سیاست

سیاست  اور جمہوریت بی بی سے کبھی اتنی دلچسپی نہیں رہی۔کہ انتہائی غریب گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس طرح کا رومان پالنے سے پہلے ہی  روزی روٹی کی تلاش نے حقیقت پسند بنا دیا تھا، رزاق کی کرم نوازی سے کچھ خصوصی کرم ہوا ، تو  جینا کچھ آسان ہوا۔ ابھی بھی معاشی حالات شاہانہ نہیں ہیں، لیکن اللہ کا شکر گذار ہوں کہ جس نے چالیس سال تک ہاتھ پھیلانے سے بچایا وہ ہی باقی بچی "بونس" کی زندگی میں بھی رزق عطا فرمائے گا۔

حقیقت کچھ اس طرح ہے ،  کہ پاکستان کی  غربت بیروزگاری ابھی بھی سر اٹھانے نہیں دیتی اور زیر کفالت افراد کی وجہ سے کسی نا کسی معاشی پریشانی کا شکار ہی رہتا ہوں۔ تقریباً پاکستان کے ہر گھر کے مسائل کچھ ایسے ہی  ہوں گے۔ سب گھر والے ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور جو میسر ہے، اسی میں گذارہ کریں فضولیات سے بچیں اور اپنے طور پر بھی اپنے معاشی معاملات کو بہتر کرنے کی سہی کریں تو فرد واحد کا بوجھ سر سے کندھوں تک اتر سکتا ہے۔

جس نے رضا کارانہ طور پر بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اسے بھی کچھ سکھ کا سانس نصیب ہو سکتا ہے۔ اور مزاج چیڑچڑے پن سے کچھ خوشگوار ہو سکتا ہے۔عموماً بیرون ملک روزگار کیلئے آئے ہوئے حضرات ایک دوسرے سے دل کھول کر دکھ سکھ کا  اظہار کرتے ہیں ،جو اپنے دیس میں رہتے ہوئے نہیں کر سکتے ۔( لوگ کیا کہیں گے! بیستی کا ڈر؟)

اس طرح کے دکھ سکھ سنتے اور سناتے ہوئے  پچیس سال ہونے کو ہیں۔اس لئے مجھے  کسی بھی بندے کی دکھ بھری داستان سننے سے پہلے ہی سارے قصے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ بہت کم ہوا کہ میرا اندازہ غلط ہوا ہو۔ اس میں بھی جو بندہ دکھ سنانے جا رہا ہوتا ہے۔ اس کا چیڑچڑا پن ہی اسے کچھ زیادہ "حساس" کئے ہوئے ہوتا ہے۔لیکن وجہ پھر بھی معاشی مسائل ہی ہوتے ہیں۔یا بعض کو "گھر والے" تنگ آکر پردیس مزدوری کیلئے بھیجتے ہیں ، ایسے حضرات پردیس میں  جاکر بھی اپنا کام غیر ذمہ داری سے ہی  کرتے ہیں۔

وجہ ایک ہی ہوتی ہے، کہ انہیں محنت کرکے کمانے کی عادت نہیں ہوتی۔ جسطرح ان کی زندگی دوسروں کی "سپورٹ" سے گذری ہوتی ہے  اس سے ان کی مزاج میں غیر ذمہ داری لاپرواہی  آجاتی ہے۔ کچھ کئے بغیر اللہ بڑا بادشاہ کہہ کر "رضا کار" پر بوجھ پھینک دیتے ہیں۔"دل " سے مجبور رضا کار یہ غیر ضروری ذمہ داری نباتا ہے۔ اور مزاج کا چیڑچڑا ہو جاتا ہے۔

