نامعلوم ای میلز

مجھے شروع میں ایک "مخصوص" طبقہ نے میری سادہ لوحی دیکھتے ہوئے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی کوشش کی۔ یہ کام نا معلوم ای میلز کے ذریعے ہوا۔ کچھ نے مسلمانی چیک کی!
بحرحال جنہوں نے تبلیغ کی ان کے لئے اپنے بلاگ کے شیطانیت کے زمرے میں لکھ کر بتا دیا کہ آپ کی اصلیت خوب جانتا ہوں ،تنگ نہ کریں تو اچھا ہے۔
جب بھی اس طبقے کی طرف سے تنگ کیا گیا تو شیطانیت کے زمرے میں ایک عدد پوسٹ لکھ دی۔

ان لوگوں سے اب جان چھوٹی ہوئی ہے۔ نہ وہ ہمیں چھیڑتے ہیں ،اور نہ ہم مستی کرتے ہیں۔ سیکولر یا لبرلز سے سے کچھ نا کچھ چھیڑ چھاڑ چلتی رہتی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے بحث مباحثہ ضرور کیا دھمکیاں گالیاں مجھے کبھی نہیں دیں۔ یہ تو چلتا رہتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے اردو بلاگرز کی لاہور کانفرنس کے ہونے  پر ایک بیہودہ شخص سے تلخ کلامی ہوئی ۔سارا معاملہ سب کے سامنے ہی ہے ،اس لئے تفصیل  میں نہیں جاؤں گا! اس معاملے کے بعد  ایک تسلسل کے ساتھ مخصوص لب و لہجہ میں غلیظ گالیوں کے ای میلز ملتی رہیں، میرے خیال میں یہ سب بلاگرز کے ساتھ  ہوتا ہے۔ اور سب ہی ڈیلیٹ یا سپام میں ڈال دیتے ہیں!

کچھ عرصہ سے اسی بیہودہ شخص درویش کے لب و لہجے میں گالی گلوچ کے بعد پوچھا جانے لگا کہ کب پاکستان آرہا ہے ؟!!
سپام اینڈ ڈیلیٹ کر دیتا تھا، کہ جب بھی پاکستان جانا ہوا ۔ اطلاع عام کے بعد ہی جاؤں گا۔ابھی تو واپس آیا ہی تھا! کبھی اسے اہمیت نہیں دی!
لیکن دل میں ایک بات بیٹھ گئی تھی ،کہ فرصت ملتے ہی اس غلیظ شخص کا چہرہ سب کے سامنے لانا ہے۔ اور حفظ ماتقدم کے طور پر  نا معلوم ای میلز میں نہیں اس کے فیس بک اکاؤنٹ میں اس سے بکواسیات کروا کر محفوظ کرنا ہے۔
سیدھی سی بات ہے۔ نا معلوم ای میلز سے تو ہر کوئی انکاری ہو جائے گا۔ اور ہم  اپنے بلاگ پر  ایسا  غلیظ مواد شائع کر کے تمام حضرات سے مدد مانگنے کارونا رونے  کی حد  تک ڈرپوک بھی نہیں ہیں۔تصدیق بھی کرنی تھی ثبوت کے ساتھ کہ گالیاں دھمکیاں یہی شخص دے رہا ہے ،یا کوئی خوامخواہ پھڈا کروانا چاھتا ہے۔

