حرام کا اثر

ہم غیر اسلامی ملک میں رہتے ہیں اسلامی  یا نام نہاد اسلامی جمہوری ملک میں نہیں رہتے ،اس لئے کوئی شے بھی منہ میں ڈالنے سے پہلے تصدیق کر لیتے ہیں،کہ اس کے اجزاء کیا ہیں۔لیکن مجھے شک نہیں یقین ہے،خوراک کے معاملے میں ہم لوگ ہزار احتیاط کے باوجود تقوی کی انتہاء اختیار کرنے کے باوجود کسی نا کسی جگہ مات کھا ہی جاتے ہوں گے۔

مجھے بھی جاپانی تھوڑی بہت پڑھنی لکھنی آتی ہے۔اور میری بیوی بھی مسلمان ہے۔جس نے "مجھے" بھی مسلمان کیا ہوا ہے۔اس لئے ہم لوگ خوراک خریدنے سے پہلے اس کے اجزاء کی تصدیق کر لیتے ہیں ،خوراک بیچنے والی کمپنیوں کو خوراک کے اجزاء تفصیل کے ساتھ لکھنے اور بتانے کی  قانونی ذمہ داری سے پابند کیا گیا ہے، نا بتانے کی صورت میں کمپنی کو کوئی بھی عام بندہ کلیم کر سکتا ہے۔

کمپنی کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں کمپنی اپنے کام سے فارغ ہو جائے گی اور بھاری جرمانہ اور ذمہ داران کو سزا بھی ہو جاتی ہے۔ہمیں یہاں پر حلال فوڈ ملتا ہے۔جو ہماری روزمرہ کی خوراک ہے۔حفظان صحت کے مطابق یہ حلال مرغی  یا دیگرگوشت کسی طرح بھی اچھی حالت میں نہیں ہوتا۔کیوں کہ یہ حلال گوشت عموماً پاکستانی اور بنگالی مسلمان فروخت کر رہے ہوتے ہیں،فریز کیا گیا گوشت اگر پگھل جائے تو یہ حضرات اسے دوبارہ فریز کر دیتے ہیں،اس میں انکی کوئی بری نیت نہیں ہوتی۔لیکن ایسی خوراک صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے۔ایکسپائیر ڈیٹ کا تصور کوئی نہیں ہے ،سب چلتا ہے۔

اس کے نقصانات حلال فوڈ بیچنے والے حضرات کو سمجھانا انتہائی مشکل کام ہے،اور ہماری مجبوری کہ حرام خوری کے بجائے "جان" سے ہی جانا قابل قبول ہے۔
دالیں وغیرہ ہمیں پاکستان کی نسبت اعلی کوالٹی کی اور سستی ملتی ہیں۔پاکستان میں انتہائی گھٹیا دال جس قیمت میں فروخت ہورہی ہے۔

اس سے دگنی یا تگنی قیمت پر ہمیں "پاکستانی دال" اعلی کوالٹی کی مل جاتی ہے۔یہاں پر دال چھ سو روپے کلو پاکستانی میں مل جاتی ہے۔اور یہ اس ملک کی معشیت کے حساب سے انتہائی سستی ہے۔یہ سمجھ لیں کہ اگر پاکستان میں آپ کو دال چھ روپے کلو ملے تو آپ "دال دال"  کھا کر مر جائیں!
پاکستان میں بچے بڑے انتہائی شوق سے امپورٹڈ چاکلیٹ ، ٹافیاں ، چپس وغیرہ کھاتےہیں۔

ٹوتھ پیسٹ بھی "امپورٹڈ" منگوائی جاتی ہیں، ہماری "حسین خواتین" کے میک اپ کا سامان اعلی کوالٹی کا عموماً امپورٹڈ ہوتا ہے۔کسی نے ان کے اجزاء پر تحقیق کی؟اگر تحقیق ہوئی  بھی تو "مولویوں" کی بکواس سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا اور امپورٹڈ اشیاء اسی طرح استعمال کی جا رہی ہیں۔
نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں "مولوی" کی ریپوٹیشن ہے۔جس سے علماء کرام کے واعظ کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

