چالاک لوگ

آپ نے چالاک لوگ دیکھے ہیں؟
شاید نہ دیکھے ہوں۔آپ کو دیکھنے کا طریقہ بتاتا ہوں۔چالاک لوگوں کو دیکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ہماری ہر صبح آنکھ کھلتی ہے ،تو ہم چالاک لوگوں کو ہی سب سے پہلے دیکھتے ہیں۔اماں ابا بہن بھائی میاں بیوی بچے یہی سب لوگ تو چالاک لوگ ہوتے ہیں۔

یہ تو ایسے رشتے ہوتے ہیں، کہ ان کی چالاکی ہم دیکھنا ہی نہیں چاھتے ،اس لئے یہ پیدائش سے لیکر مرنے تک معصوم اور بعض اوقات مظلوم ہی رہتے ہیں۔
مجھے ایک دعوی کرنے میں بلکہ اعلان کرنے میں کوئی" چالاکی" محسوس نہیں ہوتی کہ میں ناقص العقل تو ہوں ہی چالاک تو بالکل نہیں ہوں۔آج تک جاپان میں کسی پاکستانی کو "ہتھ دکھائی" نہیں کر سکا!

لیکن میرے ساتھ عموماً "ہاتھ " ہو جاتا ہے۔یعنی نہایت ہی آسانی سے "الو" بن جاتا ہوں۔اس لئے اپنے "مخلص" پاکستانی بھائیوں سے کنی کترا کر ہی گذر بسر کرتا ہوں۔مجھے یقین سے زیادہ ایمان ہے کہ پورے جاپان میں ایسا کوئی پاکستانی نہیں پایا جائے گا جو مجھے چالاک کہہ سکے!!ہاں یاسر تو بس "بیوقوف " سا بندہ ہے  کہنے والے ضرور مل جائیں گئے۔بس جناب سمجھ جائیں کہ ان کے یقین کی وجہ ضرور "ہو چکی" ہو گی! یعنی ہمیں بیوقوف بنا چکے ہوں گے اس لئے "دندیاں کڈ" وثوق سے آپ کو بتارہے ہیں۔

زیادہ تر مجھے چالاک لوگوں سے واسطہ پاکستان میں ہی پڑتا ہے۔یا جدھر جدھر ہم  پاکستانی پائے جاتے ہیں ادھر سے ہی فیض یاب ہوتا ہوں۔ پاکستان میں تو خیر ائیر پورٹ کے بعد گھر والے ہی "کافی" ہیں۔جو کہ میرے لئے جب سے ہوش سنبھالا ہے۔معصوم سے  زیادہ مظلوم ہی چلے آرہے ہیں۔اماں ابا معصوم ہیں تو بھائی جنہیں میں آجکل " سگے قصائی" کے خطاب سے یاد کرتاہوں۔بس یہ بھائی بیچارے مظلوم ہیں۔معصومیت تو ان کی جناب۔۔۔۔ بس بے اختیار گنگنا اٹھتا ہوں۔۔یا دل قربان میرے قصائی  جان۔

گھر والوں کو جوابدہی کیلئے اتنا ہی کافی ہے آپ جو یہ پڑھ رہے ہیں۔چالاکی میں تو آپ بھی کسی عمرو عیار سے کم نہیں!! ہیں !! آپ کو یک دم راز فاش ہونے کی حیرت ہو رہی ہے نا؟
ساری دنیا کے "کھلے کافروں" کو معلوم ہے کہ آپ پاکستانی ہو اور پاکستانی چالاک نہ ہو تو پاکستانی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔خوامخواہ جاپانی۔۔۔یاپھر ڈفر  ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ہی ہی ہی ہی

آپ حج و عمرہ سے واپس آرہے ہیں اور ہوائی لائن پی آئی اے والی ہے۔آپ کے آس پاس " حاجی بابے" بیٹھے ہوئے ہیں۔جیسے ہی کھانے کی خوشبو آپ کی ناک سے ٹکرائے "حاجی بابے" فٹا فٹ آپ کی سامنے والی ٹرے کھولیں اور مفت میں حکومت سعودیہ سے ملے ہوئے قرآنی نسخے آپ کے سامنے "چُن" دیں اور انتہائی "پہونچی " ہوئی پُر ایمانی موج میں آپ کو بتائیں بیٹا یہ قرآنی نسخے ہیں یہاں رکھنے سے ان کی بے حرمتی نہیں ہو گی ۔اللہ اجر دے گا!

