مذہبی غنڈے

؎لاہور میں اردو بلاگرز کی بین الاقوامی کانفرنس کااہتمام کیا جا رہا ہے، م بلال م بھائی اس کے لئے متحرک ہوئے کوئی پاکستانی نزاد کنیڈین صاحب ہیں۔
جو اس کانفرنس کے کچھ اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔اس سے زیادہ تفصیلات مجھے نہیں معلوم کہ اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتا۔
فیس بک پر اس کانفرنس کی مخالف لابی اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی کہ یہ کنیڈین نزاد پاکستانی قادیانی ہیں۔اور اینٹی پاکستان قسم کی شخصیت ہیں۔
سب کا کا فی بحث مباحثہ چل رہا تھا۔
ہم مسلمان ہیں، بغیر تصدیق کے کسی پر الزام تراشی بہتان ، بدگمانی کو گناہ سمجھتے ہیں ،اور خوش گمانی کو برا سمجھتے ہیں۔
بدگمانی گناہ ہے تو خوش گمانی سے منع کیا گیا ہے۔
لیکن مخالف گروہ اپنی بات منوانے پر اڑا ہوا تھا۔ہر بات ریکارڈ پر ہے، میں نے بحث میں حصہ نہیں لیا۔
میرے بلاگ پر قادیانیوں کے خلاف مواد بھی آپ کو ملے گا اور روشن خیالوں کے خلاف بھیَ، اور مذہب کے نام پر جھوٹ ،مکاری و عیاری ، غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف بھی ہم لکھتے ہیں۔
علماء کرام وارثین انبیاء ہوتے ہیں اور ہم ان سے دین سیکھتے ہیں۔
بڑوں کا احترام اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرتے ہیں۔
دعوی پارسائی نہیں کرتے کہ یہ خاکی خطا کا پتلا ہے۔
مسئلہ اس وقت گھمبیر ہو گیا جب مخالف گروہ نے ان کے نہ ماننے کی پاداش مین صاف الفاظ میں دھمکی دی کہ
اس اردو بلاگرز کانفرنس کی تحریری ریپورٹ دفاع پاکستان کونسل اور حافظ سعید کو دے دی گئی ہے۔
وجہ؟ آپ مباحثہ کر رہے ہیں، اگر آپ کی نہیں مانی جارہی تو آپ دفاع پاکستان کونسل اور حافظ سعید کے ذریعے کانفرنس رکوائیں گے؟
تحریر موجود ہے یہ واشگاف الفاظ میں دی گئی دھمکی ہے۔کوئی بھی کم فہم بندہ اسے پڑھ کربات سمجھ جائے گا۔
اس کے بعد ظاہر ہے ہم لوگ فرشتے نہیں،تلخی شروع ہو گئی ۔
ہمارے بلاگستان کے معصوم سے بندے ہیں اور شیطانی میں شیطان کے چاچا۔۔۔۔مولبی ضیاء الحسن خان مذاق میں ہم مولبی  انہیں ہی  کہتے ہیں۔
میری ان سے بات ہورہی تھی میں نے ان سے کہا کہ آپ اگر میرے قریب ہوتے تو اتنے چھتر مارتا کہ اتنے آپ کے منی منے کی اماں نے نہیں مارے ہو ں گے۔
اس کے بعد بھی مخالف گروہ کا دھونس اور دھمکانے کا انداز بھی چلتا رہا۔
اس کے بعد ایک خاتونہ کی آئی ڈی سے ایک خاتونہ نے مغلظات کی انتہا کردی،
مجھے تو شرم آئی میں خاموش ہو گیا۔ باقی ساتھیوں نے بھی "حد" کے اندر رہتے ہوئے جوابات دیئے۔
اس خاتونہ کے تبصرے ریکارڈ پر  موجود ہیں۔کوئی بھی نفیس طبع شخص ان تبصروں کو اپنے بلاگ پر شائع نہیں کر سکتا۔
دعوی نسبت رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کرنا نہایت آسان ہے۔
کیونکہ میں بھی "سید" ہوں،
لیکن عرض کردوں مسلمانی قائم رکھنا نہایت کٹھن کام ہے۔
