پیارے خالق کی پیاری مخلوق

سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے ، سنہری دور تھا ، کاروبار عروج پر تھا۔
کہ ہماری دکان پر ایک روسی گاہک جن کا نام آلیکس تھا  آئے ،خریداری کے بعد ایک تھیلی ہمارے دکان پر بھول گے۔
تھیلی کھول کر تصدیق کی تو تیس ہزار ڈالر تھیلی میں پڑے ہوئے تھے۔
لبھی چیز خدا دی نہ تہلے دی نہ پا دی۔

یعنی جو شے راہ چلتے مل جائے خدا کی ہوتی ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔۔یعنی میری ہی ہوئی نا!۔۔۔تالیاں
ٹھنڈے علاقے کے روسی جب جاپان کی گرمیوں میں جاپان آتے ہیں تو
ان کی مت ماری جاتی ہے۔
دس پندرہ بیئر کے ڈبے بھی انہیں ٹھنڈا نہیں کر سکتے!۔
کچھ دیر بعد روسی گاہک جن کا نام آلیکس تھا۔ منہ لال سرخ کئے بوکھلائے ہوئے ۔
ہماری دکان پر واپس آئے اور چیخنے لگے کہ میرے پیسے واپس کرو۔

مرتے کیا نہ کرتے ۔دو ٹھنڈےجام روح افزاء( سچی مچی روح افزاء تھی ایویں خیالی پکوڑے نہ پکاؤ) کے پیش خدمت کئے۔
اور تھیلی واپس کرنی پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے۔
دو ہزار آٹھ کے معاشی بحران سے کچھ دن پہلے ایک رشین خاتونہ  نے گاڑی کا آڈر دیا اور ایڈوانس میں دو ہزار ڈالر بھی دے گئیں۔
لیکن چند دن بعد فون آیا کہ گاڑی نہیں چاھئے،آپ دو ہزار ڈالر واپس کردیں۔

ہم نے کہا اکاؤنٹ نمبر دے دیں، بینک چارجز کاٹ کر آپ کے پیسے آپ کو ارسال کر دیئے جائیں گے۔
یا جس بندے کا آپ کہیں گیئں اسے دے دیئے جائیں گے۔
خاتونہ نے کہا کہ کل بتاتی ہوں۔

جب کل نہیں آیا تو ہم نے اس وقت کے آج کو خاتونہ کو فون کیا ،کہ
بی بی اپنے پیسے واپس لے لیں بندے کی نیت خراب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
بعد میں روتی رہو گی۔
خاتونہ نے جواب دیا۔
کہ جس نے رونا ہے وہ روئے ۔۔۔۔تے سانوں کی۔
حیرت سے پوچھا مسئلہ کیا ہے۔ اتنی فراخ دلی؟

بولیں آلیکس میرے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ میں ہی رہتا ہے۔
سر راہ اس نے سلامی ماری تو اس سے تذکرہ کر بیٹھی کہ یاشا(یاسر)سے پیسے واپس منگوانے ہیں۔
آلیکس صاحب نے فٹ پیسے نکالے اور اس خاتونہ کو دے دیئے، کہ جب جاپان جانا ہوا تو یاشا سے لے لوں گا۔
آلیکس صاحب نے مجھ سے تصدیقنے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا!!۔

ہم نے بھی سوچا جب آلیکس صاحب آئیں گے تو انہیں دے دیں گے۔
دینے ہیں لینے تو ہیں نہیں۔۔۔۔ٹینشن کائے کی۔۔۔۔۔ہیں جی
کچھ عرصے تک جب آلیکس صاحب نہیں آئے تو
انہی خاتونہ کو فون کیا کہ بی بی آلیکس کا کوئی رابطہ نمبر دیں،انہیں پیسے دینے ہیں اور وہ آئے نہیں!۔

خاتونہ  نے جواب دیا کہ آلیکس تو اس بلڈنگ سے کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں۔
اور رابطہ نمبر وغیرہ بھی نہیں ہے۔
چند اور دوستوں سے بھی اتہ پتہ کروایا لیکن آلیکس صاحب غائب ہی رہے۔
ہم نے بھی سوچا دینے ہیں لینے تو ہیں نہیں۔۔۔ٹینشن کائے کی۔۔۔۔ہیں جی
مال مال جپنا پرایا مال اپنا!۔

کرتے کرتے عرصہ پانچ سال تو گذر ہی گیا ہو گا۔ آلیکس صاحب غائب ہی رہے۔
کل شام اتفاقاً ایک روسی دوست ولاڈی میر صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان سے معلوم ہوا کہ
آلیکس صاحب ادھر جاپان آئے ہوئے ہیں اور وہ بھی ہمارے علاقے میں۔۔

دو چار صلواتیں ولاڈی میر کو سنائیں تو ولاڈی میر نے تپ کر  کہا مجھے کیا معلوم کہ اس نے تمہیں اطلاع کیوں نہیں دی،
اور مجھے کیوں بیست کر رہا ہے۔
ولاڈی میر کے ذمے ہی  ڈیوٹی لگائی کہ آلیکس کو بھنک لگے بغیر اس کی رہائش کا پتہ کرکے مجھے راتوں رات دو۔
راتوں رات تو پتہ نہیں لگا صبح ولاڈی میر کا فون آیا کہ اس ہوٹل میں بیوی بچوں سمیت آلیکس رکا ہوا ہے۔

ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔
صبح صبح ہوٹل پہونچے اور آلیکس صاحب کو جا لیا۔
رشین سٹائل میں دھول دھپے کے ساتھ تپاک سے ملے۔اللہ میاں کی  گائے کو کیا ہونا تھا۔
اس تپاک نے ہمارے انجر پنجر ضرور ھلا دیئے۔

حال احوال کے بعد شکوہ کیا کہ آپ کو دو ہزار ڈالر دینے تھے اور آپ نے اتنے عرصے رابطہ ہی نہیں کیا۔
مسکرا کر گویا ہوئے۔
یار یاشا معاشی بحران کے بعد سب کا برا حال ہے۔سوچا آپ کا حال نا جانے کیا ہو۔
اس لئے رابطہ کرنے سے گریز کیا۔ دوستی ہر وقت رابطے میں رہنا ہی تو نہیں ہوتی۔
خدانخواستہ آپ کو شرمندہ کر دیتا تو مجھے دکھ ہوتا یار۔

چل اب جانے دے غصہ نا کر۔ میں نے تو اب گاڑیوں کا کاروبار بھی عرصہ ہوا چھوڑا ہوا ہے۔
اس بار ایسے ہی بچوں کے ساتھ گھومنے آگیا تھا۔کہ آپ کو پتہ لگ گیا  معاف کر دے یار۔
آلیکس صاحب سوموار کو واپس چلے جائیں گے۔
لیکن میں سوچ رہا ہوں۔
ان آلیکس خانہ خراب صاحب نے میرا  تو خوامخواہ  میں بتیس ہزار ڈالر  کانقصان کر دیا۔!!

نوٹ :-  ہمیں اپنے کاروبار میں گاہکوں کے اعتماد کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ ا میج خراب ہونے کی صورت میں کاروبار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس لئے ہم اس طرح  کے لین دین کے معاملا ت اپنی تشہیر کیلئے انجام  دیتے ہیں۔ برائے مہربانی آپ اسے ہماری ایمانداری مت سمجھئے گا۔
ایمانداری سمجھنے کی صورت میں نقصان کے ذمہ دار آپ بذات خود ہوں گے۔ "بلاگر" کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں فرمائے گا۔
پیارے خالق کی پیاری مخلوق پیارے خالق کی پیاری مخلوق Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:15 PM Rating: 5

10 تبصرے:

سعید کہا...

کیا یار یاشا......یہ آخر پوسٹ میں کیا کردیا؟؟؟ بارک اللہ فی مالک و سنک واھلک

شازل کہا...

یار کبھی کبھار نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے
عام بندے کا حال دل پسند آیا۔(بس نقصان کے علاوہ)

مہتاب عزیز کہا...

بھائی جی لگتا ہے آپ واقعی کساد بازاری کا شکار رہے ہیں۔ اب تشہیری مہم کے لئے نکل آئے ہیں۔
اللہ آپ کے کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے۔

mani کہا...

آپ کا امیج اور اشتہاری مہم ہو گئی۔ خاتونہ کی بجائے کسی معقول خاتون کا حلیہ بیان کر کے دعائیں سمیٹتے۔ :ڈ

افتخار اجمل بھوپال کہا...

چلو جی ایک راز تو افشا ہوا کہ آپ جاپان کے یاشا ہیں ۔ اور یہ خاتونہ کیا ہوتی ہے یعنی بہت بڑی یا بہت چھوٹی سی ؟
بے نیازیاں ہیں میرے سوہنے اللہ کی ۔ دل دیے تو روسی کو بھی دے دیتا ہے ۔ آپ کی تعریف اس لئے نہیں کرتا کہ قصور آپ کے والدین یا اساتذہ کا ہے جنہوں نے آپ کو ایسی تربیت دی ۔ ہمیں اسی بناء پر اعلٰی تعلیم و عقل رکھنے والے بیوقوف یا پاگل کہتے ہیں ۔ ہم لمحہ بھر کیلئے منہ بسورتے ہیں پھر خود ہی دل کی تسلی کیلئے کہتے ہیں ”بخشو جی عقلمند ۔ ہم بیوقوف ہی اچھے“۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وہ بیان سکتے ،،آپ خیالی پکوڑے پکائیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سبھی خواتین جن سے کبھی واہ پڑ جائے تو خاتونہ ہی سمجھتا ہوں جناب
کبھی سوچا نہیں کہ خاتونہ چھوٹی ہوتی ہیں یا بڑی ؛ڈ

جواد احمد خان کہا...

خوبصورت انداز ہے بات کہنے کا....

Tari کہا...

I have been a reader of your blog for a while
But this is a first time I have considered
Expressing my comments
"Keep up the good work"
Being an overseas Pakistani
I see many times we get so consumed in making
Moneis
And forget the basics

کوثر بیگ کہا...

وہی کاروبار بھلا جو ایمانداری سے کیا جائے ۔اللہ پاک خوب برکت دے آپ کے کام میں نام میں اور آل میں۔۔۔۔ہمیں یہ پتہ چل گیا کہ ہمارے جاپان میں مقیم بھائی کیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.