ائیر ہوسٹس "حاجی بابوں" کو کھانے کی ٹرے تھماتی ہے۔اور آپ کو گُھرکی کے ساتھ دو چار سناتی ہے ،کہ جاہل آدمی سامان کھانے کی ٹرے پر رکھا ہوا ہے اور کھانا کہاں رکھ کر کھائے گا؟ اور یہی حسین ائیر ہوسٹس آپ کے دل کا خون کرتے ہوئے مزید کہتی ہے۔پتہ نہیں کیسے کیسے جاہل "پلین" میں بیٹھ جاتے ہیں۔"حاجی بابے" اس وقت من و سلوی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس حالت میں ان معصوموں کے کان ویسے بھی کم سنتے ہیں۔

آپ پی آئی اے کے علاوہ کسی "پلین" پر سفر کرتے ہیں ،دیکھتے ہیں اکا دکا پاکستانی ہی نظر آرہا ہے۔آپ کو اطمینان ہو تا ہے ۔کہ بارہ گھنٹے کا سفر "خوشگوار" گذرے گا۔ایک عدد معقول سے پاکستانی سے آپ کی "ہیلو ہائے" بھی ہو جاتی ہے۔آپ اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہیں "لمبی " آلی سیٹ ہے اس کی دو سیٹیں خالی ہیں۔جہاز کی اڈاری لگاتے ہی "معقول" بندہ آپ کے پاس پہونچ جاتا ہے۔

کہتا ہے لمبا سفر ہے "گپ شپ" لگاتے جائیں گے۔آپ مروت میں خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ "معقول بندہ" پانچ منٹ بعد ہی ٹانگیں پسار لیتا ہے۔سر اُدھر اور ٹانگیں ادھر۔اور ٹانگیں اتنی پسارتا ہے۔ کہ اس کی ٹانگیں آپ کو گود لینی پڑ جاتی ہیں۔اب آپ اسے جھنجھوڑ کر اٹھاتے ہیں ۔اور کہتے ہیں خانصاحب اپنی  سیٹ پر جاؤ۔خانصاحب کو یک دم خیال آتا ہے کہ اسے مسلمانی غیرت بتانی چاھئے کہ کسی مسلمان کو تنگ کرنا انتہائی دوزخی گناہ ہے۔ آپ اسے بتاتے ہیں کہ آپ نے بھی بارہ گھنٹے کا سفر طے کرنا ہے۔قسمت کی یاوری سے ان سیٹوں پر آپ کا ہی حق ہے۔

یہ پی آئی اے بھی نہیں ہے اس لئے خانصاحب "ٹیاؤں ٹیاؤں" چھوڑو اور اپنی راہ پکڑو۔نہیں تو ائیر ہوسٹس بلائی جائے گی اور آپ کو بیست ہوکر جانا ہی پڑے گا۔خانصاحب کیوں کہ سادہ اور  معصوم ہیں۔آپ کی وجہ سے مظلوم بھی ہو گئے ہیں۔اس لئے اب بس نہیں چل رہا اور بد دعائیں دیتے ہوئے اپنی سیٹ پر واپس جارہے ہیں۔اب آپ نے سکون سے ٹانگیں لمبی کرنی ہیں  اور آپ کا سفر "خوشگوار" ہو گیا۔۔

آپ کا دل تو نہیں کر رہا لیکن مجبوری ہے کہ معصومان ِقدیم اماں ابا اور مظلومان ِجدید بہن بھائیوں کو ملنے کیلئے پاکستان جا رہے ہیں۔آپ کے پاس ایک عدد سفری تھیلا ہے۔جس میں صرف آپ کے استعمال کے زیر جامے پڑے ہوئے ہیں۔اور آپ "شکلوں" احمق بھی دکھائی دے رہے ہیں۔آپ اکیلے اکیلے کین کافی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔۔خیال رکھئے کیا گا کہ اس کافی سے لطف اندوز ہونا ماہ رمضان میں منع ہے۔