کیونکہ اس درویش نامی شخص کا دعوی ہے ،کہ یہ عالم دین ہے۔ عالم دین کسی فرقے کا بھی ہو اگر  علما حق میں سے ہو گا تو ظاہر سی بات ہے اگر کوئی اسے برا بھلا بھی کہے گا تو برداشت کرے گا ۔ اور اپنے کردار سے اپنے مخالف کو شرمندہ  کردے گا!
تو جناب ہمارے جو فیس بکی فرینڈز ہیں۔ ان سے معذرت کے مجھے بلی تھیلے سے باہر نکالنی تھی وہ میں نے نکال لی ہے۔ اب جب بھی پاکستان جانا ہوا۔ اطلاع عام کے بعد جاؤں گا۔
مرنجاں مرنج کمزور سا بندہ ہوں ،اور دشمنی پر بضد بیہودہ شخص کوئی بہت ہی طاقتور شخص ہے۔ڈر لگتا ہے جی ۔۔۔خوامخواہ میں مارا جاؤں گا۔۔۔اس لئے کچھ ثبوت محفوظ کرنے تھے۔وہ کر لئے ہیں۔ ان ثبوت والی فائیل میں میری طرف سے کی گئی گالی گلوچ بھی شامل ہے۔ کہ میں عام سا بندہ ہوں عالم دین نہیں!  کبھی کبھی تو گالیاں دینے کا حق  مل ہی جانا چاھئے!!
اب یہ مذہب کے نام  پرمنافقت کرنے والا شخص بھونکے یا  کچھ بھی کرے ۔میں نے اسے اہمیت نہیں دینی کہ مجھے اپنا مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ فائیل محفوظ کر لی گئی ہے۔ جب بھی پاکستان جانا ہوا طلاع عام کے بعد ہی جاؤں گا۔ اور اتنا ضرور عرض کردوں کہ اس شخص  کی یک طرفہ دشمنی کے علاوہ میرا کسی سے کوئی بھی دھمکیوں والا معاملہ نہیں ہے!
نامعلوم ای میلز نامعلوم ای میلز Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:38 PM Rating: 5

19 تبصرے:

ali کہا...

چونکہ آپ کو اس طرف میں نے متوجہ کیا تھا لہذا معذرت۔
مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ بندہ اتنا حد سے گزر جائے گا۔

فیصل کہا...

ارے یار لعنت بھیجا کرو یاسر بھائی
یہ نام نہاد لوگ جن کا علم گالیوں کی فراوانی اور لوگوں پر کفر کے فتوے سے آگے کچھ نہیں
دین کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بناکر اپنی دکانیں چلانے سے زیادہ ان کا کوئی اور مقصد نہیں
اس قابل ہی نہیں کے ان سے بات کی جائے
آپ ان جہلا سے الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے مثبت کام میں صرف کریں
وسلام

شعیب صفدر کہا...

کن باتوں میں پڑ گئے ہو یار!
جان دے !

ڈفر کہا...

یعنی کہ کوئی ہینکی پینکی ہو جائے تو ذمہ دار مذکورہ "عالم دین" ھو گا؟
اوکے
پوائنٹ نوٹڈ
ویسے بندہ جتنا وہ بڑا بدماش ہے میری تو اس کی دھمکیاں سن کے ہی ایسے ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں جیسے سکول میں مس جمع کا سوال بلیک بورڈ پہ کرنے کو بلاتی تھی تو کانپتی تھیں

پی ایس: اب تو آنے سے پہلے اطلاع ضرور دینا جی
اور وہ جو بحریہ والا پلاٹ ہے وہ میرے نام کر دینا یاد سے
نہیں تو آنے کی کوئی ضرورت نی ہے

ڈفر کہا...

وکیل صاب آپکو تو چاہئے کہ جپانی صاب کو ساری قانونی امداد کی پیشکش کریں اور آپ میاں بیوی میں صلح کرانے والے مجسٹریٹ کی طرح بی ھیو کر رے، ویری بیڈ

جبران رفیق کہا...

بھئی لعنت بھیجئے، یہ تو چاہتے ہی یہی ہے کہ ساری توجہ بس ان جیسے لوگوں پر ہی مرکوز رہے۔۔ اللہ ہدائیت دے ان کو بس۔

شازل کہا...

