بےربط

 چوری ہو جاتی ہے یا کوئی کسی کو  ہراساں  کرتاہے دھمکی دیتا ہے۔ تھانے چلے جائیں۔ بے عزت ہو کر واپس آئیں گے ، تحفظ نہیں ملے گا۔ایف آئی آر تو تگڑے آدمی کی" تُن" کر لکھی جائے گی۔عام آدمی کو سپاہی ہی بے عزت کرکے واپس کر دے گا۔آپ کتنے ہی شریف ہیں اگر آپ کے آس پاس ایک گروہ نہیں ہے یا آپ کے خاندان برادری والے عددی طور پر کم یا کمزور ہیں تو سمجھ لیں آپ کو "مسکین و عاجز" ہو کر گذارہ کرنا پڑے گا۔
آپ کسی "عوامی "محفل میں بیٹھے ہیں ،ہر دو میں سے تیسرا بندہ اپنی بہادری کا قصہ سنائے گا کہ میں نے فلاں کی کُٹ لگائی اور ایسے ایسے اس کو سبق سکھایا۔ کسی کی زبان سے کُٹ کھانے اور سبق سیکھنے کا واقعہ آج تک سننے کو نہیں ملا۔جہاں زور سے کام نہ نکلے وہاں چاپلوسی اختیار کر لی جائے تو کُٹ کا خطرہ نہیں رہتا۔

آپ انتہائی شرافت کے قائل ہیں کوشش کرتے ہیں جہاں چار بندے جمع ہوں وہاں پر بد مزگی سے بچا جائے۔مسکرا کر ہر کسی سے بات کی جائے ۔یا پھر خاموشی اختیار کی جائے اگر کوئی بکواسی قسم کی دانشوری "بیان" رہا ہے تو بھی بحث میں پڑے بغیر کنی کترا جائیں۔تو اسے آپ کی شرافت نہیں کمزوری سمجھ کر آپ کو "للو" سمجھ لیا جائے گا۔
کوئی نہ کوئی چھچھورا طنز ضرور کرے گا۔آپ کے جواب نہ دینے سے اسے شہہ ملے گی اور یہ آوازے کسنے شروع ہو جائے گا۔اگر آپ سمجھدار ہیں تو آپ کو ایک بار ضرور اپنی سفید چادر اتارنی پڑے گی ورنہ ڈھیٹ ہو کر برداشت کرنا پڑے گا۔
ڈھیٹ نہیں بن سکتے تو ایسے لوگوں سے دوری اختیار کرلیں۔لیکن اس سے پہلے سفید چادر ضرور اتار دیں کہ خاموشی سے دوری اختیار کرنے کی صورت میں یہ چھچھورے پھر بھی تنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔میں نے چوبیس سال جاپان میں گذارنے کے بعد یہ سبق حاصل کیا ہے اور آپ کو مفت میں دے رہا ہوں ۔تاکہ آپ ۔وصول کرکے مشکور ہوں۔


یہ ہم پاکستانیوں کا عمومی رویہ ہے ،جو کے معاشرے میں عدم تحفظ کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے۔عموماً آپ نے سنا ہوگا کہ اس طرح کے رویئے والے صاحب کا کہنا ہوتا ہے۔ کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو لوگ مجھے "کچا" چباجائیں! لیکن سوچنے کی بات ہے کہ آخر یہ "لوگ" کون ہوتے ہیں؟۔
جاپانی کافی تگڑے تگڑے جو دوست ہیں ،ان سے کبھی بھی محفل میں خود قصیدہ نما بہادری کے قصے سننے کو نہیں ملتے کہ یہ اس قصیدہ گو  حرکت کو انتہائی گھٹیا سمجھتے ہیں۔جتنا جاپانی تگڑا ہو گا اتنا ہی لڑائی جھگڑے "ٹہکے"(تہلکہ) سے بچے گا۔کوئی اس سے گالی گلوچ بلکہ گریبان بھی پکڑ لے گا تو "سُومیما سین" ہی کہے گا۔یعنی معاف کردیں۔ جو چھچھورے ہوتے ہیں وہ "تڑیاں شڑیاں" لگاتے رہتے ہیں۔ جو "اصلی " ہوتے ہیں ان کا رویہ عاجزانہ ہی ہوتا ہے۔

