حسرت

پرانے خواب ، پورے ہو جانے والے خواب ، ادھورے خواب ، سراب ، کچھ ایسے خواب بھی ہوتے ہیں، جو صرف حسرت ہوتے ہیں،  رنگین مولویوں کے خواب سادہ لوح عوام پورے کر دیتی ہے، کہ ان خوابوں کی وقعت ہی اتنی ہوتی ہے۔
کنٹینر والی سرکار خواب دیکھے تو ایک ہجوم کو نعرے مارتا دیکھ کر ہی مطمعین ہو جاتی ہے۔ خان صاحب کے وزیر اعظم ہونے کا خواب تعبیر ملے نہ ملے کافی خوش کن ہوتا ہے،کہ صبح سے لیکر شام تک تو دن خوشگوار ہی گذرے گا۔ تعبیر بھی شاید مل ہی جائے!
ہم جیسے اول تو خواب دیکھتے ہی نہیں،  کہ وقت سے پہلے ہی حقیقت پسندی معدے کو بد ہضمی کا شکار ہونے ہی نہیں دیتی ! قدرت رحم کرتی ہے اور  محنت کا صلہ ملنا شروع ہوجائے تو ہمارے خواب ہماری ننھی ننھی سی خواہشات ہی ہو تی ہیں۔
میں سفر کرتا ہوں تو عموماً ائیر پورٹ پر امیگریشن والے شکل دیکھ  کرپوچھتے ہیں ، کہ کہاں کے ہو؟۔ مسکرا کر پاکستانی ہونے کا اعتراف کرتا ہوں۔ اور اس کے بعد بتاتا ہوں ،کہ پیدائش پاکستان کی اور جاپانی شہریت ہے۔اس کے بعد ایک دو سوال ہوتے ہیں یا پھر خاموشی سے انٹری کی مہر وصول کرکے امیگریشن کاؤنٹر پر شکریہ کہہ کر گذر جاتا ہوں۔

یوروپی ممالک یا جاپان کے مسافرین کو دیکھتا ہوں ، انتہائی خود اعتمادی سے پاسپورٹ امیگریشن کاونٹر پر پھینکتے ہیں ،مسکرانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے بے اعتنائی سے کھڑے رہتے ہیں، امیگریش آفیسر  مسکرا کر پاسپورٹ واپس کرتا ہے۔اور بعض شکریہ ادا کرتے ہیں اور بعض منہ اٹھائے گذر جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کو زیادہ تر ہاتھ باندھے نہایت  مسکینی  اور عاجزی سے امیگریشن کاونٹر پر کھڑے ہوئے دیکھتا ہوں۔ امیگریشن آفیسر نہایت کرخت چہرے سے پاسپورٹ دیکھتا ہے۔سوال در سوال کرتا ہے ۔اور پاکستانی ہر سوال کا جواب مسکینی سے دے رہا ہوتا ہے۔نیوزی لینڈ آسٹریلیا وغیرہ میں زیادہ تر پاکستانیوں کو "سپیشل لائن" کیطرف لیجاتے ہوئے ہی دیکھا۔کئی ایک سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ کئی بار ان ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔

