تہذیب یافتہ معاشرہ اور ہم

جاپانی بڑی دلچسپ زبان ہے،  دوسری زبانوں میں انتہائی فحش گالیاں ہوتی ہیں۔ لیکن یہ جاپانی  شاید دنیا  کی واحد  زبان ہے ۔جس کی گالیاں انتہائی قلیل ہیں۔
بیہودہ سے بیہودہ جاپانی کی  گالی گلوچ تین چار الفاظ کے درمیان ہی ہوتی ہے۔
اور تین چار الفاظ کا مطلب بھی اگر آپ کو بتایا جائے تو آپ ہنس کر کہیں گئے ، ایسی دو چار گالیاں کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا!

باکا      ـ        پاگل  ، بیوقوف ، احمق
کونو یارَو   ـ   یارو لفظ  کا مطلب "بندہ" یا "شخص" ہوتا ہے۔۔کونو کا مطلب  "یہ  "اور آنو کا مطلب " وہ  "ہوتا ہے۔
اسی طرح آنو یاروبھی گالی بنتا ہے۔
باکا یارَو  ـ    اس کا مطلب پاگل، بیوقوف ، احمق " شخص " ہی بنتا ہے۔
چِکو شو     ـ   اس لفظ کا مطلب لغت میں دیکھنے سے یہی ملا ،کہ بدھ ازم میں جو موت کے بعد دوبارہ پیدائش کا تصور ہے۔
اس کے مطابق دوسرا جنم  کسی پرندے یا کیڑے مکوڑے  کی شکل میں جنم لینے کو کہا جاتا ہے، یعنی دوسرا جنم جس کا انسانوں میں نہ ہو۔
لفظ "یارَو" کو ماضی میں ہم جنس پرست مرد کیلئے استعمال کیا  جاتا تھا۔ لیکن عام جاپانی کو ان الفاظ کے معانی کا  علم نہیں ہے۔بس اس لفظ کو اپنے غصے کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اسی  طرح ہم جنس پرست کیلئے لفظ "اوکاما"  بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام گالیاں سوائے "اوکاما" کے مذکر و مونث کیلئے مشترکہ ہیں
اسی طرح چند ایک دوسرے بے ضرر سے الفاظ ہیں  جو گالی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یا علاقائی بولیوں میں  کچھ تلفظ کی مختلف ادائیگی سے یہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
جاپان کی معروف رائج الوقت گالیاں یہی ہیں۔ انسان کی اخلاقی ذہنیت انتہائی غلیظ ہوتو جاپانی میں بھی گالیاں تخلیق کی جاسکتی ہیں۔لیکن وہ ایسی ہی ہوں گئیں ،کہ
عام  وخاص جاپانی انہیں سن کر ہنس دیں گے۔ بہت دلچسپ ہوئیں تو قہقہ لگا دیں گے۔

یہی الفاظ اگر غصے کے اظہار کے طور پر بار بار اونچی آواز میں   کسی پر چنگھاڑتے ہوئے  ادا کئے جائیں تو پولیس متحرک ہو جاتی ہے۔ ایک بار فیملی ریسٹورنٹ میں  شرابی کو اونچی آواز میں ریسٹورنٹ کی ویٹریس  پر چنگھاڑتے دیکھا ۔ ویٹریس بیچاری خوف سے  گھٹنوں میں سر دبائے کاونٹر سے چمٹی بیٹھی کپکپا رہی تھی۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا ،پولیس آئی اور شرابی کو اٹھا کر لے گئی۔سیدھا سادہ ہراس منٹ کا کیس بنتا ہے۔

اوئے لفظ جاپانی میں بھی پاکستانی تلفظ اور معانی میں ہی استعمال ہوتا ہے۔بس ذرا سا اس لفظ کو مذکر سے مونث کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہ کرنے سے بھی کام چلتا رہتا ہے۔
ایک انتہائی دلچسپ بات مجھے کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک جاپانی استاد ہیں ان سے معلوم ہوئی ، اور شاید جاپان میں مقیم پاکستانیو کو بھی معلوم نہ ہو۔

