ڈسکو مولوی

بچپن میں قوالی کی آواز کانوں میں پڑھتی تھی تو عجیب الجھن ہوتی تھی،کہ اللہ رسول کے نام کے ساتھ "باجے " کی سُر اور ڈھول کی چھاپ کا کیا کام  ؟ ایک بار اس بابت سوال پوچھنے پر سختی سے دوبارہ ایسا گستاخانہ سوال کرنے سے منع کر دیا گیا۔جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے۔ویگنوں ، بسوں ، دکانوں پر سے قوالی سنائی دینا شروع ہوئی تو ہم بھی سننے کے عادی ہوگئے۔آہستہ آہستہ عادت پختہ  کر دی جائے تو برائی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔

قوالی کے اشعار کو کچھ سمجھنا شروع ہوئے تو کچھ مزید "کرب" بڑھتا گیا۔
جب جہاد کلچر عروج پر تھا،اور مجاہدین روڈ ٹول ادا کرنے کے بجائے ۔بیرئیل سے مجاہدین  ہیں جی  ، کہہ کر گذر جاتے تھے۔ڈبل کیبن میں چار باریش بیٹھے ہوئے ہوتے تھے تو مجاہدین کا ٹہلکہ ہوتا تھا۔آجکل کی طرح دہشت گرد نہیں سمجھے جاتے تھے۔او ر ان کی حب الوطنی مشکوک نہیں سمجھی جاتی تھی۔بلکہ ملک و امت کے "بے لوث" محافظ سمجھے جاتے تھے۔  گردش ایام؟

انہی دنوں ریسٹورنٹ میں صبح کا ناشتہ کر رہا تھا ،کہ مجاہدین آئے اورریسٹورنٹ والے کو قوالی بند کرنے کا کہا ۔یہ اسلام آباد ائیر پورٹ کا واقعہ ہے۔ریسٹورنٹ والے نے غصے سے شور مچا دیا تھا ،کہ نور پیر کا وقت ہے اور یہ اللہ رسول کا ذکر سننے سے منع کرتے ہیں۔

جب مجاہدین کے جہاد میں اپنے جگر گوشے گم ہوئے اور پہلے سے ہی دشوار "زندگی" ہمیں بھگتنا پڑی تو سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ چکر کیا ہے۔
یہ وقتی مقاصد یا مفاد کیلئے عمومیہ کے "مذہبی جذبات" کو استعمال کرنے والی سوچ ہے۔اور اس سوچ والوں کیلئے مذہب کھیل تماشہ ہوتا ہے۔اور سادہ لوح مسلمان استعمال ہو جاتے ہیں

ہو سکتا ہے مجھ ناقص العقل کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔لیکن حقیقت یہی ہے۔کہ بھگت ہم ہی رہے ہیں!(ڈر لگتا ہے کسی کو غصہ ہی نہ آجائے)
عمومیہ کسی "مذہب" کی ماننے والی ہی کیوں نہ ہو۔"  جذبات" کی تسکین کی خواہش مند ہوتی ہے۔ جذبات کی تسکین کا نشہ دنیا کی اعلی ترین اور گھٹیا ترین نشے سے بھی تباہ کُن ہوتا ہے۔کہ اس نشے میں مبتلا شخص سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں کھوتا۔اس نشے میں مبتلا نہ ہونے والوں کیلئے اس کے دل میں حقارت و بغض بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

ان "مذہبی جذبات" سے آجکل جیو ٹی وی والے "مولوی ڈسکو" کے ذریعے ماہ رمضان کے فضائل حاصل کرر ہے ہیں ،اور "دیگر" غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔غصے کا اظہار کرنے والوں کیلئے "مولوی ڈسکو" کے حقارت نما "جواب" پر عمومیہ تالیاں بجا کر ہوٹنگ سے خوشی کا اظہار کرتی ہے۔