ایسا ہوتا رہتا ہے خود میرا ان باکس ان بیہودگیوں سے بھرا ہوا ہے یار دوست کہتے ہیں کہ میں کیوں ایک ہی پارٹی کو لگا دہتا ہوں انہیں کیا معلوم کہ میں کن لوگوں کو مخاطب کررہا ہوتا ہوں۔
اللہ خیر کرے گا۔ ان باتوں کو دل پر نہ لیں۔

افتخار راجہ کہا...

اتنی ٹینشن؟ آپ چپکے سے اپنا کام کرتے رہیں، اس طرح کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں،
بلی کی میاؤن میاؤں سے کوئی تعلیم حاصل کرنا تو نہیں چھوڑ دیتا، یس

عمران اقبال کہا...

مزے کی بات یہ ہے کہ بابا درویش اور غزل صاحبہ ہی بس گالم گلوچ میں مصروف ہیں... باقی چند افرادجو ان کے بلاگ پر ان کی حمایت کرتے ہیں... مجھے پورا یقین ہے کہ بابا جی کی ہی فیک آئی ڈیز ہیں... دل کو خوش کرنے کے لیے بار بارنت نئے ناموں سے خود ہی کو خراج تحسین پیش کرتے رہتے ہیں... میں کم از کم انہیں گالیاں نہیں دینا چاہتا... بس ان سے ہمدردی ہو رہی ہے کہ بابا جی کا ذہنی توازن حد درجہ خراب ہو چکا ہے... جو گالیاں وہ اتنی سادگی اور مہارت کے ساتھ دیتے ہیں... بے شک بچپن سے اپنے لیے سنتے آئے ہوں گے... اب موقع ملا ہے بس انہیں باہر نکالنے کا...

بابا جی کے لیے پیغام...
"Get Well Soon" اللہ آپ کو اچھی صحت عطا فرمائے۔۔۔ کسی اچھے حکیم سے رجوع کیجیے۔۔۔ آپ کو اس کی حد درجہ ضرورت ہے۔۔۔

جواد احمد خان کہا...

افسوسناک صورتحال ہے۔ کسی ذہنی مریض کی کارستانی لگتی ہے۔

کاشف کہا...

لوگ بڑے سادہ دل ھوتے ھیں۔ کئیوں کو دوپہر کے اخبار کی چٹپٹی خبریں بہت پسند ھوتی ھیں۔
درویش کے پیج کو 9000 لوگوں نے لائیک کیا ھوا ھے۔ سب کے سب درویش کے اپنے آئی ڈی نہیں ھیں۔

ویسے یہ بات ماننی پڑے گی کہ درویش کی ووکیبلری (Vocabulary) کافی اچھی ھے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

میں ایک بار کہیں آپ کی لکھی گالیاں پڑھی تھیں ۔ بہت دکھ ہوا تھا ۔ کئی دن میری طبیعت مضمحل رہی ۔ کئی بار سوچا آپ کو لکھوں لیکن نہیں لکھا ۔ کسی نے کہا تھا
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
بچپن میں شیخ سعدی صاحب کی لکھی گلستان سعدی میں پڑھا تھا کہ ایک فقیر آنسو بہا رہا تھا۔ اُسکی بچی کہنے لگی”بابا ۔کیوں روتےہو ؟“ بولا ”کتے نے کاٹ لیا ہے“۔ کہنے لگی ”وہ کوئی آپ سے بڑا تھا ۔ آپ بھی اُسے کاٹ لیتے“۔ فقیر بولا ”بیٹی ۔ میں انسان ہوں ۔ کتنے کو نہیں کاٹ سکتا ۔ اس لئے رو رہا ہوں“۔

کوثر بیگ کہا...