کُرًا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لفظ کسی کو ڈرانے کیلئے استعمال کرنے پر بھی پولیس متحرک ہو سکتی ہے۔ کہ کسی کو ڈرانے دھمکانے کیلئے استعمال کیا گیا  ہے۔
جاپان کی مافیا جس کے لئے لفظ "یاکوزا"  معروف ہے۔یہ مافیا عموماً عام عوام جو کے  ان کے سامنے نہیں پھنستے ان کو تنگ نہیں کرتے۔ انکی آپس کی گینگ وار کاروباری مفادات کیلئے ہوتی رہتی ہے۔ انکی انتہائی کوشش ہوتی ہے ،کہ عام بندے کو گزند نہ پہونچے کہ قانونی ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔اور پھر پکڑ دھکڑ سے کچھ عرصے تک کاروبار مفلوج ہو جاتا ہے۔ کسی بڑے جرم ہو جانے سے مافیا گروہ کا جرم پتہ چلنے پر مافیا کو ملزم پولیس کو دینا ہی ہوتا ہے۔ چاھے وہ مجرم ہی ہو یا خود ساختہ مجرم ہی کیوں نہ ہو۔خود ساختہ اس لئے کہ پیش ہونے والا ملزم خود مانتا ہے۔ کہ یہ جرم اس نے کیا ہے ، اور ہنسی خوشی سزا بھی کاٹتا ہے۔

اگر کو ئی کسی کو   "میں یاکوزا" ہوں کہہ کر دھمکی دے تو یہ دھمکی  بھی قانون کی گرفت میں آتی ہے۔ کسی کو ڈرانا دھمکانا قانون کو متحرک کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
ہم اس معاشرے میں رہتے بستے ہیں، امن و امان ہے،ہم تارکین وطن ہیں ، ہم عدم تحفظ کا شکار نہیں  ہیں۔ہمیں اپنی حفاظت کیلئے غنڈے بد معاش پالنے کی قطعی ضرورت نہیں !
۔
کسی سے لڑائی جھگڑا گالی گلوچ ہو جائے یا بات  ہاتھا پائی تک چلی جائے تو پولیس متحرک ہوتی ہے۔جس کی غلطی ہو اسے سزا ملتی ہے۔انتقام لینے کی شدید خواہش رکھنے والے بھی ہزار بار سو چتے ہیں۔پاکستانیوں کے لڑائی جھگڑے دھونس دھمکیاں بھی عدالت تک جا کر دم توڑ جاتی ہیں ،اور بات بعد میں الزام تراشی گالی گلوچ پر چلتی رہتی ہے۔

اب ہم اگر اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے، بندہ مارنا کتا مارنا ایک برابر ہے ۔ کوئی قانون نہیں ۔اگر ہے بھی تو "مافیا نما " طاقتوروں کا غلام ہے ۔جسے جو طاقتور ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر لیتا ہے۔
جاپان  میں ہمارے معاشرے کیطرح ساری گالیاں خواتین کیلئے ہی یا ان سے منسلک نہیں ہوتیں، غیرت مند معاشرہ ہے نا جناب!  آپ دیندار ہیں ، ظاہر ہے کسی سے لڑائی جھگڑے کی صورت میں  اس کی ماں بہن کو غلیظ ترین جانور ثابت نہیں کریں گے تو آپ کے انتقام کے جذبے کو تسکین نہیں ملے گی!! کیونکہ عالم دین ہونے کے دعوی دار ہیں،اس لئے  آپ کو ہر طرح کا حق حاصل ہے، آپ کے دشمن کی ماں بہن گھر پر تلاوت کر رہی ہو یا نماز پڑھ رہی ہو آپ نے ان کو بری بری گالیاں ضرور دینی ہیں۔