رمضان کے علاوہ دنوں میں بھی انہی ٹی وی چینلز پر پروگرام کی ابتدا موسیقی سے ہوتی دیکھی جاتی ہے اور ایک قاری صاحب آکر تلاوت کرتےہیں ۔موسیقی کا بے ہنگ شور مچتا ہے اور میزبان کہتا ہے۔اب ملتے ہیں ایک بریک کے بعد!! بریک میں اشتہار چلتے ہیں اور "اشتہار" کتنے "مذہبی" ہوتے ہیں دیکھنے سننے والے سب جانتے ہیں۔

حمد و نعت تو ساز کی تان پر "خواتین کی حسین" آواز سے "مذہبی جذبات" کو تسکین دیتی ہی رہتی ہے۔امپورٹڈ میک اپ کٹ کا کمال؟یا بے پردہ حسین مورت دل موہ لیتی ہے؟
لیکن سوچنے کی بات ہے ،کہ مذہب کو اس حد تک کھیل تماشہ کیوں بنا دیا گیا؟

مذہبی مدارس سے طالب علم تیار ہوکر مذہب کو ہی پیشہ بنائے گا تو وہ مذہب کی خدمت کرنے سے پہلے پیٹ کا سوچے گا۔ایک عالم کی سند لیکر معاشرے میں آنے والا روزگار کیلئے کوئی مسجد یا مدرسہ ہی تلاش کرے گا۔جب مذہب کے ساتھ معاش کی مجبوری بھی آجائے گی تو یہ عالم میرے جیسے جنہوں نے دین میں ریاضت نہیں کی ہوتی ان کےسامنے پیٹ کی خاطر بے بس ہو جاتے ہیں۔یہ مجبوری ان "عالم" کو عمومیہ کے "مذہبی جذبات" کو تسکین دینے پر مجبور کرتی ہے۔اور عالم عوام کے "رواج" کے سامنے مجبور ہو جاتا ہے۔

اس مجبوری کا مجھے اس طرح تجربہ ہوا کہ عیدین کے نماز وخطبے کے بعد جب امام صاحب نے ایک گھنٹے تک اجتماعی دعا کروائی اور ایک بار ہی نہیں کئی بار ایسا ہوا تو انہی کے مسلک کے ایک دوسرے عالم صاحب سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

تو ان عالم صاحب کا سر سری سا ٹالنے والا جواب تھا کہ ہے تو غلط بات لیکن مجبوری ہے کہ عوام میں اسکا " رواج" جڑ پکڑ چکا ہے۔اس لئے ہم ایسا کرتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی مثال اس لئے دے رہا ہوں ،کہ اس کے علاوہ دی جانے والی مثال فرقے پر چوٹ کرنے والی بات ہو جائے گی۔

نوجوان نسل جو پڑھی لکھی ذہین بھی ہے اور مطالعے کا شوق بھی رکھتی ہے۔یہ نسل سارے فساد کا قصوروار علماء دین کو ہی سمجھتی ہے۔اور یہی "روشن خیال " نسل دین کو تماشہ بنانے والوں اور عمومیہ کے "مذہبی جذبات" سے کھیل کر مفاد حاصل کرنے والوں سے بھی نفرت کرتی ہے۔اور علماء حق چاھے کسی مسلک کے بھی ہوں بے شک خلوص دل سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔لیکن مفاد پرستوں کے ساتھ یہ بھی دین بیزاروں کے حقارت کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔

لازمی نہیں کہ ہر مطالعہ کا شوق رکھنے والا ذہین نوجوان "روشن خیال" اور "دین بیزار" ہی ہو۔ذہنی انتشار کو دور کرنے کیلئے کچھ سوچتا ہے اور سوالات اٹھاتا ہے۔لیکن "مذہبی رہنماؤں" کیطرف اس خوف سے نہیں جاتا کہ اس کی بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جائے گی ۔راہنمائی کی امید کا گلہ یہ نوجوان اپنے ہاتھوں ہی گھونٹ دیتا ہے۔وجہ کیلئے غور کریں تو عصر حاضر کے حالات ہمارے سامنے ہی ہیں۔

