سانس لینے کا بھتہ۔

پاکستان کی نئی حکومت نے جیسے ہی  ایوان بادشاہت میں قدم رکھا  ایک عدد بیان مارکیٹ میں آگیا کہ خزانہ خالی ہے۔نیا بجٹ بھی مارکیٹ میں آگیا ،کچھ ٹیکس ہر کس و ناکس کی نظر میں ہیں تو کچھ پس پردہ لاگو ہو چکے ہیں ۔جو کہ ہر بے کس و شریف شہری کو ضرور ادا کرنے ہیں۔ایک  ساٹھ ستر سالہ بزرگ شہری ساری زندگی محنت کرکے کچھ پس انداز کرتا ہے  محتاجی  اور ہاتھ پھیلانے سے بچنے کیلئے اسلامی جمہوری بادشاہت  کے علماء کرام کا عتاب وصول کرکے بینک میں فکس اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر ( سود) انٹرسٹ سے موت کے انتظار میں باوقار طریقے سے وقت گذارنے کی "ہوس"  میں اپنی آخرت کالی کرتا ہے۔

اس فکس اکاؤنٹ پر بھی خاموشی  سےٹیکس لگ چکا ہے۔یعنی وہ رقم جسے کماتے  وقت ٹیکس ادا کیا جا چکا ہے۔اس رقم کو بینک میں رکھنے پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔(" تے ہور رکھو گِن گِن  کر") سرمایہ کارانہ نظام کا بھول بھالا ہو کے اس سے آپ کے حرام خور سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ نہیں رکھیں گے اور جو حرام خور پاکستان سے لوٹ مار کرکے کمائیں گے وہ بھی جن کالے  چٹے  کفار ممالک میں منافع زیادہ ہوگا اپنی رقم ان ممالک کے بینکوں میں لے  جائیں گے۔ ان کفار کے ممالک  کے بینک کا منافع ہوتا ہے "سود" میں شمار نہیں ہوتا۔نہیں یقین تو میدان بھی حاضر اور گھوڑا بھی حاضر تصدیق کرنے کی آپ کوکھلم کھلی چھٹی ہے۔

سرکاری مسجد کے ریٹائرڈ خطیب صاحب جو پنشن وصول کرتے ہیں وہ بھی اس "منافع" کے زمرے میں آتی ہے۔بینک میں جمع کرکے منافع حاصل کریں یا تنخواہ سے ادائیگی کرکے جمع کروائیں اور بعد  میں" پنشن فنڈ" سےوصولیں ۔ بات ایک ہی ہے۔بحر حال سود حرام ہے اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔سیدھی سے بات ہے نظام بدلنے کی طاقت نہیں ہے تو ٹوٹی پھوٹی گھسیٹی مسلمانی پر گذارہ کرو۔نہ کرنے کی صورت میں مزید زندگی "ذلیل" ہو گی۔ہر آنے والا باد شاہ نئے نئے  حربے سے چمڑی ادھیڑے گا۔چمڑی ادھڑوائیں یا چمڑی ادھیڑنے والوں میں شامل ہو جائیں۔رائج الوقت  سانس لینے والے جانوروں میں یہی دو اقسام پائی  جاتی ہیں۔

کیونکہ ہم جاپان میں زندگی گذار رہے ہیں، نہ چاھتے ہوئے بھی پاکستان کے حکومتوں کا موازنہ جاپانی حکومت سے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ظاہر ہے "ڈڈو" نے اپنے کنویں کو ہی سمندر سمجھنا ہوتا ہے۔"ڈڈو" کے کنویں سے باہر تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔

ہم اس ملک کی تمام سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔ٹُچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بٹن دباتے ہیں تو کمرہ روشن ہو جاتا ہے۔ سنا ہے کبھی کبھی اس طرح کے "کرشمے" پاکستان میں بھی ہو ہی جاتے ہیں۔گرم پانی چوبیس گھنٹے حاضر ہوتا ہے،نلکے کا پانی بڑے شہروں میں پینا کچھ  مضر صحت ہے ،لیکن پاکستان میں فروخت ہونے والے منرل واٹر سے بہتر ہے۔لائف لائن کے تمام اخراجات دنیا کے مہنگے ترین ملک جاپان میں پاکستان کی نسبت کم ہیں۔

فرض کریں اور اللہ  نہ کرے۔کہ میں کنگلہ و قلاش ہو جاتا ہوں تو کسی نا کسی  جاپان کے کونے کھدڑے میں حکومت کے خیراتی مکان میں رہائش حاصل کر سکتا ہوں۔اور حکومت جاپان سے خیرات فنڈ سے گذارہ الاؤنس وصول کرکے آپ کو انٹر نیٹ پر ملاقات کیلئے چوبیس گھنٹے "اویے لیبل " ہو سکتا ہوں۔شہریوں کے ادا کردا ٹیکس سے حکومت کے خیراتی فنڈ سے پاکستان کے متوسط طبقے سے اچھی "لائف" انجوائے کر سکتا ہوں۔

