ھائے اوئے “امید“ والے امید وارو!

عرصہ دراز سے سوچتا تھا۔ ہم لوگ جو جاپان آئے ہیں، محنت مزدوری کرکے پیسہ کمانا مقصد تھا، کیونکہ لوٹ مار دھوکہ دہی میں ہماری قابلیت پاکستان میں ہم سے  بڑے فنکاروں کے مقابلے میں نا ہونے کے برابر تھی اس لئے دیار غیر کا رخ کیا اور پیسے کی خاطر "ٹٹیاں" صاف کرنے کے کام کو بھی الکاسب حبیب اللہ کہہ انتہائی محنت سے انجام دیا۔ریسٹورنٹ  کےبرتن دھونا بھی برا کام نہیں تھا۔

فیکٹریوں میں سولہ سولہ گھنٹے کام کرکے مہینے کے آخر میں ملنے والی تنخواہ کا تصور کرکے ہی تھکن دور ہو جاتی تھی۔رات کو تین چار گھنٹے کی نیند ملنا نعمت خداوندی ہوتی تھی۔کئی محنت کش ساتھی غیر قانونی رہائشی ہوتے تھے ،اور امیگریشن کے چھاپے میں پکڑے جاتے تھے۔جاپان  بدرہونے کے بعد کچھ بیچارے وطن میں روزگار تلاش کر لیتے تھے یا کسی دوسرے ملک کا رخ کرتے تھے ،کہ جاپان آنا بہت مشکل اور مہنگا ہو تا تھا۔

جن کا جگاڑ لگتا تھا وہ دوبارہ جاپان آ جاتے تھے ، جن میں جعلی پاسپورٹ وغیرہ بنا کر آنا عام سی بات ہوتی تھی۔پاسپورٹ تو حکومت پاکستان کا اصلی جاری کردہ ہوتا تھا، لیکن رشوت سے دوسرے نام  یا تاریخ پیدائش کی تبدیلی سے تیار ہوتا تھا۔کئی جاننے والے اب بھی  ماں باپ کے دیئے ہوئے پیدائشی نام کے بجائے رشوت کے زور  پر حاصل کردہ نام سے عرصہ دراز سے جاپان میں مقیم ہیں ،اور بچوں کی ولدیت کے خانے میں "زورِ زر" سے حاصل کردہ نام کا ہی اندراج ہے!

معاشرے میں یہ بچے اسی "ذات" اور "ولدیت" سے ہی جانے اور پکارے جاتے ہیں!!میرے خوامخواہ جاپانی ہونے سے آپ کو کیا تکلیف؟!!
پھر جاپان میں مزدور طبقے کی چھانٹی ہونا شروع ہو گئی ۔ بچنے والوں میں میرے جیسے  جاپانی بیگمات کے  "پرشفیق سائے  "میں پناہ لینے والوں کی اکثریت ہوتی گئی!!غیر قانونی قیام کرنے والے بھی قانونی طور پر قیام انگیز ہوتے گئے۔

پھر اللہ میاں کی خاص کرم نوازی ہوئی کہ جاپانی پرانی گاڑیوں کی مانگ ساری دنیا میں بڑھتی گئی۔ جس  سےمیرے جیسا "للو" بھی مستفید ہونا شروع ہو گیا۔ جن میں زیادہ "معقولیت" اور "اصلی پاکستانیت" تھی ، وہ چوری کی گاڑیاں ایکسپورٹ کرکے چند سالوں میں کروڑوں پتی سے اوپر کے ہندسوں کو بھی "پار" کر گئے!! ایک دوسرے یا اپنے سے کم "نچلے" درجے کے کاروباری حضرات کو "ہاتھ" لگانا عام سی بات تھی ۔یہ عادت " نچلے درجے " کے کاروباریوں میں بھی "کم "نہیں ہے۔ جو کہ موقع ملنےپر اب  بھی چلتی رہنے والی "عادت" ہے۔

جس جگہ "نو دولتیوں" میں رپئے پیسے کی ریل پیل عام ہو جائے ،وہاں پر ایک دوسرے  پرسبقت لے جانا، "کاروباری رقابت" ، "کمینگی " "چاپلوسی"  ، "مطلب پرستی" عمومی خصوصیات اپنی پوری قوت سے ابھر کر نمایاں ہو جاتی ہیں۔

