کتا خواری

میں بھی بڑا نیک پروینا بندہ ہوں، صبح کی نماز کے بعد کتے کو چہل قدمی کیلئے لیکر جاتا ہوں، اور بھی کئی حسینائیں کتے پکڑے چہل رہی ہوتی ہیں ،سب کو  وقتاً فوقتاً رک رک کے صبح کا سلام دیتا اور لیتا ہوں۔اس سلاما سلامی کی خوش اخلاقی میں بڑی نیکیاں ہوتی ہیں۔جب سے میں نے دیکھا کہ کتوں کے ساتھ صبح کی سیر حسینائیں کرتی ہیں۔

اورخوش اخلاق و رحم دل بھی ہیں، بس اس دن سے میں نے گھر والی  سےکہا نیک بختے تو صبح نور پیر کے "ویلے" صرف اللہ اللہ کیا کر! جب میں صبح کی  "کتا سیر" سے واپس آؤں تو ، بس کافی تیار رکھا کرنا، کتے کو سیر کروانے والی خدمات یہ بندہ نیک پروینا خوش دلی اور نہایت جوش سے انجام دے گا۔

کتا بھی بڑا ہی  اللہ میاں کا نیک کتا ہے ،جیسے ہی سلام پھیرتا ہوں ، اس نے آؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔ کی لمبی میٹھی آواز نکالنی ہوتی ہے ،کہ چل نیکیاں کمانے  نکلیں۔

کتا بھی کیونکہ ہماری طرح  نہایت شریف اور نیک پر وینا ہے اس لئے  "کتا  لیڈیز" اور "کتا نما خواتین" بھی اسے بہت لاڈ پیار کرتی ہیں۔
کروڑ خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
کتے کی" لیلیں " دیکھ کر ہر خواہش ارماں نکلے

یہ لاڈ پیار "کتا لیڈیز" سے بھونکا  بھونکی نما ہوتا ہے تو "کتا نما خواتین" سے  "جپھیاں" چمیاں" تسلی دلاسے جیسا ہوتا ہے۔ ہم رشک سے ہی اپنے "پالتو کتے" کو دیکھ سکتے ہیں ،

اس کے حقوق میں سے حصہ وصولنے کی ہمت ہمیں نہیں۔ (وجہ ہماری پارسائی یا زوجہ کا خوف نہ سمجھا جائے ، ہم اپنے ہی کتے کی "لیلیں" دیکھ کر یہ ہمت نہیں کر پاتے)۔
ایک دن  تو حد ہو گئی،کہ ایک کتیا کی مالکن حسینہ نے ہمارے شریف کتے کو ریشمی رومال کا تحفہ دے دیا،بات تحفے تک کی ہی ہوتی تو ہم اپنے کتے کو جل بھون کر یہ بڑی "کتی شے" ہے ہی کہتے!
انتہائی والہانہ لاڈ پیار کے بعد یہ ریشمی رومال ہمارے کتے کی گردن میں بہت نفاست سے باندھ دیا،جس سے ہمارے کتے کے حسن کو چار چاند لگ گئے۔
ہم نے بھی جوش میں آکر اسی طرح کا ریشمی رومال خریدا اور اپنے "گلے" میں باندھ لیا۔لیکن ہماری زوجہ محترمہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ کیا کتے کیطرح رومال "گلے" میں لٹکا لیا ہے!
تو ہماری غیرت نے جوش مارا کہ ہم کیوں کتے کی نقل کرتے ہوئے "کتے کتے" سے ہو رہے ہیں،بس اس وجہ سے "گلے " سے رومال نکال دیا۔

ویسے بھی جب سے کتا پالنا شروع کیا ہے، کتے کیطرح دم ہلانا اور بھونکنے کی خصلت میں کافی افادیت محسوس کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
دُم نہ ہونے کی وجہ سے دُم نہ ہونے کا شکوہ بھونک کر کرنا شروع کر دیا ہے۔بعض اوقات فیس بک پر بھی یک سطری جملے کی صورت میں بھونک جانے کا احساس دوسرے دلا دیتے ہیں، اور اکا دکا پاکستانی جو کبھی کبھار غلطی سے مل جاتے ہیں تو تھوڑی سی گفت و شنید کے بعد حیرت سے پوچھ بیٹھتے ہیں ،
یاسر بھائی آپ کو کیا ہو گیا ہے!!؟

ہمارے حالات اچھے ہونے کی وجہ سے حالات کا "رنڈی رونا" تو نہیں رو سکتے صرف اتنا ہی کہہ دیتے ہیں،کہ صحبت سگِ یاراں کا اثر ہے۔
صحبت کا اثر  تو ہوتا ہی ہے نا جی!

عرصہ ہوا دس ہزار کی پاکستانی کمیونٹی سے بھی فاصلہ رکھا ہوا ہے،کہ مسجد اور اسلام کی بدنامی کا باعث بننے کے ڈراوے کی وجہ سے بلیک میل ہوئے اور ایک خطیر رقم سگِ یاراں قسم کے "دیندار حضرات" کو جرمانے کی صورت میں ادا کی۔وجہ یہی تھی کہ "کاٹنے " کی حرکت کر بیٹھے تھے!