جس طرح مفلسی  برائیوں کو جنم دیتی ہے، اس طرح  میری طرح کے غریب طبقے کے لوگ بھی رزق میں تھوڑی سی فراوانی ہضم نہیں کر پاتے اور ان کے "گھرانے" والے  بھی مختلف مسائل کو تیار کر لیتے ہیں۔
چھوٹے بھائی ہیں،  چھوٹا  موٹاکام بھی تھا ،کچھ کرائے بھاڑے کی آمدنی کا بندوبست بھی  کر دیا تھا۔حسب ضرورت دیگر معاملات بھی اچھے طریقے سے چل رہے تھے۔ اس سیاست کا خانہ خراب ہوکہ اس میں گھس گئے ، اچھے خاصے سمجھدار بندے ہیں۔ جس  علاقے میں بستے آئے ہیں، اس علاقے کے لوگ حقیقتاً انتہائی شریف طبع ہیں۔صدیوں سے ہم لوگ یہاں بس رہے ہیں۔ان لوگوں کے دلوں کے خلوص کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس لئے سیاست بازی میں پڑ کر "باعزت" ہونے کی انہیں ضرورت نہیں تھی۔

لیکن نشہ تو نشہ ہے۔اس  نشے نے اچھے خاصے گھریلو معاملات کا خانہ خراب کر دیئے۔ بھائی پر سختی کی تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ گئے، اور کہا کہ جو اللہ آپ کو دیتا ہے وہ ہی مجھے بھی دے گا۔میں آپ کی زیر کفالت نہیں رہنا چاہتا۔

جناب شاہ صاحب کو اوکھا سوکھا ہو کر سعودی عرب بھیجا کہ اس گندگی سے نکلیں ،پیسہ بے شک نہ کمائیں لیکن اس گندی سیاست خواری سے دور رہیں ،سال انہوں نے بھی دلجمعی سے گذارا  کچھ تسلی ہوئی کہ اب جان چھوٹ گئی ، اللہ میاں تیرا شکر ہے۔شکر اس لئے دل سے ادا ہوا، کہ سیاست مالداروں کا کام ہے اور میری کوئی  دلچسپی  اور تعلق نہ ہونے کے باوجود "چیکاں" نکل گئی تھیں۔

جیسے ہی الیکشن کا دنگل بجا شاہ صاحب نے شیخوں کی نوکری پر لعنت بھیجی اور پاکستان پہونچ گئے۔حضرات آپ کی دنیا وسیع  ہے میری ننھی سے دنیا ہے، آپ  سیاست  میں دخل انداز ہوتے ہیں، اور  یہ سیاست  میری زندگی  دخل انداز ہوئی ہے۔ اس لئے اس سے نفرت تو ہونی ہی ہے۔

سیاست  بھٹوؤں ، زرداریوں، شریفوں، عمرانوں، کا کھیل  تماشہ ہے۔ہمارے جیسے غریب غرباء روٹی روزی میں فروانی ، زندگی میں بہتری ، سہولیات کے  خواہش مند ہوتے ہیں۔میرے جیسے  غریب غربا ء کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ رائج نظام "اسلامی جمہوریت " یا خلافت ہے، یا مغربی جمہوریت ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

میرے جیسے لاکھوں مسلمان "مغربی جمہوریت " کے ممالک میں پُر امن زندگی گذار رہے ہیں ،اور  اپنی محنت سے بغیر کسی جھوٹ فراڈ دھوکہ دہی رشوت ستانی ، سفارش سے اپنا  "رزق حلال" حاصل کر رہے ہیں، اور اسی حلال رزق  سے "آپ پاکستان میں بسنے والوں"  کو زر مبادلہ کے ذریعے "سپورٹ" کر رہے ہیں۔(آپ مانیں یا  نہ مانیں  خاندان کے علاوہ آپ پر بھی احسان کر رہے ہیں)

ہم مسلمان مغربی جمہوری معاشرے میں بستے ہیں تو مسلمان ہونے کی حثیت سے ہمیں اس میں  دین نظر نہیں آتا لیکن اتنا اس مغربی جمہوریت کودیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اگر یہ پاکستان میں بھی رائج ہو جائے تو  اس کی "مسلمانی "  بھی  ہو سکتی ہے۔اس مغربی جمہوریت کے "عمومیہ "  " خواص" کا چناؤ کر کے انہیں پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں ، اور یہ " خواص"   عمومیہ " کیلئے سہولیات میسر کرتے ہیں۔ حسب ضرورت قانون سازی کرتے ہیں۔

