قومی مزاج

گاؤں میں تو کبھی کچرا اتنا جمع ہی نہیں ہوتا۔ہوتا بھی ہے تو قدرتی طور پر صاف ہو ہی جاتا ہے۔صاف نہ بھی ہو تو ساجھے ماجھے گامے گھسیٹے کو اس  سےکوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
شہروں میں کچرا جمع ہوتا ہے ،اور اسے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو گندگی کے ڈھیر بن جاتے ہیں ۔ جو کہ ہمارے شہروں میں خوب نظر آتے ہیں اور ہم ناک پر رکھنے کیلئے رومال نہ ہونے کہ وجہ سے ان ڈھیروں سے سانس روک کر گذر جاتے ہیں۔جب  عادی ہو جاتے ہیں تو سانس چلتا ہی رہتا ہے۔
آپ جس جگہ رہتے ہیں۔

کوئی اگر مگر چونکہ چنانچہ  آپ کے آس پاس پلاٹ  خرید لیتا ہے۔ اور اس پر تعمیراتی کام کئے بغیر خالی چھوڑ دیتا ہے۔ تو آپ چند دنوں میں دیکھتے ہیں کہ اس پلاٹ پر کوڑے  کرکٹ کچرے گندگی کے انبار لگ جاتے ہیں۔کیونکہ آپ تو صفائی پسند ہیں، اس لئے آپ تو اس پلاٹ پر اپنے گھر کی گندگی نہیں پھینکتے "کوئی" پھینک جاتا ہے۔

آپ اپنے اڑوس پڑوس سے بھی تصدیق کر لیں ، آپ کا کوئی پڑوسی اس خالی پلاٹ پر گندگی نہیں پھینکتا ہوگا۔ لیکن اس خالی پلاٹ کی گندگی سے تنگ ضرور ہوگا۔لوگوں کی زبان پر  ایسا کرنے والوں کیلئے انتہائی سخت الفاظ کا اخراج  بھی ہوتا ہو گا۔ سب یک زبان ہو کر کہتے ہوں گے ،کہ عوام جاہل گنوار ہے، لوگوں میں شعور نہیں ہے ،اسی لئے ہمارا ملک ترقی نہیں کرتا۔

حکومت و سرکاری اہل کاروں کو کرپٹ ،حرام خور کہنا بھی نہیں  بھولا جاتا، زیادہ تر سارا الزام سیاست دانوں اور حکمرانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن خالی پلاٹ پر کچرے گندگی کے انبار  کامعمہ کوئی حل کرنے کی کوشش نہیں کرتا!!
وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
میرے خیال میں وجہ وہ ہی معروف و مشہور گانا ہی ہے، یعنی سارا قصور گانے کا ہی ہے!! جس کے "بول" ہمارےعظیم انقلابی لیڈر لنڈن سے ٹیلیفون پر اپنی مترنم آواز  میں عوام کے کانوں میں گھول گھول کر رس ڈالتے ہیں!
پردے میں رہنے دو پردا نہ اٹھاؤ ۔۔۔۔۔پردا اٹھ گیا تو  "بدبو" پھیل جائے گی!

اسلام آباد میں  سوسائیٹی والے رہائشی علاقے میں رہائش ہے، سوسائیٹی والوں نے عوام  کی سہولت کیلئے ہر گھر کے سامنے نہایت فینسی سا  کوڑے کا ڈرم لگا کر دیا۔کئی حضرات نے لگانے نہیں دیا ، جن کے گھر  کےسامنے لگ گیا تھا ، انہوں نے اکھاڑ کر واپس کر دیا۔ ہمارے گھر کے سامنے جو لگا تھا۔ گھر والوں کی  سہولت کا سوچ کر نہیں اکھاڑا!

لیکن اس کا فائدہ سارے محلے والوں کو حاصل ہونا شروع ہو گیا۔ جب دل کیا آکر "گھر کا گند" ہمارے کوڑےدان میں پھینک جاتے ہیں۔ جب کوڑے دان بھر جاتا ہے تو ابل کر ساری گندگی باہر آجاتی ہے۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ دوسرے محلے دار سار ےکے سارے "انتہائی نفیس اور صفائی پسند"  ہیں ، اس لئے اپنے گھرکے سامنے والا کوڑے دان اٹھا کر پھینک دیا کہ گندگی ہوتی ہے۔ اور "گھر کا گند" اٹھا کر ہمارے گھر کے سامنے لا کر پھینک جاتے ہیں!!

