وراثت

اتنی پرانی بات نہیں ہے!
تین سے پانچ صدیاں پہلے کے بر صغیر ہند کی تاریخ دوبارہ پڑھیں ،
تو  محلاتی سازشیں بادشاہ کی موت کے خواہش مند ،باد شاہ کے مرنے سے پہلے جوڑ توڑ کرنا شروع ہو جاتے تھے اپنا اپنا بادشاہ تخت چڑھانے کیلئے جُت جاتے تھے!
جو گروہ تگڑا ہوتا تھا۔ وہ بادشاہ کے مرنے کے بعد  اپنا بادشاہ تخت چڑھا دیتا تھا ۔۔۔بلے بلے ڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہپ ہپ  ہرے
بادشاہ نہ مرے تو مار دیا جاتا تھا۔۔بلے بلے ڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہپ ہپ ہرے

محلاتی شہزادیاں، معزز خواتیں بھی اس سیاست میں اپنا اپنا  حصہ ڈالتی تھیں۔
شراب و شباب کا"دور" ان محلات میں خوب چلتا تھا۔امراء تہذیب ، ادب و آداب سیکھنے طوائف کے کوٹھے پر جاتے تھے۔
محلات اور طبقہ امراء میں روشن خیالی اور  تہذیب یافتہ ، تعلیم یافتہ ، اعلی نسل ، اعلی خاندان ، اعلی طبقے سے ہونے کا  فخر و تکبر عام تھا۔

عوام میں مذہبی  جذبہ خوب تھا۔ مساجد میں بلند پایہ  علماء کرام درس و تدریس کا کام انجام دیتے تھے۔اور مسلمان بر صغیر  میں طاقتور تصور کئے جاتے تھے۔
کم ازکم  مسلمان اپنے آپ کو  "حکمران کُل " ضرور سمجھتے تھے ۔
عوام کا بھوک سے واویلا کرنا بھی عام سی بات تھی۔ بادشاہوں "بزرگوں"  امراءکے لنگر ان کی فیاضی و سخاوت کو مشہور کرنے کیلئے جب چلتے تھے تو یہ بھوکے ان لنگروں پر  ٹوٹ پڑتے تھے۔اور نسل در نسل بھیکارانہ مزاج " محفوظ" رکھتے تھے۔اس مزاج سے ان کی ذہنیت کی تعمیر ہوتی تھی ، اور عوام بھیک کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ان کی یہ ذہنیت عوام کو ان کے حقوق کیا ہیں ؟  سے انہیں اس کا شعور پیدا ہونے کی سوچ سے کوسوں دور رکھتی تھی۔
مذہبی رہنما مدارس میں تعلیم و تربیت کا کام کرتے تھے ، جس سے مسلمان اپنے اپنے "مسلک" کا جان نثار  تیار ہو کر نکلتا تھا۔مسلکی فرقی مسائل پر علما ء کرام کی گونجدار آوازیں ہر  سو گونجتی تھیں۔
مسلمانوں کے یہ معاملات اس وقت بھی زور شور سے چل رہے تھے ، جب شہنشاہ دہلی ، شہزادے  اور محلات کی معزز خواتین ملکہ بر طانیہ کے  "وظائف"  سے نہایت طمطراق سے تخت دہلی اور شاہی محلات میں حکمرانی کر رہے تھے۔ اللہ تعالی  بر صغیر کے مسلمان بادشاہوں ، بزرگان اسلام ، علما ء کرام ،امراء کرام کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں شراب طہور ،محلات ، بادشاہت کیلئے بڑے بڑے خطے ، روتی بلبلاتی سسکتی عوام، حوریں ،کنزیں ، غلام عطا فرمائے۔

کہ ان تاریخ کی عظیم شخصیات کی نسلیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کی عادات و خصائل کو "مضبوطی " سے "قائم" کئے ہوئے ہے۔آمین
اللہ تعالی ہم سب کو اگلی پانچ صدیاں بھی اپنے تمام  رذیل  و خبیث خصائل پر قائم  رہنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں کسی کا حق  ادا کرنے کی سوچ سے دور رکھے، اپنے حق کیلئے ہر  طرف توڑ پھوڑ ، مار کٹائی ،قتل و غارت کی قوت و استقامت عطا فرمائے ، فرقہ واریت کو قائم رکھنے کیلئے ہم  پر قابل عزت و قابل احترام "ملا" حضرات کا سایہ عطا فر مائے۔۔آمین۔

ہمیں اگلی دس بیس صدیاں بھی یہود و نصاری کی سازشوں سے "پردے در پردے" اٹھا نے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری نازک اندام گردنیں جب یہود و نصاری کا دل کرے کسی "ککڑ"  کو حسب بھوک دبوچنے کیطرح دبوچنے والا ہی رکھے ۔۔اور سلوک و اتفاق سے ہمیشہ کیلئے دور رکھے ۔آمین۔
وراثت وراثت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:34 PM Rating: 5

8 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی، قابل عزت و قابل احترام “ملا” سے آپ کی مراد، مولانا فضل الرحمٰن عرف ڈیزل سرکار ہیں۔۔۔؟
:D :D :D

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

توبہ توبہ
ان جیسوں سے مراد ہے بھائی

DuFFeR - ڈ فــر کہا...

یعنی ہم آج تک مغلوں کے دور میں جی رے؟

ali کہا...

یہ بلے بلے ڈی کیا ہوتا ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

مغل نہیں ہیں تو مغلوں کے دور میں ہی جی رہے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نیا نعرہ ایجاد کرنے کی کوشش کی ہے۔۔شاید مقبول ہو جائے ؛ڈ

بے نام کہا...

تاریخی مِرچ مصالحہ :ڈ
زبردست۔

نعیم اکرم ملک کہا...

میرے عزیز ہموطنو۔۔۔ نہ آپ بادشاہ، نہ شہزادے، اور نہ شہزادی۔۔۔ پھر کیوں سوچ سوچ کر جی ہلکان کرتے ہو۔۔۔ کام کاج کرو۔۔۔ روٹی شوٹی کھائو۔۔۔ اور سکون کرو۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.