برگرز کون؟

برگرز خوشحال ہیں، انہیں سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔انہیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ ان کے گھر آٹا ہے یا نہیں! سستی روٹی سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں! انہیں روٹی نہ ملے تو کیک کھا لیں گے۔ یلو کیپ ٹیکسی میں بیٹھنا ان کے بس میں نہیں۔یہ لیگزری گاڑیوں میں گھومتے ہیں جن میں سی این جی کٹ نہیں لگی ہوئی ہوتی ۔!
جنگلہ بس کی افادیت کا انہیں کوئی احساس و سمجھ نہیں(جنگلہ بس میری نظر میں ایک بہترین منصوبہ ہے اور یہ پورے پاکستان میں ہونا چاھئے )ان برگرز کو چار پانچ لاکھ کے بینک لون سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ اتنا تو انکا جیب خرچ ہی ہوتا ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی ان کیلئے کوئی خاص مسئلہ نہیں۔کہ یہ سولر لیمپ کی خیرات وصول کریں۔ ان کے گھروں  میں سولر پینل بھی لگے ہوئے ہیں اور پیٹرول و ڈیزل کے جنریٹر بھی! روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ ان کے لئے ان کے ماں باپ نے مال کمانے کیلئے ایجاد کیا تھا۔ اس لئے روٹی کپڑا مکان کے نعرے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں!!۔ ا
ن کے ماں باپ سے ایک غلطی ہوگئی کہ انہیں اعلی تعلیم دلا دی۔ ملکی و غیر ملکی  اعلی تعلیمی اداروں میں انہیں رسائی حاصل ہوئی تو دیکھنے کو دنیا ملی !۔ تعلیم چاھے مراثی کے سازو راگ کی ہی کیوں نہ ہو۔ سارے گاما پا دا نی  سا اپنے  سُر ضرور دکھاتی ہے۔

طوائف  رقص کی تعلیم و تربیت کے بعد گھنگھرو بندھے پاؤں سے تھرکتی ہے تو ایک ہجوم کو سحرزدہ کر دیتی ہے۔ ان برگرز کی مغربی تعلیم نے جہاں انہیں مغربی ترقی سے مرعوب کیا تو وہاں انہیں اسی مغرب میں انسانی سماجی فلاحی معاشرتی نظام نے بھی مرعوب کیا۔ یہ برگرز "ویلنٹائن" ،"کرسمس ڈے"، کرسمس ایو" منانا برا نہیں سمجھتے تو نام مسلمانی ہونے کی وجہ کچھ نہ کچھ اسلامی تہواروں کا احترام بھی کرتے ہیں!
۔ شادی بیاہ کے وقت مولوی صاحب سے نکاح پڑھانے کا تکلف بھی کرلیتے ہیں تو کسی عزیز کی موت پر مولوی صاحب سے جنازہ بھی پڑھواتے ہیں تو ختم شریف بھی کروا دیتے ہیں۔ خوف کے وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں تو خوشی کا اظہار "تھینکس گاڈ"کہہ کرکر دیتے ہیں۔ لیکن آخر ایسی کونسی وجہ ہے،کہ یہ "برگرز"یا برگربننے کے خواہشمند نوجوان و جوان تحریک انصاف کی کامیابی کو تبدیلی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں؟

ایک بڑی اور واحد اکلوتی وجہ عمران خان ہے، چٹا گورا مردانہ حسن  کاشاہکار اعلی تعلیم یافتہ کرکٹ کی دنیا کا لیجنڈ قومی ہیرو!۔ خواتین تو کیا مرد بھی اس سے رشک نما محبت کرتے ہیں۔منڈاتے سونڑا ہی نا!۔ عمران خان کی شاندار وجاہت کے سامنے تو چٹی چمڑی والے جن کو ہم پاکستانی رنگ "چٹا" کرنے والی کریم لگا کر  پوجتے ہیں۔ وہ بھی انتہائی مرعوب کھڑے ہوتے ہیں۔
سونے پر سوہاگہ ایک عدد گوری میم صاحبہ اور دو عدد گورے گورے بچوں کے ابا بھی ہیں۔   یہ بات بھی ہم مانتے ہیں ، بندہ ایماندار ہے ،لالچی نہیں ہے۔صرف شہرت کا بھوکا ہوتا تو "بالی وڈ" میں دیگر "خوانین" کی طرح "ٹھمکے لگا رہا ہوتا۔ دھن بھی برستا ہی رہتا نام بھی رہتا اور "موجاں"بھی چلتی رہتیں۔ امیتابھ بچن کو اپنا "چوکیدار " رکھ لیتا۔۔۔ہیں جی...... بندہ انتہائی با صلاحیت  کھرا اعلی تعلیم یافتہ ہے۔

