تنزلی کا باعث تین کردار

پردیس لفظ انتہائی قدیم لگتاہے۔اللہ ہی جانے کتنا پرانے ہوگا۔بحرحال ہم سے تو پرانا ہی ہے۔ہم جیسے بندے کو پردیس بیوی جیسی نعمت و زحمت ملنے کے علاوہ بھی ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں۔
دال گوشت مرغی روٹی وغیرہ بھی حسب خواہش میسر ہے۔اس لئے اللہ میاں کا شکر ادا کرتے ہیں۔
بندہ تو ہے ہی نا شکرا اس سے کسی کالے چٹے پیلے کافر کو بھی انکار نہیں!!
سال ڈیڑھ گذرنے کے بعد دیس ضرور یاد آتا ہے۔قبر یاد آئے نا آئے۔ماں باپ بہن بھائیوں کی یاد ضرور آجاتی ہے۔اسی بہانے دیس کے بہن بھائیوں کا روزگار بھی "باہر " سے لگا ہوا ہے۔
ہمیں بے فکری ہو نا ہو،ہمارے زیر کفالت والے حال و مستقبل سے بے فکر ہی رہتے ہیں یا سوچوں پر تہہ در تہہ "مٹی" ڈالی ہوئی ہے۔
چند سال پہلے خریدے ہوئے مکان میں لگے گیس کے میٹر کا نام مکان بیچنے والے شخص کے نام تھا،سوچا اپنے نام ہی کروا دوں۔اس سلسلے میں سوئی موئی نادرن گیس کے دفتر "سلاما باد" جانا پڑ گیا۔
پردیس اس لئے پردیس لگتا ہے،کہ پردیس میں انسان کو ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود "پردیسی" ہونے کی وجہ سے عموماً عزت نفس مجروح کروانا پڑتی ہے۔" بی پراؤڈ " قسم کا فخر کرنے کیلئے قابل فخر جنم بھومی نا ہو تو بندہ بڑا ذلیل ہوتا ہے۔
بادشاہ بھی ہو تو اغیار کے در پر پڑا ہوتا ہے۔اسی لئے عموماً عرب میں مقیم دل جلے پردیسیوں سے سننا پڑتا ہے۔پردیس ،پردیس ہی ہے چاہے "مکہ" ہو یا " مدینہ" !!
عربی جتنا انسان کو ذلیل کرتے ہیں۔دشمن اسلام و مسلمانان اتنا ہی انسان کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے۔(اس جملے پر اعتراض کرنے کی کھلی اجازت ہے)
مکہ ،مدینہ جانے کی تڑپ میں ساری زندگی گذارنے والے مسلمانوں کیلئے میرے خیال میں انتہائی تکلیف دہ جملہ ہے۔حج، عمرہ، زیارت، کے علاوہ ان متبرک شہروں میں بسنے والے پردیسی عموماً اداس و دکھی ہی ہوتے ہیں۔
بحرحال اس اداسی اور دکھ سے "گورے" دور ہی دیکھے کہ گورا اپنے دیس میں" چوہڑا" ہی کیوں نا ہو! مسلمانوں کیلئے آسمان سے اترا"پوتر فرشتہ" ہی ہوتا ہے۔جس کے پاؤں چومنا "مالدار عربوں" کیلئے باعث "فخر" ہوتا ہے۔ جسے اتنی عزت ملے اسے کیا ضرورت ہے۔کہ اپنے دیس میں جائے تو اسے بھی "کالا شا کالا" قسم کے بندے کے برابر ہی عزت ملے۔
گورے کیلئے ہمارے دیس میں بھی بہت عزت ہے،بندے بھی ماردے تو اسے بحکم "کالا شاکالا سرکار " باعزت چھوڑنا پڑتا ہے۔چاہے جیب سے پیسہ دینا پڑے! پیسہ لینے والے بھی بعد میں "لڑ لڑ" کر مر جاتے ہیں!!

بات کر رہا تھا ،عزت نفس مجروح ہونے اور ذلیل ہونے کی! چوبیس سال پردیس کاٹنے کے باوجود دیس کیلئے اداس ہونے والے میرے جیسے بندے کو بیچارے جاپانی انتہائی عزت و مال ودولت دے کر بھی خوش نا کر سکے! مجھے ہر طرح کی کوشش کرنے کے باوجود ان "گندے جاپانیوں" کے ہاتھوں اٹھائی ہوئی ذلت بے عزتی یاد نہیں آتی۔یا تو میں انتہائی بے غیرت ہوں۔ یا پھر صرف نا شکرا!!
سوئی موئی نادرن گیس کے دفتر میں لین لگے  جوان، بابے ، خواتین و مائیاں دیکھے اور دیکھیں تو سمجھ آئی کہ ذلت کیا ہوتی ہے۔
جناب اعلی افسران  صاحبان انتہائی قابل ، اعلی تعلیم یافتہ ،میرٹ پر افسری حاصل کرنے والے صاحبان ہیں، اور وہ بھی وفاق میں!!!
ان حضرات کے علاوہ بھی جتنے صاحبان دیکھے سارے "افسر" صاحبان ہی تھے!

