واریاں اور پہلا قدم

الیکشن تو  سلیکشن  تھا ایسا ہی ہونا تھا۔ سوہو گیا۔اندازہ تھا ،اس لئے کوئی حیرت کی بات نہیں ۔
بات ہارنے والی سیاسی تنظیموں کی کریں تو ہلکی پھلکی کمزور سی احتجاجی آواز بلوچستان سے سنائی دی۔
پختون خواہ میں ہارنے والے بھی خاموش بیٹھ گئے۔

ہمیں صبح بیداری کی عادت ہے۔ جب بھی پاکستان گیا اور سوچا ذرا بازار کا چکر لگا کر آوں یا کسی دوسست کو کہا کہ آٹھ نو بجے ملاقات کیلئے آتا ہوں توحیرت سے جواب ملا دماغ خراب ہے دس گیا رہ بجے تو ہم سو کر اٹھیں گے ،اتنی سویرے ملاقات نہیں ہو سکتی!!
ہمارے لئے آٹھ ،نو بجے تو دوپہر قریب کا وقت ہوتا ہے!
پاکستان میں شاید مزدور طبقہ ہی صبح سویرے بیدار ہوتا ہے۔تاجر حضرات ان کا عملہ سرکاری وائٹ کالر ملازم بھی اطمینان سے ہی دوپہر کے قریب کام پر جاتے ہیں۔کاروباری سرگرمیاں شام ڈھلے ہی دیکھنے کو ملیں۔پاکستان کی ترقی نہ کرنے کی وجہ ہماری نظر میں ہمیشہ سستی آلسی تن آسانی حیلے بہانے لمبی تان کر سونا ہی رہا ہے۔
آداب سحر گاہی سے نا آشنا  کفار تو آدھا پونا گھنٹا پہلے ہی اپنے کام کی جگہ پہونچ جاتے ہیں۔اور کام کاج ذمہ داری سے نباتے ہیں، حیلہ بہانے کرکے سارا  الزام خدا پر نہیں ڈالتے۔ نہ ہی شان بے نیازی سے اللہ توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔اللہ مالک ہے جی ۔کہہ کر ہاتھ جھاڑ دیتے ہیں۔ جیسے ان کے فرائض بھی اللہ ہی ادا کرے گا(لاحول )
آپ الیکشن والے دن دیکھئے صبح سویرے اپنے فرائض اور مفادات سے مخلص پاکستانی کس طرح صبح سویرے بیدار ہوئے اور پریس کانفرنس کی  !،پہلا قدم اٹھاتے ہوئے ۔سب کے ہاتھ پاؤں باندھے اور ایک طرف پھینک کراپنا کام انتہا ئی فر ض شناسی سے انجام دیا!!

ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس دیکھئے سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔فوج ،رینجرز، پولیس پر  الزام لگا دیا گیا کہ ہمارے ووٹرز کو روکا جا رہا ہے۔ بکسے دیر  سےپہونچ رہے ہیں۔وغیرہ وغیرہ!!پیش بندی کے بعد عوام نے سیکورٹی فورس کو غیرت دلانے کیلئے خواتین کی چوڑیاں پیش کیں! لیکن سیکورٹی فورس بلیک میل ہو چکیں تھیں۔ چوڑیاں وصولیں اور خاموش تماشائی بن گئے۔اور شیطانی ذہانت نے کھل کر کھیل کھیلا!
شام ڈھلے جماعت اسلامی نے ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور ہر طرف سے طعنوں کا شکار ہو گئی۔ہمیشہ کی طرح اپنا ہی نقصان کیا ۔۔غلاظت میں گندے ہی ہو جاتے تو شاید کچھ سیٹیں  خیرات میں مل ہی جاتیں!!