میں نہیں جانتی کہ تب کیا ہوا تھا مگر مسلمان بھائی ہو نے کی وجہہ سے معاف کرنا اور درگزار کا معاملہ کرئے ۔ اللہ ایسے عمل سے خوش ہوتا ہے ۔ اللہ ااپ کو خوش و خوش حال و بحال رکھے۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

افتخار صاحب
دکھ دینے کی انتہائی معذرت چاہتا ہوں۔
اور آئیندہ وعدہ کرتا ہوں۔ انتہائی مجبوری میں بھی بد زبانی ناشائستگی سے ضرور بچوں گا۔انشاء اللہ۔
اگر جو ای میلز مجھے ملتی ہیں ، یہ شائع کردوں تو
آپ کو مزید دکھ ہو گا۔
اللہ کا شکر ہے ماں بہن کی گالی غلیظ سے غلیظ شخص کو بھی نہیں دیتا۔
اس دفعہ مجبور ہو گیا تھا۔ کہ آخر کون شخص ایسا کر رہا ہے۔
لب و لہجہ اسی شخص کا تھا۔
اگر یہ شخص باز آجائے تو محترم آپ مجھ سے مل چکے ہیں۔
آپ کی زندگی کا تجربہ شکل دیکھ کچھ تو اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہو گا
کچھ مزاج کا تیز ہونے کے باوجود بیہودہ نہیں ہوں۔

فاروق درویش کہا...

