"لگا لپٹا مصالحے دار "

بات تو بُری لگے گی۔لیکن سوچیں تو یہی سچ ہے ، اور سچ کو بندہ خود خوب سمجھتا ہے۔جو دوسروں کو بتاتا ہے وہ ہمیشہ "لگا لپٹا مصالحے دار " ہوتا ہے۔
معاشرہ لیڈر جنم دیتا ہے۔یہی معاشرہ لیڈر کی پرورش کرتا۔لیڈر سوچ بچار کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو معاشرے کیلئے کچھ کرنے کی تڑپ اسے بے چین کرتی ہے۔معاشرے بانجھ اس وقت ہوتے ہیں۔ جب ان میں لیڈروں کی پیدائش ہر گلی کوچے میں ہونا شروع ہو جائے۔

اِدھر کسی محل میں لیڈر کی ولادت باسعادت ہوتی ہے جو کہ پیدا ہی "حکمرانی " کیلئے ہوتا ہے۔اس لیڈر کے پیدا ہونے کا مقصد ہی اگلا لیڈر پیدا کرنا ہوتا ہے۔یعنی نسل در نسل "لیڈر" کے ڈی این اے کو طوالت دینا!

اُدھر کوئی لیڈر جھونپڑی میں ولادت با سعادت پاتا ہے تو ادھر کوئی جھاڑی کے پیچھے ولادت باسعادت کو عزت بخشتا ہے۔کچھ لیڈروں کی ولادت باسعادت کو حسب ضرورت ولادت کے مراحل سے  گذارنے والے گذار لیتے ہیں۔یعنی  سرزمین  پاک  جوج ماجوج کیطرح لیڈروں کو اُگل رہی ہے۔

مذہبی، سیاسی، فلاحی  ، اصلاحی تحریکوں ،تنظیموں  ، جماعتوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔کہ  ہر خود رو جنگلی جھاڑی کے پیچھے ایک عدد تحریک "متحرک" ہوتی ہے۔فلاحی تنظیم زیادہ تر این جی اوز ہوتی ہیں یا پھر کسی "مخصوص" مذہبی جماعت کی "فلاحی شاخ" ہوتی ہے۔ این جی او  ذرا انگریجی ہو تی ہے ،اس لئے یہ "فنڈ" جمع کرتی ہے۔جو کہ  عموماً معروف غیر ملکی کرنسی میں ہوتی ہے۔ھذا من فضل ربی بھی انہیں قبول ہوتا ہے۔

مذہبی جماعت کی "فلاحی شاخ" قطعی طور پر  "دینی " ہوتی ہے۔"چندہ" صدقہ ،  خیرات  ، زکواۃ ،  کھال ، کے علاوہ غیر ملکی "کرنسی" کا فنڈ بھی لازماً قبول ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جانوری و انسانی "چمڑی " بھی قبول ہوتی ہے۔

بحرحال دونوں طرز کی "فلاحی" تنظیموں کا مقصدمخلوق خدا کی "خدمت " ہوتا ہے۔اور ان کے کرتا دھرتا  "انتہائی نیک اور  اچھے " لوگ ہی ہوتے ہیں۔انہی کے دم سے معاشرہ قائم  ہےورنہ  "شیطان " اتنا کامیاب ہو چکا ہے کہ اللہ کا عذاب کسی وقت بھی اتر سکتا ہے۔ اللہ کی رحمت اتارنے کیلئے دعاؤں ، التجاؤں ، نذرو نیاز ، چڑھاؤں کی ضرورت ہوتی ہے اولاد نرینہ کیلئے پیر صاحب کی !۔اور عذاب بغیر طلب کی کسی وقت بھی نزول فرما دیا جاتا ہے۔بھولاپن اتنا کہ کرتوت کرکے معصومیت سے پوچھا جاتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے  کہ مسلمان بہترین "امت" بہترین  "قوم " اعلی " کوالٹی انسان" ہونے کے باوجود   دنیاوی عتاب کا شکار ہیں؟