ایک افسر صاحب نے تو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایک ضعیف بزرگ کی منت سماجت کرنے پر نہایت ہی "قلیل وذلیل"دو سو روپے کی  رقم پر ضعیف بزرگ صاحب کی عرضی پر سائین کرنے کا احسان فرمایا،اور ساتھ میں عاجزانہ تکبر سے ارشاد فرمایا، بابا صبح سے کہاں مرا وا تھا؟!!
باقی سفارشی قسم کے حوالے والے کام انتہائی دیانت داری سے پہلی فرصت میں فرائض الہی سمجھ کر ادا کئے جارہے تھے۔

لین لگے لاوارث و یتیم بابے ،مائیاں، بیچارگی سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے تھے۔اگر بولے تو ایک سال کی ذلت و خواری میں لین لگنا نئے سرے سے شروع کرنا پڑے گا۔
میٹر اپنے نام کروانے کی خواری کے دوران ایک دوست نے کہا کہ آپ کو کس نے خوار ہونے کا مشورہ دیا تھا؟ فائل مجھے دے دیتے کام ہو کر "کل " آپ کے گھر آجاتا ہے۔۔۔ہیں جی۔
نہایت ایمانداری اور دیانت داری سے سرکاری و عوامی خدمات انجام دینے والے سوئی موئی نادرن گیس اہل کاروں کی یونین کے الیکشن ہوئے تھے اکیتیس دسمبر کو نئے صدر کو وصولنے کی خوشی میں جشن منایا جا رہا تھا۔

میراثی اور "کھسرے" خوشی میں ڈھول کی چھاپ پر دھمال ڈال رہے تھے،اور اس دن تو بوجہ خوشی کام  انجام نہیں دیا جا سکتا نا۔۔۔ہیں جی۔
کام کے دوران سائل عرضی ہاتھ میں لئے کھڑا ہوتا ہے۔اگر "صاحب جی" کہنے کی گستاخی کرے تو گھورکی ساتھ سننا پڑتا ہے، عجیب جاہل آدمی ہو۔ دیکھتے نہیں مہمان آئے ہوئے ہیں!! ایک منٹ صبر نہیں ہوتا تم لوگوں سے!! ۔۔ہیں جی۔
آپ کو معلوم ہی  ہےسرکاری ملازمین بیچاروں کو فرصت ہی نہیں ہوتی گھر پر مہمانوں کو ملنے کی !!

ہفتہ اتوار آرام فرمانا ہوتا ہے۔۔جمعے والے دن بھی آدھا دن کام کرنا پڑتا ہے۔۔باقی آدھا دن کھانا کھانے اور جمعے کی فرض نماز کی ادائیگی میں "ضائع" ہو جاتا ہے۔

عام دنوں میں ساری دنیا میں ایک گھنٹہ دوپہر کا وقفہ ہوتا ہے۔اور ظہر کی نماز پڑھنے کی وجہ سے یہ بیچارے ڈیڑھ گھنٹا چھٹی کرتے ہیں۔

ہفتے میں ایک دن سردی سے نزلہ زکام بھی ہو جاتا ہے۔۔۔مجبوراً چھٹی کرنی پڑ جاتی ہے۔عوام کو جو ذلت و خواری ملتی ہے،اس کی مثال اگر ملی تو انڈیا، بنگلہ دیش کے علاوہ عرب ممالک میں ضرور ملے گے!! لیکن دور درازکے "کافر ملک" میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں نہیں ملے گی!!
بحرحال کفار سے کیا موازنہ کرنا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا کی امامت کا حساب تو پھر بھی بیچارے مسلمان نے ہی دینا ہے !!

مجھے اس دفعہ اپنے جنم بھومی کے مستقبل سے پہلی بار انتہائی مایوسی ہوئی!! اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک مشکل سے ہی "انسانیت" کیلئے تاریخ میں کوئی مثالی کردار ادا کر سکے۔ میرے منہ میں خاک اس ملک کے ختم ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ "آزاد دیس" کی نعمت مجھے اس دیس کو لوٹنے کھسوٹنے والوں سے زیادہ معلوم ہے۔

میرے دیس کی عوام حقیقتاً معصوم ہے۔ اور عوام دنیا کے کسی ملک کی بھی ہو بھیڑ بکریاں ہی ہوتی ہے،ان کے رکھوالے اگر بے رحم ہوں تو انکا حال پاکستانی عوام جیسا ہی ہوتا ہے۔
"پردیس" میں "ذلیل" تو "دیس"  میں " مہا ذلیل"
میں تو یہی محسوس کرتا ہوں،کہ پاکستان کی عوام کو ذلیل و خوار کرنے والے اور اس عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کو تباہ کرنے والے تین کردار ہیں۔
یہ وہ کردار ہیں جو جس "شاخ" پر بیٹھے ہوئے ہیں اسی شاخ کو پوری یکسوئی سے کاٹ رہے ہیں۔
جاری ہے جناب جاری ہے۔۔دل کی بھڑاس بلاگ پر نہیں نکالیں گے تو دیواروں سے سر ٹکرانا پڑے گا، اور ابھی سر پھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں!
(جاری ہے)
تنزلی کا باعث تین کردار تنزلی کا باعث تین کردار Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:40 PM Rating: 5

13 تبصرے:

جواد احمد خان کہا...