کتنے عوام کو علم ہو گا کہ دنیا کے ترقی یافتہ اور امیر ممالک سے استعمال شدہ "کھانے" کا تیل پاکستان امپورٹ کیا جارہا ہے۔کسی بھی شے کو امپورٹ کرنے کیلئے "خانہ پُری" کی جاتی ہے۔ یہ استعمال شدہ تیل گریس بنانے کی "خانہ پُری" میں امپورٹ کیا جاتا ہے۔پاکستان میں انڈسٹری کتنا کام کرکے کمارہی ہے؟
کہ لاکھوں ٹن میں استعمال شدہ تیل سے گریس بنانے کی ضرورت ہے؟ یہ تیل دوبارہ کوکنگ آئیل میکر پاکستانی کمپنیوں میں جاتا ہے اور بعد میں "محمدی امت" کے پیٹ کا ایندھن بن رہا ہے۔ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو اس میں حرج ہی کیا ہے؟
تیل تو تیل ہے! کھانے میں ڈال لیں یا "مولا بخش" پہ لگا کر دھنائی کیلئے تیار کر لیں۔

دعوی مسلمانی ہے تو اجزاء پر تحقیق کر لیں،کہ مسلمان کو منہ میں نوالہ ڈالنے سے پہلے دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کھا رہا ہے۔"شکل سے حلال" دکھائی دینا ہی حلال ہونے کیلئے کافی نہیں ہوتا۔
آپ کسی مذبحہ خانے میں چلے جائیں،آپ کو معلوم ہو گا کہ گوشت۔چمڑی،دمڑی، اوجڑی ، چربی، ھڈی ، انتڑی، خون، ہر شے کا علیحدہ علیحدہ ٹھیکیدار ہوگا۔باقی اشیاء کی تو سمجھ آتی ہے

لیکن "خون" کا ٹھیکدار کیوں؟ یہ خون آپ کی مرغی کے فیڈ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات مرغی کے "حلال" ہونے کیلئے مرغی کا نکاح نامہ نا ملنے کی صورت میں مرغی کو حرام ہوتا بھی دیکھتے ہی ہوں گے۔
جمے ہوئے خون کی حرمت کا ہمیں معلوم ہے۔لیکن مرغی کیونکہ تکبیر کہہ کر ذبح کی جاتی ہے اس لئے حلال ہوتی ہے۔مرغی کی خوراک اور بعد میں اسے کھانے والوں پر اس کے اثرات کا ہم اندازہ کر سکتے ہیں، لیکن حتمی بات نہیں کہہ سکتے!!

آپ کو یہودیوں کا واقعہ تو معلوم ہی ہوگا؟ یہودیوں میں ہفتے والے دن کام کاج کی شریعی پابندی ہے۔یہودیوں نے "وچکارلا" رستہ نکالاتھا۔کہ جمعے کے دن جال لگا دیا۔ہفتے والے دن موج میلا کیلئے چھٹی کی۔اور اتوار والے دن جال میں پھنسی مچھلیاں نکال لیں۔بس یہودیوں نے بھی ہفتے والے دن کی "حرمت" کو "مجروح" نہیں ہونے دیا تھا۔ مرغی کی فیڈ کی تیاری کیلئے اس کے علاوہ بھی مردار جانوروں کا گوشت ھڈیاں استعمال کی جاتی ہیں۔آپ کسی بھی فیڈ میکر کمپنی کا دورہ کرنے کی تکلیف کرکے تصدیق کر سکتے ہیں۔بحرحال "حلال" کی حرمت مجروح نہیں ہوتی ہو گی۔کھا لے پی لے موج اڑا!!!