سیاسی جماعتوں میں دو طرح کی سوچ رکھنے والی جماعتیں  پائی جاتی ہیں۔ایک  "کُلی جمہوری " جو مغربی طرز کی سیاست ہی کر رہی ہے۔یہ سیاسی سوچ یا  اس سیاسی سوچ کو ہم مسلمان طاغوتی سوچ کہتے ہیں۔جس نے صدیوں سے معاشرے کو تباہ کیا ہوا ہے۔ اور انہی "کُلی جمہوری " جماعتوں میں "لسانی"  "نسلی" سوچ بھی پائی جاتی۔جمہوریت بی بی کا حسن ہے جو جس طرح چاہے  پوجے ۔مذہبی نہیں سیاسی جماعتیں  ہیں جمہوریت بی بی کے ہی پجاری ہو سکتے ہیں ۔

دوسری مذہبی سیاسی سوچ والی جماعتیں ہیں۔یہ جماعتیں لوگوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ  "جمہوری" طریقے سے شریعت کا نفاذ کریں گئیں۔ فی الحال مجبوری ہے جمہوریت بی بی سے "تعلقات" رکھنے ہی پڑیں گے۔

مذہبی جماعتوں کے کارنامے سنیں تو فرمایا جاتا ہے ،لاکھوں لوگ بشرف ایمان ہوئے اور  لاکھوں تائب ہوکر  لباس و جسد باشرع ہوئے۔یعنی مُردوں میں جان پڑ گئی۔پینسٹھ سالہ "زن آزاد" قسم کی "آزادی " کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کے اصلاحی و فلاحی کام ملک و قوم و ملت کیلئے اتنے مفید  انجام ہوئے کہ  بازار میں چلتے ہوئے شیدا گاما تے "رامی درویش" "پنکچر" کئے بغیر گذرنے دیتے ہیں۔

مغربی تعلیم یافتہ طبقے(روشن خیال) کے" دستہ شفقت" کے نیچے پینسٹھ سال پرورش پانے والی نئی نویلی سلطنت  کو "بدحال" کرنے کا الزام "مولوی" کے سر رکھا ہوا ہے۔اور "مولوی" سر دھناتے ہوئے ۔صرف خلافت  اسلامیہ کو ہی تمام مسائل کا حل  بتائی جا رہا ہے۔

"مولوی" کی مسلکی مسجد میں دوسرے مسلک کا "مولوی" مستقل ، ماہانہ تنخواہ پر نماز پڑھانے کیلئے بھرتی نہیں ہو سکتا تو یہ "مولوی"  "اپنا خلیفہ " ہی بھرتی کروائے گا۔دوسرے مسلک والے کا خلیفہ کیسے قابل قبول ہوگا؟مسجد مشترکہ نہیں ! امام  باڑہ مشترکہ نہیں! امام مشترکہ نہیں !!مقتدی مشترکہ؟ ! تو "خلیفہ "کیسے مشترکہ ہو گا؟
مغربی بے حیا بے غیرت  مدر پدر آزاد جمہوری ملک میں  طاغوتی سیاسی طاقتیں کامیاب بلکہ سرخرو ہیں ، ان ممالک میں عوام کی اصلاح کیلئے  ہر جھاڑی کے پیچھے "متحرک" دینی جماعتیں بھی نہیں ہیں۔ان کی روحانی "راہنمائی " کیلئے پیر ، مرشد ، درویش بھی نہیں !!!

ان کی ناپاک سر زمین برتھ کنٹرول کی وجہ سے " لیڈرروں" کی ولادت باسعادت سے متبرک بھی نہیں ہوتی!ان کے باپ  اپنے اپنے ہوتے ہیں  چاھے بے نام ہی کیوں نہ ہوں۔لیکن مشترکہ زبردستی کا "قوم کا باپ" انہیں میسر نہیں ہوتا۔

سچ کہا گیا ہے حق کہا گیا ہے۔کہ مشرکوں کے ساتھ  زندگی نہیں گذارنی چاھئے ۔اہل شرک کے ممالک میں بغیر شرعی جواز کے بود وباش اختیار نہیں کرنی چاھئے۔اہل شرک کے ساتھ زندگی بسر کرنے والوں کے دل چاک کرکے دیکھو تو دکھائی دے کہ خوف و ڈر(اللہ کا بندے کا نہیں) سے کالے داغدار ہوئے جاتے ہیں۔حرام ہو یا حلال ملاوٹ سے پاک ان کے پاس مل جاتا ہے۔کھانے والے پر ہے کہ وہ کیا کھانا پسند کرے گا۔