کئی علماء کرام کو اس نئی نسل کے انتشار کو سمجھنے کے بجائے ان پر جارحیت کے ساتھ تنقید کرتے اور صرف اپنا "دفاع " کرتے ہوئے پایا۔
جب  "مجبور" اپنے "ہم مسلک" حضرات کو عوام کے "رواج" کے آگے مجبور ہو کر نئی نئی حرکات سے روکنے کی دینی جراءت نہیں کرتے ۔

تو "مولوی ڈسکو" کیطرح کے مفاد پرست دین کو کھیل تماشہ ہی بنائیں گے۔
مال دنیا کی طلب میں "رواج" کے سامنے مجبور ہونے والے ہی اگر بھول جائیں کہ اللہ تو آخرت میں نوازنے کا ارادہ رکھتاہے تو "رواج" کو کون روکے گا؟

اور عمومیہ کا رواج تو ہوتا ہی نفس کا غلام ہے۔
میڈیا کے مفاد اور اپنے مفاد کی خاطر مذہب کو کھیل تماشہ بنانے والے ایک شخص کو لعن طعن کرنے کے بجائے ہمیں اس سوچ کی مذمت کرنی چاھئے ۔چاھے یہ سوچ محلے کی مسجد کے منبر سے نکل رہی ہو،یا شیطانی چرخے پر ڈرامے بازی سے دکھائی جا رہی ہو۔
اس سوچ کی اذیت کا شکا ر ہم اپنی ذہین اور  پڑھی لکھی  نئی نسل کو پا رہے۔اس نسل کے ذہنی  انتشار کو کوئی سمجھ بھی رہا ہے؟ظاہرہے کوئی نیا" عالم " ہی نئے انداز میں سامنے آکر انہیں متاثر کر ے گا! پرانوں سے اس نئی نسل کو "نا امیدی" ہو تی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت ایک "پیشہ ور" شخص ہے۔اور ہربے حیائی کو برائی سمجھے بغیر نشر کرنے والے ادارے کیلئے کام کرکے اس کا معاوضہ حاصل کر رہا ہے۔
ناظرین کی "ریٹنگ" مل رہی تو اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ"عمومیہ" میں اس کی مانگ ہے۔عمومیہ کی اصلاح کا کام جن کے ذمے ہے وہ"مذاہب" کو چھوڑ کر "مذہب" کی خدمت کیطرف آئیں تو اس طرح کے"ڈرامے" اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟
ڈسکو مولوی ڈسکو مولوی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:15 AM Rating: 5

15 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

مزے کی بات تو یہ ہے کہ مولوی ڈسکو کے خلاف جو بات کرے۔۔۔ وہ "لائیو شو" میں اس کے پرخچے اڑا سکتا ہے۔۔۔ اور اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔۔۔ وہ کھلے عام دھمکیاں دے سکتا ہے۔۔۔ وہ کھلے عام اپنے مخالفین کو چیلنج کر سکتا ہے۔۔۔ وہ "عالمِ دین" جب چاہے گانوں کی تھاپ پر ناچ سکتا ہے۔۔۔ وہ فحش اور لغو باتیں کر سکتا ہے۔۔۔ وہ جس کا چاہے، مزاق اڑا سکتا ہے۔۔۔ لیکن اسے روکنے والا کوئی نہیں۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ بیوقوف عوام اس کی گھٹیا اور ذلیل حرکتوں کو "مذہب" اور "تقدس" کے زمرے میں رکھ کر اس کے کسی بھی لچر پن کو "غلط" یا "گناہ" ماننے کو تیار نہیں۔۔۔ وہ اُس کی فحش حرکات کو "فالو" کریں گے۔۔۔ کہ "ڈاکٹر عامر لیاقت" جیسے "عالمِ دین" کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی سب جائز ہے۔۔۔

مبارک ہو ہمیں ایک اور نیا اسلام۔۔۔ ایک اور نیا فرقہ۔۔۔ ایک اور نئی شریعت۔۔۔ مبارک ہو یاسر بھائی۔۔۔ ہم مسلمان نہیں رہے۔۔۔ ہم کنجر بن گئے ہیں۔۔۔ مبار ک ہو آپ کو۔۔۔ ہم پر ہمارا دین "مزید" آسان کر دیا گیا ہے۔۔۔ اب ہم ناچ گا کر۔۔۔ ٹھٹے اڑا کر، فحش گوئی میں اپنا وقت ضائع کر کے، بھیک مانگ کر، مالِ مفت کے مزے اُڑا کر اپنا ایمان پھر سے تازہ کریں گے۔۔۔

بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔ کہ ہم جن کی شریعت پر عمل کرنے کا سوچتے تھے، جن کے احکامات کو "آخری حرف" سمجھتے تھے۔۔۔ نعوذباللہ انہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔ وہ تو کچھ بھی نہیں رہے۔۔۔ سب کچھ "مولوی ڈسکو اور اس جیسے ہمنوا" ہی رہ گئے ہمارے لیے۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔

لعنت ہو ہم جیسوں پر کہ ہم یہ سب ہوتا دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ ہم ایسے گھٹیا لوگوں کا، جنہوں نے ہمارے اسلام کو مذاق بنا دیا ہے، بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔۔۔ کیونکہ اُن کے ساتھ ساری دنیا ہے۔۔۔ وہ ساری دنیا، جو اُن جیسی ہی ہے۔۔۔

افسوس ہے ہم پر۔۔۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

fikrepakistan کہا...

ابتداءِ عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔

جواد احمد خان کہا...

ایسا لگتا ہے کہ دین کا ٹھیکہ عامر لیاقت حسین کو دیدیا گیا ہے۔
مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ سارا مسئلہ یہ عمومیت ہی ہوتی ہے۔ عمومیت سادگی اور عمل کو پسند نہیں کرتی وہ تو بس ایک فضا ، ایک ماحول ایک ریلیجیئس ایکسٹیسی ، لفاظی اور آنسوؤں اور رقتوں سے بھرپور ڈرامہ کی دلدادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ عالم دین ناکام ہے اور عالم آن لائن یعنی عامر لیاقت کامیاب ۔

بنیاد پرست کہا...

آپ کی تحریر پھر عمران بھائی کے تبصرے کے بعد اپنے تبصرہ کی ضرورت نہیں سمجھتا، بہت اعلی تحریر اور بہت اعلی تبصرہ۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

محترم ۔ میں نے سکول کے زمانہ سے لے کر دادا بننے تک امام ۔ مقتدی اور ان میں سے ایک یا دونوں کو برا کہنے والے پڑھے لکھوں کا مطالعہ کیا ہے ۔ نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ قصور اقلیت کے سر تھوپنا بہت آسان ہے اسلئے تھوپ دیا جاتا ہے حالانکہ قصور وار اکثریت ہے جو مسجد میں باقاعدہ حاضری دینے سے قاصر ہے اور ان میں جو چند مسجد جاتے ہیں وہ وہاں اللہ کو نہیں اپنی انا کو راضی کرنے جاتے ہیں ۔
مسجد کا امام کون چُنتا ہے ؟ کیا امام مقرر کرتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ اس کی تعلیم کیا ہے اور وہ تعلیم دینے کا سلیقہ رکھتا ہے ۔ آپ سروے کر لیجئے 70 فیصد یا زائد امام کسی بھی مدرسہ کے فارغ التحصیل نہیں نکلیں گے ۔
اب ایک اور پہلو بھی دیکھیئے ۔ سرکاری مسجدوں کے امام کی ماہانہ تنخواہ 6000 سے 12000 تک ہے ۔ جب کہ درسِ نظامی کے ساتھ صرف بی اے انگریزی کا امتحان پاس کر کے لوگ دوسری نوکری اختیار کر لیتے ہیں اور اس سے زیادہ تنخواہ پاتے ہیں ۔ یا مزید پڑھ کر ایم اے کر لیتے ہیں اور افسر بن جاتے ہیں ۔
تیسرا پہلو ۔ مُلک کے سکولوں میں سے ایک فیصد بھی ایسے نہیں ہیں جنہوں نے مدرسہ سے فارغ التحصیل کو اسلامیات پڑھانے کیلئے رکھا ہو ۔ جو آدمی بھرتی کر لیا اور باقی کچھ نہ کر سکا اُسے اسلامیات پڑھانے پر لگا دیا جاتا ہے ۔
چوتھا پہلو ۔ ملک میں 38 فیصد خواندگی جو بتائی جاتی ہے اس میں 18 فیصد مدرسہ کے پڑھے لوگ ہیں ۔ ملک کے سارے فلاحی ادارے بشمول ایدھی ویلفیئر سینٹر اتنے غریب و لاچار بچوں کو نہیں پال رہے جتنوں کو مدرسے پال رہے ہیں ۔ اور یہ مدرسے لوگوں کی دی ہوئی زکوٰۃ اور عطیات سے چلتے ہیں
پانچواں پہلو ۔ میرے ہموطنوں کی اکثریت دکھاوا پسند ہے اسلئے مذہب کو بھی اس مد میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ محفلیں سجانے کا ایک بہانا دین کو بھی بنایا گیا ہے اس سے قطع نظر کہ وہ اپنے لئے جہنم کا ایندھن اکٹھا کر رہے ہیں
تبصرہ طویل ہو جانے پر معذرت