اگر ہم پاکستانی معاشرے میں رہتے ہیں۔اور ہم سب "اچھا" کے خبط کا شکار نہیں ہیں،اپنی "مسلمانی" کے اعلی بھوت کو ہم نے نہیں پالا ہوا ۔ہم اللہ میاں کو اچھی طرح دل سے جانتے ہیں ۔
تو ہم گلی کوچے میں "رزق حلال" کو کمانے کیلئے "مجبوراً" جھوٹ بولنے والے مجبور لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں۔"سودی کاروبار" کی مجبوری ہم کو ضرور نظر آتی ہوگی۔ہم بھی مجبوراً گاڑی بینک لون پر لے چکے ہیں۔ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والوں کو ہم بھی خوب جانتے ہیں،۔چوری ڈکیتی کے ڈر سے ہم اپنی رقم بینک میں رکھنے کیلئے "مجبور" ہیں۔
ہر ممنوع کام کو جائز کرنے کیلئے ہمارے پاس "بہانہ" موجود ہے۔کہ مجبوری میں جان بچانے کیلئے تو "خنزیر" بھی کھایا جا سکتا ہے!!!

خوراک میں حرام ملاوٹ، ادویات میں حرام ملاوٹ، ہمارے تمام معاملات میں حرام ملاوٹ ہے،تو اس کا اثر ہمارے جسم و جان پر پڑ رہا ہے،اس کا رنگ ہماری  معاشرت میں دکھائی دے رہا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کی افراتفری، نفسا نفسی ، آپا دھاپی،ہمارے دلوں کا سکون اڑا چکی ہے، ہمارے گھروں سے برکت کو غائب کر چکی ہے،ہم خود تو "بے حال" ہیں ہی۔ ہر منہ دکھانے والے کو "بے حال" کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔۔ہم نہیں خوش تو ،تو کیوں خوش ہے!۔یہ سب حرام کا اثر نہیں تو کیا ہو سکتا ہے؟

حالات کی خرابی کا الزام ہم اپنے مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو دینے سے پہلے ایک لمحہ کیلئے خود احتسابی کریں ،تو ہمیں سمجھ آ جاتی ہے کہ یہ سب خواری ہمارے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہے۔!!۔
ہمارے ذہن میں عموماً سوال پیدا ہوتا ہے ،کہ یورپ و امریکہ یا مغرب زدہ ممالک تو ہر طرح کا حرام کرنے کے باوجود کیوں "با برکت" رزق کھا رہے ہیں؟
اس کا جواب تو انتہائی آسان ہے۔۔حیلے بہانے(جانتے بوجھتے) کرنے والے منافق سے تو کافر(منکر) تو بہتر ہی ہوتا ہے!
حرام کا اثر حرام کا اثر Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 7:30 PM Rating: 5

17 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

کریں تو کیا کریں پھر؟ مرغی بھی نہ کھائیں؟ دال بھی نہ کھائیں؟ کیا کھائیں؟ گندم بھی حرام طریقوں سے فیکٹریوں میں پسائی جاتی ہے.

آخر حل کیا ہے ہم جیسے بے وقعت صارفین کے لئے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

منیر بھائی
یقین مانئے ایسا لکھنے میں میرا کوئی قصور نہیں!
راجہ جی اور ڈفر نے لکھوایا ہےٓڈ

افتخار راجہ کہا...

حرام حلال کا تصور بھی عجیب سا ہے، اور غالباُ ہم نے اسکو بہت حد تک غلط بھی لیا ہوا ہے، وہ تمام اشیاء جو مضرصحت ہیں انکو حرام قرار دیا گیا، انسان جی کو کچھ کا پہلے سے علم تھا اور کچھ کا بعد میں ہوا۔ پھر جدھر فائدہ دیکھا اسکو حلالانکال کر حلال کرلیا۔ نہیں تو حرام ہے جی کا نعرہ ماردیا۔

اگر اس مرغی کی پرورش غلاظت پر ہوئی ہے تو پھر اس کاحلالہ نکالنے سے پہلے ماہرین سے رجوع کرنا ہوگا، کہ بالآخر انسانی صحت و پرورش پر اسکا گہرا اثر ہوتا ہے۔ آپ نے ایک سخت موضوع کو چھیڑا ہے، اور ایسے چھیڑا ہے کہ مجھے اندازہ نہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ آپ سیاسی بدبوداروں پر لکھو گے، کیا علم تھا کہ آجکل پھر آپ کو مسلمانی کا دورہ پڑا ہوا۔

شاہو کہا...

