امید کی موت

جب موسمی پرندے رزق کی تلاش میں مجبور ہوکر پرواز کرتے ہیں نا
تو اڑتے ہی جاتے ہیں۔
پھر دیکھتے ہیں ایک انتہائی دلنشین چراہ گاہ
جس میں سکوں بھی اور
اور دانہ پانی بھی وافر ہوتا ہے۔
بس چراہ گاہ میں اترتے ہیں دانا چگتے ہیں، ہنستے ہیں مسکراتے ہیں۔
پھر جب تھک جاتے ہیں نا۔ ...
واپسی کیلئے اپنی بے سکوں افلاس زدہ چراگاہ  .....
جس میں ان کی غیر موجودگی میں
صرف درندہ چنگاڑ رہے ہوتے ہیں .
ا ن کی طرف خوف سے دیکھتے ہیں
لیکن پروں میں پرواز کی ہمت نہیں پاتے۔
دانہ پانی کی فراوانی پر سکون ماحول
درندوں کا خوف نا ہونے سے
ان میں جینے کی خواہش شدت اختیار کر جاتی ہے۔
ان موسمی رزق کے متلاشی پرندوں میں بھی
اسی فیصد اپنے آپ کو درندہ تصور کرتی ہے!!!
اور اپنے جیسے درندہ نما پرندوں کو نوچنے کھسوٹنے سے بھی نہیں ٹلتی!
یہ موسمی پرندے
اپنے پیدائشی آشیانے کی محبت میں ایک عدد اوریجن کارڈ بنا لیتے ہیں ،
لیکن
ان میں سفیری درندوں کے خدمت میں حاضر ہو کر تجدید کروانے کی ہمت نہیں ہوتی!!!
یہ سفیری درندے چیڑ پھاڑ نہ بھی کریں
تو دل و جان پہ کچھ نا کچھ خراشیں ضرور چھوڑ جائیں گے۔
یہ رزق کے متلاشی موسمی پرندے سوچتے ہیں ۔
کہ پیدائشی آشیانے کیطرف رخ کرکے بھی قصائیوں اور درندوں کے ہاتھوں زخمی ہی ہونا ہے ۔
تو ادھر ہی مر جائیں۔
مر گئے تو چیل ، گدھ ، کیڑے ،مکوڑوں، درندوں کی خوراک بنیں ۔
یا بھٹی میں بھون دیئے جائیں۔
کوئی فرق نہیں۔
جن سے جیتے جی ، فیض نہیں ملنا ۔
ان سے جنازے پڑھوا کر بخشوانا کانٹوں سے راستے صاف کروانے کی امید رکھنے کی طرح ہی ہے۔
امید کی موت امید کی موت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:22 AM Rating: 5

6 تبصرے:

کوثر بیگ کہا...

بہت خوب

جوانی پِٹًا کہا...

پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کرتے۔ ورنہ بندہ پتھر کا ھو جاتا ھے۔ اس لیے پتھر نظروں سے صرف آگے ہی دیکھیں۔
جدھر بچے پالنے ھوں، اسی معاشرے کا حصہ بننا چاھیئے۔ ورنہ بندہ نہ ادھر کا رھتا ھے نہ ادھر کا۔

ali کہا...

ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟؟

افتخار راجہ کہا...

یہ کچھ ایسے ہی ہے،
بس پھڑ لو پھڑلو
کسی کو اپنی ہوش نہیں
یہ بھی نہیں علم کیا پھڑ لو
کون کس کے پیچھے لگا ہوا،
اس کے پیچھے کون لگا ہوا،
کسی کو علم نہیں
نہ کسی کے پاس جاننے کا وقت ہے
نہ دلچسپی ہے
بس پھڑ لو پھڑلو ہی مچی ہوئِ ہے

مہتاب عزیز کہا...

کیا بات ہے جناب کی آپ تو اچھی خاصی شاعری کرلیتے ہیں. آپ کی تحریر نے برسوں پہلے پڑھی ایک کتاب کی یاد دلا دی ہے. جس میں ادب لطیف کے عنوان سے کچھ شاہکار تحریروں کو جمع کیا گیا تھا. وہ تام تحریریں پاکستان بننے سے پہلے کی تھیں. پٹھی جلد کی وہ کتاب اچھے وقتوں میں 10 روپے میں ایک فٹ پاتھ سے خریدی تھی. آج تک ویسا کوئی انتخاب دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا. بس آپ کی اس کاوش نے اس کی یاد ضرور دیلا دی ہے.

dohra hai کہا...

"ان میں سفیری درندوں کے خدمت میں حاضر ہو کر تجدید کروانے کی ہمت نہیں ہوتی!!!
یہ سفیری درندے چیڑ پھاڑ نہ بھی کریں
تو دل و جان پہ کچھ نا کچھ خراشیں ضرور چھوڑ جائیں گے۔"
بہت اعلی جناب۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.