اسی کاروباری رقابت میں جن کو معلوم ہوتا تھا کہ ان کا "رقیب" دوسرے نام اور جعلی پاسپورٹ سے آیا ہے، اس کی معلومات بذریعہ فیکس یا فون قانونی اداروں کو دے کر جاپان بدر کروانے کا کام بھی ہوتا رہا۔ ہمارے ایک جاننے والے جو کاروبار میں کافی ترقی کر چکے تھے، بھائیوں وغیرہ کو بھی جاپان بلا کر کاروبار کو کافی وسعت دے چکے تھے ۔انہیں بھی اسی طرح جاپان بدر کروایا گیا، جنہیں میں اپنی گارنٹی پر امیگریشن سے چھڑوا کر لایا تھا اور ان کا کیس عدالت میں داخل کیا گیا تھا۔

بحرحال وہ صاحب کیونکہ جعلی پاسپورٹ سے آئے ہوئے تھے اور جاپان میں کوئی "سفارش " نہ چلنے کی وجہ سے جاپان بدر ہوگئے ۔میں کیوں کہ ان کے غم  میں برابر کا شریک تھا ۔اور انہیں اپنا انتہائی قریبی سمجھتا تھا۔

ان سے ایک کام پڑ گیا کہ کام بھی یہی تھا کہ کاروبار کو وسعت دینے کا سوچا تھا۔ بس وہ دن اور آج کا دن ان "دوست " یا ان کے بھائی کو فون بھی کروں تو انہوں نے فون اٹھانا نہیں اور ان کی طرف سے تو فون آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔وجہ وہی "کاروباری رقابت" ہی ہے۔کہ یہ "ادھر" آگیا تو ہماری آمدنی کم ہو جائے گی!

جب پیسے کا نشہ سر چڑھ کر نچا رہا ہو، قدم ڈگمگا رہے ہوں ، تو "نام " کی خواہش نما ہوس کا کیڑا بڑی بری طرح کاٹتا ہے۔جو کاروبارمیں "بس" کچھ کچھ ہی کامیاب ہوئے  ان میں سے کچھ مذہب کیطرف چلے گئے، اور مساجد کی تعمیر کروائی، ہر ملنے والے پاکستانی کو ضرور بتاتے ہیں ،کہ "میں" نے جاپان میں مسجد تعمیر  کی ہے۔خوامخواہ کا چندہ دینے والے اللہ کے نیک بندے ہی ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو "انتہائی کچھ کچھ" کمیاب ہوئے وہ فلاحی و سماجی تنظیم بنا کر بیٹھ گئے۔

جو کاروبار میں کامیاب ہیں اور مالدار ہیں انہوں نے پاکستان ایسوسی ایشن بنائی ، جو کہ "رقابت" کی وجہ سے "اصلی " اور "حقیقی" میں تقسیم ہوگئی! اور جو تماشہ دیکھنے ملا یا ملتا رہتا ہے۔ اسے دیکھ کر میرے جیسا "للو" سوچتا ہے، ان کے پاس کسی کام کے سلسلے میں پھنس گیا تو میرا ہو جانا ہے کباڑہ اس لئے "دور دور" رہنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس ایسوسی ایشن کی "انجمن " عموماً  "سلطان راہی " کے ساتھ بھاگ جاتی ہے۔

جو زیادہ مالدار ہیں ،انہوں نے پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کی جاپان میں تنظیم بنائی اور ایک عدد عہدہ پاس رکھ کے باقی  عہدےبانٹنا شروع کر دیئے ، میری سمجھ نہیں آتا تھا کہ جاپان میں سیاسی جماعت کی تنظیم کی کیا ضرورت اور جاپانی اردو کے نیٹ پر سیاسی جماعتوں کے بیانات اور تصاویری جلسوں کی کیا ضرورت ؟

لوگ پیسے دے کا اپنی خبر لگوا رہے ہیں ، کوئی مر جائے تو اس کے لئے دعائے مغفرت بذریعہ نیٹ قبول کروائی جا رہی ہے، یہ معمہ اب جا کر حل ہوا کہ سیاست کرنی ہے تو خبروں میں رہنا چاھئے۔پیسے دے کر بھی اور کسی بھی کیمرے پر نظر پڑتے ہی سر پر "قراقلی " ٹوپی پہن کر ذرا سا سر ٹیڑا کر کے "شٹائیل" کو کیمرے کے بٹن دبنے سے پہلے ہر دم تیار یا ر کامران رکھنا چاھئے!