آپ کے پاس ایک "کارواں" آکر رکتا ہے۔کوچوان آپ سے "مسلمانی ہیلو ہائے " کرتا ہے۔آپ کی منزل مقصود کی تصدیق کی جاتی ہے۔آپ سے پوچھا جاتا ہے ،کہ بورڈنگ کیوں نہیں کروا رہے۔آپ بتاتے ہیں تھوڑی رش کم ہو تو جاتا ہوں ،کوئی جلدی نہیں ہے۔

"کارواں " کے "کوچوان" صاحب آپ کے پاس ہی ڈیرا ڈال لیتے ہیں۔پانچ منٹ کی "گپ شپ" کے بعد موڈ خوشگوار دیکھنے کے بعد آپ کو کہا جاتا ہے۔کہ بورڈنگ کروا لیتے ہیں ۔ بعد میں آرام سے بیٹھ کر گپ شپ لگائیں گے۔آپ مروت میں "اپنی" بورڈنگ کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

لیکن آپ کو کچھ کچھ الجھن ہورہی ہوتی ہے۔کہ" کوچوان "صاحب کسی دوسرے پاکستانی سے آپ کو بات چیت کرنے نہیں دے رہے۔اگر کوئی "مسلمانی ہیلو ہائے" کرتا بھی ہے تو اسے گھورتے ہیں اور آپ کو کسی "گپ شپ" میں لگا دیتے ہیں۔اور آپ کو لائن میں اپنے" پیچھے" ہی رکھتے ہیں۔

اتنے میں "کوچوان" صاحب کی بورڈنگ کی باری آتی ہے۔سامان جو جہاز میں لوڈنا ہے۔وہ سو کلو گرام نکلتا ہے۔"کوچوان" صاحب منت سماجت کرکے کچھ چھڑوا لیتے ہیں۔جب کہا جاتا ہے اتنی ادائیگی کر دیں۔تو یہ ادائیگی اتنی ہی بن رہی ہوتی ہے،جو کہ آپ کے پاسپورٹ پر لوڈنے کی صورت میں صفر ہو جانی ہوتی ہے۔

"کوچوان" صاحب فٹ کہتے ہیں۔یہ تو اس کے پاسپورٹ پر لوڈ ہو جائے گا۔اب آپ کی باری آتی ہے ۔آپ کہتے ہیں "کوچوان" صاحب میں تو آپ کو اپنا پاسپورٹ استعمال کرنے نہیں دوں گا۔

ایک عدد لمبی بحث کے بعد آپ کوچوان صاحب سے کہتے ہیں ۔کہ جناب جب گھر سے نکلتے وقت سامان اٹھایا تھا تو سوچ لیتے ناکہ "وقتی طور" پر کچھ نہ ہو سکنے کی صورت میں آپ کو پیسہ لگانا پڑے گا۔میں تو آپ کو پاسپورٹ نہیں دے سکتا۔اور ویسے بھی آپ کے "پیچھے" تو ایسے ہی کھڑا ہوگیا تھا۔مجھے لائن میں کھڑا ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی میری تو فرسٹ کلاس ہے۔

آپ لائن سے نکل کر "شفاف" لائن کیطرف جب جارہے ہوتے ہیں۔تو ایک معصوم سا مظلوم چہرہ جس پر دو معصوم سی بٹن نما آنکھیں ہوتی ہیں وہ بیچارگی کی علامت بنا کھڑا ہوتا ہے۔دو چار دوسرے معصوم بھی آپ کی "یزیدیت" پر آپ پر مسلمانی بھائی چارے کی "افادیت "کے جملے کس رہے ہوتے ہیں۔

چالاک لوگ "وقتی طور" اپنا کام نکال لیتے ہیں۔کل کی نہیں سوچتے وقت آنے پر یہ کچھ نا کچھ کر ہی لیتے ہیں۔یا پھر بیستی کروالیتے ہیں۔جو کہ ان کیلئے بے عزتی  نہیں ہوتی کہ "احساس ذلت" کا انسان کے اندر ہونے سے اسے بیستی محسوس ہوتی ہے۔

ذہین معصوم اور سادہ ہوتے ہیں۔"وقتی طور" پر بیوقوف بن جاتے ہیں۔چند ٹکوں کا نقصان بھی ہو جاتا ہے۔لیکن "پر سکون" رہتے ہیں۔
ہم پاکستانی کم و بیشتر سارے ہی "چالاک"  لوگ ہیں۔اس لئے ہم وقت آنے پرہر "مشکل" ، "عذاب" کا "بندوبست" کر ہی لیتے ہیں"۔بندوبست" نہ ہوسکے تو "رولا" ڈال لیتے ہیں۔
چالاک لوگ چالاک لوگ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:41 PM Rating: 5

16 تبصرے:

انکل ٹام کہا...