ali کہا...

بھائی ہم ریٹنگ دے رہے ہیں آپ کو کیا اعتراض ہے۔ ہمیں نرگس اور مولوی ڈسکو سے دلچسپی ہے اور یہی ہمارا کلچر ہے۔ آپ کو اعتراض؟

نعیم خان کہا...

"آہستہ آہستہ عادت پختہ کر دی جائے تو برائی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔" بالکل درست فرمایا آپ نے، اب تو ہماری دینی تربیت بھی فنکار، اداکار، گلوکار ، بھانڈ اور میراثی کرنے لگے ہیں اور دین اسلام کی آفاقی پیغامات کو مسلمانوں تک پہنچانے اور اُن کی تربیت کے لئے کوئی اور نہ رہا تو کرائے کے مولوی اور ہمارے عظیم فنکار رہ گئے ہیں جو اپنے طریقہ واردات سے ہماری ذہنوں کی برین واشنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور آپ کی بات کچھ عرصہ بعد اس برائی کا احساس ختم ہوجائے گا ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم بزرگوار آپ کے طویل تبصرے نے ہی تو پوسٹ کو مکمل کیا ہے۔
سچ ارشاد فرمایا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خصماں نوں کھاؤ تے سانوں کی ای ؛ڈڈ

کمال کہا...

یہ پیغام شاکر عزیز صاحب کےلیے ہے

آپ نے پچھلے دنوں کی اہم تحاریر لکھیں، تبصرہ کرنے کے لیے دل بھی للچایا، مگر تبصرہ کرنے کے لیے دستیاب لاگ انز کی سہولت بہت محدود ہے-
براے مہربانی تبصرہ نگاری کے لیے "Anonymous" سہولت بحال کر دیجیے-

شکریہ

fikrepakistan کہا...

یہ تاثر بلکل غلط ہے کہ سارے مدرسے لوگوں کے عطیات سے چلتے ہیں، اور یہ تاثر بھی غلط ہے کہ سارے مدرسے ہی سعودیہ کی خفیہ امداد سے چلتے ہیں، معاملا درمیان کا ہے، لیکن یہ سچ ہے جسے بولنے کی جسارت اچھے خاصے پرہیزگار لوگ بھی نہیں کرتے کہ پاکستان میں ایسے مدرسوں کی کثیر تعداد موجود ہے جسے خفیہ طور پر سعودیہ اور دیگر ممالک سے کچھہ خاص مقاصد کے تحت امداد بھیجی جاتی ہے، جس امداد کے شاخسانے ہم اموماَََ پاکستان کے بازاروں، مسجدووں امام بارگاہوں اور مزارات پر خود کش حملے کی صورت میں دیکھتے رہتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان صاحب ان "خاص مقاصد" کیلئے پاکستان خود کفیل ہے۔مخیر عربوں سے "اہلحدیثوں" کے مدارس و مساجد کیلئے "فنڈ" ضرور آتا ہے۔جس کا ہماری "معصوم ایجنسیز" کو بھی معلوم ہے۔اور حکومت پاکستان بھی اتنی معصوم نہیں ہے کہ اسے معلوم نہ ہو۔
ایک سعودی مسلمان بزر گ سے ملاقات ہوئی تھی۔انہوں نے ایک بات بتائی تھی جس کی میں ابھی تک تصدیق نہیں کر سکا ۔شاید بزرگوار اجمل صاحب کر سکیں ،ان سعودی بزرگ کا کہنا تھا کہ عرب ،ہندو پاکستان کی تقسیم سے پہلے تک بر صغیر سے مدارس و مساجد کیلئے "فنڈ" جمع کرکے لے جاتے تھے۔جنہیں عرب ابھی تک نہیں بھولے اور اسی وجہ سے پاکستان کی مدد امداد ہمیشہ بڑ چڑھ کر کرتے ہیں۔