اور پھر دیکھئے اسے کہتے ہیں ذہانت !!! قائد ملت عظیم لیڈر قوم کے مائی باپ  نےٹیلیفونک خطاب میں چنگھاڑنا شروع ہوگئے کہ ہمارے مینڈیٹ کو نہیں مانتے تو کراچی کو علیحدہ کردیں!! کراچی ان کی اماں جی جہیز میں لائیں تھیں!!
سب سے پہلے دھاندلی کا واویلا مچانے والی بھی ایم کیو ایم اور آخر میں فتح کا جشن بھی یہی جماعت منا رہی ہے۔دھاندلی ہی ہوئی تھی اور ایم کیو ایم کے ووٹرز کو روکا جا رہا تھا تو جیتے کیسے؟!!!!!!!!!!!!
سوات کی ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔جو کچھ سوات والوں کے ساتھ ہوا سب کو معلوم ہے لیکن سوات سے آواز نہیں آئی کہ ہمیں سینڈویچ بنا کر مار  ہی رہے ہو تو ہمیں علیحدہ ہی کر دو!!

دیکھا جائے تو سارے پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی  ہے،کسی جگہ کم کسی جگہ زیادہ ! اگر ایماندار معاشرے میں ایسا ایک دو جگہ ہو جائے تو سارے الیکشن ہی مشکوک قرار دے دیئے جائیں گے۔ لیکن کیونکہ ہمارا باوا آدم نرالہ ہے۔ اس لئے تاویلوں سے کام چل رہا ہے ،کہ کوئی بات نہیں چند جگہوں پر دھاندلی ہوئی ہے۔سب ٹھیک ہے ،اتنا تو چلتا ہے۔ اور اب جو دھاندلی پر شور مچائیں گے ان کی زبان کچھ دے دلا کر خاموش کر دی جائے گی یا پھر غنڈہ گردی سے بند کر دی جائے گی!

میڈیا خاموش ہے، دانشور  فنکارانہ لفاظی سے گند چھپا نے میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کچھ وہی جانتے ہیں جنہیں سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔ لیکن کتنے فیصد پاکستانی عوام کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے؟جنہیں حاصل ہے۔ ان کی کون سنے گا؟

سوشل میڈیا پر کراچی کے علاوہ  دیگر علاقوں کے وڈیوز بھی میسر ہیں ۔اور الیکشن کمیشن کے فخرو جی کا ارشاد ہے ہم نے شفاف الیکشن کروا دیا!!ٗ
عرض ہے ،کہ طاہر القادری پر ہم بہت طنز کرتے ہیں لیکن بات تو طاہر القادری کی ہی سچی نکلی!! سچ تو سچ ہی ہے۔ چاھے  ہمارے نا پسندیدہ شخص کی زبان سے ہی کیوں نہ نکلے!! اس قوم نما ہجوم سے واریاں ہو رہی ہیں۔یہ صدقے واریاں تو خیر نہیں!!
اب اگر چوکیدار گھر پر سینہ تان کر قابض ہو گیا تو پھر پندرہ  سال بعد شعور کی آنکھیں کھو لنے والی نسل کو بھی یہی کچھ دکھاؤ گے؟ پلان میکر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔جب دل چاھے گا، ٹنٹوا دبا دے گا!!
مسلم لیگ کی جیت اعلی فنکاری کی مرہون منت ہے تو ایم کیو ایم کی گھٹیا فنکاری کی مرہون منت ہے !(آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں!)
اس سیاسی دنگل کے اختتام کو دیکھ میرے ذہن میں بار بار ایک ہی جملہ گردش کر رہا ہے کہ
ہم پاکستانی خدا کا نام لے لے کر اتنا ننگا جھوٹ بولتے ہیں کہ شاید ہی کوئی جاندار بولتا ہو سوائے شیطان کے!!
واریاں اور پہلا قدم واریاں اور پہلا قدم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:25 PM Rating: 5

9 تبصرے:

خرم ابن شبیر کہا...

اللہ خوش رکھے آپ کو آمین

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جناب کبھی ہمیں خدمت کا موقع دیجئے ۔ اللہ کے فضل سے صبح سات ساڑھے سات کے درمیان ناشتہ کرنے کے عادی ہیں ۔ اگر ٹیلیفون کر کے آئیں تو صبح سورج نکلنے کے بعد کسی وقت بھی آ سکتے ہیں ۔ میری والدہ محترمہ نے صرف ایک بار کہا تھا جب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا ”مسلمان کا بچہ سورج نکلنے کے بعد نہیں اُٹھتا“۔60سال گذر گئے ہیں پھر کبھی گستاخی نہیں ہوئی
رہی سیاست کی بات تو اللہ کا فرمان ہے ۔ سورت 13 الرعد آیت 11 إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
(اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے )

مہتاب عزیز کہا...