کیونکہ آپ مجاہد ہیں، قادیانیوں ،دہریوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں،اس لئے کسی مسلمان سے پنگے کی صورت میں آپ نے اپنی بدمعاشی ضرور دکھانی ہوتی ہے۔اس مسلمان پربھی دہرئیہ ،ملعون قادیانی  علماءکرام کی شان میں گستاخی کرنے والا۔ قحبہ خانے والا وغیرہ  وغیرہ کے الزام اور بہتان تراشنا ضروری حق سمجھتے ہیں۔ لعنتی ملعون مرزے کی کتب کا کثیر مطالعہ اس زبان کی غلاظت کی وجہ؟

جیسا کہ میری پچھلی پوسٹ پر ایک "انتہائی خطرناک" لاہو ر کے سب سے بڑی مافیا کے سردار  (شاید)نے مجھے دھمکی دی ہے۔جسے میں " مذہبی کنجر بہروپیا " کہتا ہوں۔کیونکہ اس شخص کا دعوی ہے ،کہ یہ کوئی عالم دین ہے۔بحرحال اگر اس جیسی دھمکیاں دینے والے ۔
ان دھمکیوں پر عمل کر سکتے ہیں ،تو اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے ،کہ ہمارا معاشرہ مردہ ہو چکا ہے۔  کوئی حکومت کوئی قانون نہیں ہے!!!!کسی جگہ پر آپ کی کسی اسطرح کے شخص سے بحث ہو جائے اور  تلخ کلامی ہوجائے  آپ کو اس جیسے شخص کی بات ماننی پڑے گی اور اس سے معافی طلب کر کے   جان چھڑانی پڑے گی۔اس شخص کی ذہنی حالت تو یہ ہے ،کہ عمران خان کی طلاق شدہ بیوی کی عریاں تصاویر بلاگ پر لگا کر مومن بنا پھرتا ہے۔اختلاف ہے تو دوسروں کی نجی زندگی میں گھسے بغیر بھی بات لکھی جا سکتی ہے۔

اس سے معافی نہ مانگنے  کی صورت میں یا اس کی بات نہ ماننے صورت میں  اس جیسا شخص  آپ کو ایسی "جدید و عجیب" گالیوں سے نوازے گا کہ آپ واقعی میں منہ چھپاتے پھریں گے اور تاحیات اگر اس کے ہاتھو ں بچ گئے تو غلطی سے بھی کسی کو گالی دینے کا نہیں سوچیں گئے!!! مولوی کٹینر  اور مولانا ڈیزل بھی بد معاشی  پر اتر آئیں ، تو لوگ ان پر تنقید یا انہیں ان جیسے ناموں سے پکارنا چھوڑ دیں گے!! ،ہزار اختلاف اور ان دونوں مولویوں کو اسطرح کے نام دینے سے ہمیں  ابھی تک کوئی دھمکی وصول نہیں ہوئی نا ہی ان کے کسی مرید نے دھمکی دی!! دو اردو بلاگر اپنی اپنی سیاسی جماعت کے "جیالے" ہیں ،عموماً لڑتے رہتے ہیں ، اور میں دونوں کو  کبھی کبھی چھیڑ تا ہوں۔ تپتے ہیں لیکن بیچاروں نے کبھی دھمکیاں نہیں دیں۔ایک ن لیگ کے ہیں تو دوسرے تحریک انصاف کے! جماعت اسلامی کے کارکن نے تو بلاگ بنا کر دیا ہوا ہے اور میں جماعت اسلامی والوں پر  بھی تنقید کرتا رہتا ہوں!! ویسے کوئی بتانا پسند کرے گا کہ وارث سیالکوٹی کون ہیں؟ اور ان کا  قصور ؟ کافی جگہ پر ان کے خلاف گالی گلوچ پڑھنے کو ملی ہے۔

