آپ نے فلم غالب دیکھی ہے؟

ہمارے جاپانی دوست توکائی صاحب ہیں۔اور ان کے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہے۔انہیں بین القوامی سیاست میں کافی دلچسپی ہے۔خاص کر یہ مڈل ایسٹ اور سنٹرل ایشیاء ہند وپاک کی معاشیت اور سیاست میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ہمیں کوئی خاص سمجھ بوجھ نہیں ہے۔اس لئے انہی کی سنتے ہیں۔سنانے کیلئے کچھ ہو تو سنائیں۔پاکستان کی نئی حکومت نے جب آئی ایم ایف سے قرضے کیلئے معاملات کئے تو ان کا کہنا تھا،قرضہ تو پاکستان کو آئی ایم ایف ضرور دے گا۔اگر آئی ایم ایف نے قرضہ نہ دیا تو شاید پاکستان کے دوست ممالک بھی پاکستان کی کوئی خاص مدد نہ کر سکیں ،اور پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کا خطرہ ہے۔ڈیفالٹ کرنے سے مہنگائی بہت ہو جائے گی  اور اس کے نتائج  میں پاکستان میں انارکی پھیلے گی۔

ہما رے لئے تو یہ مہنگائی بھی کمر توڑ ہے اس سے زیادہ کیا مہنگائی ہونی۔بحرحال ان کا کہنا تھا کہ ڈیفالٹ کی صورت میں روپے سے ٹائیلٹ پیپر کا تو کام لیا جا سکتا ہے۔اجناس خریدنے کے کام نہیں آسکتا۔اسی لئے  کچھ عرصے کیلئے سونے کی درآمد پر پابندی معاشی پہیئے کو حد میں رکھنے کیلئے لگائی گئی ہے۔اس وقت پاکستان کا ڈیفالٹ کرنا عالمی طاقتوں اور خطے کی طاقتوں کیلئے بھی فائدہ مند نہیں ہے۔اس لئے سب پاکستان کی نئی حکومت کو سانس جاری رکھنے کیلئے آکسیجن فراہم کرتے رہیں گے۔

لیکن یہ آکسیجن بھی اگلے پانچ سالوں تک ہی ہے۔اگر اس عرصے میں پاکستان کی حکومت نے کرپشن اور امن و امان پر کنٹرول کر لیا تو دس سے پندرہ سال میں پاکستان ایشیا و سنٹرل ایشیا کیلئے ایک بہت بڑی معاشی طاقت بن جائے گا جس سے ساری دنیا فیض یاب ہو گی۔
ہمارے پوچھنے پر کہ پاکستان کرپشن اور امن و امان پر کنٹرول نہ کر سکا اور اگلے پانچ سال بھی گزشتہ پانچ سالوں جیسے ہی گذرے تو اس کے بعد کیا ہو گا؟
جواب ان کا بھی یہی تھا ،کہ اللہ بڑا بادشاہ ۔۔ہیں جی

یعنی اسی طرح کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہے گا۔پاکستان کی توڑ پھوڑ کی صورت میں آس پاس کے ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔اتنا انہوں نے وثوق سے کہا کہ پاکستان کی عوام جہنم کو زمین پر ہی دیکھ لے گی۔دلچسپ بات جو انہوں نے کہی جو کہ دل کو بھی لگتی ہے۔ کہ پاکستانی جیلوں پر حملہ اور مجاہدین کا "آزاد" کروانا۔"سب فریقوں" میں "اتفاق رائے" سے ہوا ہے۔ بس عوام کو "باؤلا" رکھنے کیلئے یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔کہ "کھلم کھلا" ریاست کی مرضی سے "قانون" کی خلاف ورزی کرکے "نئی نویلی "حکومت کو کسی پیچیدہ بحران میں پھنسایا نہیں جا سکتا۔ بحرحال ہمیں ان "سازشی" قسم کی باتوں کی سمجھ کم ہی آتی ہے۔اس لئے ہم نے بھی یہی کہا کہ دیکھئے زندہ رہے تو "نیا پاکستان" بھی شاید دیکھنے کو مل جائے ۔ورنہ "پرانا پاکستان " تو ہمارا اپنا  ہےہی نہیں!!۔

http://www.amazon.co.jp/%E6%88%A6%E5%BE%8C%E5%8F%B2%E3%81%AE%E6%AD%A3%E4%BD%93-%E3%80%8C%E6%88%A6%E5%BE%8C%E5%86%8D%E7%99%BA%E8%A6%8B%E3%80%8D%E5%8F%8C%E6%9B%B8-%E5%AD%AB%E5%B4%8E-%E4%BA%AB/dp/4422300512