کچھ پاکستانی بھائیوں نے جاپان میں  ملکہ برطانیہ کے تاج کے سائے میں چلنے والے ممالک کے بھائیوں کیطرح ایسا ہی کیا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کچھ "معزز بھائی " حضرات ایسا ہی کرتے ہوئے ویسے ویسے ہی پرانی گاڑیوں  کے کاروبار سے کچھ کچھ کماتے  ہوئے پکڑے  گے تھے۔جن پر حکومت جاپان نے کوئی کیس شیس کیا تھا۔۔چلتا ہے جی اتنا تو خراج وصولنا ہمارا حق بنتا ہے۔۔یہ ایسے ہی ہے کہ خنزیر کھانے  سےپر ہیز کرنا چاھئے ،خنزیر کھانے والیاں تو ہم جیسی ہی مخلوق ہیں نا۔

ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ہی انسان دوست ہونا ہے۔اگر جھوٹ ہوتا تو ہم ان ممالک میں آکر بس جانے والے واپس جانے کیلئے بے تاب ہوتے اور ان ممالک میں آکر پچھتا رہے ہوتے۔پچھتا واصرف اپنے ملک کادن بدن  غیرانسانی ہونے کا ہی ہے۔خیر شاید کوئی آسمانی فرشتہ نزول فرمائے اور پاکستان بھی انسانی ملک ہو جائے۔ فی الحال کام چل رہا ہے چلتی کا نام گاڑی جناب۔

یہ ترقی یافتہ ممالک خوب ٹیکس وصول کرتے ہیں اور ان کی حکومتیں شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے ان ٹیکسز کا استعمال کرتی ہیں۔ہمارے تو حج اور زکواۃ فنڈ بھی سوئس بینک کے اکاؤنٹ میں پہونچ جاتے ہیں۔تے خزانہ خالی ہی رہتا ہے۔

آپ کی معلومات کیلئے جاپان کی حکومت کو شہری جو ٹیکس ادا کرتے ان  کی سرسری تفصیلات حاضر خدمت ہیں ۔اور اس کے بدلے شہری جو سہولیات حاصل کر رہے ہیں وہ تفصیلات مفقود کی جاتی ہیں ،کہ "ساڑ" کے کیا کرنا جی۔ ایک سہولت کی ہی مثال دے دیتا ہوں ،کہ یہ ہفتہ پورا سوچتا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ ٹریفک بے تحاشہ ہے۔کوئی ہارن کیا "ٹلی" ہی بجا دے لیکن مجال ہے کہ کسی نے روڈ پر پی پوں پاں کی ہو۔
کوئی بھی دو بچے خوشحال عام فیملی کے میاں بیوی "روزگار" نہ کریں تو  جاپان میں گذارہ بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
نوٹ ؛- اصرار کیا گیا تھا کہ جاپان کے ٹیکس کی وصولیوں پر کچھ لکھیں اس لئے انتہائی بیزاری کے ساتھ حاضر خدمت ہے۔
(income tax)
آمدنی ٹیکس
(Special Reconstruction Income Tax)
فکوشیما کی تسونامی کو بعد تمام شہریوں سے تعمیر نو کیلئے ٹیکس وصول کیا جارہا جس کی شرح دو اعشاریہ ایک فیصد ہے جو کہ آمدنی سے وصول کیا جا رہا ہے ۔یہ ٹیکس دو ہزار سینتس تک تمام جاپان کے شہریوں سے وصول کیا جائے گا۔
(resident tax)
رہائشی ٹیکس جو کہ صوبے شہر گاؤں وغیرہ کو ادا کیا جاتا ہے۔یہ ٹیکس ہر صوبے شہر گاؤں کی ضروریات کے مطابق مختلف ہے۔علاقے کی آمدنی کے حساب سے لاگو کیا جاتا ہے۔

(property tax, real estate tax)
پراپرٹی ٹیکس پاکستان  ہر رہائشی اور کاروباری زمین وعمارات پر وصول کیا جاتا ہے۔صرف وزارت مذہبی امور میں رجسٹرڈ زمین و عمارات سے وصول نہیں کیا جاتا۔جیسے جیسے عمارات پرانی ہوتی جاتی ہیں پراپرٹی ٹیکس بھی کم ہوتا جاتا ہے۔ پرانی عمارت پر ٹیکس کم ہوتا ہے اور خالی پڑی ہوئی زمین پر ٹیکس زیادہ ہوتا ہے اور پرانی گلی سڑی عمارت پر ٹیکس اس خالی زمین کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ عموماً لوگ دیہی علاقوں میں  پرانی عمارت کو ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔اس طرح کرنے کی وجہ آبادی کی کمی ہے۔کہ نئی نسل دوردراز کم سہولیات والے علاقے میں رہنا پسند نہیں کرتے اور بوڑھے بڈھا گھر یا پھر بچوں کے پاس زیادہ سہولیات والے علاقے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