اگر آپ اس جیسے شخص کی ذہنیت استعمال کریں اور اسے بھی اسی طرح گالیاں دینا شروع کردیں۔ جو کہ میں نے اس "مذہبی کنجر بہروپیئے " کو دی ہیں(اس معاملے میں ،میں ہٹ دھرمی نہیں کروں گا ، کہ  مانتا ہوں کہ یہ کام واقعی  انتہائی گھٹیا ہے)۔ لیکن میری گالیاں  جاپانی طرز کی نہایت معصوم سی ہی  ہوتی ہیں(میری خوش فہمی؟)۔آپ کو اپنے آپ سے کچھ "گن" سی ضرور  محسوس ہو گی۔ کہ کس گندگی میں چھلانگیں مار رہا ہوں۔لیکن بات سچ یہی ہے کہ  اسطرح کی چھلانگیں مارنے پر بندے کی کچھ نہ دبنے والی فطرت ہی مجبور کرتی ہے۔ چاھئے  اسے " اچھا "   "برا  " یا گند ا کچھ بھی کہا جائے۔ بعض لوگ میری طرح "دڑ وٹ زمانہ کٹ" کے فلسفے پر عمل نہیں کر سکتے۔جان بوجھ  کرپنگا  ایسی جگہ پر کرنے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں جہاں سے "کٹ" لگنے کا پختہ امکان ہوتا ہے۔

کیونکہ حکومت اور قانون ہمارے معاشرے میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ آپ کو بے عزت ہو کر  سر جھکا کر جینا پڑے گا یا پھر ہنگامی بنیادوں پر غنڈے بدمعاش اپنے آس پاس پالنے پڑیں گے اور اس طرح کی مافیا سے پنگا کرنا پڑے گا۔ یہ کام بھی کسی شریف شخص کے بس کا نہیں ہے۔جس گندے بندے کے ہاتھ میں دو پیسے آگئے وہ یہی کچھ ہمارے معاشرے میں کر رہا ہے۔ طاقتور وں کی چاپلوسی اور جو کمزور دکھائی دے اسے دبا کر رکھنا۔سبق سکھانے کے کام کو مردانگی سمجھ رہا  ہے۔ اس کی طرح بد معاشی نہ کر سکنے والا ان کی نظر میں  ہیجڑہ ہوتا ہے(تے ماما تجھے ہیجڑوں کی بڑی پہچان ہے) اور معاشرہ انتشار کا شکار ہے۔

تیسری صورت انتہائی دلچسپ ہے۔ اور آپ اس پر تجربہ کر سکتے ہیں۔لیکن اس کیلئے انتہائی بیوقوف ، جاہل ، نڈر ،  اور کچھ تھوڑا سا کھسکا ہوا ہونا چاھئے۔ اپنا ذاتی کیمرا مین ساتھ لیکر اس طرح کے "غنڈے" کے ڈیرے پر پہونچ جائیں ، گھنٹی بجا کر اور  ہاتھ باندھ کر عرض کردیں۔ مہاراج آپ سے بڑا بڈھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔می کوئی نہیں ہے۔ مجھے آپ سے بہت ڈر لگتا ہے  باواگدھا  حضور نکالیں اور  اپنا انتقام پورا کریں۔(ویسے کھسکا ہوا تو میں بھی ہوں لیکن ابھی بیوقوفی کی حدود کراس نہیں کیں شاید میری غلط فہمی؟)

بندے کی جان بچ جائے تو کم ازکم یہ تو تسلی ہو جائے گی کہ واقعی ہمارا معاشرہ مردہ ہوچکا ہے۔ اور غنڈوں ، بد معاشوں ، پھنے خانوں، مذہبی بہروپیئوں کے ہاتھو ں یر غمال بن چکا ہے۔ایسے معاشرے میں انسانوں کا جینا مشکل ہے۔  ویسے آپ کا کیا خیال ہے، کہ یہ شخص اپنا انتقام پورا کرنے کیلئے اپنی  دھمکی پر عمل کرے اور پورے پاکستان میں کوئی روکنے والا نہیں ہوگا؟ کوئی حکومت کوئی  سیکورٹی فورس ؟  یا سارے  پاکستان میں  مقامی ریمنڈ ڈیوسوں کی حکمرانی ہے؟کہنے کو دل کرتا ہے ۔۔اوئے خادم اعلی خانہ خرابہ بین الاقوامی ریمنڈ دیوسوں کی تو سمجھ آتی ہے لیکن ان مقامیوں کو نتھ نا ڈالی تو جناب کی بادشاہت بھی خطرے میں ہے!!