ان قوانین کا  قانونی ادارے "عمومیہ " سے عمل کرواتے ہیں۔ اور اس قانون سے "عمومیہ اور خواص" کوئی بچ نہیں سکتا۔ ہر شخص  قانون کا احترام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔کہ  اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون "بے رحمی" سے سزادیتا ہے۔

آپ  کسی بھی ترقی یافتہ "مغربی جمہوری " معاشرے میں امن و امان  دیکھ سکتے ہیں،ہر شخص اپنی صلاحیتیں استعمال کرکے اس معاشرے میں ملک اور اور معاشرے کیلئے اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔پارلیمنٹ قانون سازی ہی کے ذریعے عوام کی تعلیم و تربیت  فلاح و بہبود کے فرائض انجام دیتی ہے۔اور  عوام اپنے چنے ہوئے "نمائیندوں" کے دفاتر کے سامنے اپنا "کام " کروانے کیلئے لائن لگائے بیٹھے نہیں ہوتے ۔ اور نہ ہی ان کے نمائیندے  "کھلا دربار" لگا کر عوام کے مسائل سنتے ہیں۔ ان نمائیندوں کو مسائل کا علم ہوتا ہے اسی لئے وہ عوام سے ووٹ لیکر ان کے خواص بنتے ہیں۔
جمہوریت اور  خلافت پر لکھنے والوں نے  اچھا لکھا ہے۔ لیکن میں نے یہی محسوس کیا کہ  اصل مسئلے کیطرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔اصل مسئلہ ہمارا ہمارے "خواص" کا ہے، کہ  یہ خواص اگرمسلمان ہیں تو اسی مغربی جمہوریت کو ہم مسلمانوں کیلئے "مسلمان" کر سکتے ہیں۔
مان لیا کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔ لیکن اسی اسلامی آئین والے ملک پاکستان کی عدالتوں میں اینگلو سیکسن قوانین رائج نہیں ہیں؟ پی پی پی  کےحکومتی دورانئے کو ہم الزام نہیں دے سکتے کہ یہ ایک سیکولر جماعت ہے۔ اور اسے عوام کی اکثریت نے  اسےمنتخب کرکے حکمرانی دی ہے۔
آمرانہ ادوار میں اسلامی شریعت نافذ ہو گئی تھی؟

مسلم لیگ کے دور میں خلافت رائج ہو گئی تھی؟ ہوتی بھی تو خلیفہ بھی اس جماعت کا ہی ہوتا جسے آپ امیر المومنین کہتے۔باقی میرے خیال میں پاکستان میں آمریت  بھی اور جمہوریت بھی اپنے اپنے ادوار میں انتہائی پست اور بری حالت میں رائج رہی ہے۔ اور اس وقت کوئی بھی "نظام" اس ملک میں رائج نہیں ہے۔اس ملک کے باسی مسلمان ہیں تو حکمرانی "شیاطین"  کی محسوس ہوتی ہے۔

اور قوانین ان "شیاطین" کی لونڈی باندی ہے۔بڑی مثالیں ، ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ، عافیہ صدیقی کی  امریکہ کو حوالگی  لال مسجد۔۔افراد کا غائب ہونا ، اور اس وقت بھی معصوم عوام کا ڈرون حملوں میں مارا جانا!  باقی روزانہ کے حساب سے قتل و غارت معصوم بچے بچیوں سے جنسی زیادتی یہ قانون کا "شیاطین" کی لونڈی باندی غلام ہونے کی وجہ سے ہی ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے "خواص" کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔اگر یہی کچھ مغربی جمہوری ملک میں ہو تو "قانون" حرکت میں آجاتا ہے اور کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ امریکہ میں ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری امریکہ میں قانون کی حکمرانی کا ثبوت ہے۔(کافی تکلیف ہو رہی ہے نا؟)