آجکل ایک مسجد میں دو گروہوں کی جنگ اپنے عروج پر ہے،کہ دنیا کی امامت کرنے والے چند دنوں میں جہنم کا ایندھن بننے والے کفار سے انصاف حاصل کرنے کیلئے "کفار کی عدل و انصاف "کرنے والے اداروں کے سامنے دھرنا نما احتجاج کریں گے ،کہ مسجد دوسرے "مسلمانوں" کے قبضے میں ہے،ان سے چھڑوا کر ہمیں عطا کی جائے!

کوئی امام صاحب تھے جن کی کافی "غلطیاں " پہلے ایک گروہ بتا رہا تھا، اب دوسرا گروہ بتا رہا ہے۔امام صاحب کو اپنی امامت کے وقار کے بجائے ،جاپان کے ویزےکے کینسل ہونے کا دکھ اور حصول کی خواہش ہے۔ بحرحال ہمارا تو کسی گروہ سے قطعی کوئی تعلق نہیں !۔
نام کی مسلمانی اُدھر بھی ہے اور ہم بھی اپنی ٹوٹی پھوٹی مسلمانی پر ہی فخر کرتے ہیں!

(میری تحریرپر اعتراض کی صورت میں تمام وڈیو بلاگ پر لگائی جا سکتیں ہیں۔ہمارے قارئین بال کی کھال اتارنے میں شیدے قصائی سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں!)

چند منٹ کے فاصلے پرقریبی مسجد ہے، عرصہ ہوا اس مسجد میں بھی کوئی نا کوئی "کت خانہ" چلتا ہی رہتا ہے! کچھ دن پہلے ایک باریش صاحب تشریف لائے اور ارشاد فرمایا یاسر بھائی پانچ وقت نماز مسجد میں آیا کریں! اب تو امام صاحب بھی دوسرے ہیں۔

غلطی سے پوچھ بیٹھا کہ دوسرے امام صاحب کون؟
جواب ملا کہ وہی جو ہر سال آتے رہتے ہیں۔ نام نہ معلوم ہونے کی وجہ سے غلطی سے تفصیل پوچھ بیٹھا اورجواب سن کر سر پیٹنے لگا!!
جواب ملا تھا۔ وہی "مولوی پان پراگ"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب مقتدی صاحب کو کیا کہتا؟ "کٹ" لگنے کا ڈر تھا اور غلطی سے جوابی "کٹ" لگانے کی صورت میں ہر جانہ دینا پڑتا ہے!! اس لئے کنی کترائی اور بھاگ لئے!
"صحبت یاراں کے شوق سے مفید لگ رہی ہے صحبتِ سگ  "

صحبت سگ میں بھونکنے کی خصلت پانے سے بچنے کی کوشش کی جاسکتی ہے دُم ہلانے کی خصلت حاصل ہونے سے امن و امان کا فائدہ ضرور حاصل ہو جائے گا، اس لئے دُم ہلا کر "وقت" اچھا گذر رہا ہے۔

بات کر رہا تھا، "کتا سیر " کی لیکن جینئس بندہ ہوں اس لئے بات کہیں اور نکل جاتی ہے،جینئیس بندے کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی۔
کتا سیر میں ایک اور خصلت پیدا ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے، کتا سیر کی واپسی پر تھیلی میں کتے کا اخراجی مواد واپس گھر لانا ہوتا ہے!!
پردیس میں بسنے والوں کو میرا دانشورانہ مشورہ ہے،کہ پردیس میں کتا پالنے کی صورت میں تھیلی کا گند روزانہ اٹھا کر گھر لانے کی صورت میں  "عادت " پختہ ہو گئی تو "ہر طرح" کا " گند" اٹھا کر گھر لانے کی عادت ہو جانے کا بھی شدید خطرہ ہے۔

صحبت یاراں ہو یا صحبت سگ یاراں ہر دو صورتوں میں اپنے آپ کو جو اپنے اندر "ستون" ہوتا ہے نا اس کے ساتھ پٹہ ڈال کر باندھ لینا چاھئے!
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باندھنے سے پہلے یہ ضرور "چیک" کرلیجیئے گا کہ اس "ستون" کی " بنیاد" کیسی ہے ! ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روزانہ تھیلی کا گند جو "گھر" لایا جائے گا اس سے "خلاصی " اپنی ذمہ داری ہو گی!!
چشمِ ساقی اثر سے نہیں ہے گل رنگ
دل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا
کتا خواری کتا خواری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:46 PM Rating: 5

4 تبصرے:

DuFFeR - ڈ فــر کہا...

مسجد میں کت خانے والی بات تو بالکل پسند نی آئی
اور دوسری بات یہ کہ ان کے بعد آپ جیسے لوگوں نے کہانیاں گھڑنے کا ٹھیکہ اٹھایا ھوا ھے
ساری برائیاں اور خامیاں دوسروں میں نظر آتی ہیں۔ اگر سچے ھیں تو ثبوت پیش کریں

ضیاء الحسن کہا...

او یار جاپانی انکل شرم کرو .... مسجد اور کت خانہ ... کسی جگہ کو تو چھوڑ دو .... اور ویڈیو تو لازم ہے ... کتی حسیناوں کی صرف اور خبردار اس ویڈیو میں تمھارا بوتھا نظر نا آئے

ابو عبد اللہ کہا...

آپ نے کتے، کت خانے کو اس طرع بیلنڈ کیا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہ پیلدگی کہاں شروع ہوتی ہے اور پاکیزگی کہاں ختم

SarwatAJ کہا...

Kuch kehna chah rhy thy, kuch keh paye , kuch nai,
Jis k liye kuttey k ista'arey ka sahara liya

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.