چوتھی صورت ہی قابل عمل ہے۔اور جس کیلئے میرے جیسا ڈرپوک بندہ کوالیفائی کر تا ہے۔ ڈرپوک اس لئے جناب کے  سارے ہی بہادر ہیں، ایک آدھ کو ڈرپوک بھی ہونا چاھئے۔ظاہر ہے بہادروں کی بہادر ی غنڈوں کی بد معاشی کو نمایاں کرنے کیلئے شریف اور ڈرپوکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس چوتھی صورت کے مطابق یہ شخص جب تک اپنی روش نہیں بدلتا ۔ فرصت کے وقت موقع دیکھ کر جس جگہ یہ مباحثہ کررہا ہوگا۔ وہاں جاکر ایک عدد پھلجڑی چھوڑ آیا کریں گے۔اسے گالیاں تو ہر دوسرا بندہ سر عام دیتا ہے۔ہم ذرا اس کے "باوا " بننے کے شوق کو ننھی سی گزند پہونچا دیا کریں گے ۔ خود ہی باؤلا ہو کر مرجائے گا۔میرا کتورا تو کبھی کبھی بھونکتا ہے(کافی سلجھا ہوا ہے نا)،  یہ بڈھا کتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبہ توبہ

نوٹ : غلیظ گالیوں کی لغت میں اضافے کیلئے ،  نامعلوم  ای میلز نامی پوسٹ کے تبصروں میں اس شخص کا تبصرہ ضرور پڑھئے گا۔
تہذیب یافتہ معاشرہ اور ہم تہذیب یافتہ معاشرہ اور ہم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:53 PM Rating: 5

11 تبصرے:

DuFFeR - ڈ فــر کہا...

تبصرے کا لنک بھی لگا دینا تھا سہولت واسطے
ویسے گالم گلوچ تو میں بھی نی کرتا
ابھی تک کچا ذہن ہے میرا
یعنی جپانی سوسائٹی کے کرائٹیریا پر ایک دم پورا اترتا ہوں
تو کیا میرے جپانی پاسپورٹ کا کچھ ہو سکتا ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

آپ کو کئی واری آفر وئی کی ہے۔
لیکن آپ کو ہی پاکستانی پاسپورٹ عزیز ہے۔

فاروق درویش کہا...

خنزیر خور بندر ِ جاپان و مندراں
خارش زدہ سگان ِ بد، ابلیس کے نشاں
رشدی کے جیسے لعنتی وارث بھی " مکی " بھی
درویش ان پہ لعنت ِ افلاک و دو جہاں

واجب القتل گستاخِ قرآن و رسالت بلاگر بدبخت ایم اے مکی ۔۔۔۔۔ فیس بک کے گستاخین قرآن و شریعت گروپس اور انٹی اسلام پیجز کے پس پردہ مکی برانڈ چیلاء خاص ملعون وارث سیالکوٹی جیسے سرپرستین ِ دھر و بدتخم اور کاذبین مطلق خنزیر خور جاپانی بندروں پر فاروق درویش کی، ھر انس و جن کی اور ہفت افلاک و دو جہان کی لعنت در لعنت در لعنت لا شمار ۔ لعنت اللہ علی الکاذبین والمنافقین والشاتمین
فاروق درویش