میرا بھی پاکستان میں ایسے چلاک لوگوں سے واسطہ پڑ گیا تھا ۔۔۔ لیکن میں بھی فیر ایک مہینہ ان میں ہی گزارا تھا ، جہاز میں واپسی پر تو ایک آنٹی نے میری سیٹ پر دوسری آنٹی کو قبضہ کروا دیا تھا ۔ اور ائیر ہوسٹس نے مجھے کچن میں بٹھائے رکھا ۔۔۔ میں نے بھی سوچا کہ اچھا ہی ہوا اس کپتی آنٹی کے ساتھ بیٹھ کر سفر کا کت خانہ ہی ہو جانا تھا ۔ واقعی پی آئی اے کے علاوہ کوئی اور ائیر لائین ہوتی تو وہ پتا نہیں بیچارے اس کپتی آنٹی کو کیسے ہینڈل کرتے ۔۔۔ جہاز کی لائیٹیں بند ہوئیں تو ہم نے بھی آنکھیں موندیں تو ایک انکل جو اپنے چار پانچ بچوں کے ہمراہ سفر کر رہے تھے انکے بچے نے اپنی جیب سے ٹارچ نکال کر میری آنکھوں میں مارنا شروع کر دی ۔۔۔

محمد سلیم کہا...

یار یاسر بھائی، حاجیوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ کس نے سفر کیا ہوگا، مگر میں آپ کو اپنی چالاکی سناتا ہوں:
گھر جاتے ہوئے ایک پیاری سی دوست نے بڑے بڑے چار لکڑی کے فریم جن پر پتھروں سے چار موسموں کی عکاسی تھی تحفہ دے دیئے۔ مجھے یقین تھا میں نا لے جا پاؤں گا پھر بھی اس امید پر لیکر چلا گیا شاید کوئی لاہوری تعاون کردے اور کام ہو جائے۔ جان بوجھ کر ایک ایسے صاحب کے پیچھے کھڑا ہوا جن کے سامان نہیں تھا۔ پھر انکے سامان تلوانے پر اپنے لیئے مدد مانگ کر اخلاقیات پر ایک نہایت ہی گھٹیا سا لیکچر سنا۔ اپنی باری پر سامان تلوایا، کرایہ بہت زیادہ تھا، منت کی، نا کم ہوا۔ تو میں زور سے اس تولنے والے کو کہا' جینٹلمین، دس از مائی گفٹ فار یو۔ مجھے لیکچر دینے والے صاحب میرا حشر دیکھنے کیلئے ابھی وہیں موجود تھے۔ میرا سامان اس بندے کو گفٹ جاتا دیکھ کر میرے پاس آئے اور کہنے؛ یار تسی تے بڑے ای خندقیل او، بندہ ذرا آرام نال ای گل کر لیندا اے۔ ایتھے لائن اچ ای میرے کنے دوست کھڑے نیں، میں تہاڈا کم کرا دینا سی۔ گفٹ کرنا سی تو مینوں ای پڑھا چھڈدے۔

محمد سلیم کہا...

