برداشت کر!

جب پاکستان کا نیا بجٹ پیش ہوا تو بڑی حیرت ہوئی کہ حکومت پاکستان نے ہائی برڈ گاڑیوں کو ڈیوٹی فری کردیا ہے۔لیکن شرط رکھی کہ 1200سو سی سی  تک کی گاڑیوں کو ہی ڈیوٹی فری رکھا جائے گا۔محبت وطن  حکمرانوں کو حکومت ملی تو پہلا کام انرجی کرائسس ختم کرنے کی پیش رفت کی ۔۔۔  خوب است خوب است۔

پچھلی صدی کےشریفانہ اور محبابہ حکمرانی کے دور کا ذکر ہے کہ خبر گرم ہوئی تھی  جاپان  سے اب پاکستان گاڑیاں بھیجی جا سکتی ہیں۔یعنی پاکستان کا کام  "کھل "گیا ہے۔ جاپان کے میرے جیسے چھوٹے کاروباری خوش ہو گئے تھے۔کہ روزگار کچھ بہتر ہو جائے گا۔ابھی معلومات جمع ہی کر رہے تھے۔کہ پتہ چلا جن کے لئے اور جتنا  "کام "کھلا تھا۔وہ پورا ہو چکا ہے۔گاڑیاں جاپان کیا جرمنی سے بھی پاکستان پہونچ چکی ہیں اور اب "کام" بند ہو چکا ہے۔

جن کاروباریوں نے انویسٹ کی تھی ۔ہکے بکے منہ کھولے لمبے لیٹ گئے اور نقصان اٹھا کر خاموشی اختیار کر لی۔اس  دفعہ بار ہ سو سی سی  ہائی برڈکی گاڑیوں  کا بجٹ میں ذکر ہوا تو بہت کم پاکستانی کاروباریوں نے دلچسپی لی ،کہ پاکستان کا معاملہ اللہ توکل پر ہی چلتا ہے۔اللہ پر توکل پاکستان سے باہر تو  بندے کو اللہ کا شکر گذار بنا دیتا ہے۔معاملات پاکستان کی حکومت اور حکمرانی کے ہوں تو بندہ اللہ کا نا شکرا ہونے کے ڈر سے دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔

پچھلی حکومت کے دور میں بھی کچھ عرصے کیلئے ڈیوٹی میں کمی اور پرانی گاڑیاں یعنی پانچ سات سال  سےبھی زیادہ پرانی گاڑیوں کا "کام " کھلا بعد میں پتہ چلا کہ مرشد ملتان والی سرکار کے فرزند ارجمند کمپنی کی "لاٹ" پاکستان پہونچ چکی ہے۔اب چپ کرکے  بیٹھ جاؤ۔اللہ ہی جانے حقیقت کیا تھی۔ہم نے نہ پہلے کبھی دلچسپی لی اور نہ مستقبل میں دلچسپی نما رسک لینے کا کوئی ارادہ ہے۔تھوڑا سہی ستھرا ہی کھانے کو ملے تو اچھا ہے۔

بارہ سو سی سی کی ہائی برڈ  گاڑیاں  تیار ہی نہیں ہوتیں۔ ہنڈا نے ایک عدد تیار کی تھی وہ بھی عرصہ ہوا  تیار ہونا بند ہو چکی ہے۔حقیت کا نہیں علم جناب!! لیکن مارکیٹ میں بات گھوم رہی ہے۔کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی ساٹھ ہزار بارہ سو سی سی ہائی برڈ گاڑیوں کی تیاری کا آڈر دے دیا گیا تھا۔ظاہر ہے میکر کو ایسا آڈر دیا جائے تو اس نے تیار کر کے پیش خدمت کر دینی ہے۔مال بنانے والے کا مال بکنا چاھئے۔اسے غرض نہیں ہوتی کہ وصولنے والا قانون کا پابند ہے یا قانون اس کی لونڈی!!