fikrepakistan کہا...

یاسر بھائی زاتی حیثیت میں اگر کوئی عرب کسی کی مدد کر دیتا ہے یا پاکستان کے کسی مدرسے کو امداد دے دیتا ہے تو وہ ایک دیگر بات ہے، ورنہ گورنمنٹ کی سطح پر ایسی کوئی بات نہیں ہے، یہ بات آپ بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ریاستوں کے درمیان دوستیاں نہیں ہوا کرتیں مشترکہ مفادات اور انکا تحفظ ہوا کرتا ہے، پھر چاہے ہو چین اور پاکستان کی دوستی ہو یا سعودیہ عرب اور پاکستان کی دوستی ہو، پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے جس وجہ سے پاکستان کو امتیاز حاصل ہے ورنہ پاکستانیوں سے الگ سے ایسی کوئی خاص محبت کیونکر ہونے لگی عربوں کو؟ میں نے تو شاید ہی کوئی ایسا پاکستانی دیکھا ہے جو کسی عرب کے پاس ملازم رہا ہو اور اس سے خوش نظر آیا ہو، یہ پاکستانی کلو حرامی جیسے محاورے سعودیہ عرب کے عربوں کے ہی ایجاد کردہ ہیں۔

بھیک، خیرات، زکوات، دے دیتے ہیں، باقی جو حکمرانوں کی سطح پر پاکستان کو سپورٹ دی جاتی رہی ہے اسکے ثمرات تو کبھی بھی نچلی سطح تک آنے میں نے نہیں دیکھے، وہ بھی ایک دوسرے سے تعلقات بنانے کی حد تک ہی رہے، باقی سعودیہ کو یہ لالچ تو بحرحال ہے نہ کے کسی بھی مشکل وقت میں پاکستان آرمی اسکے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، جیسے پچھلے دو عشروں سے امریکہ کی فوج سعودیہ کی پاک زمیں کی حفاظت پر معمور ہے۔

محمد وقاص احمد کہا...

بہت خوب واقعی بہت خوب یاسر بھائی

SarwatAJ کہا...

مذہب کے بارے میں یہ غلط تاثرات پیدا ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں ، جن میں گھرانوں میں ترجیحات کا تعین ہے، یہ وە بات ہے جو لفظوں میں نہیں کہی جاتی ، گھر کے ماحول میں، فضا میں ہوتی ہے۔ اور دوسری بات مذہب اور دین کو شجرِ ممنوعہ سمجھنا ہے کہ جیسے یہ باتیں عام فہم سے بالا تر ہوں۔ صرف مولوی حضرات ہی مسائل ، فقہ اور قرآن پہ بات کرنے اور سمجھنے کے اجارە دار ہوں ۔ عام آدمی نے اپنی اپنی رضا اور رغبت سے دین کے معاملے کی ڈیلنگ ہر اس شخص کو دے رکھی ہےجو مولویانہ لبادە اوڑھے ہو اور ظاہری اعتبار سے ایک مخصوص حلیے کا مالک ہو۔ جبکہ اللہ کا دین، اس کا معاملہ، اس کی کتاب ایسی ہے کہ ہر آدمی کی رسائی میں ہے۔ ہر انسان مخاطب کیا گیا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.