اوئے خنزیر خور کاکا خامخواہ ۔۔۔۔ کب تک جھوٹ جھوٹ اور صرف جھوٹ لکھ کر شرفا کو ورغلاتا رھے گا؟؟؟؟ تو دس بلاگ اور لکھ، تجھ جیسے خارش زدہ کتوں کے بھونکنے سے مجھ حقیر فقیر کو کچھ فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔تیری طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کے جواب میں میں تجھے صرف " ولد الحرام" کہتا ھوں ۔۔۔اور ثابت شدہ بات ھے کہ تو ھے۔۔۔۔۔ تو نے اور کاشف نصیر نے میری بیٹیوں جیسی سارا کو مولانا فضل الرحمن کا رشتہ پیش کیا تو جواب میں، میں نے کاشف نصیر اور تیری کنواریوں کا عین شریعی رشتہ مانگا تھا اور میں اس شرعی حق پر آج بھی قائم ھوں ۔۔۔اس حوالے سے تیرے من گھڑت اور سفید جھوٹوں کا "اصل" احباب کو دکھانے کیلئے یہ تحریر بھی لکھی تھی ۔۔۔۔۔۔
http://farooqdarwaish.com/blog/?p=2553
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد بھی تو ہمیشہ میری تحریروں پر ہی نہیں بلکہ جہاں جہاں بھی میں کومنٹ کرتا تھا تو خامخواہ وھاں وھاں میرے خلاف گالیاں اور اول فول بھونکنے آ جاتا تھا ، بوجہ مین خاموش تھا کہ مجھے کچھ معزز بلاگر برادران نے خاموش رھنے کا حکم صادر کیا تھا ۔۔۔ لیکن اب تیری کھال اتارنے بنا گزارا نہیں کہ کتا ہلکایا ھو جائے تو اسے کچلا دینا ضروری ٹھہرتا ھے ۔۔۔۔ اسی لئے تنگ آ کر کل پھر تجھے تیری اصل گندگی کا آئنہ دکھایا ھے ۔۔۔۔ اور سن میں تیری طرح ھجڑا نہیں سامنے آ کر بات کرتا ھوں ۔۔۔۔ فیک ای میلس بھیجنے والے پر انس و جن ، ھفت افلاک کی ھی نہیں اللہ اور تمام پیغمبران حق کی تا ابد لعنت ۔۔۔۔ باندر انسان اس ای میل کا آئی پی دیکھ ۔۔۔نہ آئی ٹی ٹیک اتنی پرانی ھے نہ لوگ بیوقوف ھیں کہ آئی پی ایڈریس سے بندے کا پتہ نہ چلے۔۔۔۔۔ سارا کو "قادیانی برانڈ" پراپیگنڈے سے فیک ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے، سینکڑوں لوگوں کی گواہیوں ، کھلے بیانوں کے بعد سب احمق حقائق سامنے آنے پر شرمسار ہی نہیں ذلیل و رسوا ھو چکے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سیدوں کی بیٹی سہی لیکن میری سگی بھانجی ھے ۔۔۔۔۔میں اسے نکالی گالیوں اور ملا ڈیزل کے رشتوں کا ناقابل فراموش انتقام لوں گا ۔۔۔۔۔۔ اور ھاں یاد رکھ ،،،،، میں کمزور سے کمزور انسان کو اپنے سے بہت طاقتور سمجھتا ھوں اس کی عزت کرنا میرا دین دھرم ھے ۔۔۔۔لیکن کوئی بھی گالی فروش یا دھمکی باز طاقتور مائی کا لال میرے لئے کسی خارش زدہ بازاری کتے سے بڑھ کر نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں تجھے جانگیا پہنا کر، مونہہ کالا کر کے گدھے پر بیٹھا کر ۔۔۔۔ تیرے ھاتھ میں گتے کا بورڈ پکڑاؤں گا ۔جس پر لکھا ھو گا ۔۔۔۔۔۔ " میں ایک ولد الحرام ، خنزیر خور جاپانی باندر ھوں مین نوجوان لڑکیوں کو فحش گالیاں اور بڈھوں کے رشتے پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔ میں دین کی بات کرنے والوں کو کنجر کہتا ھوں کیونکہ میں خود سب سے بڑا طوائف زادہ ہوں " ۔۔۔۔۔۔۔ اب سارا کے بھائیوں یا باپ سے پہلے تیری ٹھیک ٹھاک چھترل مجھ پر فرض ھے ۔۔۔۔۔۔ تیرے جھوٹوں اور لعنت رسیدہ چہرے پر روز محشر اللہ کی لعنتیں اور کل کائنات پھٹکار ھو گی ،،،،۔۔ اب تیرے سرپرست وارث سیالکوٹی جیسے سب کتوروں کی خباثتوں اور مردودیوں کی ایسی کی تیسی۔۔۔۔۔ لخ لعنت تیرے اور تیرے کاذبین فتنتےحواریوں پر ۔۔۔۔۔۔لعنت ان غلیظ الفطرت تخم پر جس کا تو پلید نمونہ ھے ۔۔۔۔ اب تو سارے قادیانی خنزیروں کو ساتھ ملا ، سارے کافر دہرئے اکٹھے کر انشاللہ میں اکیلا کافی ھوں ۔۔۔۔ دھمکی دیکر بھاگتا کہاں ھے ھجڑے ۔۔لعنت اللہ علی الکاذبین ۔۔۔۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کون اتنی محنت کرتا۔ آئی ٹی ٹیک وغیرہ وغیرہ کیطرح پراکسی سرور بھی اتنا نیا نہیں ہے،
سب سے بڑی بات ذہنی مریض کا معلوم تھا کہ یہی یہ حرکتیں کر رہا ہے۔
دم پہ پاؤں رکھا اور اصلیت دکھا دی نا ؛ڈڈ
معزز بلاگرز نے خاموشی کا حکم بھی صادر کیا تھا اور تو نے انتقام لینے کا پکا ارادہ بھی کیا ہوا تھا!!
قادیانیوں وغیرہ پر لعنت بھیج تو صرف میری بات کر!
اچھا وہ میری دھمکی بھی یہاں پوسٹ کردے!
ویسے میں غنڈہ بد معاش تو ہوں نہیں کہ مار دھاڑ کی دھمکی دوں۔
تیرے دماغ کے خناس نے ایڈیٹنگ ضرور کی ہے۔اور وہ سب کو معلوم ہے۔
میں کہیں نہیں بھاگ رہا۔
جب پاکستان میں تھا اس وقت بھی تجھے کہا تھا ۔ پاکستان میں ہی ہوں۔
اب پاکستان اتنا گیا گذرا بھی نہیں کہ تیرے جیسے بدمعاش کھلے عام ایسی بد معاشی کر سکیں۔
یا پاکستان کے تمام قانونی ادارے تم سے ڈرتے ہیں؟

منیر عباسی کہا...

