نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے

ہم جاپان کے جس صوبہ میں کاروبار کرتے ہیں ،اور یہاں سے روس اور وسطی ایشیا کو  پرانی گاڑیاں برآمد کرتے ہیں۔یہاں کافی تعداد میں پاکستانی بستے ہیں ۔ دیگر کئی وجوہات جیسے کھانے پینے میں فرق ، معاشرت کا فرق ، مزاج کا فرق ، مرد و  زن کا کسی بھی  محفل میں  بلاتفریق شرکت کرنا، اور سب  سےبڑا فرق ہم پاکستانیوں کا عادات کا اصلی پاکستانی ہونا۔اور اس سے بڑی وجہ جاپانیوں کا سخت  متعصب ہونا بھی ہے۔لیکن یہ تعصب  عادات دیکھنے کے بعد شدت اختیار کر جاتا ہے۔
اس طرح کی وجوہات سے پاکستانی کمیونٹی  جاپانی معاشرے مل جل نہیں سکتی ۔

کسی محفل میں جوان و نوجوان خواتین بھی ہوں اور ہوں بھی ہر طرح کی قید و بند سے آزاد تو ظاہر سی بات ہے۔ پاکستانی مرد کیوں کہ اس طرح کے معاملات کے عادی نہیں ہیں، اس لئے  گھٹیا انداز میں" بونگیاں " ماریں گے اور آخر کار ہر دوسرا غیر مسلم ان سے کراہت کا اظہار ہی کرے گا۔اور میں نے  اس کراہت کو جاپان کے علاوہ بھی دیگر غیر اسلامی ممالک میں مشترکہ طور پر ہی دیکھا ہے۔اور یہ کراہت صرف عادات کی وجہ سے دیکھی ہے۔پھر بھی  ان غیر مسلموں کی فراخدلی ہے، کہ بندہ  جانچ کر  اپنا رویہ ٹھیک کر لیتے ہیں۔لیکن رہتے پھر بھی محتاط ہی ہیں۔جن سے دوستی کو ایک لمبا عرصہ ہو جاتا ہے ،وہ کسی قسم تکلف نہیں رکھتے ،ایسی ہی دوستی ہو جاتی ہے، جیسی ہم پاکستانیو میں عموما بااعتماد قسم کی دوستی ہو جاتی ہے۔

یہ علیحدہ بات ہے ،کہ کفار سے دوستی نہیں رکھنی چاھئے۔ لیکن دنیاوی "نقصان" سے بچنے کا سوچا جائے تو کفار سے دوستی "مفید" ہی ہوتی ہے۔اخلاق  سے گرے ہوئے ، معاملات کے گندے اور مذہب کو  اپنے مفاد کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والوں سے "سلام" دینے لینے سے بھی پرہیز کرنا چاھئے کہ کچھ نا کچھ بد معاملگی ضرور ہو گی۔(آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں)۔

ہم پاکستانیو  کےیہاں پر بہت سارے شو رو م تھے۔ اب کاروبار ی حالات کی خرابی سے کافی کم ہو گئے ہیں۔خرید و فروخت کی گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ زیادہ مصروفیت کے وقت یہ آمد رفت زیادہ ہوتی تھی ۔ جگہ کی کمی کی وجوہات سے گاڑیوں کو ٹرالر وغیرہ پر اتارنے چڑھانے کا کام غیر مناسب جگہ اور غیر مناسب  طریقے سے ہوتا تھا۔جو کہ مقامی جاپانیوں کے آنے جانے کے راستوں پر رش کا باعث  اور تکلیف دہ ہوتا تھا۔

دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ۔کہ مقامی جاپانیوں نے منظم طریقے سے مہم چلائی اور جلوس نکالنے شروع کر دیئے تھے ،کہ  غیر ملکیو ، پاکستانیو یہاں سے نکل جاؤ!! ان پاکستانی مخالف مہموں کی ایک  وجہ یہ بھی تھی کہ روپے پیسے کی ریل پیل تھی پاکستانیو کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بہت مالدار لوگ ہیں۔جو کہ اس علاقے میں ابھی بھی خیال کیا جاتا ہے۔ کچھ جاپانی کاروباری رقیبوں کا اثر و رسوخ بھی ان مہموں شامل تھا ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جاپانیوں میں تعصب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔خاص کر ان لوگوں کے متعلق جو ان سے دنیاوی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔چائینیز ، کورین کے متعلق تو ان کا یہ تعصب حقارت کی شکل میں ہوتا ہے۔(تمام جاپانی ایسے نہیں ہیں۔اچھے برے انسان تو ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن جاپانیو ں کی اکثریت متعصب ہی ہے)