میرا واسطہ جاپانیوں ، پاکستانیوں ،کے بعد روسیوں سے زیادہ پڑتا ہے۔روسی پاکستانیوں سے  بھی زیادہ بد اخلاق اور "اجڈ" ہو تے ہیں۔ اور جسمانی طور پر بھی ایک سے ایک ڈنگر نما تگڑا ہوتا ہے۔ ایک روسی نے پرانی گاڑی خریدی اور اسے کاٹ کر اس نے ٹیکس بچانے کیلئے بحری جہاز پر لوڈ کرنا تھا۔بغیر لفٹر کے گاڑی کو الٹا کیا اور کاٹا پیٹی کر کے دوبار سیدھا کر دیا۔ اسی ڈنگر نما تگڑے روسی کو کچھ دن پہلے روس میں "کٹ" لگا کر اس سے گاڑی چھین لی گئی۔اور یہ ہنس کر بتا رہا تھا کہ "خبیثوں" نے بڑی بری طرح "کُٹ" لگائی۔
روسیوں سے بھی خود قصیدہ نما بہادری کے قصے سننے کو نہیں ملتے۔یعنی جاپانی اور روسی پاجامے کے اندر ہی رہتے ہیں۔اسی طرح کورین اور چائینیز بھی پاجامہ پہننے ہوئے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ایک ہم پاکستانی ہیں ،کہ "گرمی کے جوش" سے دھوتی "پیچھے" سے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔خود ساختہ ایئر کنڈیشن۔۔۔۔ہیں جی

دیگر قوموں کا بھی "حال" اچھا ہی ہوگا۔لیکن ہم پاکستانیوں کا " قصہ خوانی بازار" مچھلی منڈی ہی بنا رہتا ہے۔اس کی وجہ یہی سمجھ آتی ہے۔کہ ہم پاکستانی "کراچی کے ساحل " سے لیکر کرتابہ خاک"وزیرستان" تک عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارا "آگے پیچھے" کوئی نہیں اور "اوپر" والا "نظر" نہیں آتا اس لئے "نظر " آنے والے "گروہ" کو پوجنے پر مجبور ہیں۔(آپ اس "گروہ" کو  ،لسانی ،نسلی ، مسلکی ، علاقائی سمجھ سکتے ہیں)
ہماری ایک محافظ فورس پولیس کی رشوت ستانی حرامخوری ھڈ حرامی مشہور و معروف ہے۔ دیگر خفیہ اداروں کا حال سب کو معلوم ہے۔افواج کے جرنیلوں کا حال سب کو معلوم ہے۔(قصہ اشارۃ بیانو تے جان بچاؤ)
سیاستدانوں کودیکھ لیں۔ہر سیاست دان پر عوام خواص کچھ اس طرح کے الزامات لگا تے ہیں۔
زرداری صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسٹر ٹین پرسنٹ کرپشن کے بے تاج بادشاہ
الطاف حسین صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انگلینڈ کے مواصلاتی   کالے صاحب اور انگلینڈ  و بھارت کے ایجنٹ
عمران خان صاحب  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قادیانیوں کے ہمنوا یہودیوں کے ایجنٹ جن کے بچے یہودیوں کے پاس پل رہے ہیں۔سابقہ بیوی کے سکینڈل وغیرہ


نواز شریف صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعودیہ کے ایجنٹ  شیخوں کے ایجنٹ خود پسند سر پر جعلی بال اگانے والے  منی لانڈرنگ وغیرہ
مولانا فضل الرحمن صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ(ایک ضخیم کتاب کی ضروت ہے)
اس کے علاوہ تمام سیاستدانوں کے متعلق عوام کی رائے معلوم کرکے دیکھئے۔
جماعت اسلامی کے منور حسن صاحب کے متعلق بھی "لوگ" کچھ نہ کچھ نکال ہی لائیں گے۔
ہر سیاستدان کا رونا بھی یہی ہے کہ اس کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔ملک و مذہب کے خلاف تو امریکہ یہود وہنود و نصاری تو دن رات سازشوں میں ہی مصروف رہتے ہیں ۔اور ہمارے "عوام و خواص" دن رات ان سازشوں کے شکار ہی رہتے ہیں۔سازشوں کا شکار رہنے سے عادات اتنی پختہ ہو گئی ہیں۔ کہ رام رام جپنے کے بجائے سازش سازش جپتے ہیں اور ہر "سانس " لینے والے کو کچھ نہ کچھ رگڑا دینا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔۔سبق بھی تو سکھانا ہوتا ہے نا۔