عام آدمی سے لیکر سیاستدان ،بیوروکریٹ ، فوجی ہر بندہ ہی کرپٹ ہے۔پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے پالا پڑ جائے تو شریف آدمی خوار ہو جاتا ہے۔ہم دیار غیرمیں بسنے والے تارک وطن ہونے کے باوجود بے بس ہیں ،کہ ماں باپ بہن بھائی پاکستان میں بستے ہیں نہ چاھتے ہوئے بھی پاکستان سے تعلق  قائم رکھنے کی مجبوری ہے۔پاکستان کے سرکاری اداروں سے واسطہ پڑے یا نہ پڑے پاکستان ایمبیسی سے پاکستانی پاسپورٹ نہ ہونے  کے باوجود واسطہ پڑ ہی جاتا ہے۔

اول تو اپنے  کام سے متعلقہ معلومات لینا ہی جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔کسی نہ کسی طرح معلومات حاصل کر ہی لیں۔تو اس کے بعد جو پراسس ہوتا ہے۔اس کیلئے خواری ہی خواری ہوتی ہے۔پاکستانی اورسیز کارڈ کی تجدید کروانی تھی۔پہلے فون کیا تو متعلقہ آفیسر کو لفظ "تجدید" کی ہی سمجھ نہیں آئی ۔جب "رینیو" کروانے کا پوچھا تو اچھا اچھا کہہ کر کہا گیا کہ نیشنل بینک میں مبلغ سکہ رائج الوقت ڈیڑھ سو ڈالر جمع کروا کر رسید اور کاغذات ایمبیسی بھیج دیں ۔بہت آسان سا طریقہ ہے نا؟

نیشنل بینک کو فون کیا تو بتایا گیا کہ جناب بینک میں آکر پیسے جمع کروا دیں!!! جس جگہ میری رہائش ہے یہاں سے مجھے پانچ سو کلو میٹر کا سفر کرکے ٹوکیو جانا ہے۔بینک میں پیسے جمع کروانے ہیں۔اور ایمبیسی کو کاغذات "بذریعہ پوسٹ" روانہ کرنے ہیں۔آسان سا طریقہ ہے نا؟

نہایت آسانی سے مجھے کم ازکم "آسان" سے حساب کتاب سے سات سو ڈالر کا خرچہ پڑنا ہے۔غریب بندہ ہوں۔سات سو ڈالر سے پاکستان میں میرے گھر کا چولہا کم ازکم ایک ماہ تو جل ہی جائے گا۔یعنی پاکستان میں جنم لینے کا "تاوان" مجھے تاحیات ادا کرنا ہی ہے۔اور جس جس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے داخلی اور خارجی محکمے سے واسطہ پڑنا ہے۔حسب توفیق ان سے ذلیل ہونا  ہی ہے۔

آپ کے ذہن میں آئے گا ،کہ اس میں ذلالت کی کیا بات؟ سات سو ڈالرخرچ کرو اور کام کروا لو!! جاپان میں رہتے ہو۔کما ہی لو گے!! بجا سوچا جناب!! ذلیل اس طرح ہو رہا ہوں کہ سوچا شاید ایمبیسی کے "روزہ دار مسلمان" صاحبان سے پوچھ ہی لوں شاید کوئی "وچکارلا" رستہ ہی ہو۔اور ٹوکیو جانے کی زحمت سے بچ ہی جاؤں۔۔اپنا بھی روزہ ہوتا ہے جناب۔
تجدید کی جلدی اس لئے ہے۔کہ کیا پتہ اپنا ہی وقت پورا ہو جائے اور پتہ صاف ہو جائے۔موت برحق ہے۔اماں ابا بھی بوڑھے ہیں اور  جوان کیلئے بھی اللہ میاں نے کوئی زندگی کے اختتام کا ٹائم نہیں بتایا ہوا۔

ہفتہ ہوگیا ۔روزانہ فون کر رہا ہوں۔ لیکن ماہِ رمضان ہے۔اور جاپان کے روزے "اعلی افسران" کیلئے نہایت شدید اور عین عباد ت ہونے کی وجہ سے کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا!!بلکہ خود کار طریقے سے "کھٹاک" سے بند ہو جاتا ہے۔
"جلن"  ، "ساڑ" ، "دکھ" اس وقت شدید ہو جاتا ہے۔جب قرون اولی کے مسلمانوں کی فرض شناسی ،احساس ذمہ داری، اور قرون اولی کے مسلمانوں کے متعلق کتب میں پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔کہ ان کے نزدیک سرکاری نو کری عوام کی چاکری ہوا کرتی تھی۔