اہل وطن یعنی پاکستان سے باہر قدم نہ رکھ سکنے والوں کو "مبارک باد" پیش کی جاتی ہے، کہ کیونکہ پاکستان میں بسنے والوں میں کوئی "اس قابل" ہے ہی نہیں کہ اسے ہما ری "شریف" سیاسی جماعتیں الیکشن کیلئے ٹکٹ دینے کے "قابل" سمجھیں، اس لئے جاپان سے ان امیدواروں کو "امپورٹ" کرنے کی ضرورت پیش آئی اور جاپان کی "قابل" شخصیات کو الیکشن کیلئے ٹکٹ ہاتھ جوڑ کر دیا  گیا !!

اسی طرح میرے خیال میں دنیا کے دیگر ممالک میں رہائش رکھنے والی  " مالدار شخصیات" کی بھی الیکشن میں حصہ لینے کیلئے "منت سماجت" کی جارہی ہوگی!آپ جیسے قارئین جو پاکستان کے پی ٹی سی ایل کے ذریعہ میرے بلاگ تک علم کی روشنی حاصل کرنے آئے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ "انتہائی نا قابل" شخصیت ہیں، اس لئے آپ کی فلاح و بہبود کیلئے ہم جاپان سے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار ایکسپورٹ کر رہے ہیں، تاکہ آپ بھی کسی قابل ہو سکیں!!

آپ کا ووٹ آنے والی نسلوں کی امانت ہے!ذات برادری  ، مالدار ، گاؤں کے چوہدری کو ووٹ دیتے وقت ایک بار ضرور سوچ لیجئے گا کہ امیدوار صرف " امید "سے ہے یا واقعی آپ کی طرح "ناقابل  " شخصیت جسے آپ  اپناووٹ دے کر آنے والی اپنی ہی نسلوں کا کباڑہ کر نے جا رہے ہیں!!

ملکی تباہ حالی ، امن وامان کا مفقود ہونا ،  بیروزگاری یہ سب آپ کے ووٹ اور رویئے  پر ہے کہ آپ کسے اپنا ووٹ دیتے ہیں اور کیوں دیتے ہیں!!
یا پھر اگلی نسل بھی ایکسپورٹ کرکے باہر کی کمائی کھانے کی "امید" سے ہی ہونا چاھتے ہیں تو عرض کردوں "باہر " کے مالکوں کے حالات بھی دن بدن پتلے ہوتے جارہے ہیں، خاکروب ، ٹٹیاں دھونے والا کام بھی یہ لوگ خود کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
باقی آپ کی  مرضی ٹٹیاں صاف کرکے پاکستان میں محلات بنانے والوں کی نقل اپنی اگلی نسل سے بھی کروانی ہے یا  باوقار اور با عزت زندگی جھونپڑے میں گزار نے کو ترجیع دینی ہے۔
ھائے اوئے “امید“ والے امید وارو! ھائے اوئے “امید“ والے امید وارو! Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:55 PM Rating: 5

2 تبصرے:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائٰی۔ ہماری قوم میں ۔ محنت کو توہن سمجھنا۔ گاؤں کے ایک ادنٰی کاشتکار اور ڈاکخانے کے چپڑاسی تک کا وی آئی پی بننے کے چکر میں پڑنا ۔ بدیانتی ۔ کام چوری۔ نیز ہر قسم کی قانونی ۔ اخلاقی ۔ اسلامی ۔ عیوب کا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز سمجھنا۔ الغرض ہزاروں اقسام کی بیماریاں ہے جن کے گرداب میں ہماری قوم پھنستی جارہی ہے۔
خدشہ ہے کہ اگر اصلاحات کا عمل جلد اور تسلسل سے نہ کیا گیا تو ہمارے اعمال کی وجہ سے ہمارے حالات بنی اسرائیل سے بھی بدتر ہونگے۔ بنی اسرائیلیوں کی طرح وہ کونسی برائی نہیں جو ہماری قوم میں در آئی ہے۔ اگر اصلاحات کے عمل میں دیر ہوگئی تو پھر معاشروں میں شدید قسم کی انارکی اور افراتفری پھیلتی ہے ۔ جس کے بعد نہائت سنگین قسم کے انقلابات گھر کا رستہ دیکھ لیتے ہیں ۔ جس میں ہر شئے زیر و زبر ہوجاتی ہے ۔ اور بے اشخاص (نام نہاد شخصیات) کا تو وجود ہی عدم پتہ ہوجاتا ہے۔
دعا کریں وطن عزیز اصلاحات سے ہی سدھر جائے ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔

جبران رفیق کہا...

بہت درست لکھا ہے، یہ باتیں اور حرکتیں صرف جاپان تک محدود نہیں ہیں ویسے، پورے عالم میں جہاں بھی ہم پاکستانی گئے ہیں تو نام مختلف طریقوں سے روشن ہی کیا ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.