پاکستان سے  بذریعہ دبئی واپسی تھی، دوستوں سے ملنے کا پروگرام تھا۔ لیکن فلائیٹ لیٹ ہوگئی ، چار پانچ گھنٹے ہی باقی بچتے تھے، سوچا چلو امیگریشن سے باہر کچھ کھا پی کر وقت گذار آتے ہیں۔ لیکن دبئی ایئر پورٹ پر جو حالت امیگریشن والوں کی ہوتی ہے۔  لوگ لائن میں  منتظر ہوتے ہیں اور امیگریشن والے مزے سے آہستہ آہستہ کام  کرنے کے موڈ کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
مجھے وہاں  امیگریشن کاؤنٹر پر سے گذرنے والے پاکستانیوں کی مسکینی و عاجزی نے  سخت بیزار کیا اور پاکستانیوں کی مجبوری نے پیٹ میں مروڑ اٹھانا شروع کر دیئے ،اتنا تو مجھے بھی اندازہ تھا،کہ اگر یہ پاکستانی مجبور نہ ہوں تو ان سے بڑا "وہ " کوئی نہ ہوگا۔ لیکن کیا کریں اس دل کا ۔۔۔کچھ بھی ہو جائے اس نے رہنا پاکستانی ہی ہے۔ اور پاکستانی کی تذلیل برداشت کرنا انتہائی کٹھن کام ہے چاھے پاکستانی کوئی بوں ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں نہ ہو!
دل ہی دل میں جتنی اعلی قسم کی گالیاں یاد تھیں، دبئی کے شیخوں کو سنائیں اور لائن سے نکل کر ڈپارچر لاؤنج کیطرف چل نکلا کہ چار پانچ گھنٹے ادھر خوار ہونے کے بجائے لاؤنج میں ہی کھانا کھاتا ہوں اور "رنگبرنگی دنیا" دیکھ کر ہی تھکاوٹ دور کرتا ہوں۔
لائن سے نکل کر چند قدم ہی چلا تھا کہ ایک عربی شاید سیکورٹی فورس کا تھا۔ لال بوٹ چرچراتا میری طرف دوڑا اور کہنے لگا لین چ لگ!! انتہائی ادب سے عرض کیا اعلی حضرت بندہ مسکین صرف ٹرانزٹ پر ادھر تشریف لایا ہے، اور لین چ لگ کر ٹانگیں دکھانے کے بجائے ڈیپارچر لاؤنج میں آرام فرمانا چاہتا ہے ۔اس لئے آپ کا بہت بہت شکریہ!

اس مردود نے دیکھا کہ شکلوں پاکستانی اور نخروں جاپانی !! تو اس کی سوئی اٹک گئی کہ بس تو "لین چ لگ" مددگار والی شرٹ پہنے ہوئے بنگالی کو بلایا اور کہا کہ اسے میری مشکل بتاؤ کہ میں لین چ نہیں لگ سکتا!
مردود نے جب پھر بھی اصرار کیا تو جو میں "اندروں اصلی" پاکستانی ہوں۔ اپنی پیاری زبان میں کچھ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کر بیٹھا! مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ اور کچھ سمجھے نہ سمجھے اخلاقی الفاظ ضرور سمجھتا ہے۔ بس جناب "کٹ" لگنے ہی والی تھی ۔میں نے بھی سامان رکھ کر بھاگنے تیاری کر ہی لی تھی ،کہ معلوم تھا ،کہ جاپانی ایمبیسی دوڑتی دوڑتی مدد کو ضرور آئے گی!

آسرا ہوتو بندہ دلیر ہو ہی جاتا ہے۔ بحرحال "کٹ" کھانے سے بچ ہی گیا۔ لیکن اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ یہ دبئی کنجر خانہ تو ضرور ہو  سکتا ہے ،لیکن انسانوں کا ترقی یافتہ ملک کبھی نہیں ہو سکتا۔جس دن" پاکستان آزاد "ہوا اور   پاکستان کے حکمران پاکستانی ہو گئے ۔ تو دبئی میں صرف ریت ہی اڑا کرے گی۔  اور یقین ہے کہ برسوں دبئی میں بسنے والے یہ بات ضرور جانتے ہوں گے ،کہ دبئی صرف سیاحت کی صنعت ،غیر ملکی کمپنیوں کو دفاتر  اور آمدو رفت کی سہولیات دینے سے چل رہا ہے، اس کے علاوہ مجھے تو کوئی بھی دبئی کی پراڈکٹ نظر نہیں آئی۔اور نہ ان میں کچھ تخلیق کرکے دنیا کو مستفید کرنے کی صلاحیت نظر آئی۔اور پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے بنا پر یہ سب کچھ انتہائی اعلی درجے پر کر سکتا ہے۔ ہیومن ریسورس ہوں یا نیچر ریسورس ہر طرح سے مالا مال ملک ہے۔
امیگریشن کاؤنٹر کسی بھی ملک کا "چہرہ" ہوتا ہے۔ اور چہرہ دیکھ کر ہی کوئی بھی تجربہ کار شخص اندازہ لگا سکتا ہے ،کہ "اندروں" کیا ہو گا۔پاکستان کے  امیگریشن والے ہزا ر برے ہونے کے باوجود کام میں جتے ہی ہوتے ہیں۔ ھڈ حرام ہونے کے باوجود  مجبوری  بنا پر ہی سہی گپیں لگانے کے بجائے کام نبٹا ہی رہے ہوتے ہیں!!