انہوں نے ہمیں ایک کتاب تحفہ دی کہ اسے پڑھئے تو شاید آپکو کچھ اس وقت کے پاکستان کے سیاسی اور   عالمی طاقتوں کی سیاست کے حالات سمجھنے میں  مدد ملے گی کتاب کے ٹائٹل کا ترجمہ کروں تو کچھ یوں بنتا ہے "۔بعد از جنگ  تاریخ کی حقیقت" یہ جاپان کا جنگ میں شکست کھا کر تباہ و بربادہونے کے بعد "معاہدوں"اور "سازشوں" کا ذکر بیان کرتی کتاب ہے۔

کافی سے زیادہ خشک کتاب ہے۔جو میری جاپانی زبان پر مکمل گرفت نہ ہونے کی وجہ سے مجھے دماغ پر کافی زور دینے سے پڑھنی پڑ رہی ہے۔دماغ پر زور پڑے تو میں پڑھتا کم جگالی زیادہ کرتا ہوں۔لیکن کتاب کے صفحہ ایک سو اکیس پر دو ہفتے بعد پہونچا تو دماغ سے زیادہ کان کھڑے ہوگئے ،اس صفحہ پر ہمارے پاکستان کا تذکرہ تھا۔وہ بھی انیس سو اکیاون میں  ٹریٹی آف سان فرانسسکوکانفرنس کا شاید امن و امان کی بین الاقوامی کانفرنس ہے۔
تفصیلات اس لنک  پر دیکھی جا سکتی ہیں

http://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_San_Francisco

اس کانفرنس میں پاکستان کے وفد کی تقریر کا ذکر ہے۔کہ انہوں نے ایک نہایت  دانشورانہ نصحیت  اقوام عالم کو اور خاص کر جاپان کو کی کہ "اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے" یعنی دینے والا لینے والے سے اعلی ہوتا ہے۔

انیس سو اکیاون میں  ہمارے والدین کی سن پیدائش کے ماہ وسال میں ہمارے حکومتی وفد ایسی نصیحتیں کرتے تھے۔ اور ہم پیدا ہوئے اساتذہ سے  بھی تدریسی کتابوں میں بھی یہی پڑھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
آج باسٹھ سال بعد بھی ہمارے ہر آنے والے حکمران کشکول توڑنے کی ہی بات کرتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے فلم"مرزا غالب " دیکھی ہے؟
میں نے اس وقت دیکھی تھی جب ٹی وی پر ہمارے "قابل احترام" علماء کرام سے پوچھا گیا تھاکہ ۔۔۔ابے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نےفلم غالب دیکھی ہے؟
اس فلم میں مرزا غالب "ادھار " کی مے پیتے ہیں۔ جوا کھیلتے ہیں۔انتہائی "کھلے اوپروالے ہاتھ" سے "بخشش" بھی دیتے ہیں۔ "غیور" ایسے کہ ساہوکار سے ادھار تو لے لیتے ہیں۔کسی کا "احسان" لینا گوارا نہیں کرتے!

ادھار کی مے اس "امید" پر پیتے ہیں ،کہ "مغلیہ سلطنت" سے ملنے والی "آباؤ اجداد" کی پنشن جو رکی ہوئی ہے۔جب ملے گی سب "ادھار "چکا کر عیش و عشرت سے "شاعری" کیا کریں گے۔
پنشن بھال کروانے بڑی لمبی مسافت طے کرکے دلی سے کلکتہ جاتے ہیں۔بڑی مشکل سے "گورے آقا" کے دربار میں حاضری دیتے ہیں۔لیکن گورے آقا کو معلوم ہو جاتا ہے ،کہ یہ "آقاؤں" کو "تڑیاں" لگاتے رہتے ہیں۔

