جینے کا خوف

"زندگی" جب آنکھ کھولتی ہے،تو دو دن "زندگی" میں نہایت اہم ہوتے ہیں، ایک وہ دن جس دن "پیدائش " ہوتی ہے ، دوسرا وہ دن جب ہمیں "راستہ" مل جاتا ہے۔"پیدائش" سے لیکر "راستہ" ملنے تک کا "وقت" سسٹم ، نظام ، اچھے ماحول کے زیر اثر ہو تو "راستہ" ملنا آسان ہوتا ہے۔"زندگی" کو راستہ نہ ملے تو "زندگی" انتشار کا شکار رہتی ہے۔

ہم انتشار کا شکار زندگی میں خوراک ، زمین ،کپڑا ، مکان ، کی طلب شدت سے محسوس کرتے ہیں۔اور یہی شدت ہمیں کوئی بھی تخلیقی کام نہیں کرنے دیتی۔کسی بھی تخلیقی کام کیلئے ذہنی یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم زندگی میں ان چار اشیاء کی کمی یا قلت کا شکار ہوں تو ہم یہ یک سوئی حاصل نہیں کر سکتے۔اگر ہمارے سر پر کچھ "ذمہ داریاں" بھی ہوں تو ہم ان چار ضروریات کیلئے ہی مصروف رہتے ہیں، "پیدائش" کے دن سے لیکر "راستہ " ملنے تک کا سفر ہمارا ان ضروریات کی بھاگ دوڑ میں ہی گذر جاتا ہے۔

انتشار شدہ معاشرے یا انتشار شدہ زندگی میں پیدا ہونے والے انسان عموماً مفاد پرست عیار لوگوں کے ہاتھوں دھوکہ کھاتے ہیں اور صرف کٹھ  پتلیاں بن کر رہ جاتے ہیں،
انتشار زدہ معاشرے میں لڑائی جھگڑا طعنے بازی الزام تراشی بہتان بازی جھوٹ فراڈ عام ہو تا ہے تو تخریب کاری قتل و غارت توڑ پھوڑ کوئی اہم واقعہ نہیں ہوتا، انتشار زدہ معاشرے میں بسنے والے اس طرح کے واقعات کو سرسری سا لیتے ہیں اور دوبارہ روٹی کپڑا مکان کی جستجو میں جائز و ناجائز طریقے سے مگن ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے پر شک اپنے مصائب کا الزام دوسروں کے سر تھونپنے کا مزاج ہر بندے میں شدت سے شامل ہو جاتا ہے۔

سیکولر معاشرہ جسے ہم کہتے ہیں، اس میں ہر طرح کی آزادی ہو تی ہے۔اور عصر حاضر میں جسے سیکولر ازم کا کامیاب معاشرہ سمجھا جاتا ہے ،اس کیلئے کامیاب سرمایہ درانہ نظام شرط لازم ہوتا ہے۔انڈیا جیسے ممالک بھی سیکولر ہونےکا دعوی کرتے ہیں ،لیکن ایسے ممالک مذہب سے آزاد نہیں ہوتے۔ اسی طرح امریکہ برطانیہ وغیرہ بھی کسی نا کسی شکل میں اپنے اپنے مذہبی عقیدے پر ہی چلتے ہیں۔جاپان جیسا ملک بھی عوام کی مذہب میں دلچسپی نا ہونے کے باوجود مذہبی روایات اور تہواروں کے زیر اثر ہی ہے۔

انسان کی نفسیات  ہے کہ کسی نا کسی صورت میں مذہب یا غیر مرئی "طاقتوں" سے  شعوری یا لا شعوری طور پر چمٹ جاتا ہے۔اور "چمٹ" سے ہی چمٹے رہنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ ہر انسان کو علم ہوتا ہے کہ اس نے مرنا ہے۔یہی موت کا احساس اسے کسی نا کسی مذہبی عقیدے سے چمٹنے پر مجبور کرتا ہے۔جو کسی مذہب سے جڑنا پسند نہیں کرتے وہ بھی انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔

عموماً کسی وجہ سے مایوسی کا شکار ہونے والے خود کشی کر لیتے ہیں۔ماہرین نفسیات کا کہنا  ہے کہ موت کے خوف سے ہی یہ لوگ خود کشی کرتے ہیں۔
انتشار زدہ معاشرے سماج کا اجتماعی ضمیر اس وقت مردہ ہو جاتا ہے جب ملزم کو سزائے موت   قانون سے آزاد ہو کر ہجوم اپنے ہاتھوں صرف ذہنی تسکین کیلئے دیتا ہے۔دین کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو ہمیں اس کا مطلب "نظام" یا "سسٹم" ہی ملتا ہے۔دین اسلام ہمارے لئے ضابطہ حیات ہے۔یعنی ہماری معاشرت، طرز حکومت کا سسٹم ہے۔ہم اپنے معاملات دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق طے کرتے ہیں۔

