تن آسانی

اس دفعہ جاپان کا ساون بھی سوکھا سوکھا نکل گیا ۔ سردیوں میں جسطرح برفباری خوب ہوتی ہے ۔
اسی طرح گرمیوں میں  سورج خوب انگارے اگل رہا ہے۔

دن کے تقریباً ہزار بندے تو  ایمبولینس میں اسپتال پہونچائے جا رہے ہیں، وجہ اور کوئی نہیں لُو لگنے سے بڈھے بڈھیاں ڈھیر ہوئے جاتے ہیں۔
یہ علیحدہ بات ہے ،کہ رمضان کے ایک دن پہلے ہی میں چکرا کر گرا اور اسپتال میں ڈرپ لگوا کر تگڑا ہوا۔
آپے ہی اسپتال لیکر گئے اور آپے ہی ڈرپ لگائی ۔گھر واپس خود آنا پڑا ۔ گھر واپس چھوڑنے کی سروس یہ لوگ نہیں دیتے۔
ہمارے چکرا کر گرنے کی وجہ اور کچھ نہیں تھی رمضان سے پہلے پہلے لمبی ساری دوڑ لگا کر کچھ دوڑ بیلنس بنانا چاہ رہا تھا ،کہ رمضان میں گرمی بھی ہے ۔
اور روزے میں دوڑا بھی نہیں جائے گا۔بحر حال ہنڑ ارام اے۔

میرا کتا دن میں اٹھارہ گھنٹے سویا ہی رہتا ہے۔گرمیوں میں سارادن زبان لٹکائے سویا ہی رہتا ہے۔نہ دم ہلاتا ہے اور نہ ہی اپنی جگہ سے حرکت کرتا ہے۔
بس بیزاری سے ہمیں آتا جاتا دیکھتا رہتا ہے۔جس دن موسم خوشگوار ہو اس دن فجر کے وقت سے ہی خر مستیاں شروع کر دیتا ہے۔

میں بھی بعض اوقات سوچتا ہوں۔اس کتے کو پالنے کا مجھے کیا فائدہ؟ کوئی گائے بھینس بکری پال لیتا  تو اتنا فائدہ تو ہوتا ہی کہ  دودھ دہی مجھے مل جاتی اور کھال الطاف بھائی کو بھیجی جا سکتی تھی۔کتا پالنے کا بس ایک ہی فائدہ ہے کہ اس کی معصوم سی حرکتوں سے دل خوش ہو جاتا ہے۔ایک عجیب سا رحمدلی کا جذبہ سینے میں ابھرتا ہو ا محسوس کرتا ہوں۔بس اتنا سا ہی فائدہ ہے۔ یہ ہی مفاد مجھے کسی بندے سے حاصل ہونا ناممکن ہے ،اس لئے بندہ پالنے کے بجائے کتا پالا ہوا ہے۔

ماہِ رمضان میں تو خیر زیادہ تر حضرات جن  کےگھردانےپائے جاتے ہیں انہیں ظہر تک سوئے ہوئے پایا،اور باقی وقت بیزاری  سے"موویز" دیکھتے افطار کا انتظار کرتے پایا۔جو نکمے حضرات ہیں انکا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔آپ کے آس پاس ایسے حضرات کثیر تعداد میں پائے جاتے ہوں گے جو بوجہ رمضان اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے سوئے ہی رہتے ہیں۔

بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ دل خوش بھی نہیں ہوتا۔اور نہ ہی  سینے میں کوئی لطیف انسانی جذبہ محسوس ہوتا ہے۔بحرحال بہت سوچ بچار کے بعد مجھے ایک بات ضرور سمجھ آئی کہ بندے اور کتے میں ایک بہت نمایاں فرق ہے۔
بندہ مخلص ہوتا ہے۔خلوص  ایک ایسا  انسانی جذبہ ہے جو کسی وقت بھی اڑن چھو ووووووووو  غائب بھی ہوسکتا ہے۔
بس  فرق صرف اتنا ہی ہے۔
بندہ مخلص ہوتا ہے اور کتا وفادار!!
تن آسانی تن آسانی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:37 PM Rating: 5

3 تبصرے:

دوست کہا...

خوشی ہوئی کہ آپ بخیریت ہیں۔
میں تو ابو یحییٰ کا ناول پڑھنے بلکہ نگلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عوام کے خیال میں بڑا پاکیزہ اور ایمان افروز ناول ہے۔ لیکن پڑھنے والا اگر میرے جیسا منافق ہو تو پھر ایسے ہی ہونا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ابو یحیی کا ناول دل پیخوری قسم کا نشئی ایمان تازہ کر دیتا ہے۔

درویش خُراسانی کہا...

چل جی فیس بک کے بجائے یہاں ملاقات ہوگئی۔ ابو یحیٰ کے ناول ماڈرن برگر اسلام لاتا ہے۔ جس میں لیڈیز سے میل ملاقات۔۔۔۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.