عربی جتنا انسان کو ذلیل کرتے ہیں۔دشمن اسلام و مسلمانان اتنا ہی انسان کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے۔(اس جملے پر اعتراض کرنے کی کھلی اجازت ہے)

اس جملے میں اختلاف کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔
بہت عمدہ جناب ۔۔۔بہت ہی اعلیٰ

ڈفر کہا...

عربی چتیاپوں اور دیسی حرامزدگیوں پہ تو میں نے بھی لکھنا، بڑا میٹرئل ھے میرے پاس

افتخار اجمل بھوپال کہا...

میں جنوری 2001ء کے بعد سوائے دبئی کے اور کہیں نہیں گیا اور دبئی میں کسی مقامی سے واسطہ نہیں پڑا ۔ اگر میں 1966ء سے اپنے تمام غیرملک سفر یاد کروں تو کچھ یوں لگتا ہے کہ 1973ء سے قبل پاکستانی باعزت قوم تھے اور اس کے بعد گھٹیا قوم سوائے برطانیہ کے جہاں پاکستانیوں کو ہمیشہ سے ذلیل کیا جاتا ہے ۔ یہی حال پاکستانی روپے کا بھی دیکھا۔اس کا سبب تلاش کیا جائے تو مل جاتا ہے

فضل دین کہا...

بہت اعلیٰ جناب۔ ہمارے پیارے سے مُلک میں سیدھی اور قانونی انگلی سے گھی نکلوانا قریب قریب ناممکن سابن ہوگیا ہے۔۔۔۔

محمد سلیم کہا...

جواد بھائی، آپ نے عرب میں رہ کر ان کی ایک کہاوت تو سنی ہے ناں کہ وہ کونسا گھر ہے جس میں بیت الخلاء نا ہو۔ اس کہاوت کی تفسیر یہ ہے کہ اچھے برے تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور جگہ چاہے عرب میں ہو یا عجم میں۔
آپ نے یاسر بھائی کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا مگر مجھے اختلاف ہے۔ باقی اپ کی مرضی

محمد سلیم کہا...

یاسر بھائی، آپ کے منفرد انداز میں کوبصورت تحریر پڑھی، ایک ایک لفظ کے پیچھے ایک داستان دفن تھی۔

افتخار راجہ کہا...

آپ نے جو کہا وہ سچ کہا، ادھر تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، کوئی بندے بغیر پیسے کے بغیر سفارش کے کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں، چاہے وہ اپنا ہو کہ پرایا، واقف تک چائے کھانا مانگ لیتے ہیں ہت تیرے کی۔

عمران اقبال کہا...

عربی جتنا انسان کو ذلیل کرتے ہیں۔دشمن اسلام و مسلمانان اتنا ہی انسان کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے۔

سو فیصد درست۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ جب استاد صاحب سے ملنے فجیرہ جا رہے تھے تو ہماری اس موضوع پر کافی تفصیل سے بات ہوئی تھی۔۔۔

dohra hai کہا...

آپ کی ایک ایک بات سے سو فیصد مُتفق ہوں میں۔"پردیس ،پردیس ہی ہے چاہے “مکہ” ہو یا ” مدینہ” !!"

Muhammad Saleem » » پردیسی عربوں کے ملک میں کہا...

[...] کی دعائیں کرتا ہوں اس کی جڑیں نہیں کاٹتا۔ پچھلے دنوں یاسر بھائی نے عربوں پر کچھ بات کی اور ڈاکٹر جواد بھائی نے اُن کی تائید کی تو میں نے اس پر [...]

عمار ابنِ ضیا کہا...

درست بات ہے۔ اور سچ کہوں تو اب مجھے بھی اس دیس کے مستقبل سے کچھ کچھ مایوسی سی ہونے لگی ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک اتنا کچھ بگڑ چکا ہے کہ۔۔۔۔ کوئی بہت ہی بڑا اور غیر معمولی راہ نما پیدا ہو تو کچھ کرسکے۔

درویش خُراسانی کہا...

پردیس ،پردیس ہی ہے چاہے “مکہ” ہو یا ” مدینہ” !!
۔
۔
۔
اسی لئے بزرگان اسلام فرماتے ہیں کہ حج و عمرہ ادا کرنے کے بعد اور مدینہ میں زیارت کے بعد زیادہ دنوں تک ان علاقوں میں قیام نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ کوئی خلاف طبع کام دیکھ کر ان مقدس مقامات سے ہی نفرت نا پیدا ہوجائے،جو کہ ہلاکت کیلئے کافی ہے۔

پردیسی عربوں کے ملک میں | Muhammad Saleem کہا...

[...] کی دعائیں کرتا ہوں اس کی جڑیں نہیں کاٹتا۔ پچھلے دنوں یاسر بھائی نے عربوں پر کچھ بات کی اور ڈاکٹر جواد بھائی نے اُن کی تائید کی تو میں نے اس پر [...]

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.