(real estate acquisition tax)
عمارات جن سے کرائے کی آمدنی ہوتی ہے اس آمدنی سے بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔


(automobile tax, light vehicle tax)
بڑی گاڑیاں جو کہ 660 سی سی سے زیادہ ہیں ان پر ٹیکس زیادہ ہوتا ہے اور 660 سی سی تک ہیں ان کا ٹیکس کم ہوتا ہے۔

(automobile acquisition tax)
کوئی بھی "نئی" گاڑی خریدنے پر سیلز ٹیکس کے علاوہ صارف ٹیکس ادا کرتا ہے جو گاڑی کی قیمت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔


 (automobile weight tax)
یہ ٹیکس گاڑی کے وزن کے حساب سے ہوتا ہے۔ اور اس کا استعمال سڑکیں تعمیر کرنے اور مرمت کرنے کیلئے ہوتا ہے۔


(inheritance tax)
والدین یا کسی کی طرف سے ورثہ ملنے کی صورت میں اس پر بھی ٹیکس ہوتاہے۔


(gift tax)
اگر کسی کو قیمتی شے تحفہ کرتا ہے تو اس پر بھی ٹیکس لگتا ہے۔جیسے کسی کو مکان یا گاڑی تحفہ کی جائےیا خطیر رقم تحفہ کی جائے۔


(consumption tax)
یہ اشیاء پر ٹیکس ہوتا ہے جسے جی ایس ٹی ٹیکس کہا جاتا۔اس وقت جاپان میں پانچ فیصد ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے بحث مباحثے کے بعد اگلے سال سے دس فیصد کر دیا جائے گا۔


(liquor tax)
الکحول پر ٹیکس علیحدہ ہوتا ہے اور یہ سب زیادہ ہوتا ہے۔شراب کی قیمت میں شامل ہوتا ہے اور مشروب بنانے والی کمپنی صارف سے قیمت کی صورت وصول کرکے حکومت کو ادا کرتی ہے۔لیکن صارف دکان سے خریدتے وقت پانچ فیصد سیلز ٹیکس علیحدہ سے ادا کرتا ہے۔


(tabacco tax)
سیگرٹ پر بھی ٹیکس زیادہ ہوتا ہے۔شراب اور سگریٹ اشیائے عیاشی میں شمار کی جاتی ہیں۔جو عیاشی کرنا چاھئے وہ زیادہ پیسے ادا کرے۔


( national health insurance tax)
یہ میڈیکل انشورنس ہوتی ہے۔ہر کمپنی کیلئے اپنے پکے ملازم کیلئے یہ انشورنس رکھنا لازم ہوتا ہے۔جس کی دیکھ بھال حکومت کرتی ہے۔کمپنی رہے یا نہ رہے حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد صارف کو اس کی ادائیگی کرتی ہے۔اس کی وصولی آمدنی کے حساب سے ہوتی ہے۔


(National pension plan payments)
یہ ایسے شہریوں کیلئے ہوتا ہے ،جو کہ خود کاروباری کرتے ہیں یا معاہدے کے تحت کام کاج کرتے ہیں۔اس کی دیکھ بھال بھی حکومت کرتی ہے۔اور اس کی ادائیگی بھی  آمدنی کے حساب سے ہوتی ہے۔



2. رجسٹرڈ یا کارپوریشن کمپنیوں کیلئے ٹیکس


(corporation tax)
یہ ٹیکس کارپوریشن کمپنی وفاق کو ادا کرتی ہے۔


(corporate inhabitant tax)
جس صوبے شہر میں یہ کمپنی پائی جائے گی اس صوبے شہر کوبھی  ٹیکس ادا کیا جائے گا


(corporation enterprise tax)
کمپنی کے وجود پر ٹیکس
سیلز ٹیکس جو صوبے اور وفاق کو علیحدہ علیحدہ ادا کیا جاتا ہے

سانس لینے کا بھتہ۔ سانس لینے کا بھتہ۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:29 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

Ali کہا...

ہمارے ہاں ایک ہی ٹیکس ہے جگا ٹیکس اور وہ ہر اس بندے کو دینا پڑتا ہے جو جگانہیں یا جگے کا یار نہیں
اور واپسی ووپسی ککھ نہیں
:P

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.