دھرتی

میں انسانوں کے ہراول دستے کے سنگ اس چمچماتی راہگذر پر کھڑا ہوں۔
ہر سو ہریالی ہے،پھول ہیں۔خوشبوئیں ہیں۔
یہاں زندگی جیتی ہے،اور موت راحت دیتی ہے۔            

یہاں ہر سانس ایک نئی مہک سے آسودہ کرتی ہے۔
یہاں کی وادیاں حسین ہیں، یہاں انسان خوشبو دار ہیں مہکتے ہیں
یہاں کے پہاڑ پُرشکوہ ہیں
یہاں کے دریا گنگناتے ہیں
یہاں لوگ سسکتے نہیں ،
یہاں لہو رستا نہیں،
یہاں لوگ بدبودار نہیں
لیکن
یہاں دھرتی نہیں ہے  


میں ایک ایسا تیر ہوں جو کمان سے نکل کر واپس نہیں ہو سکتا
میں اپنی کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
میری کمان میری کمان۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کمان کا تیر تو صرف الاؤ جلانے کے کام آسکتا ہے۔
تپش ، دھواں ، راکھ۔
میں اپنی کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
جہاں پہاڑ صبح کی روشنی میں چمکتے ہیں
جہاں چاندنی رات میں گھاس پر چمکتی شبنم پاؤں کی تھکن نچوڑ لیتی ہے
جہاں دریا کا شور مچاتا ردھم راتوں کو سحرزدہ کرتا ہے۔


جہاں بھوک کا احساس ہے،جہاں دکھ ہے الم ہے

جہاں لالچ ہے ہوس ہے بے حسی ہے
جہاں بدبودار انسان بستے ہیں
جنکے پسینے مہکتے ہیں ،جن کے بدن سے رستا لہو مہکتا ہے
جہاں ہر آنے والی رات کیلئے شام سورج کی دھوپ چرا لیتی ہے
جہاں ہر آنے والی صبح رات کی راحت چُرا لیتی ہے



جہاں تھکی تھکی سی صبح کو صبح کا تارا  امیدوں، امنگوں سے بھر دیتا ہے
جہاں بہتا لہو ، جہاں بھوک سے سسکتا بدن ، جہاں امیدوں کے جنازے اٹھائے مردے کچھ دیر اور جینا چاھتے ہیں
میں کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
جہاں دریاؤں کے پانی  دکھ درد ، غم و الم ٹھنڈے کرتے ہیں
میں اپنی کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
میں اپنی کمان کے ساتھ گذرے چند لمحوں کی قدر کرتا ہوں
میں کمان سے نکلا بھٹکتا تیر
دھرتی  کی خاک پرلوٹنا چاہتا ہوں۔


میں اس دھرتی پر گرنا چاہتا ہوں
جس کی پھانکی ہوئی خاک اشرف المخلوق کو حشرات الارض کی خوراک بننے تک
محبت کرنے پر مجبور کرتی ہے
دھرتی دھرتی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:50 PM Rating: 5

4 تبصرے:

iftikhar raja کہا...

آپ نے کچھ زیادہ سیریس ہی نہیں لکھنا شروع کردیا، ویسے الانت ولاخیر قسم کی نظم ہے
اور اسکے اختتام تو بہت ہی اعلٰی اور حقیقی ہے

اللہ آپ کو ہمت دے

مصطفےٰ ملک کہا...

میں اس دھرتی پر گرنا چاہتا ہوں
جس کی پھانکی ہوئی خاک اشرف المخلوق کو حشرات الارض کی خوراک بننے تک
محبت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔واہ جی کیا بات ہے

SarwatAJ کہا...

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وە قرض اُتارے ہیں جوواجب بھی نہیں تھے

جواد احمد خان کہا...

خاک اپنے خمیر ہی کی طرف لوٹتی ہے۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.