"اپنے اپنے" مطلب کے خواب دیکھنے والوں کیطرح میرا بھی ایک خواب ہے۔ کہ میرے سگے بھائی اپنے ہی دیس میں باعزت روزگار حاصل کریں اور ذلیل ہونے کیلئے "باہر" کے امیگریشن کاونٹر پر عاجزی و مسکینی سے ہاتھ باندھ کر کھڑے نا ہوں۔سگے بھائیوں کیلئے یہ خواب دیکھتاہوں تو جنم بھومی کے بھائیوں  کو بھی  اپنے ہی دیس میں باعزت اور باوقار دیکھنا چاہتا ہوں۔سعودی عرب میں جو  لاکھوں پاکستانی ذلیل ہو رہے ہیں،  یہ بھی ہم سب پاکستانیو کی ہی ذلت ہے۔دیس میں روزگا ر ہو تو ہم صرف اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے جائیں ،نہ کہ غلامی کیلئے!
جو سگے بھائیوں کا تو سوچے اور دیس کا نہ سوچے اس کے لئے صرف ذلت تو ہو سکتی ہے ، لیکن یوٹوپیا جیسےحسین  خواب کی تعبیر نا ممکن ہوتی ہے۔ہماری حسرت جسے ہم خواب کہتے ہیں ،بس اتنی سی ہے ،کہ ہمارا دیس آزاد ہو ہمارے  حکمران پاکستانی ہوں۔ ہمیں صرف امن و امان نصیب ہو، عوام کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ کمزور طاقتور ہر کوئی اپنے آپ کو محفوظ سمجھے ، کمزور طاقتور سے نہ ڈرے اور طاقتور کمزور کی تحقیر نہ کر سکے۔ بے روزگاری ہم عوام خود دور کرلیں گے۔ صرف قانون کی حکمرانی ہو۔ اور اس قانون کی گرفت صرف کمزوروں پر نہ ہو ،بلکہ ہر کمزور و طاقتور پر برابر ہو۔
حسرت حسرت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:40 PM Rating: 5

5 تبصرے:

ali کہا...

دل کی بات کری قسم سے ۔ لوگ چھوڑنے کو تیار ہیں پاکستان ہم ہورپ چھوڑنے کو تیار ہیں کوئی یونیورسٹی نوکری تے دے