میں بھی پنجوں بل کھڑے ہوکر برگرز کے ساتھ ہیلو ہائے کے شوق میں عمران خان کو ہی وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن عمران خان کے ساتھ جب گدی نشین شاہ صاحبان قصوری صاحب وغیرہ شامل ہوئےتو جذبہ "ٹھنڈا" ہوگیا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہمارے مذہب کا مذاق اڑانے والے بھی اردگرد منڈلانے لگے تو عمران خان سے محبت کی وجہ سے اتنے ہی اقتدار کی ملنے امید ہوئی جتنا عمران خان کو مل گیا۔
یہاں سے کامیاب ہوگیا تو آگے تاریخ میں نام ضرور چھوڑ جائے گا۔  یہ برگرز عمران سے محبت کرتے ہیں ،،عمران کی مغرب سے مرعوب ہوئے بغیر مغرب سے معاشرت کو پسند کرتے ہیں۔ یہ برگرز جب غیرممالک جاتے ہیں تو ان سے  ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جیسا کہ ایک عام ترقی یافتہ ملک کے شہری سے کیا جاتا ہے۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کا ملک دہشت گردی کا شکار کیوں ہے؟۔

تو یہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ انسان دوست ممالک کے مفادات کیلئے پاکستان استعمال ہو رہا ہے۔ اور ان ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کیلئے ہی ان کا ملک دہشت گردی کا شکار ہورہاہے۔ یہ کہنا بھی نہیں بولتے کہ جاہل مولوی نے عوام کی سوچوں پر پہرے بیٹھا رکھے ہیں!!۔ لیکن ان برگرز کی بات کو لوگ حقارت سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی !۔ انہیں احساس ہوتا ہے۔کہ ان کے حکمران ان ترقی یافتہ ممالک کی چاپلوسی اپنے وقتی اقتدار کیلئے کر رہے ہیں۔
ان حکمرانوں کی سیاست گلیاں ،نالیاں پکی کرنے تک ہی ہے۔ اس سے آگے کی سوچ ہی نہیں رکھتے!۔ یہ اپنا اور اپنی قوم کا موازنہ ان ترقی یافتہ ممالک کی اقوام سے کرتے ہیں تو انہیں اپنا آپ اور اپنی قوم ہر حال میں بہتر محسوس ہوتی ہے۔ یہ انہی ترقی یافتہ ممالک میں دیکھتے ہیں ،کہ نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا نیم خواندہ ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرکے ان ترقی یافتہ ممالک کی عوام سے زیادہ خوشحال و کامیاب ہیں۔ شفاف نظام ہے جی

نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا نیم خواندہ پاکستان میں ہوتے تو ان کے نوکر چاکر ہوتے،لیکن ترقی یافتہ ممالک جہاں پر انسانی حقوق ، انسانیت ،معاشرتی سماجی فلاحی ادارے چندے جمع کئے بغیر حکومت کے زیر اثر اپنے فرائض انجام دے ہوتے ہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک کے سیاست دان نالیاں ،گلیاں پکی کرنے کی  سیاست نہیں کرتے۔ اگر کوئی نالی ،گلی ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے۔ یا گندگی کا ڈھیر بیچ چوراہے پڑا ہوتا ہے تو یہ برگرز ان ممالک میں غیر ملکی ہونے کے باوجود سٹی کونسل یعنی بلدیہ والوں کو فون کرتے ہیں۔ اور بلدیہ ان سے ان کی قومیت پوچھنے کا تکلف کئے بغیر اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ اور برگرز دیکھتے ہیں کہ کسی سیاستدان کے در پر جائے بغیر یہ عام سا کا ہو گیا ہے۔
تو ان کی خواہش شدت اختیار کر جاتی ہے،کہ ان کے ملک میں بھی ایسا نظام آجائے!۔ یہ تبدیلی کے خواہش مند برگرز خوب جانتے ہیں ، ان کا ملک ہیومن ریسوس ،نیچرل ریسورس ، اور خطی اعتبار سے دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ صرف اس ملک میں شفاف ،نظام ہو۔تو یہ برگرز بھی اقوام عالم میں سینہ تان کر باعزت "موجاں"کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ برگرز "دین بیزار"تو نہیں ہیں ۔"ملا" بیزار ضرور ہیں۔ "ملا بیزاری"  کی وجہ جو برگر نہیں ہیں ان میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔لیکن ملا کو پیٹ پوجا سے فرصت نہیں کہ وہ انہیں اپنے سے محبت کرنے پر مائل کر سکے۔ "ملا" نظام کو چلانے کے بجائے مسالک ، کی جنگ سے نفرت کے نظام کو چلا رہا ہے۔