ہم پاکستانی جو  کافی عرصے سے جاپان میں "معاشی مجبوریوں" کی وجہ سے مقیم ہیں۔ ہمیں کئی بار اس تعصب ،حقارت کا تجربہ ہو چکا ہے۔لیکن ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نظر انداز نہ بھی کریں تو ہمارے بس میں دل میں برا محسوس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنے آپ سے یہی کہہ کر خوش ہو لیتے ہیں ،کہ یہ ہمارا "وطن " نہیں ہے۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے ،کہ ہم  اپنے "وطن" سے زیادہ محفوظ پر امن اور پر سکون زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کفار کی مہیا کر دہ سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں سے کما کر اپنے "وطن" کے عزیز اقارب کو  معاشی تعاون دے رہے ہیں۔اس لئے خاموشی  سے اپنی زندگی گذار رہے ہیں ۔کہ اپنے "وطن" میں تعصب و حقارت کے بجائے  "ذلت"  ہماری منتظر ہے۔آپ شاید نہ مانیں لیکن "باہر پلٹ" والوں کے ساتھ  ایسا ہی ہوتا ہے۔(آپ کا  نہ ماننا بھی سمجھ آتا ہے   :D)

برطانیہ میں ایک فوجی کو خنجروں سے قتل کر دیا گیا۔اس کے بعد  اسلام اور مسلمان مخالف مظاہرے ہونا شروع ہو گئے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات میں مساجد پر  حملے ، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے ،مسلمان خواتین کے حجابوں کو کھینچنا ، مسلمانوں کو گالیاں دینا ، مسلمانوں کو غلیظ ناموں سے پکارنا وغیرہ ۔

میرے جیسے مسلمان جو معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ان ممالک میں بستے ہیں۔ ایسے واقعات کو بے بسی سے دیکھتے ہیں یا پھر بے حسی سے دیکھتے ہیں۔ شاید آپ کی نظر میں ہمارا ایمان ناقص ہو۔
یہ بات نہیں کہ مجھ کو رب  پریقین نہیں
بس ڈر گیا خود کو صاحب ایماں کہتے کہتے
کیونکہ آپ "وطن" میں بستے ہیں ۔ ایسے معاملات میں ہماری بے بسی اور مجبوری کو سمجھنا مشکل بلکہ کافی حد ناممکن بھی  ہو گا۔اگر آپ "صاحبِ ایماں"  ہیں تو پھر آپ کے " دل و نگاہ " میں ہمارے لئے حقارت و نفرت بھی  ضروری پائی جاتی ہو گی۔

ہماری بے بسی اور بے حسی کی وجوہات کچھ اس طرح کے  جوابات ہوتے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں گھومنا شروع ہو جاتے ہیں۔

(1)مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات میں مساجد پر  حملے۔۔۔
مسلکی جنگ مسجد  پر قبضہ کرنا اور قبضہ چھڑوانا!!  باری تعالی کی بارگاہ میں رکوع و سجود میں جھکے انسانوں کے پر خچے اڑانا!!
کفار نے بھی یہ کام کردیا تو کیا حرج !! آپ کو کیا معلوم کہ کس فرقے کی مسجد تھی؟!!