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہی بات اگر گالی گلوچ کے بغیر کہہ دے تو اثر رکھے گی!! ،
اور ہم سب بھی تیرے ساتھ تعاون کریں گے۔
لوگ بھی تیری طرف متوجہ ہوں گے۔
اور سب سے بڑی بات جتنی تیری عمر ہے اس حساب سے ہر کوئی تیری عزت کرے گا۔
میں بھی چھوٹی چھوٹی باتیں نظر انداز کر “ بزرگوار فاروق درویش “صاحب ہی کہوں گا۔
لیکن پیدائشی باؤلے تجھے عزت کروانی ہی نہیں،
کیوں شریف لوگوں سے یاوہ گوئی کرکے انہیںن بھی اخلاق خراب کرنے پر مجبور کرتا ہے؟
اگر عزت کا بھوکا ہے تو صرف اتنا کر کہ گالی گلوچ کے بغیر ہم سے بات کر پھر دیکھ ہم سے زیادہ بڑوں کو عزت دینے والا کوئی نہیں۔
بد معاش غنڈہ بد اخلاق بیہودہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کی پیدائش سے پہلے وال “باوا“ بھی ہے۔ ہم اس کی عزت نہیں کرتے،
آسان سا طریقہ ہے۔ دین کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف بلانا ہے تو شائستگی اختیار کر۔
فیس بک پر کم عمر بچوں سے ہر جگہ گالیاں کھاتے ہو ئے شرم نہیں آتی؟

احمر کہا...

فاروق درویش صاحب کی خدمت افدس میں
اوریا جان مقبول کا آج کا کالم
گر قبول افتذ زہے عزوشرف-

http://dunya.com.pk/index.php/author/orya-maqbool-jaan/2013-04-24/2663/72649994#.UXd73aKHaOs

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ میں نے تو آج تک ایسا کوئی "عالم دین" ایسا نہیں دیکھا، جس کی داڑھی بالشت سے چھوٹی اور مونچھیں پورے منہ کو کور کر رہی ہوں۔۔۔ لگتا ہے کہ حضرت عالمِ دین صاحب نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا شاید مطالعہ نہیں کیا۔۔۔

عالمِ دین کے بارے میں مزید جاننے کے لیے قارئین اور کیے ہوئے سب سے گھٹیا اور فحش تبصرے سے رجوع کریں۔۔۔

جواد احمد خان کہا...

ویسے کوئی بتانا پسند کرے گا کہ وارث سیالکوٹی کون ہیں؟ اور ان کا قصور ؟ کافی جگہ پر ان کے خلاف گالی گلوچ پڑھنے کو ملی ہے۔

ارے بھائی کہیں یہ صریر خامہء وارث والے محمد وارث تو نہیں۔انکا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے۔ مگر وہ تو نہایت ادبی اور علمی شخصیت ہیں۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اگر یہی ہوئے تو جواد بھائی آپ کی بھی خیر نہیں ؛ڈڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عمران بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلطان راہی ثانی کا نزول؟

جواد احمد خان کہا...

میری خیر ہے ... میں تو گالیاں کھا کر خوش ہونے والوں میں سے ہوں. :)) شرط یہ کہ گالیاں دینے والا چڑ کر اور غصہ کی حالت میں گالیاں دے.
ویسے مجھے فاروق درویش صاحب کی جذباتیت کی سمجھ نہیں آئی. میرا سنجیدگی سے خیال یہ ہے کہ اگر وہ کچھ دوائیں استعمال کریں تو انکی یہ کیفیت ختم ہوسکتی ہے.

محمد ریاض شاہد کہا...

واللہ تبصروں میں موجود ایسی گالیاں ان آنکھوں کو بچشمہ کبھی خود ملاحظہ فرمانے کا موقع نہیں ملا تھا ، آج یہ آرزو پوری ہوئی ۔ ندرت کلام پہ قربان جانے کو جی چاہتا ہے ، پیش پا اور افتادہ زمین کی بجائے نئی زمین میں غزل سرا ہوتے ہیں ، اللہ کرے زور دشنام اور زیادہ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.