جس ملک و عوام کے چیدہ چیدہ "خواص" اس طرح کی ہوں تو کیا اس ملک کی عوام عدم تحفظ کا شکار ہو کر  کرداری و اخلاقی تنزلی کا شکار نہیں ہوں گے؟
جس ملک کے حکمران پرائی جنگ کو "ہماری جنگ" کہہ رہے ہوں اور مارے جانے والے اسی ملک کے "عوام" ہوں تو کیا اس ملک کے عوام عدم تحفظ کا شکار نہیں ہوں گے؟
عموماً جاپانیوں کے اعلی اخلاقیات کے قصیدے پڑھتا رہتا ہوں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہر طرح کی اخلاقی معاشرتی سماجی تباہ حالی کے باوجود بھی پاکستانی پھر بھی بہتر ہیں ۔ پاکستانیوں کے ساتھ صرف ایک مسئلہ ہے کہ ان کے پاس فخر کرنے یا سینہ تان کر چلنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ پاکستانی کا "پانڈا" خالی خولی ہے۔اور خالی خولی ہونے کی وجہ سے یہ "پانڈا" بجتا ہی رہتا ہے۔
دیہاڑی دار مزدور ایک نوالہ منہ میں رکھتا ہے تو آدھا اس کو چبانے سے پہلے ہی حکومت چھین لیتی ہے۔اور اسے کہا جاتا ہے کہ مزدور ٹیکس نہیں دیتا۔اور مزدور کی حالت یہ ہے ،کہ اسے معلوم ہی نہیں کہ اس کی غربت اس سے ٹیکس  وصول کرنے کی وجہ سے ہی ہے۔ جی ایس ٹی  20فیصد سے بھی زیادہ ادا کرکے اور لوٹ مار کا شکار ہونے کے بعد ملاوٹ زدہ نوالہ اور وہ بھی آدھا نصیب ہونے والے سے کس اعلی کرداری کی امید کی جاسکتی ہے؟

مذہبی تحریکوں سے عوام و خواص کے کردار کی تعمیر نو کی امید رکھنا کافی "مشکل" ہے کہ یہ تمام اللہ کے مقرب بندے ہیں جو ان میں سے نہیں وہ بد کردار جہنمی ہے۔مذہبی اصلاحی تنظیموں کا حال کچھ اسطرح ہے کہ انتہائی لمبا دریا شروع میں تو جس جس جگہ سے گذرتا ہے ہریالی ہی ہریالی کرتا جاتا ہے اور آخر میں سکڑ کر کیچیڑ کیچیڑ ہو جاتا ہے۔


مسلمان کو بھوکا رکھ کر مارا جائے تو رازق کی یہی مرضی کہہ کر صبر کر لیتا ہے ،اگر اسی مسلمان کی عزت نفس مجروح ہو اور اسے ذلیل کیا جائے تواس کا  اپنے پرائے کا احساس مردہ ہو جاتا ہے، پھر دل و دماغ میں زندگی کو نعمت خداوندی سمجھ  کراللہ کا شکر گذار ہونے کے بجائے زندگی تو گندی  ہے کھیل تماشہ ہے زندگی سے تو محبت ایمان کے کمزور لوگ کرتے ہیں وغیرہ سوچ کراپنے آپ  کو اللہ کا مقرب بندے سمجھ لیتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی یہی سمجھاتا ہے کہ میں اللہ کا خاص اور مقرب بندہ ہوں۔میری مانو نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اور اپنی "قوم"  کی  اخلاقی تباہ حالی بد کرداری اب بری محسوس نہیں ہوتی کہ عدم تحفظ کے احساس نے "کچھ اور سوچنے" کے قابل ہی نہیں  چھوڑا! ہم عوام صرف قابل ترس ہیں کہ ہم پر کوئی ترس کھائے اور ہم کسی پر ترس نہ کھائیں!
بےربط بےربط Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:50 PM Rating: 5

5 تبصرے:

محمد سلیم کہا...

شاہ صاحب، خوب نکالا آپ نے اپنے دل کا غبار۔ مذہبی اصلاحی تنظیموں کیلئے حسن ظن رکھنے پر شکریہ قبول کیجیئے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

میں اِدھر اُدھر دیکھتا ہوں یا پڑھتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کہیں میں کسی اور ستارے کا باشندہ تو نہیں ہوں ۔ 1998ء میں میں نے اپنے دفتر میں لکھ کر لگا دیا
Test of fairness is how fair you are to those who are not
ایک افسر نے پڑھا تو میرے ساتھ بحث کرنے پر تُل گئے کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جو میرے ساتھ بُرا سلوک کرے تو میں اُس کے ساتھ اچھا سلوک کروں ۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس طرح اچھے اور بُرے میں کوئی فرق نہ ہوا مگر وہ نہ مانے

منیر عباسسی کہا...

بڑے دنوں بعد.


لگتا ہے روس میں کوئی تعطیلات گزار کے واپس آئے ہیں.

ali کہا...

آپ کے بلاگوں نے ہی مجھ کو بھی خراب کیا ہے
:)
کتنا روئیں کتنا پیٹیں
اللہ رحم کرے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آپ کوئی بہت پہونچے ہوئے بزرگ ہیں !

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.