نہ تیری نہ میری غریب کی جورو

ہمارے بچپن کی بات ہے،کہ کوئی مر جاتا تھا یا   خیرات وغیرہ کی اطلاع دینی ہوتی تھی ۔اسی طرح عیدین اور رمضان کی چاند بابو کی اطلاع بھی "نقارہ" بجا کر بلند آواز شخص پہاڑی کی چوٹی سے دیتا تھا۔پھر یہ اطلاع زبان با زبان عوام تک پہونچ جاتی تھی۔اب معلوم نہیں کہ یہ رواج چل رہا ہے یا ختم ہو گیا۔ ان چوبیس پچیس سالوں میں تو جب بھی اپنے "علاقے" کیطرف گیا ہمیشہ بدلا بدلا محسوس کیا۔زبان سے لیکر لوگوں کے اطوار تک بدلے ہوئے دیکھے۔"ہم بدلے یاتم بدلے"

ایک اور مردانہ رواج ہوتا تھا ،جو کے مجھے بہت یاد آتا ہے۔کہ ایک لمبی چوڑی  سفید چادر ہر معتبر مرد کندھے پر رکھتا تھا۔یہ  کندھے پر چادر رکھنے والے بھی مجھے کئی سال ہوئے نظر نہیں آتے ۔جس نے چادر کسی کے آگے ڈال دی سمجھ لیا جاتا تھا کہ اب اس شخص کی بات مان لی جائے گی۔کسی  کی عزت کا خیال لحاظ کرنا سب سے بڑی خوبی سمجھا جاتا تھا۔اب نہ جانے ایسے رواجوں کا  کیا ہوا چل رہے ہیں یا ختم ہو گئے ۔ دنیا کی تیز رفتاری اب کچھ لمحے ٹھہر کر غور کرنے کی فرصت  نہیں دیتی۔

حکمرانوں نے اطلاع دینی ہوتی تھی تو ہوائی جہاز سے پرچیاں پھینکا کرتے تھے ۔اب تو سنا ہے" ابابیلیں  " موت کی اطلاع کیلئے  "کنکریاں" پھینکتی ہیں۔"اجسام "سے آزاد روحیں سنا ہے ریسائیکل ہونے کیلئے "پینٹاگون بالا"میں جھاڑ جھنکاڑ کے بعد نئی نویلی ہو جاتی ہیں۔ جدید دور ہے ہر شے ہر انداز بدل گیا ہے یا بدلتا جا رہا ہے۔اپنی زبان سے ادا کئے ہوئے الفاظ کی حرمت پر جان دینے والے ناپید ہوئے جاتے ہیں۔وعدہ کرکے مکر جانا کوئی بڑی  بات نہیں سمجھا جاتا۔نہ مانو تو بھی" محفل "جواں ہے حسیں ہے۔

نہ جانے کیا مطلب ہے اس مصرعے کا لیکن دل کو لگتا ہے۔ "سبو اپنا اپنا جام اپنا اپنا"

میرے جیسا بندہ جو دو بندوں کی محفل میں بیٹھ کر اپنی بات احسن طریقے سے کرنے کا سلیقہ نہیں جانتا، سوشل نیٹ ورک پر یک سطری دانش لکھ کر "لائیکیوں" کی واہ واہ سمیٹ کر "نیٹی دانشور" ہونے کی "پھوک" سے  "تونگر" ہو جاتا ہے۔جدید دور کی تبدیلیاں معروف  "نیٹی دانشوروں" کی اجتماع گاہ فیس بک اور ٹوئیٹر پر ہی تخلیق ہو رہی ہیں۔لیکن یہ نئی تبدیلیاں دنیا کے بھاگ دوڑ سنبھالے ہوئے ممالک اور عوام میں نہیں جنم لے رہیں۔

اس سوشل نیٹ ورک سے جنم لینے والی تبدیلیاں صدیوں سے بانجھ ممالک اور عوام کے پیٹ سے ہی جنم لے رہی ہیں۔ ہمیشہ سوچتا تھا کہ لفظ "عوام" ، "رعایا" کو مونث ہی کیوں لکھا پڑھا اور بولا جاتا ہے۔اب سمجھ آئی  کہ" قانون  جہالت "ہے کہ بانجھ پن کا شک سب سے پہلے "مونث" پر ہی کیا جاتا ہے۔مرد بانجھ بھی ہو تو "زنانی" بدلنا اس کے لئے  کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔کاکا ، کاکی جمے یا نہ جمے "زنانی" پاؤں کی جوتی ہی رہتی ہے۔