تو پھر یہ سارا کچھ پوسٹنے کی بجائے ڈفر اور راجہ جی کو میل کر دیا ہوتا ہمارا جی جلانا ضروری تھا کیا؟
مجبوریوں کی کوئی اخیر نہیں۔
ٹھیکدار غلط ہے ٹھیکےدار یا پھر ٹھیکیدار لکھنا درست ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اس میں تو شک نہیں موضوع نہایت “مشکل“ ہے۔
مرغی کی فیڈ میں “جانوروں“ کا خون اور ھڈیاں شامل ہوں تا جاپان میں مرغیوں کو کھلانے پر پابندی لگ چکی ہے۔۔اسی طرح کھانے کےگوشت کیلئے پالنے والے جانوروں کی فیڈ کا بھی یہی حال ہے۔سوائے خنزیر کے۔۔یہ یہاں کے ماہرین نے کیا ہے،،اور میری معلومات اگر ناقص نا ہوں تو اٹلی کا بھی یہی حال ہے۔
مقصد حرام حلال کی وضاحت کرنا یا فتوی دینا نہیں ہے،
میرا مقصد صرف او ر صرف احساس دلانا ہی ہے کہ کو ئی نظام کوئی ایسا ادارہ کام کر رہا ہو، جو پاکستان کے “انسانوں“ کی خوراک پر نظر رکھے اور ان کی صحت پر برا اثر رکھنے والی خوراک کی دیکھ بھال یا پکڑ کرے۔۔باقی ایسی فیڈ سے تیار خوراکی جانور کا کھانے سےصحت پر کیا نقصانات ہوتے ہیں۔سوائین فلو ، چکن فلو۔۔وغیرہ۔۔اور ایک گائے میں پھیلی بیماری تھی نام یاد نہیں آرہا۔۔جس سے مسل کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اس طرح کی بیماریاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تصیح کا شکریہ جناب

dohra hai کہا...

یاسر بھائی یہ کافروں کی دُنیا کی منظر کشی آپ نے ایسے کی ہے کہ دِل چاہتا ہے کہ اِس جنت کی تلا ش کے لئے ابھی ننگے پاون نِکل پڑوں۔ اور پھِر ہماری طرز زِندگی کو سو چھِتر مار کر آپ تو ہم سے جینے کا حق بھی چھین رہے ہیں ۔ سانوں دسو اسی کرئے تے کی کرئے۔ دِل کردا ہے کِسی کھو اِچ چھا مار دئے ۔ ظاہر سی بات ہے اپنی تصحیح کرنے کا کام تو ہم سے ہونا نہیں اب ایک ہی حل آسان لگتا ہے کھو اِچ جھلانگ

Duffer Dee کہا...

سچ کڑوا ہی ہوتا ہے
مجھے نہیں یقین پاکستان میں کچھ حلال ملتا ہے
تھوڑے عرصے کی بات ہے بچوں کا بھی پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا کرے گا اس کے بعد اذان والی فارمیلٹی یا فریضہ

جواد احمد خان کہا...

جس چیز سے طبعیت جتنی بیزار ہوتی ہے آپ نے اسی چیز کو اسی قدر تفصیل سے بیان کردیا۔۔۔۔
یہاں بھی حلال فوڈ آتا ہے شمالی امریکہ کے ممالک سے۔۔۔۔ جس پر حلال ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگا ہوتا ہے۔ اس سے آگے کسی کو بھی نہیں معلوم ۔۔۔۔ سعودیہ کا اپنا چکن اب ڈبے میں پیک ہوکر آتا ہے ۔ صنعتی پیمانے پر مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں ۔ ایک تار میں لٹکا کر ۔۔۔۔تار گھومتا رہتا ہے اور مرغی ذبح ہو تی رہتی ۔ کس نے تکبیر پڑھی ، کب پڑھی کوئی نہیں جانتا۔ پہلے تو پاکستانی طریقہ بھی رائج تھا کہ مرغی نکلوائی اور ذبح کرالی۔ مگر جناب مونوپلی کا دور ہے۔۔۔چھوٹے چھوٹے فارم بند ہوچکے ہیں۔ اب کوئی مسابقت نہیں لہذا جو ڈبے پر قیمت ہے ادا کرو اور چلتے بنو۔۔۔۔اور اس مونوپلی کی قیمت حرام کھا کر ہم ادا کردیتے ہیں۔