سچ فرمایا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہم کیا کریں ۔ یہاں عیار ٹھگوں کے درمیان پسنے ہوئے ہیں۔ کاش کوئی راہ فرار میسر ہوتی

منیر عباسی کہا...

چھوٹے بھائی کا شغل میلہ دوبارہ شروع ہو گیا نا. دوسری باری لے لی دونوں نے. پچھلی مرتبہ اتنی گلیاں پکی کرائیں کہ اب پتہ نہیں کیا کریں گے. شائد سجی کوٹ سے ایبٹ آباد تک ایک چئر لفٹ بنانے کا ارادہ ہے ان سیاستدانوں کا ..

DuFFeR - ڈ فــر کہا...

قوم کو جاہل رکھنے کے فوائد اس دفعہ تو بڑی ہی شدت کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ قصور قوم کا ہی ہے میرے تو خیال میں۔ انفرادی معاملات میں لوگ اتنے گھٹیا ہیں کہ عذاب ٹلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

موجاں کریں جی۔۔۔ ۔۔۔

fikrepakistan کہا...

آج رات دس بجے یعنی بروز بدھہ اے آر وائی پر مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں طاہرالقادری صاحب آرہے ہیں، جس وقت وہ پی ٹی آئی سمیت پوری قوم کو جھنجھوڑ رہے تھے اس وقت سب نے انکا مذاق اڑایا، اب وقت اور یہ گھٹیا نظام پوری قوم کا مذاق اڑا رہا ہے۔ ہر انسان کو حق ہے کہ کسی سے بھی نظریاتی اختلاف رکھہ سکتا ہے، لیکن یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ جس سے ہمیں اختلاف ہو اسکی ہر بات ہی غلط ہو، یہ ہمارا عمومی رویہ ہے کہ ہم جس سے اختلاف رکھتے ہیں پھر اسکی ٹھیک بات پر بھی ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس رویے کو بدلنا ہوگا۔

fikrepakistan کہا...

یاسر بھائی، آج رات دس بجے یعنی بروز بدھہ اے آر وائی پر مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں طاہرالقادری صاحب آرہے ہیں، جس وقت وہ پی ٹی آئی سمیت پوری قوم کو جھنجھوڑ رہے تھے اس وقت سب نے انکا مذاق اڑایا، اب وقت اور یہ گھٹیا نظام پوری قوم کا مذاق اڑا رہا ہے۔ ہر انسان کو حق ہے کہ کسی سے بھی نظریاتی اختلاف رکھہ سکتا ہے، لیکن یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ جس سے ہمیں اختلاف ہو اسکی ہر بات ہی غلط ہو، یہ ہمارا عمومی رویہ ہے کہ ہم جس سے اختلاف رکھتے ہیں پھر اسکی ٹھیک بات پر بھی ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے اس رویے کو بدلنا ہوگا۔

رائے محمد اذلان خان کہا...

سر جی بات تو آپکی درست ہے پر یہ بھی دیکھا جائے کہ جس قوم پر واریاں لگ رہی ہیں اس قوم کو کل کتنی بار اپنا ووٹ کا حق استعمالنے کا موقع دیا گیا؟ ہمارے ہاں تو ووٹ دینا ایک عدد عامیانہ کام مانا جاتا ہے اور اس بار وہ روش کچھ حد تک کم دیکھنے کو ملی. رہی بات کراچی کی تو کراچی کا مسئلہ اتنا گھمبیر ہے کہ اسکا کوئی منہ متھے لگتا حل کم از کم ہماری سمجھ میں تو نہیں آتا. کچھ خانے میں پڑتا ہے تو یہ کہ جب ایمان پر ارد گرد کا خوف اور اگر مگر کے زائقے غالب آ جائیں تو انسان اس خوف کے زیراثر آ جاتا ہے اورپھر وہی ہوتا ہے جو ہمیں کراچی اور دیگر کئی مقامات پر نظر آتا ہے.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.