اس فیس بک کی "پھوک" سے "تونگر" ہونے والے مشرف صاحب" مشرف با ذلت" ہوئے  جاتے ہیں اور انصافئے نا انصافی کی کھائی میں گرے ہوئے ہیں۔عرب ممالک کی صدیوں کی  "خزاں" کے بعد "بہار " بھی کئی ممالک پر آئی ہوئی ہے۔اور فی الحال  "بہار الرجی " کا شکار ہے۔مصر والوں کی "پھوک" ٹھس کرکے نکل گئی ہے ۔ اب اسلام پسندوں کے نلکے پانی نہیں دے رہے تو روشن خیالوں کے مٹکے بھی لیک کر رہے ہیں۔آئیندہ  ملا اینڈ مسٹر انقلاب کا نعرہ لگاتے وقت  گلی کوچوں کو تحریر اسکوائر بنانے کا نعرہ لگانے سے پہلے کئی بار سوچیں گے ضرور!!

حالت امن میں بھی گھوڑے تیار رکھنے کا تو سب کو علم ہی ہے۔گھوڑا اسی  کی مانتا ہے۔جو گھڑ سواری کرتا ہے۔باقی میرا گھوڑا تے تیرا گھوڑا ہی ہوتا ہے۔"کاؤ بوائے" کا گھوڑا جب " بیٹھ "جاتا ہے تو وہ اسے گولی مار کر "خلاص" کر دیتا ہے۔سوشل نیٹ ورک جن کی ایجاد ہے وہ اس کا استعمال بھی خوب کر رہے ہیں۔نظریئے ،عقیدے ، رواج روایات، اخلاقیات کا بھرکس نکالنا ہوتو ان جیسا بن کر نکال لیتے ہیں۔اپنا مفاد حاصل کرنے بعد دور بیٹھ کر دانت نکال رہے ہوتے ہیں۔ایسے ہی جیسے "ابابیلوں" کے ذریعے "روحوں" کو  "پینٹا گون بالا" میں لے جاتے ہیں۔پیچھے خالی ڈھول بج رہا ہوتا ہے۔دھن دھنا دھن  تک تک تک۔۔۔

پرانی چھل چھبیلی  بھولی بھالی غریب کی "جورو "آجکل  پرانے آشناؤں کے ہتھے دوبارہ لگ گئی ہے۔ سنا ہے غریب کی "جورو" امید سے ہے۔کاکا، کاکی جنتی ہے یا صرف "امید" کے دورانئے میں ہی مرتی ہے۔غائب کا حال ہم کیا جانیں۔اپنی کرتوتوں کے نتیجے کا اندازہ ہم ضرور لگا سکتے ہیں۔لگ تو یہی رہا ہے کہ "کاؤ بوائے "  " اپنے گھوڑے" پر سوار ہو کر آئے گا اور "غریب کی جورو" کو بار بار کیطرح پھر اٹھا کر لے جائے گا۔گاؤں کے غیرت مند ڈولکی کی چھاپ پر ہمیشہ کیطرح "کبڈی"  ہی کھیلتے رہیں گئے۔
نہ تیری نہ میری غریب کی جورو نہ تیری نہ میری غریب کی جورو Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:27 PM Rating: 5

2 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

زبان و بیان سے سرشار بہت خوب تنقیدی جائزہ ہے اخلاقی تنزلی کا شکار ہماری دنیا کا۔

mani کہا...

سنکی کی سنگت چھوڑ دو لالا تاکہ کچھ سمجھ آنے والی بات ہی کیا کرو۔

پھر بھی جو سمجھ آئی وہ واقعی افسوسناک صورت حال ہے، اخلاقی قدروں کی پامالی سے لے کر قومی اقدار کا زوال اور اپنی غیرت کے ساتھ لگا "بے" کے سابقے لاحقے سبھی کچھ، آہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.