(2)مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے
مسلکی اختلاف!! سیاسی اختلاف!! نظریاتی اختلاف!!
کسی بحث  مباحثے میں اختلاف !!!!
مسلمان ،مسلمان کی ماں بہن "وطن" میں ایک کر دیتا ہے۔
حضرت مسلمان کے چند تبصروں کے نمونے ہمارے بلاگ پر محفوظ ہیں۔!!
کافر نے یہ کام کردیا تو کیا حرج ہے؟

(3)مسلمان خواتین کے حجابوں کو کھینچنا ، مسلمانوں کو گالیاں دینا ، مسلمانوں کو غلیظ ناموں سے پکارنا!!
یہ تو کوئی بڑی بات ہی نہیں !! عمران خان ، نواز شریف ، اور دیگر نمایاں سیاستدانوں کے مخالفین  کے ارشادات گرامی دیکھ لیں۔ ان کی مائیں بہنیں تو کیا انکے حامی ایک دوسرے کی ماں بہن کو ایک سے ایک نئے لقب اور گالیوں سے نوازتے ہیں!!
مسلکی فرقے کے اختلاف پر  جن ناموں اور گالیوں سے ایک دوسرے کو پکارا جاتا ہے،اگر آپ کو نہیں معلوم تو ہم اقتباس اور لنک پیسٹنا شروع کر دیں؟ اور اگر مسلکی اختلاف والے کی ماں بہن "کلمہ گو" ہی کیوں نہ ہو اگر اس مخالف کے ہتھے لگ  جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کافر نے یہ کر دیا تو کیا حرج ہے؟ شام کے حالات کا آپ کو علم ہی ہو گا؟
کرہ عرض پر کوئی مسلمان اور اسلام کو گالی دینا والا نہیں ملے گا ، جس دن مسلمان کے دل میں مسلمان کی حرمت خانہ کعبہ سے بڑ جائے گی۔انتشار شدہ معاشرے کا کوئی  "دین مذہب " نہیں ہوتا  بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی میں میں میں میں ہی ہوتی ہے۔
نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:09 PM Rating: 5

7 تبصرے:

ali کہا...

کل ایک فرانس میں بھی فوجی مارا گیا۔ اللہ خیر کرے

محمد ریاض شاہد کہا...

جاپانی صاحب زیادہ فکر نہ کیا کریں ، اسلام اور مسلمانوں پر اس بڑھ کر بہت اچھا وقت اور برا وقت گذرا ہے ۔ یہ بھی گذر جائے گا

بے نام کہا...

یہی تو مسئلہ ہے جناب۔۔۔ دوسری جگہ کی گراؤنڈ رئیلیٹیز جانے بغیر ہی ہم "دے مار، ساڑھے چار" کے پکّے مرید ہیں۔
جاپانی(اور چینی)لوگوں کے سپاٹ چہروں پر کسی قسم کے تاثرات پرکھنا بڑا اوکھا کام ہوگا۔

سعد کہا...

مسلمانوں کو ان کے کرتوتوں کی سزا مل رہی ہے!

جواد احمد خان کہا...

میرے خیال میں بات کفر اور اسلامی کی نہیں ہے بلکہ ترک وطن کی ہے جو آدمی کو خود بخود حقیر بنا دیتا ہے.

افتخار راجہ کہا...

جی شروع ہوگئے ہیں وہ خدائی خدمتگار، کل ایک فیس بک پر بھی اپنی راگنی چھیڑے ہوئے تھا، کہ جی کب اور کسے مسلمانوں کا دنیا پر قبضہ کرنے کا پلان ہے، میرے خیال سے تو یہ امور زیادہ تر اہل مغرب کے لے پالک ہی سرانجام دیتے ہیں یا پھر ہمارے جاہل جو جہلم کے ایک پنڈ کی مسجد میں بیٹھ کے پوری دنیا فتح کرنے کے منصوبے بنا رہا ہوتا ہے۔

مانی کہا...

ہم آپ کے دکھڑے کو ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک برادر اسلامی ملک میں بیٹھ کر ایسے ہی رویوں کا سامنا ہوتا ہے۔
رہی بات آپسی مار کٹائی کی تو اس معاملے میں سنجیدہ غور و غوض کی ضرورت ہے۔ اپنی سماجی سوچ کو بدلنا پڑے گا۔ اس معاملے میں فقط مذہی ٹھیکداروں کو دوش دینے سے بات نہیں بنے گی۔ یہاں جو بھی نمبردار بنتا ہے اس نے اپنے لونڈے لپاڑوں کی تربیت ایسے کی ہے کہ "پے جا ٹنگاں نوں"

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.