میں ہمیشہ ایزل سیٹ لیتا ہوں، ایک مرتبہ ایسی ایئر لائن پر تھا جو ٹرانزٹ بنکاک اتری۔ اب لاہور جانا تو صاف ظاہر ہے کسی پاکستانی نے ہی میرے ساتھ آ کر بیٹھنا تھا۔ کوئی گھنٹہ بھر کا قیام تھا تو میں سو گیا۔ ایک صاحب جہاز میں داخل ہوئے اور آتے ہی مجھے جگایا اور کہنے بھائی تم پیچے میری سیٹ پر چلے جاؤ ہم دو دوست ہیں یہاں اکھٹے بیٹھیں گے۔ نیند سے جاگ کر اب میں خوش تو نہیں تھا ان صاحب کو گھور کر دیکھا اور پھر سو گیا۔ اس صاحب بے ایک ٹانگ کو اپنی دوسر ٹانگ پر میری طرف چڑھایا مقصد انتقام ہی تھا، میں اس کا حل بھی نکال لیتا مگر اس کی مہینے بھر کی مسلسل پہنی ہوئی جراب کی گندی بدبو سے میرا دماغ الٹ گیا، میں نے کہا مجھے اپنی سیٹ پر ہی جانے دو حالانک وہ درمیان والی سیٹ تھی۔ میں ادھر جا کر سویا ہی تھا کہ یہ صاحب پھر آ کر سیٹ پاکٹ کو ٹٹولنے لگے کہ ان کا ایئرلائن کا دیا ہوا ٹوٹھ پیسٹ ادھر رکھا تھا۔ نا پا کر مجھ سے پوچھا میرا ٹوٹھ پیسٹ کدھر ہے، میں نے کہا بھائی میرا ابھی تہ ادھر ہی پڑا ہے وہ جا کر لے لو

درویش خُراسانی کہا...

میں جب حج کیلئے گیا تھا ،تو میرے ابو کے دوست جو کہ تقریبا ہر سال حج کیلئے جاتے ہیں ،وہ بھی ساتھ تھے، پاکستان واپسی پر جب میں نے زم زم کے چند بوتل اٹھائے تاکہ اسکو پاکستان لے جا سکوں ،تو وہ صاحب خفاء ہوئے کہ میں نے کجھور زیادہ لی ہیں ،اور اسکو آپکے پاسپورٹ پر لے جانا ہے۔ میں نے کہا کہ جناب ہر سال حج کیلئے آتے ہو، تو اس سال اگر کجھور کم لے گئے تو کیا ہوا، جب کہ میں تو اسی سال ایا ہوں ،باقی کا کیا پتہ زندگی موقع دیتی ہے کہ نہیں۔

چنانچہ اس صاحب نے میرے والد صاحب کو فون کیا کہ تمھارا بیٹا مجھے سامان لے جانے کیلئے پاسپورٹ نہیں دئے رہا، تو میں نے ابو کو بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جب تک میرا سامان لوڈ نہ ہو ،میں اسکو قطعا اپنا پاسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دونگا۔

چنانچہ والد صاحب میری بات سمجھ گئے ،اور اسکو کہا کہ خیر ہے لڑکا پاسپورٹ دئے دئے گا، لیکن میں نے صاف انکار کردیا۔

جس کی وجہ سے واقعی مجھ اپنا پن ،اور انسانیت ختم کردئی گئی تھی، کہ بڑا گستاخ ہے، بڑوں کی عزت نہیں کرتا۔
ہم نے کہا کہ گستاخ سہی ،پر آج قسم کھائی ہے کہ بے وقوف نہیں بننا ہے۔

جدہ ائیر پورٹ پر پہنچے تو دور سے سامان کیلئے ٹرالی لے آیا، اب ٹرالی کو کھڑا کرکے میں سامان کو ٹھیک کر رہا تھا کہ ائیر لائن والا آگیا اور چپکے سے ٹرالی لے گیا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ٹرالی غائب،دوسرے بندے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ آپکی ٹرالی کھڑی ہے، بس فورا میں ائیر لائن والے کے پاس پہنچا اور اسکو خوب ٹائیٹ کرکے ٹرالی واپس لے آیا، اب بندہ کی ویلو گھٹ گئی تھی، تو رونے لگا اور میری ساتھی کو اپنا دکھڑا سنانے لگا، کہ یہ مروت سے خالی ہے اور بہت ظالم ہے۔
میں پائلٹ کا بندہ ہوں اور اگر پائلٹ نہ جائے تو جھاز نہیں آڑئے گا۔ میں نے کہا کہ بھلا ہمیں یہاں ڈیرے ڈالنے پڑئے لیکن تم نے دور سے ہی اپنے لئے ٹرالی لانی ہے۔ اگر میری لائی ہوئی ٹرالی کو ہاتھ لگایا تو خیر نہیں۔ چنانچہ میں اخر تک بے مروت اور بد اخلاق رہا، میرے ابو کےدوست کے بیٹے جو کہ ہمارے ساتھ تھے نے مجھے کہا کہ تم نے اپنا حج خراب کیا ہے اور ایک انسان کا دل دُکھایا ہے۔

تو میں نے کہا کہ اگر اتنی ہی ہمدردی تو جاؤ اسکے لئے ایک ٹرالی لے آو ،لیکن کجا اسمیں انسانیت ،صرف ہم ہی بد اخلاق تھے۔ لیکن شکر ہے اسوقت بے وقوف نہیں بنے، بے مروت ہی سہی۔

درویش خُراسانی کہا...

