلے کی بات ہے شیعوں کو حضرت زینب کا مقبرہ تو نظر آتا تھا لیکن مظلوم شامیوں کے لاشےوہ دیکھے ان دیکھے کردئے ۔

میرے لئے میرا عقیدہ بہت اہم ہے، کیوں کہ یہ عقیدہ اسلام کی بنیاد ہے جبکہ دیگر تمام چیزیں عقیدے کے بعد آتی ہے اور میں کوئی لگی لپٹی بات کرنا بھی نہیں چاہتا،رافضیوں کا عقیدہ مشکوک نہیں، مردود ہے ۔ میرا لئے میرا نظریہ اہم ہے اور مجھے معلوم ہے کہ شام کا اسد خاندان روس نواز قوم پرست سیکولر نظریہ کا حامل ہے اور مجھے یاد ہے کہ کس طرح اسد خاندان اخوان المسلمون کی تحریک احیاء کو شام میں طاقت سے دباتا آیا ہے۔ میرے لئے مظلوم کی حمایت اہم ہے اور مجھے معلوم ہے کے کس طرح حافظ السد نے تیس ہزار اخوانیوں کو اسلام پسندی کی سزا موت کی گھات اتارا تھا اور کس طرح اسکا بیٹا بشارالسد پچھلے دو سالوں میں ایک لاکھ مظلوم شامیوں کو خون میں نہلاچکا ہے۔

عامر ملک کہا...

معاملات اتنے سادہ تو نہیں رہے۔ مجھے ڈر ہے کہ لوگ شعیہ سنی اور امریکی مخالفت اور حمایت کی بحث میں پڑجائیں گے جبکہ دوسری جانب معرکہ شدید تر ہوتا جائے گا۔
آج سے دس سال پہلے پڑھ کر میں سوچا کرتا تھا کہ یہ۔۔۔۔شام میدان جنگ کیسے بنے گا۔۔۔ سچ ہے وقت کی رفتار بہت تیز ہوچکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سطحی بحث کی بجائے حق اور باطل میں فرق کرسکیں۔ پھر حق کے ساتھ چمٹ جائیں چاہے امریکہ حمایت کرے یا مخالفت۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ایک حقیقت مدِ نظر رہنا چاہیئے کہ امریکہ وہی کرے گا جو اسرائیل چاہے گا اور اسرائیل جو بھی کہے اور کرے گا وہ مسلمانوں کے خلاف ہو گا خواہ مرنے یا نقصان اٹھانے والے مسلمان صرف نام کے ہوں عملی طور پر نہیں مگر اسرائیل کو اچھا نہ سمجھتے ہوں یا انہیں اسرائیل اپنے لئے اگلی ایک صدی میں خطرہ بن جانے کا خدشہ رکھتا ہو
ظوسی البتہ بھاگ کر تاتاریوں کے پاس نہیں گیا تھا

منصور مکرم کہا...

متفق

عمار ابنِ ضیا کہا...

امریکا مصر میں مداخلت کرے تو ناجائز کہ ہمارے بھائی بندوں کی حکومت کو نقصان پہنچتا ہے۔ امریکا شام میں مداخلت کرے تو روا کہ ہمارے دشمنوں کی کمر ٹوٹتی ہے۔
مجھے وہی کہاوت یاد آ رہی ہے کہ
وہ فلاں کو مارنے کے لیے آئے تو میں چپ رہا کیوں کہ میں ان میں سے نہیں تھا
پھر وہ فلاں کو مارنے کے لیے آئے تو میں چپ رہا کیوں کہ میں ان میں سے بھی نہیں تھا
اور آخر میں وہ مجھے مارنے کے لیے آئے تو کوئی بولنے والا نہیں بچا تھا۔

بشار الاسد ظالم ہے تو سعودی حکمران کون سے دودھ کے دھلے، رحم و کرم کے پیکر اور اسلام کے علمبردار ہیں۔ سب ہی عیاش اور اقتدار پسند ہیں۔ دشمن سب جگہ اپنے مہرے فٹ کر رہا ہے اور ہم شیعہ سنی کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ افسوس!

جواد احمد خان کہا...

مسلم دشمنی میں ایران ،اسرائیل سے کسی بھی طور پیچھے نہیں ہے مگر بہت سے لوگ اندھی جذباتیت میں اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ کیونکہ انکو ایران ، اسرائیل کو للکارتا ہوا ہیرو کی صورت نظر آتا ہے۔ اسرائیل کے جو عزائم مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ہیں بعینہٰ وہی عزائم ایران کے بھی ہیں۔ جسکی وجہ سے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ اگر امریکہ آج ایران سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں ایران کو اپنا تژویراتی شراکت دار بنالے تو دیکھنے والوں کے لیے حیرت سے زیادہ عبرت کے مناظر نظر آنے لگیں گے۔

Jameel کہا...

http://swf.tubechop.com/tubechop.swf?vurl=zopvTlF0WuI&start=815&end=1028&cid=1449347

جواد احمد خان کہا...

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شیعہ قادیانی بھائی بھائی۔۔۔ امت مسلمہ کہاں سے آئی۔۔

عظيم جاويد کہا...

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂِ یہود میں ہے!

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.