ان برگرز نے "ملا" سے بیزار ہی ہونا ہے۔ اور بیزاری کے بعد مغرب میں بھی اپنی صلاحیتوں اور "حسن" کی وجہ سے اثر و رسوخ رکھنے والے سے ہی امیدیں باندھنی ہیں۔ یہ برگرز ہمارا وہ طبقہ ہے، جس کے خلوص و اخلاص پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن انتہائی بے صبرا طبقہ ہے۔کچھ دینی حدود کا  خیال نہ رکھنے والا بھی ہے ۔ یہ ملک میں صرف تیس فیصد ہی ہو سکتا ہے۔ باقی ستر فیصد نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا نیم خواندہ کم فہم طبقہ ہی ہے۔ جو دین سے محبت کرتا ہے۔ اور "ملا" کے زیر اثر ہی ہے۔ اس ستر فیصد کے دینی جذبات مجروح کئے بغیر اس کی معاشرت کی بہتری کیلئے ضرور کچھ کریں۔ ہم بھی اس برگر کلاس کے ساتھ ہیں، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہر دور میں اقتدار میں رہنے والے مفاد پر ست بہروپیئے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا کا تمسخر بھی اڑایا جاتا ہے۔  ان کے مذہب کا مذاق اڑانے والا ٹولہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ تو ہم اپنے پیارے ہیرو عمران خان کے ساتھ اپنی تمام نیک خواہشات کے ساتھ ہونے کے باوجود!! سرد مہری سے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ان برگرز پر طنز کرنے سے پہلے انہیں شفاف نظام دے دیں۔دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک جیسا معاشرتی نظام دے دیں۔ رہ گیا عمران خان کے آس پاس منڈلانے والا مفاد پرست ٹولہ تو یہ ٹولہ وقت کے ساتھ ساتھ غائب ہو جائے گا۔ یہ برگرز ہمارے معاشرے کے ساتھ مطابقت نہ رکھنے کے باوجود محب وطن ہیں ۔ اور اپنے ملک کو اقوام عالم میں اسی طرح باوقار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جس طرح ہر محب وطن پاکستانی دیکھنا چاہتا ہے۔رہ گئی ان میں سے کچھ کی مذہب بیزاری تو  ان وجوہات کو سمجھ کر ان کی اصلاح کرنا علماء کرام کا فرض ہے۔
برگرز کون؟ برگرز کون؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:27 PM Rating: 5

11 تبصرے:

ali کہا...

اللہ خیرتے بیڑے پار :)

محمد بلال خان کہا...

آپ کی نظر میں تعلیم یافتہ نوجوان برگر ہیں تو ہم برگر ہی صحیح ۔ کم از کم ان پینڈوؤں سے تو بہتر ہیں جو ایک پلیٹ بریانی اور 2000 روپے میں بک جاتے ہیں ۔ کم از کم الطاف غنڈے کے خلاف گھروں سے تو باہر نکلتے ہیں ۔ آپ جاپان میں ہیں انکل جی اور وہی دیکھ سن رہے ہیں جو دکھایا جارہا ہے سوشل میڈیا اور میڈیا کی جانب سے ۔ حقیقت یہ کہ کراچی کے برگر بچے دھرنے میں نماز ادا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیفینس کی مساجد میں تمام نمازوں میں برگرز کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی مسجاد کے ” ملا “ کے ہر اتوار اور فجر کے بعد بیان میں برگرز کی تعداد بے شمار ہوتی ہے ۔ اور حقیقت یہ ہےکراچی ڈیفینس فیز 4 کی بیت السلام مسجد جوکہ پہلے ہی بڑی ہے کو مزید پھیلا دیا گیا ۔ انکل جی ان بکے ہوئے کالم نگاروں کی زبان نہ بولیں ۔ خدا کے لیئے برگرز سے نشے سے اس قوم کو باہر نکالیں نہ کہ مزید ایک فرقہ برگر کے نام سے بنائیں ۔
معذرت اگر کوئی بات بری لگی ہو ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یار کاکے غور سے پڑھا بھی کہ نہیں؟
برگرز، برگرز کرنے والوں کیلئے لکھا ہے یار۔برگرز کی تو تعریف کی ہے۔

محمد بلال خان کہا...

آٹے میں نمک برابر تعریف نہیں دیکھی جاتی :)

ظہیر اشرف کہا...

پلیٹ بریانی میں بک جانے والا پینڈووں نظر آئے تو تصویر اتار کر بھیجئے گا ہم اس مخلوق کو دیکھیں گے ، چلیں آپ کی مشکل مزید آسان کرتے ہیں ، بریانی کھاتا کوئی پینڈو ہی مل جائے تو کافی ہے.