یاسر بھائی آپکی تحریر سے تو میرا تبصرہ بڑھ گیا، چلو یہی بھی کسی نا کسی ڈگری میں چالاکی شمار کی جائے گی۔

سعد کہا...

گویا کہ آپ اتنے بھی معصوم نہیں جتنے بنے رہتے ہیں
D:

جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ ۔۔۔ یاسر بھائی اور دیگر کے تجربات پڑھ کر بہت مزہ آیا۔ درویش خراسانی بھائی کی ہوشیاری قابل داد اور سلیم بھائی کے تجربات دل جلانے والے۔
میرے ساتھ کچھ ایسا تجربہ نہیں ہوا کیونکہ میں ہمیشہ سامان پورا پورا لیکر جاتا ہوں نا ایک کلو کم نا ایک کلو زیادہ۔ ایک بار کراچی سے آتے سامان کچھ زیادہ ہوگیا اور اسکی وجہ رشتہ داروں کی حد سے بڑھی ہوشیاری تھی چونکہ رشتہ ایسا تھا کہ منع نا کرسکا اس لیے سامان لیکر آنا پڑا۔مگر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ بورڈنگ کے وقت جب سامان 40 کلو زیادہ نکلا اور میرے پسینے چھوٹنے لگے تو میرے پیچھے کھڑے نوجوان نے جس کے پاس صرف ایک سفری تھیلا تھا ،میری پریشانی بھانپتے ہوئے از خود پیشکش کردی تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہم لوگ اتنے برے اور اتنے بھی چالاک نہیں۔۔۔

ali کہا...

ہاہاہاہاہا
پاکستانیوں کی اپنی چس ہے
قسم اے جب جاتا ہوں بورڈنگ کے لیے دعا مانگتا جاتا ہوں اللہ کرے جہاز میں کوئی پاکستانی نہ ہو :)

Tari کہا...

Very sad to read all you people brag about your travel inconvinence I guess you live abroad and all desi people who donot live abroad are not good enough for you
Shame on you
If you are so intellect and well mannered may be you could have showed some courtesy toward your fellow travelers, if cant help them out at least politely refuse the favour
Sincierly
Desi traveler

درویش خُراسانی کہا...

کونسے رشتہ دار تھے۔ لگتا ہے سسرالی تھے ،ہی ہی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دیسی مسافر صاحب
آپ کی شرمو شرمی لعنت سے پہلے ہی ہم عرصہ ہوا
شرمو شرمی شرم کے سمندر ہوئےجاتے ہیں۔
ویلکم ٹو بلاگ اینڈ گیو اس سم ٹپس فار کیپ اپ اوور شرمندگی۔

mani کہا...

چالاکیوں والا مشاہدہ بسوں کے سفر میں کر لیا تھا، بائی ائیر سفر کرنے تک ہم خود چالاک ہو گئے :ڈ

Tari کہا...

Don't get me wrong I understand your feelings
All I am saying is that chalk logs are not limited to
Pakis
I am a frequent traveler and have had my share as well
What my point is that may Be that one
Time that person really needs help and you could

Be a saviou

I occasionally see that in my daily life when there is an accident or Some Other

Tari کہا...

Calamity white people are the first to stop and help
Anywas I always look forward yo your blogs
Keep up the good work

BTW can u advise how to comment in urdu

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ٹاڑی صاحب کیا آپ کے پاس کمپیوٹر میں اردو انسٹالر نہیں ہے؟
یہاں سے اردو فونٹ اینڈ کی بورڈ انسٹال کرسکتے ہیں اور دیگر معلومات بھی آپ کو یہا ں سے مل جائے گی
لنک
http://www.mbilalm.com/urdu-installer.php

Tari کہا...

I use iPhone to read urdu blogs
Thanks for the link will check it iut

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.