پھر بھی کیا وجہ ہے کہ ہم انتشار کا شکار ہیں!
یہ سچ ہے "کامیاب" سیکولر معاشرے میں اس ملک کی "اپنی عوام" نہایت پر سکون زندگی گذارتی ہے۔جن بنیادی حقوق کا ہمیں احساس بھی نہیں یا معلوم ہی نہیں کہ یہ بھی ہمارا حق ہے۔وہ اس سیکولر معاشرے میں عوام کو میسر ہوتے ہیں۔عوام عدم تحفظ کا شکار نہیں ہوتے ،معاشرہ انتشار کا شکار نہیں ہوتا۔اس کی وجہ صرف اور صرف ایک فحال نظام کا ہونا ہے۔
سمجھا جائے کہ سیکولر نظام ہی سب مسائل کا حل ہے تو یہ انتہائی بیوقوفی کی بات ہو گی۔کامیاب سیکولر معاشرے میں بھی ہم سسکتی انسانیت کا مشاہدہ روز کرتے ہیں۔

جس نظام میں وحدہ لا شریک کا تصور نہ ہو پر امن ہونے کے باوجود ایسے معاشرے کے لوگ غیر فطری طریقے سے ذہنی سکون حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔میرا تجربہ مشاہدہ یہی ہے کہ کامیاب سیکولر معاشرے میں بھی ہر دوسرا بندہ ذہنی سکون سے عاری ہے،مدہوش ہونے کے مشروبات عام فروخت ہوتے ہیں تو  ڈیپریشن کی ادویات   عام میڈیکل سٹور سے آسانی سے خریدی جا سکنا ہی  اس بد سکونی کا ثبوت ہے۔

ہم ترقی یافتہ سیکولر معاشرے کی برائیوں کو بھی کچھ کچھ سمجھنے کا دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں،اس کفر کے معاشرے سے رزق حلال حاصل کرکے اپنے پیدائشی مسلمان ماں باپ بہن بھائیوں کو "پال" رہے ہیں  اپنی جنم بھومی کے معاشرے کی برائیوں کو بھی سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے "لادین" معاشرے سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری "زندگی" جب آنکھ کھولتی ہے۔ "راستہ" ملنے تک ہم روٹی، کپڑا ،مکان، کے چکر میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔

اس "زندگی " کی ذمہ داریاں کچھ سانس لینے کا موقع دیتی ہیں تو ہمیں "موت" کا خوف "آخرت" کا خوف "اللہ کا ڈر" پیدائشی مسلمان ہونے کی وجہ سے "اسلام" کیطرف ذہنی و قلبی سکون حاصل کرنے کیلئے راغب کرتا ہے۔ہم اگر سیکولر معاشرے اور دیار کفار میں رہتے ہیں تو ہمیں پانچ وقت کی اذان کانوں میں سنائی نہیں دیتی یہاں پر تو یہ حال ہے کہ یاد نہیں آتا کہ آخری بار گاڑی کا ہارن کب بجایا تھا اور کب سنا تھا،مساجد گھر کے بغل میں نہ ہونے کی وجہ سے اذان کی آواز تو مسجد میں حاضری دینے کی صورت میں ہی سنائی دیتی ہے۔

مساجد میں ہمیں علما کرام سے واسطہ کم ہی پڑتا ہے۔ اسناد والے عالم صاحب جز وقتی طور پر آتے ضرور ہیں، شاذو نادر ہی کوئی "قابل عالم" ہمیں میسر ہوتے ہیں ، وہ بھی چند ماہ میں امیگریشن یا مسجد انتظامیہ کے مسائل کا شکار ہو کر "واپس "چلے جاتے ہیں۔ویسے بھی یہاں کی مساجد  اپنے اپنے اسلام والوں کے زیر قبضہ ہیں!

ہمارے پاس ایک ہی راہ بچتا ہے، کہ کتب سے اپنے "پیدائشی دین" کو سمجھیں اور "رستہ" تلاش کریں۔کتب میں ہمیں "دین" ملتا ہے تو ہم حیرت سے سوچتے ہیں ،یا اللہ تو نے کتنا اعلی "دین" ہمیں عطا فرمایا!! تیرا شکر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہمیں "رستہ" مل گیا۔ہم سیکولر معاشرے سے کراہت محسوس کرتے ہیں۔ اور دل میں شدید خواہش پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے جو غیر مسلم جہنمی کفار دوست ہیں، انہیں یہ بتائیں اور آخرت میں بھی اپنے پیارے دوستوں کو اپنے ساتھ ہی پائیں!