جمہوریت کی وضاحت سید ابو اعلی مودودی صاحب نے  ملوکیت و خلافت کتاب میں کچھ اسطرح کی ہے۔
"
مغربی جمہوریت کا تصور عوام کی حاکمیت کے اصول پر قائم ہے۔
اور اسلامی جمہوریت میں عوام  اللہ کے احکامات کو راضی خوشی تسلیم کر کے
اپنے اختیارات اپنی حکمرانی کے معاملات  برضاو رغبت شریعی قوانین کی حدود میں محدود کر لیتے ہیں۔
اسلامی جمہوریت اگر شریعی قوانین پر قائم ہوتو ہم اسے اسلامی جمہوری خلافت یا خلافت اسلامیہ
کہہ سکتے ہیں "( جن صاحب کو بھی اس کتاب کی پی ڈی ایف فائل کی ضرورت ہو مجھ سے مانگ سکتے ہیں)

ہم دیکھتے ہیں ، جو سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، ان کے سپورٹر گالی گلوچ ایک دوسرے کے لیڈروں کی کردار کشی کر رہے ہیں، اور اس کردار کشی کے کام میں جھوٹ مبالغہ سب جائز کیا ہوا  ہے۔ ان کے سپورٹر "میرے بھائی " جیسے غیر ذمہ درانہ مزاج والے ہیں،کیا یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آکر ان کے "خواص " عوام کیلئے شریعی حدود قائم کرکے قانون سازی کر یں گے؟مجھے تو انتہائی مشکل لگتا ہے کہ کوئی کرپشن کا ماضی رکھتا ہے تو کسی کو گانے  گا بجا کر تبدیلی لانی ہے۔

میں جماعت اسلامی کا ذکر ہی نہیں کروں گا اور نہ ہی آپ سے جماعت اسلامی کیلئے ووٹ مانگوں گا۔۔آپ کی تسلی کیلئے ایک عدد عرض کر دیتا ہوں۔۔بھاڑ میں  جائے جماعت اسلامی تے سانوں کی!!( مجھے کونسا جماعت اسلامی نے جیت کر جاپان کا سفیر لگانا ہے، ویسے منور حسن صاحب سوچ لیں ۔۔۔ہیں جی )
اس سیاست میں اصل کام "خواص" کا ہے۔ عوام نے اگر اپنے حالات بدلنے ہیں تو اپنے "خواص" کا چناؤ  نسلیت ، لسانیت ، مسالک ، علاقیت سے بالاتر ہو کر  کردار کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔ اور یہ خواص بھی اگر عوام جیسے "مسلمان" ہوئے تو  عوام کو ایک عدد شریعی  حکومت ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔
اگر یہ سیاست اپنے اپنے "بندے" کو جتانا ہی ہے ،تو جو کچھ عوام کو مل رہا ہے ، یہی کچھ ملتا رہے گا۔ "خواص" ایک دوسرے پر الزام تراشیاں گالی گلوچ بہتان بازی اپنے اپنے مقاصد کیلئے دھرنے دیتے رہیں گے اور عوام بھی انہی کی پیروی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔
ہم تو یہی کہیں گے کہ کم برائی والی مغربی جمہوریت ہی "اصل" شکل میں رائج کر لیں ، اور بعد میں اپنے "خواص" کے ذریعے شریعی قوانین نافذ کر وا کر اس کی  "مسلمانی" کر لیں۔نظام تو نظام ہے مسئلہ قانون کا ہے، اور  اس پر عمل کروانے والے اداروں کا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی مثال آپ کے سامنے ہے ،کہ" سیکولر "ہونے کے باوجود پر امن ہیں۔
سیاست سیاست Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:28 PM Rating: 5

10 تبصرے:

مہتاب عزیز کہا...