ایک بار چھوٹے بھائی نے  گلی میں کھڑے چار بزرگوں سے کہا کہ میں اپنا کوڑے دان بھی اکھاڑ رہا ہوں! بزرگوں نے اپنا  سمجھانے کا فرض انتہائی جان فشانی سے نبایا اور چھوٹے کو کہا کہ بیٹا غصہ نہیں کرتے کوڑے دان کو اکھاڑنے سے سارے محلے کو تکلیف ہو گی نا!!

ہمارے محلے کے تمام حضرات انتہائی پڑھے لکھے  ہیں کوئی ڈاکٹر انجینئر ہے تو کوئی بینک منیجر تو کوئی یونیورسٹی کے لکچرار  اور  اعلی آفیسر وغیرہ وغیرہ ہیں۔ماجھا ساجھا ، گاما گھسیٹا نتھو خیرا بس خوامخواہ جاپانی ہی ہے۔ اس لئے میں نے بھی چھوٹے بھائی سے کہا  کہ جانے دو کوڑے دان لگا رہنے دو۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ گھر کے ساتھ اور پچھواڑے والا خالی پلاٹ بھی اعلی تعلیم یافتہ حضرات کی علمی روشنی سے منور ہے۔

آپ صرف  میری عینک سے اپنے آس پاس دیکھئے، آپ کو  بغل والی شخصیت چاھئے وہ آپ کا  سگا یا  سگی ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کو خود غرضی اور  اپنی ذات تک کے مفاد  کا انتہائی  خیال کرنے والا ، والی نظر آئی گی۔ آپ جیسے ہی میری یہ عینک اتاریں گے تو وہ شخصیت انتہائی پریشان معاشرے کی برائیوں پر تنقید کرنے والی اور معاشرے کی اصلاح کی شدید خواہش رکھنے والی نظر آئے گی۔

یہ تو ہمارے آس پاس کے "عوام" کا مزاج ہے۔ چاھے یہ میرےجیسا ایرا غیرا نتھو خیرا ہو یا اعلی تعلیم یافتہ ہو۔
اب ہم اگر" خواص "کو کو دیکھتے ہیں ،تو کوئی بھی اپنے "گند" کو خود نہیں سنبھالتا سارے کا سارا دوسرے کے گھر سامنے پھینک دیتا ہے۔اور الزام  گندگی بھی دوسرے کے سر لگا دیتا ہے۔ہمارے "خواص " مذہبی ہوں یا سیاسی ،یہ خواص حکمرانی میں ہوتے ہیں تو "گند" جن کے پاس حکمرانی نہیں ہوتی ان کے سر لگا دیتے ہیں۔

جس نے گیارہ سال حکومت کی وہ بھی "گند" اس کے بعد پانچ سال حکومت کرنے والوں  کے سر پر ڈال رہا ہے تو جنہوں نے پانچ سال "کامیاب" حکومت کی وہ بھی "گند" جو حکمرانی نہیں کر سکے ان کے سر ڈال رہا ہے۔

"گند" بڑھتا ہی جا رہا ہے اور کوئی یہ "گند" کہاں سے آرہا ہے۔ اس کی بات نہیں کرتا!!  اپنے اپنے گھر کا "گند" دوسرے کے گھر کے آگے ڈال کر سارے ہی  "گند" اس کے سر ڈال دیتے ہیں۔ جو یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ اسی "گند" میں ہی سہولت ہے۔

جب سارے ہی "گند " کی "بد بو" میں آسانی سے سانس لینا شروع ہو جائیں تو ہم اسے "خود غرضی " "بے حسی" کہیں گے ؟
یا "زندہ قوم" کا "بدبودارمزاج"؟
قومی مزاج قومی مزاج Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:34 PM Rating: 5

7 تبصرے:

مہتاب عزیز کہا...

