خدائی خوار کی مستی

ہمارے گاؤں کے ایک خدائی خوار کا کا تذکرہ  ہے۔ کہ خدائی خوار غلطی سے پہاڑوں کے قدرتی ہیبت ناک حسن کا گرویدہ ہوکر کچھ لمبے عرصے کیلئے گاؤں میں اقامت انگیز ہو گیا، لمبے عرصے کی اقامت انگیزی کی قیامت خیزی کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ھذا من فضل ربی کے منرل واٹر سے تو لطف اندوز ہوا، لیکن پوپائے دا سیلر بننے کیلئے صبح دوپہر شام کو ملنے والی خوراک سے حیرت انگیز ہو گیا۔

پہلے دن اُسے پالک کھلائی گئی ، دوسرے دن اُسے میتھی کھلائی گئی ، تیسرے دن اُسے ساگ کھلایا گیا، چوتھے دن اُس سے پوچھا گیا،خدائی خوار صاحب بتائیں آج کیا کھانے کا موڈ ہے؟

خدائی خوار نے سوچا اگر ان سے کہا کہ  مجھے کھیت دِکھا دو میں خود چَرآؤنگا
توانہوں نے واقعی ہی کھیت میں چھوڑ دینا ہے خدائی خوار لمبے عرصے کے قیام کی وجہ سے جان چکا تھا کہ پہاڑی کی اس طرف ہریالی بھی اس وجہ سے ہوتی ہے ،کہ دن کو  یہاں کا مردانہ فیشن جو بڑی بڑی چادریں کندھوں پر لٹکانے کا ہوتا ہے۔ صبح اندھیرے اور رات کو یہ ٹینٹ کی صورت میں سب پھیلا کر سبزیوں کو کھاد دیتے ہیں ۔اس لئے کھیت میں چرنے کے مذاق  سے خدائی خوار نے پرہیز ہی کیا۔

خدائی خوار نے سنا ہوا تھا، کہ ان لوگوں کو بڑی عید پر گوشت کھانے کو ملتا ہے یا پھر کسی کا ڈنگر پہاڑ سے لڑھک جائے تو سب کی عید ہو جاتی ہے،
خدائی خوار نے ایک بیل کو پہاڑی سے لڑھکا دیا!!

لیکن خدائی خوار اس وقت سکتے میں آگیا جب اس نے دیکھا کہ ہر گھر سے بڑا بچہ بوڑھا عورت مرد سب چھریاں چاقو گنڈاسے اٹھائے کھائی کی طرف نعرہ تکبیر بلند کرتے دوڑنا شروع ہو گئے۔
حسب توفیق سب نے چھری چلا کر ڈنگر کو ذبحہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔کسی نے دبی دبی آواز میں کہا کہ تصدیق بھی  کی کہ نہیں کہیں ذبحہ ہونے سے پہلے ڈنگر مرنہ گیا ہو۔
ایک گونجدار آواز نے اس آواز کو خاموش کردیا۔
چپ کر اوئے گھر سے دُڑکی لگاتے ہوئے میں نے تکبیر پڑھ لی تھی اور ابھی تو ماس تازہ تازہ ہی ہے۔ بس میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ پچھلی پوسٹ کچھ نیک نیتی سے "ماس" کھانے کی خواہش پر لکھ دی تھی۔
مجھے کیا معلوم تھاکہ سارا "گراں" چھریاں تے گنڈاسے اٹھا کر آجائے گا
خدائی خوار کی مستی خدائی خوار کی مستی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:47 PM Rating: 5

5 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

ہاتھی رکھے تو گھر کا دروازہ اونچا رکھنا ہی ہوگا نا۔۔۔

ali کہا...

نہ انہوں نے باز آنا ہے نہ ہم نے پڑھنے سے باز آنا ہے تے فیر لکھی آؤ جی

عبداللہ آدم کہا...

بڑے دنوں بعد دنگل لگا جی آپ کو تو خوشی ہونی چاہیے۔

دھنیا بھی سبز ہوتا ہے ، اب خدائی خوار کو اس کا مشورہ دیا جاتا ہے :ڈڈڈ

مہتاب عزیز کہا...

کیا بات ہے آپ کی ۔۔۔۔۔ حیران ہی کر دیتے ہیں

ابو عبد اللہ کہا...

بہت خوب بھائی صاب ، گھر سے تکبیر والا نسخہ دل کو لگا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.