یاسر بھائی آپ بھی بڑے بھولے ہیں اگر یہ تحریر آپ دو مہنے بعد لکھتے تو بہت غور سے پڑھی جاتی اور لوگ آپ کے انداز فکر کو بہت سراہتے۔ لیکن بھیا آج کل یہاں کسی کو فرصت نہیں ہے آج تو بس آوے ہی آوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، اج تے ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، ایک ہی نعرہ ۔۔۔۔۔آئے دوبارہ کا وہ شور مچا ہوا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہین دیتی ایسے عالم میں طوطی کی کون سنتا ہے۔
اس قوم کی یہی حالت رہے گی کیوں کہ اس نے عقل کے استعمال سے پرہیز کا نسخہ پا لیا ہے۔ آپ اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھیے ہمیں ڈسٹرپ نہ کیجیے مہربانی ہو گی۔

مبشر سلیم کہا...

بہت خوب

munir.abbasi@gmail.com کہا...

I have his number with me. Shall I call him and congratulate him on returning to ground again?
The local politicians will win again this time. especially those with whom he was attached last time.

enjoy...

DuFFeR - ڈ فــر کہا...

بس جپانی صاب بس
بہت ہو گئی کل کل کل کل کل کل
جان اللہ دی کھال شوکت خاتم دی تے ووٹ بلے دا
اور بھائی کو آپ نے سر پہ چڑھایا وا
بھگتنا آپکا حق بنتا ھے
وہ گوروں کی ترقی کی عورت سے سلوک بارے ایک کہاوت ھے
پردیسیوں کو دیسیوں سے تھوڑا ویسا سلوک کرنا پڑتا ھے تو ھی کام بنتا ھے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب آپ جیسوں نے ہی اس کا دماغ خراب کیا ہوا ہے۔۔
بال بچے دار ہے۔۔میں نے خرچہ پانی بند کیا ہوا ہے۔
کوئی کام شام کروانا ہو تو پیسے دے کر کروا لیجئے گا ؛ڈڈڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بے فکر رہیں مرشد ڈفر آپ کے مرید نے یہی کیا ہوا ہے۔ تصدیق ڈاکٹر صاحب کر دیں گئے؛ڈ

mani کہا...

نقار خانے میں طوطی کی آواز۔ لیکن ایسے ہی مل ملا کر کچھ بہتری آئے گی، بولنا، کہنا، سمجھنا سمجھانا پہلا مرحلہ ۔۔

اور ہاں جاپانی سفیر لگنے کے بعد ایک ویزہ میرا، چیری والا موسم سنا بڑا سوہنا ہوتا جاپان میں :ڈ

منیر عباسی کہا...

اس کام میں جو مزہ ہے اس پر دنیا جہاں کے پیسے بعض لوگ قربان کر جاتے ہیں. سیاسی میٹنگیں، ممکنہ ووٹر، کچے ووٹ، مشکوک گھرانے وغیرہ نشان زد کرنا اور پھر ان کا مقابلہ کرنے کے لئے حکمت عملی بنانا ایک خون گرما دینے والا کام ہے. آپ کیا جانیں اس کام میں کتنا سواد ہے.

شازل کہا...

آپ نے دل کی بات لکھ دی ہے۔ سیاست بہت بدنام ہوچکی ہے جسے ووٹ کا کہیں وہ اس پراسیس پر لعنت بھیج دیتا ہے۔
دھماکوں پر دھماکے ہورہے ہیں اب کیسی امید اور کہاں کا الیکشن

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
آپ نے دل کھول کر پاکستان کے موجودہ حقائق بیان کئیے ہیں۔
انسانی فطرت ہے کہ اگر بدیانت آدمی کو ایک مسجد کا انتظام سونپ دیا جائے تو وہ اس میں سے بھی ہیرا پھیری کی کوئی صورت پیدا کر لے گا۔ اور ایک نیک اور پارسا شخص مے خانے میں بھی برائی سے پاک نکل آئے گا۔
نظام اپنی جگہ ضروری ہوتے ہیں مگر ان پہ عمل کروانے والے لوگ اگر باکردار اور صالح نہ تو دنیا کا بہترین سے بہترین نظام بھی کرپٹ ثابت ہوتا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.