آپ کو یہ بات شاید بری لگے لیکن سچ یہ ہے کہ ہمیں اپنے غیر مسلم کفار دوست بہت عزیز ہیں۔ ہمیں ان سے محبت ہے اور وہ بھی ہم سے بہت محبت کرتے ہیں۔
ہم اس وقت شدید ذہنی شاک کا شکار ہوتے ہیں جب کوئی "رستہ" سمجھانے والا منبر پر بیٹھ کر "غیر کتابی" غیر قرآنی و غیر احادیثی "دین " ہمیں سمجھاتا ہے ،جس میں ہمیں نہ ہی اسوہ حسنہ نظر آتی ہے اور نہ ہی صحابہ کرام کی سنت نظر آتی ہے۔

اگر ہم اپنے "راستے" کی جستجو میں سوالات کرتے ہیں تو جواب نا دے سکنے کی صورت میں ہمیں جواب ملتا ہے۔ ہم چونکہ فلاں مسلک کے ہیں اس لئے ہم بہتر ہیں۔ ہم اگر کہتے ہیں کہ جناب ہم  پیدائشی مسلمان تو ضرور ہیں لیکن نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، اس لئے سوالات کرتے ہیں ، تو ہمیں جواب ملتا ہے، قرآن و حدیث اور دیگر دینی کتب مت پڑھیں کہ یہ ہر عام شخص کے سمجھنے کیلئے نہیں ہیں۔!!

ہمارا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہمیں سمجھ آتی ہے کہ یہ ہمارا "رستہ" ہے، یہ "رستہ" دکھانے والے نظام پر چلتے رہیں گے تو ہم ایک کامیاب زندگی گذار سکتے ہیں آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے وہاں پر بھی بہتری کی زندگی گذار سکتے ہیں، لیکن پیشوائیت ہماری راہوں میں کانٹے بچھاتی ہے، اور ہمارے پاؤں لہو لہان ہو جاتے ہیں۔

کوئی شیعہ اگر دوسرا مسلک اختیار کر لے تو وہ مومنین کی جماعت سے خارج ہوگا اور لعنتی ہو جائے گا، اہلحدیث مسلک بدلے گا تو بدعتی مشرک جہنمی ہو جائے گا، بریلوی بدلے گا تو گستاخ ،جس کا پیرو مرشد اس کا کا کیا دین ایمان۔ دیوبندی بدلے گا تو گمراہ کام سے گیا۔ ہو جائے گا۔سارے اپنے اپنے حصار میں مقید ہیں ، اور اپنے حصار سے باہر والے ان کیلئے قابل تحقیر و تحضیک اور قابل نفرت بھی ہیں۔

سیکولر ازم ، مادر پدر آزاد فحش ، بے حیا نظام ۔ ہمارے ضابطہ حیات ، دین فطرت ، دین، نظام کو کسی میدان میں بھی شکست دے نہیں پا رہا اور ناہی ہی دے سکے گا!!!
لیکن ہم نے  ، ہماری پیشوائیت نے ، ہمارے ہی نظام ، دین ،دین اسلام کو معاشرے میں اپنی اپنی پسند کے مطابق ،اپنی اپنی خواہش کی مطابق نافذ کر دیا ہے ،  ہمارا  معاشرہ شدید انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ ہمارے اس معاشرے  میں  کوئی بھی نظام  چلنے کے قابل نہیں، اسلام جیسا نظام اگر ہمارے ہاتھوں فیل ہو چکا ہے۔ تو سیکولر نظام جیسا نظام جس میں ہزاروں خامیاں ہیں۔ اس کو ہم کیسے چلنے دے سکتے ہیں؟ میرا تو یہی خیال ہے کہ پاکستان میں سیکولر نظام اپنی بہترین صورت میں نافذ ہے!!

ہمارے انتشارشدہ بلکہ ختم شدہ قسم کے معاشرے کے عباس ٹاؤن اور بادامی چوک سے بادام اور چھوہارے بٹنے کیلئے نہیں نکلتے اسی طرح چیخ و پکار اور دھواں ہی نکلتا ہے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں، آج نہیں تو کل اس سے بھی غلیظ قسم کی چیخ و پکار دھواں بھی ضرور نکلے گا اور مجھے کوئی حیرت نہیں ہوگی۔
ہم کفر کے سیکولر نظام میں موت سے ڈرتے ہوئے "رستہ " تلاش کرتے ہیں ۔ اور اپنے "لادین" معاشرے میں جینے کے خوف سے" موت"  تلاش کرتے ہیں۔
جینے کا خوف جینے کا خوف Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:33 PM Rating: 5

5 تبصرے:

مہتاب عزیز کہا...