عبداللہ آدم کہا...

""بہرحال حلال کی حرمت مجروح نہیں ہوتی۔"" ۔ بہت اچھے!

میں تو جی شاکاہاری ہوں ، اس لیے میرے لیے تو یہ لفڑا 90 فیصد ختم، باقی دس فیصد میں سے 5 فیصد تو پیور حلال دا ہوتا ہو گا اور رہ گئے باقی 5 فیصد ، تو جی مبوری میں 5 فیصد کی تو گنجائش ہے نا جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں جی !

سعد کہا...

ایسی تحریریں لکھ کر آپ کیا چاہتے ہیں ہماری قوم بھوکوں مرے؟

mani کہا...

چلدا اے وئی چلدا اے۔ چائے پتی کیکر کی چھال، چھان بورا۔۔ دودھ کیمیکل ( کل کسی پروگرام میں بتا رہے تھے "بال صفا" پوڈر بھی ڈالا جاتا ہے)۔ مرچوں میں پسی ہوئی اینٹیں۔ اور بقول ڈفر بچوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی ملاوٹ ہو سکتی کل کلاں یہاں

رائے ازلان کہا...

بڑا ہی کوئی ڈونگا موضوع چھیڑ دیا آپ نے۔ کاہلی ہماری اپنی لالچ ہماری اپنی مشاہدہ اور معلومات سے بے گانگی ہماری اپنی پھر بھی نعرہ اپنا یہی ہوتا ہے، "اے جو کرا ریا اے امریکہ کرا ریا اے"۔

درویش خُراسانی کہا...

مرغی کو اگر خون کھلایا جاتا ہے یا کوئی دوسری مردار چیز ،تو شائد شریت مین اسکی کوئی ممانعت نہیں ہے،کیونکہ مرغی کیلئے کوئی حلال حرام نہیں۔گھروں میں بھی تو مرغی سارا دن گند ہی کھتی ہتی ہے۔

ہاں بعض خوراک شائد طبی لحاظ سے اچھے نا ہوں۔ہا انسان کا اسکو کھانے سے اسکو مضر اثرات پہنچے ۔

مہتاب عزیز کہا...

یاسر بھائی آپ نے ایک بہت ہی اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن ہمارا المیہ تو اس سے بہت اگے بڑ چکا ہے۔ ہماری سزیاں گٹر کے آلودہ پانی پے اگائی جاتی ہیں، پانی ملا گوشت فرخت کیا جاتا ہے۔ چائے ہم چنوں کے چھلکوں ملی پیتے ہیں، دودھ میں ڈٹرجنٹ، یوریا اور میلامائن سمیت دیگر کئی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ لیکن ان سب پر اگر غور کیا جائے تو اس کے پیچھے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی ہوس ہے۔ اور اس ہوس کے ذمہ دار "آپ جیسے" لوگ ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں جا کر پیسے کماتے ہیں اور واپس آکر دوسروں کے سامنے خوب ڈیشیں مارتے اور پیسوں کی نمائش کرتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دیکھا نا جناب
میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ نے بھی بیستی ہی کرنی ہے

درویش خُراسانی کہا...

یہ ہے مہتاب جان۔میں نے پہلے سے ہی تبصرہ کیا ہوا ہے۔
مہتاب عزیز ایک دوسرا ساتھی ہے ،جسکے ساتھ میں متعارف نہیں ہوں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.