جس معاشرے میں عزت کا معیار آپ کی گاڑی کا میک اور ماڈل ہو اور آپ کی تکریم آپ کے سوٹ کی قیمت دیکھ کر کی جاتی ہو وہاں ایسے کردار ہی جنم لیتے ہیں

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی۔۔۔ آپ کی تحاریر، دن بدن کوڑی یعنی کڑوی ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔ اور میرے خیال میں یہی وقت کی ضرورت بھی ہے۔۔۔ کہ اب دنیا کو ان کی گندگی اور بو نظر یا محسوس کرنا شروع کر دینا چاہیے۔۔۔ کب تک نظریں چھپاتے اور آنکھیں بند کیے رکھیں گے۔۔۔
اب جا کر مجھے اپنی قوم سے کچھ امیدیں وابستہ ہوئی ہیں کہ شاید ہماری آنکھیں کھل رہی ہیں۔۔۔ ہم اپنے اردگرد بڑھتا ہوا کچرا دیکھنا شروع کر رہے ہیں۔۔۔ اب یہ شروع ہوا ہےتو عنقریب اس کی صفائی بھی شروع ہو جائے گی۔۔۔

کوثر بیگ کہا...

ایک ایک لائن سے سچائی ٹپک رہی ہے بھائی بہت بہہہہہت عمدہ لکھا ۔واہ

DuFFeR - ڈ فــر کہا...

جیلس انسان
کدی کسے دا بھلا نہ ھون دینا
یہ گند قدرتی کھاد ھوتا ھے
پہلے کھیتوں میں ڈالا جاتا تھا تو فصلین اگتی تھیں
آج کل یہ پوسٹیں پیدا کرنے کے کام آتا ھے :D

پی ایس: گندی قوم ، گندے کرتوت۔ نو ون از ایکسیپشن
آپ نے بھی کسی وجہ سے ھی ڈسٹ بن لگی رھنے دی ھو گی
اور لازمی وہ وجہ گند کو ٹھکانے لگانے کی کم اور "ساتھ والے پلاٹ" تک جانے کی تگ و دو سے بچنا زیادہ ھو گی

ali کہا...

بالکل درست فرمایا جناب
سب سے بڑے گندے ہم ہیں اور ہم میں ہر ایک پاکستانی شامل ہے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

درست تصویر کشی کی ہے ۔ بحریہ ٹاؤن ہو یا یا ڈی ایچ اے ۔ اسلام آباد ہو ۔ لاہور ہو یا کراچی ۔ سب جگہ سب سے زیادہ مُلک اور قوم کو جاہل کہنے والے یہی لوگ ہیں جو ہر جگہ ہر قسم کا گند ڈالتے ہیں ۔ مہتاب عزیز صاحب نے آجکل کے معیار کے مےعلق درست لکھا ہے

جواد احمد خان کہا...

میرے محلے کی مسجد کے باہر ایک مکان کے سامنے گٹر ابل گیا. جس سے کافی پریشانی ہوگئی خاص طور پر نمازیوں کو میرے والد نے اس مالک مکان سے کہا کہ آپکے گھر کا گٹر ابل گیا ہے بلدیہ ان کاموں میں ہاتھ نہیں ڈالتی براہ مہربانی کسی جمعدار کو بلوا کر اسے ٹھیک کرالیجئے. اس سے کافی پریشانی ہو رہی ہے جس پر مالک مکان تنک کر بولا میں کیوں بلواؤں یہ سارے محلے کا مسئلہ ہے. والد صاحب نے محلے والوں کو جمع کیا اور اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی اور سب سے کہا کہ پیسہ جمع کرکے اس گٹر کو ٹھیک کرادیتے ہیں جس پر سب ایک دوسرے کو ایسے دیکھنے لگے جیسے کوئی بچہ مشکل سوال کے جواب میں ٹیچر کو دیکھتا ہے. یاد رہے کہ یہ علاقہ شہر کے کھاتے پیتے لوگوں کا محلہ ہے اور پیسے کی کمی یہاں کے لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے . اور پھر یہی ہوا کہ لوگوں نے گندے پانی سے اپنے پاک صاف کپڑے بچانے کے لیے اینٹیں رکھ لیں اور ان اینٹوں پر سے پیر رکھ رکھ کر مسجد جانے لگے.
میں نے ہمیشہ سے یہ محسوس کیا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہم سے ہماری عقلیں چھین لی ہیں. جہاں اجتماعی طور پر مسائل کے حل کی بات آتی ہے ہم لوگ عجیب طرح سے اپنا ردعمل دینے لگ جاتے ہیں.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.