لیکن جناب اتنے میں ہی بس نہیں جو کچھ قرون اولی کے مسلمانوں کے متعلق کتب میں پڑھنے کو  ملتا ہے۔اس طرح کے معاملات ہمارے  ساتھ روزانہ پیش آتے ہیں ۔اور ان معاملات سے ہمارے ایمان تازہ نہیں ہوتے!! وجہ ظاہر ہے۔کہ یہ معاملات کرنے والے قرون اولی کے مسلمان بھی نہیں اور "خادم اعلی" بھی نہیں!! یہا ں کے کفار ہیں ۔اور ان کا "خادم ادنی"(وزیر اعظم) عاجزی کا چلتا پھرتا نمونہ ہوتاہے۔

پاکستانی عوام کو نہ تو "نیا پاکستان" چاھئے اور نہ ہی "روشن پاکستان" صرف اور صرف "داخلی "اور "خارجی"  کفار کی طرح کے  "خیانت" سے پاک "ایماندار "سرکاری و غیر سرکاری اہلکار اور  خصوصاً "عوام" کی ضرورت ہے۔
لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات کچھ زیادہ ہی سخت کہہ دی۔۔برداشت کر۔۔۔۔۔ نہیں تو خلاص کر!!
برداشت کر! برداشت کر! Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:15 PM Rating: 5

9 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

ہور چوپو

افتخار اجمل بھوپال کہا...

قبلہ ہمارے ملک میں ایک ہی کام بڑے پیمانے پر پچھلی تین دہائیوں سے ہو رہا اور وہ ہے خبر بنانا اور پھر بنائی ہوئی خبر کو پھیلانے کا اہتمام کرنا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بزرگوار یہ لیں ایک وڈیو کلپ
http://www.dailymotion.com/video/x12263d_why-hybrid-cars-were-exempted-from-tax-in-2013-14-budget-facts-revealed_news?start=1#.Uel7buaCjIW

Dr Raja کہا...

مولانا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ پاکستان کسی کو کہہ کر اپنا شناختی کاٹ بنوا لیں پیسے بھی روپوں میں اور اگلا گھر پھڑا جاوے گا. اسکو کوئ ہزار دو شیرنی شکرانے کے دے دینا

مہتاب عزیز کہا...

جناب سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ جاپان سے آیک آن لاءن اردو اخبار نکال لیں۔ دوبارہ جب ایمیسی یا پاکستان کے کسی ادارے سے کام پڑے تو اس کے ایڈیٹر کے طور پر اپنا تعارف کرایے گا۔ فرق صاف ظاہر ہو جاءے گا۔
کم ازکم ساتھ کے لوگوں سے ہی کچھ سیکھ لیا کریں

مرزا غلام عباس کہا...

آپ کی باتیں کھرا سچ ہیں، مگر دل نہ جلایں بھائی صاحب! تھوہر کے پتے مخملی تو نہیں ہوتے نا، نیم چڑھے کریلے تو کڑوے ہی ہوں گے، کاغذی پھولوں سے کہاں خوشبو آتی ہے۔

ali کہا...

نہ جی کیا آپکو پاکستان کی محبت کھائے جارہی ہے۔ سکون سے بیٹھو جاپان۔ ورنہ پھر اتاریں مٹی کی محبت کے قرض حاکموں کو رشوتیں دے کر :p

ali کہا...

اور یہ کلپ کیوں نہیں کھل رہا؟

SarwatAJ کہا...

پاکستانی عوام کو نہ تو “نیا پاکستان” چاھئے اور نہ ہی “روشن پاکستان” صرف اور صرف “داخلی “اور “خارجی” کفار کی طرح کے “خیانت” سے پاک “ایماندار “سرکاری و غیر سرکاری اہلکار اور خصوصاً “عوام” کی ضرورت ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.