"گورے آقا" غصہ سے طنز کے تیر برساتےہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔جاؤ اپنے باد شاہ سلامت "ظلِ سبحانی" کے دربار سے پنشن بحال کرواؤَ۔
مرزا غالب ایک لفظ بولے بغیر نہایت طنطنے سے "گورے آقا" کے دربار نکل جاتے ہیں۔فلم دیکھنے والے مرزا غالب کا طنطنہ وقار اکڑ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں،کہ ہمارے آباؤاجداد "سر " جھکانے والے نہیں تھے!! نہایت باوقار لوگ تھے۔
آپ نے شہید ذولفقار علی بھٹو کی اقوام متحدہ میں اکہتر کی جنگ کے  بعد کی تقریر  والی وڈیو بھی دیکھی ہوگی؟
کیسے طنطنے سے کاغذات کو پھاڑ کر ہوا  میں اڑا دیا تھا!!
بس ہمیں معلوم ہے ہمارا "ماضی" ہمارے لئے قابل فخر ہے۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے فلم غالب دیکھی ہے؟
آپ نے فلم غالب دیکھی ہے؟ آپ نے فلم غالب دیکھی ہے؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:35 PM Rating: 5

6 تبصرے:

Jameel کہا...


اس کانفرنس میں پاکستان کے وفد کی تقریر کا ذکر ہے۔کہ انہوں نے ایک نہایت دانشورانہ نصحیت اقوام عالم کو اور خاص کر جاپان کو کی کہ “اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے” یعنی دینے والا لینے والے سے اعلی ہوتا ہے۔


کچھ اور بھی کہا تھا پاکستانی وفد نے-


Since the creation of Pakistan in 1947, the two countries enjoy cordial and friendly relations. At the 1951 San Francisco Pease Conference, Pakistan was the only major country invited from South Asia (as China was not invited, and India and Burma stayed away from the Conference for their own reasons). At the conference, Pakistan delegation led by Foreign Minister Sir Zafarullah Khan strongly argued for treating Japan with respect. Sir Zafarullah made a historical speech noting that "The peace with Japan should be a premised on justice and reconciliation, not on vengeance and oppression. In future Japan would play an important role as a result of the series of reforms initiated in the political and social structure of Japan which hold out a bright promise of progress and which qualify Japan to take place as an equal in the fellowship of peace loving nations."


http://www.pakistanembassyjapan.com/node/13

م بلال م کہا...

ماضی قابلِ فخر ہو تو کیا ہی کہنے اگر ماضی قابلِ فخر نہ بھی ہو تو پھر بھی ماضی سے سیکھنا ”قابلِ فخر“ ہو گا۔ بہرحال مستقبل میں آنے والوں کا ماضی تو ہم ہوں گے۔ سوچنے والی بات ہے کیا آنے والوں کا ماضی قابلِ فخر ہو گا یا ”شرمناک“؟ :-) ویسے میں نے مشہورِ زمانہ ٹی وی ڈرامہ ”مرزا غالب“ دیکھا ہے۔ :-D

iftikhar raja کہا...

ماضی میرا عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا،
وہ زمانے اور تھے حضرت جی، یہ زمانے اور ہیں، پر ایک بات ہے، کہ پچاس بلکہ ساٹھ برسوں میں ہم نے کی صرف باتاں ہی ہیں، صرف بھاشن ہی دیئے ہیں، اوپر والا ہاتھ بہتر، اوئے ایڈے سیں سیانڑے تے اپنا ہاتھ وی اوپر کرلیندے، کجنردے نہ ہوون تے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اوہ۔۔۔اچھا وہ آٹھ گھنٹے لمبا ڈرامہ تھا۔۔میں بھی کہوں اتنی لمبی فلم غالب کس بنا ڈالی ؛ڈ

خالد حمید کہا...

لگتا ہے کہ اب دیکھنی ہی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ :)

وحید سلطان کہا...

کالے اور گورے حکمرانوں میں بس یہی ایک بنیادی فرق ہوتا ہے۔
وہ پچاس سال بعد کا سوچتے ہیں، اور ہم پچاس سال پہلے والے کاموں میں ہی پھنسے رہتے ہیں۔
اور ہاں، غالب فلم آپ نے دیکھی؟ :ڈ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.