ظہیر اشرف کہا...

اگر کسی برگر نے یہ تحریر پڑھ لی تو اس کا سینہ پھول کر پھٹ بھی سکتا ہے. بہرحال ہارنے کے بعد برگروں نے جو انت مچائی ہوئی ہے (ہارنے سے پہلے کی انت کی روشنی میں یہ معقول انت لگتی ہے) اس سے مجھے لگتا ہے کہ اچھا ہی ہوا جو صرف ایسی جگہ پھڑے گئے ہیں جنھوں نے دوبارہ ایک آنے کی نہیں سننی اگر انھوں نے عملا بھی یہی انت مچائی.

ڈفر کہا...

بات تو بالکل سہی ہے۔ یہ جن چیزوں کی ڈیمانڈ کر رہے وہ انکو اپنے لئے نہیں ان لوگوں کے لئے چاہئیں جنکو اپنے حقوق کا ادراک نہیں۔ اور یہ بات بھی سہی ہے کہ بے صبرے بھی بہت ہیں۔ اب شائد برگروں کو سمجھ آئے گی کہ ان لوگوں کو بھی شعور دلانے کی ضرورت ہے جن کے لئے وہ یہ لڑائیاں مول لے رہے

منیر عباسی کہا...

درست کہا.

ان لوگوًں کو بھی شعور دلانے کی کوشش کی جانی چاہئے جن کے لئے یہ سب رنڈی رونا مچا ہوا وا. انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، مساوات، انصاف ، خوشی، سہولیات، ملاوٹ سے پاک کھانا، جاب سیکورٹی، وغیرہ وغیرہ کا و ان جانوروں کو پتہ ہی نہیں ہے کیونکہ یہ جانور جان ہی نہیں سکتے یہ کن بلاؤں کے نام ہیں.

ہمارے معاشرے میں ایسی سیاست نی ہوتی جس کا یہ برگر سوچ رے ہیں. ان برگروں کو ملک سے باہر نکال پھینکنا چاہئے. ماحول آلودہ کرنے کے جرم میں.

محمد عبداللہ کہا...

"برگروں" کی اچھی وکالت کی آپ نے ۔ بے صبری والی بات بھی سو فیصد درست
میرا ایک کلاس فیلو الیکشن والے دن نواز شریف کے بیان کے بعد فیس بک پہ رونے ڈال رہا تھا کہ "مجھے نہیں پتا مجھے عمران خان وزیراعظم چاہیے"
اصل میں خان صاحب نے بھی اپنے سپورٹرز کو پمپ کر دیا تھا کہ کلین سویپ تو پکا ہے۔ اور ہم فیر ماشاءاللہ جذباتی قوم ہیں ہم نے وی مان لیا کہ کلین سویپ پکا لیکن ہوا وہی جو ہونا تھا۔

دہرہ حے کہا...

ایک ایک بات درست لِکھی ہے باِلکُل درست ۔

رائے محمد اذلان خان کہا...

تفصیل اور اتنی خوبصورتی سے لکھنے پر شکریہ بھی وصول کریں اور مبارکباد بھی. حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ ہم سب ٹرک کی بتی والا لطیفہ بار ہا کر کے دیکھتے ہیں کہ اس طرح کرو تو کیا ہوتا ہے. کسی سیاسی لیڈر نے برگر کا لفظ استعمال کر دیا ہم سب برگرز کو حقارت سے دیکھنے لگے. سیاسی چالوں کے نتیجے میں جب معاشرے میں اس قسم کی پھوٹ ڈالی جائے تو اکثر چال گلے کو آ لگتی ہے مثال تو ہمارے ہمسائے میں موجود ہے جب وی پی سنگھ نے اپنی بطور وزیر اعظم زلیل ہوتی ساکھ کو بچانے کے لئے چھوٹی زات کا کارڈ کھیلا اور نوکریوں میں انکا کوٹا بڑھا دیا. میرٹ کی اس ہوتی ماں بہن نے ایسی آگ لگائی کہ مہینوں میں وی پی سنگھ کی حکومت کے ساتھ وہ ہوا کہ آج بھی اکثر پوچھتے ہیں کہ وی پی ہندا کتھے وے ہن.
جس جمہوریت کو سارے روتے ہیں اور اسی کی سینہ کوبی کرتے پارلیمان میں پہنچتے ہیں وہی جمہوریت سب کو احتجاج کا جمہوری اور اخلاقی حق دیتی ہے پھر چاھے محتجج برگر کھاتا ہو، بریانی کھاتا ہو، روٹی کھاتا ہو یا پھر ان میں سے کسی کی بھی طاقت نہیں رکھتا.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.