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
ہماری تیسری یا چھوتھی نسل اس ملک پاکستان کی ٹھکرائی ہوئی یوروپ امریکہ اور ادہر ادہر پھیلی ہوئی ہے۔ ہمیشہ ہر نسل نے یہ خوآب دیکھا کہ غریب لاوطنی کا جو داغ ہمارے سینے پہ ہے ۔ ہماری اگلی نسل اس سے محفوظ رہے گی۔ اور اور آج چار نسلیں گزرنے پہ بھی ہم یہی خوآب دیکھ رہے ہیں۔ اور حالات اپنے وطن میں زیندہ رہنے کے لئیے مزید سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔
تجارتی دنیا کا ایک قانون کہ جو چیز وافر بکے وہ سستی ہوتی ہے اور اوس فراہم کرنے کے لئیے قسم قسم کے تاجر اسے لیکر پہنچتے ہیں۔ مگر آفرین ہے پیار پاکستان کے بادشاہوں پہ۔ کہ عوام روپے پکڑے بجلی ، گیس ۔ نیز ہر بنیادی شئے کے لئیے لمبی لمبی قطاروں میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ اور حکومت خون چوسنے کے باطجود زندگی گزارنے کی بنیادی اشیاء کو جو حکمتوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ انھیں مہیاء نہیں کرنا چاہتی تو یہ بدترین قسم کی بدیانتی ہے اور اگر مہیاء کرنے سے قاصر ہے تو اول درجے کی نااہلی۔ ہر دو صورتوں میں پاکستان کے باداشاہ بودے اور بیکار لوگ ہیں۔ ان سے جان چھڑانا شاید ہمارے بس میں ہی نہیں رہا۔

جواد احمد خان کہا...

غریب الوطن ہونا ایک المیہ ہوتا ہے چاہے اسکا ادراک ہو یا نا ہو. خاص طور پر جب یہ غریب الوطنی مشرق وسطی میں ہو. واللہ دل ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے جب میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا کیا ہوسکتا تھا اور کیا ہوگیا بجائے گھسٹتے گھسٹتے اور رینگتے رینگتے آگے بڑھنے کے ہر سرپٹ پستیوں کی طرف ہی سفر کر رہے ہیں. آج اگر کسی معجزے کی وجہ سے ہم خواب غفلت سے جاگ بھی جائیں اور ہر شخص ایماندار اور محنتی بن بھی جائے تو کتنا لمبا اور کٹھن راستہ ہے جو طے کرنا ہے . مایوسی سی مایوسی ہے. اب کیا خاک ترقی کا سفر ہوگا.
کافر تو پھر بھی اخلاقیات میں بہت ساری چیزیں نظر انداز کردیتا ہے مگر یہ کنجر نفسیاتی اور معاشی تشدد کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے. انکے بارے میں اگر علامہ اقبال کے شعر کی تعدیل کی جائے تو اس طرح سے بات کہی جاسکتی ہے.کہ
نا تہذیب میں نصاریٰ ہیں نا تمدن میں ہنود
مسلمان ایسے کہ جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

SarwatAJ کہا...

بہت ٹھیک بات کی ۔ واقعی خلیج میں پاکستانی ہونا ایک کڑوی حقیقت ہے، لیکن شاید وە دانے پانی والی بات ہے کہ رہنے والے رہتے چلے جاتے ہیں ۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ انگریز کی نو آبادیات کیا ہوئے، تمام دنیا ہمیں غلام قوم سمجھنے لگی۔

عبداللہ آدم کہا...

مجھے تو اس دن شدید خوشی کا سامنا تھا جس دن خبر آئی کہ اسلام اباد یا غالبا لاہور ائر پورٹ پر ایک پاکستانی کسٹم آفیسر نے سعودی کرنل کی ٹھکائی کر دی ہے اور ناک توڑ دیا تھا شاید شیخ ساب کا !

وجہ یہ تھی کہ ایک دو سوال پوچھ لیے گئے تھے شیخ ساب سے اور وہ انہیں ناگوار ہوئے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اہو

ان عربیوں کی ایسی وات لگتی رہے تو یہ بھی سیدھے ہو سکتے ہی لیکن کی کریے ہم تو تیل بھی "موفت" لیتے رہے ہیں ان سے اور اب بھی بھیک مانگنے چلے ہی جاتے ہیں سہ ماہی نوماہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہی حرکتیں حسن نثار جیسوں کو کہنے کا موقع دیتی ہیں کہ یہ امت مرغ مسلمہ ہے ، امت واحدۃ دفن ہو چکی ہے اب اس پر رونا بے کار ہے !! ((ویسے اپنڑے پاکستانی وی "گھٹ" تو نہیں ہیں ))

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.