فاروق صاحب، اگر آپ بالفرض حق پر بھی تھے، جیسا کہ مجھ جیسے بہت سے لوگ اس بات سے لا علم ہیں کہ جھگڑے اور دھمکیوں کی وجہ کونسی متنازع بات تھی... تو بھی اپ کو اس قسم کا لہجہ نہیں اختیار کرنا چاہئے تھا.

آپ کے اس لہجے نے یقین کریں، آپ کی بے گناہی کی طرف اشارہ کرنے کی بجائے قارئین کو کچھ اور سوچنے پر مجبور کر دیا ہے.

بہتر ہوگا اپ اپنےطرز کلام پر نظر ثانی کریں. شائستہ طریق سے بات کرنے سے آپ کا کچھ نہیں جائے گا.
اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

و قولو للناس حسنا.

اللہ کے نبی کو اپ سے زیادہ اذیت لوگوں نے پہنچائی تھی. مگر اللہ کے نبی نے ایسا کوئی طرز کلام اختیار نہیں کیا جیسا کہ آپ نے کیا.

آپ اللہ اور اس کے نبی کے طریق پر چلنا چاہتے ہیں تو اپ کو اپنے اس روئیے کو بدلنا ہوگا..

فاروق درویش کہا...

کسی بھی ڈاکومنٹ میں ایڈیٹنگ کرنے والا روز محشر کلمہء محمدی اور بخشش ِ الہی سے کلی محروم ہو گا اور کذب بیانی کرنے والے جاپانی ھجڑے کے چہرے پر ہر دو جہاں کی پھٹکار ہو گی ۔۔۔۔
خنزیر خور بندر ِ جاپان و مندراں
خارش زدہ سگان ِ بد، ابلیس کے نشاں
رشدی کے جیسے لعنتی وارث بھی " مکی " بھی
درویش ان پہ لعنت ِ افلاک و دو جہاں

واجب القتل گستاخِ قرآن و رسالت بلاگر بدبخت ایم اے مکی ۔۔۔۔۔ فیس بک کے گستاخین قرآن و شریعت گروپس اور انٹی اسلام پیجز کے پس پردہ مکی برانڈ چیلاء خاص ملعون وارث سیالکوٹی جیسے سرپرستین ِ دھر و بدتخم اور کاذبین مطلق ، شاہ سے بڑھ کر شاہ کا مصاحب جاپانی بندروں پر فاروق درویش کی، ھر انس و جن کی اور ہفت افلاک و دو جہان کی لعنت در لعنت در لعنت لا شمار ۔ لعنت اللہ علی الکاذبین والمنافقین والشاتمین
فاروق درویش

عمران اقبال کہا...

جناب حق گو۔ انتہائی شریف حضرت، درویش صاحب کے لیے:

یہ کام کرنے والا مومن نہیں :

سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا طعن کرنے والا کسی پر لعنت بھیجنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بدتمیزی کرنے والا مومن نہیں ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے کئی سندوں سے منقول ہیں۔
جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2063

کسی پر بلاوجہ لعنت کی جائے تو :

سیدہ ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی جانب پروان چڑھتی ہے اور آسمان کے دروازے اس پر بند کردئیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی جانب اترتی ہے تو اس کے لیے زمین کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر دائیں بائیں جگہ پکڑتی ہے جب کہیں کوئی گھسنے کی جگہ نہیں ملتی تو جس پر لعنت کی گئی ہے اس کی طرف جاتی ہے اگر وہ اس لعنت کا حقدار ہو ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1500 ادب کا بیان : لعنت کا بیان

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.