"پاک سر زمین"پر تو حرام بھی خالص نہیں ملتا ! اسلامی سلطنت کیطرف ہجرت کون کرے؟ ہجرت کر بھی جائے تو جب ہفتے کے سات دن "اجتماعی" طور پر آس پاس سے لہولہان ہو کر آٹھوین دن "اجتماعی" عبادت کیلئے جائے تو خالص مومنین کے بھیجے گئے "فرشتہ کے ہاتھوں پرخچے اڑاوئے!
دور دراز کی امت کا درد لئے تڑپنے والو ! اڑوس پڑوس گلی محلے میں سسکنے والوں کا درد محسوس کرو!
روشن خیال کی اوقات اتنی ہی ہے،کہ وہ اپنے بچوں کو اقوام عالم میں فروخت  کرکے بھی ترقی کرنا چاہتا ہے۔ اور  اسلام پسند کی حالت  یہ ہے کہ  فروخت کر دیئے جانے والے معصوم بچوں  کو بھی اپنا دشمن ڈکلیئر کر دیتا ہے۔مسلمان کے پاس  مشرک کافر کی بھی جان مال عزت جب محفوظ ہو جائے گی۔تو مسلم معاشرے کو اپنے نظام سسٹم کو کوئی نام دینے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔کہ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں ہم مسلمان بستے ہیں۔
"لگا لپٹا مصالحے دار " "لگا لپٹا مصالحے دار " Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:33 PM Rating: 5

2 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

حضور ۔ جب انسان عِلم بھی اسلئے حاصل کرے کہ جتنا حاصل کرے گا اتنا اُونچا عہدہ ملے گا ۔ جب محلے والے عالمِ دین کی بجائے اپنے تابعدار کو محلے کی مسجد کا امام بنائیں ۔ جب مسلمان اپنے بچوں کو قرآن شریف پڑھانے والے کو 100 روپیہ ماہانہ اور انگریزی یا کوئی سائنس کا مضمون پڑھانے والے کو 5000 روپیہ ماہانہ دیتے نہ شرمائیں ۔ اور سب سے بڑھ کر لوگ ووٹ اُس کو دیں جو بیشک دیانتدار نہ ہو مگر اُس کے متعلق خیال ہو کہ کامیاب ہو کر اُن کے جائز و ناجائز کام کرے گا ۔ پھر اچھے لیڈر کہاں سے آئیں ؟

منیر عباسی کہا...

کم از کم میں اس سوچ سے متفق نہیں ہوں کہ لیڈر ایک معاشرے کو بدلتا ہے۔ لیڈر معاشرے کو اس وقت تک نہیں بدل سکتا جب تک کہ معاشرے کے ارکان خود نہ بدلنا چاہیں۔ سورہ رعد میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے اور اسی کا منظوم ترجمہ علامہ اقبال نے کچھ اس طرح کیا تھا کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔

لہذا جب تک ہم من حیث القوم خود اپنے آپ کو بدلنا نہ چاہیں، اس وقت تک اگر دنیا کے بہترین لیڈر بھی آ جائیں تو وہ شائد ناکام ہو جائیں۔ اسی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ الیکٹو کریسی جو کہ ڈیموکریسی کی بنیاد ہے، کبھی بھی معاشرے میں انقلاب کا پیش خیمہ نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ووٹ اس وقت تک ضائع ہوتے چلے جائیں گے جب تک ہم خود نہ بدلنا چاہیں۔ اور جب ہم خود بدل گئے، اچھائی کی طرف چلے آئے تو پھر کہاں کی جمہوریت؟ سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔ حق دارکو حق خود بہ خود ملے گا، ملاوٹ نہ ہوگی۔ کرپشن نہ ہوگی ، ظلم نہ ہوگا۔ پھر اُس وقت اس بات سے کوئی فرق نہ پڑے گا کہ نظام حکومت کیسا ہے۔ ڈکٹیٹر ہے یا جمہوری صدر۔ وزیر اعظم ہے یا خلیفۃ المسلمین۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.