ہم میں سے ہر شخص انتشار کا شکار ہے۔ ہم اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض کی عدم ادائیگی کا رونا روتے ہیں لیکن کبھی بھی اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کا ذکر تک کرنا پسند نہیں کرتے۔ جب ہم اپنی ذمہ داریوںنبہانے کا عہد کر لیں گے تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

جواد احمد خان کہا...

منعمین کے کچھ مسائل ہیں اسی طرح محرومین کے بھی مسائل ہیں اور یہ مسائل انکے اجتماعی رویے میں عام نظر آتے ہیں اور معاشرے کی ہئیت کا تعین کرتے ہیں۔ انکے مقابلے میں دین اسلام استغناء کی تعلیم دیتا ہے۔ بدقسمتی سے مسلم معاشرے استغناء کی بجائے محرومی سے اپنے رویوں کا تعین کرنے لگے ہیں اور اسکی ایک بڑی وجہ ہے کہ انسانوں کی ایک عظیم اکثریت دولت اور فراغت سے محرومی کو پسند نہیں کرتی اور دولت کو پانے کی حتیٰ الوسع جدوجہد کرتی ہے۔ اور جب یہ جدو جہد لاحاصل نظر آنے لگے تو اسکا ازالہ دوسرے انسانوں سے ممتاز نظر آنے کی مسلک اور فرقہ پرستی اور دوسرے اسی قسم کے نظریات کا سہارا لے کر اپنی محرومی کا ازالہ کرنے کی کوششوں میں لگ جاتی ہے۔ یہاں اعلیٰ تعلیم کی کمی اور دین سے ناواقفیت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
مسلم معاشروں میں آپ دیکھ لیجیئے آپکو محرومین ہی مسلک پرستی اور فرقہ بازی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ امیر کے مسائل ہی اور ہوتے ہیں۔وہ ان چیزوں میں شاذ و نادر ملوث ہوتے ہیں۔
اسکا حل صرف اور صرف یہی ہے کہ تعلیم کو بہت زیادہ عام کیا جائے اور دین کا دولت اور فراغت سے الحاق کردیا جائے جیسا کہ سعودیہ عرب اور ایران وغیرہ میں ہے۔ مدارس دینیہ کی کثرت پر قابو پایا جائے اور تمام مدارس حکومتی سرپرستی میں ہوں۔ علمائے دین کے وظائف مقرر کیے جائیں اور دینی مدارس کی سند رکھنے والوں کے سامنے اچھا مستقبل ہو۔ اس کے لیے کثرت پر قابو پانا ضروری ہے صرف منتخب اور چیدہ افراد کو دینی مدارس کی سند دی جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس دینیہ الگ نا ہوں بلکہ جامعات اور کلیات کا حصہ ہوں۔علمائے دین پر سیاست میں حصہ لینے پر مکمل پابندی ہو اور انکا کردار معاشرے میں کردار سازی کے حوالے سے متعین ہو۔ مگر یہ کام لبرلز اور چپل چور قسم کے سیاست داں نہیں کرسکتے اسکے لیے دین کا درد رکھنے والے صالح اور متقی افراد کو ہی آگے آنا ہوگا۔

کوثر بیگ کہا...

اب ہمارے ایمان کی روشنی اتنی تیز کیوں نہیں رہی جو دوسروں کی رہنمائی کرسکے ۔ہم میں اب وہ ایمانی قوت کہاں گئی جس کے خوف سےدشمن کے دل کانپ جاتے تھے ۔ہم اتنے بد دیانت اور بد اخلاق کیوں ہوگئے ہیں جس کی وجہہ سے بدنام اور کمزور ہوگئے ہیں ۔ ہم اپنی جڑ خود کیوں کھود رہے ہیں ۔ ہم میں اتحاد کی کمی کیوں ہے ۔اور بھی ایسے سوال دماغ میں آتے رہتے ہیں یہ خوف کیا اب ہمارا مقداربن گیا ہے اور کیا مقدر کبھی بھی بدلے گا یا نہیں ۔۔یہ ہی سوال ہر مسلمان کی زبان ، دل ، دماغ میں گردش کردتے رہتے ہیں

سعد کہا...

میں ڈاکٹر صاحب سے متفق ہوں۔

ali کہا...

اوپر سے نیچے تک ہم ایک ہی رنگ میں رنگے ہیں اور کوئی کتنا ہی مومن اور پاکباز نہ ہو وہ بھی اس معاشرے میں دس پندرہ دن بعد ویسا ہی ہوجاتا ہے۔
اللہ رحم کرے ہم پر کہ تعلیم کا معیار مقرر کرنے والے بھی تو ہم ہی ہیں۔ صالح اور متقی فقط پانچ وقت مسجدوں میں نماز پڑھنے والے ہیں معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے وہ بھی اسی معاشرے کے فروغ میں اپنا حصہ بخوبی ادا کر رہے ہیں۔
بندہ کس کس بات کو پیٹے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.