اس کے بعد مذہبی غندہ گردی "مذہبی کنجر پن" کی انتہا دیکھنے کو ملی کہ ہمارے تبصرے ایڈیٹ کرکے اردو بلاگرز کانفرنس کو قادیانیوں کی کانفرنس بنا دیا گیا۔
یہ ایڈیٹ شدہ مواد بھی سوشل نیٹ پر موجود ہے۔
دھنگا فساد کی دھمکیاں مردانگی دکھاؤ کی للکاریں بھی نیٹ پر موجود ہیں۔
حدِ انتہا یہ کہ اپنا ایڈریس اور فون نمبر بھی نیٹ پر ڈالا گیا،
ہم کیا غنڈے بدمعاش ہیں؟کہ آپ کے گھر جائیں اور دنگا فساد کریں؟
یا ہماری طرف سے کوئی ایسی جاہلانہ و بچکانہ دھمکی بھی ملی؟
ہم غنڈے بد معاش نہیں اور ہم اس دنگے فساد اور غنڈہ گردی کو ہی اپنے معاشرے سےختم ہونا دیکھنا چاہتے ہیں۔
کہ یہ جاہلت کی انتہا ہے۔
اگر اتنے بڑے مرد اور پہلوان ہیں تو جناب انوکی جاپانی پہلوان جو کہ ستر سال کے بزرگ ہیں ،کراچی کے ساحل سے لےکر تابہ خاک وزیرستان تک،
سب کی منتیں سماجتیں کرتے رہے کہ
کوئی مرد کا بچہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مجھ سے کشتی لڑے۔
تے "ماما" اس ویلے سوئے ہوئے تھے؟
دین تو ہمیں انا پرستی اور ہٹ دھرمی سے منع کرتا ہے اور یہ نام نہاد "ملا" اپنی نہ چلنے پر قتل و غارت ، جنگ کی دھمکیوں پر اتر آتا۔
دو طرح کے لوگوں کے میسیج مجھے ملے۔
ایک شرفاء جن کی مردانگی اور شرافت پر مجھے کوئی شک نہیں اور میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں۔
جن سے میں کچھ سیکھتا ہی ہوں۔
دوسرے جنہیں میں نے ایسا ہی جواب دیا ہے۔
اوریہاں پر بھی لکھ رہا ہوں۔
اوئے "چوولو" میں کوئی غنڈہ بدمعاش نہیں۔
شرافت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
اور لڑائی جھگڑے فساد سے نفرت کرتا ہوں۔
ایسا گھٹیا پن مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ
غنڈے بدمعاشوں کے مقابلے کیلئے غنڈہ بن جاؤں۔
تکبر چاھے جسمانی ہو یا اثرورسوخ کا یا علم کا انسانیت کیلئے زہر ہے۔
انسان وہ اچھا ہوتا جو فضول کی لڑائی سے بچنے کیلئے،
اسلام علیکم کہہ کر نکل جائے۔
باقی کوئی گھر پر آجائے تو
جان و مال کی حفاظت تو بندے پر فرض ہے نا جی۔
باقی سمجھدار ہو کہ میں نے دیکھا سنا بھی ہے کہ میرا شجرہ حسینی ہے۔
حق بات کہتے ہوئے اگر اس کمزور و لاچار بندے کی گردن کٹ جائے تو
عرض ہے، حب دنیا عرصہ ہوا اس ناچیز سے ختم ہو چکی ہے۔
مذہبی غنڈے مذہبی غنڈے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:19 PM Rating: 5

22 تبصرے:

کاشف نصیر کہا...

میرا زکر کیوں نہیں کیا، یہ زیادتی ہے :-)

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی، آپ ٹینشن کیوں لے رہے ہیں... کسی نے کیا سوچا اور کیا نتیجہ اخذ کیا، وہ ان کا معاملہ ہے... زبان گندی استعمال کی، اور کروائی، یہ بھی ان کا معاملہ ہے... اللہ انہیں پوچھ لے گا...
چند بلاگرز جو آپ کو کسی حد تک جانتے پہچانتے ہیں، ان کی رائے آپ کے بارے بلکل نہیں بدلی اور نا بدلے گی... اللہ آپ کو خوش رکھے.... تسی چنگے بندے او...

خالد حمید کہا...

یاسر بھائی کیوں ٹینشن لیتے ہیں.
یہ وہ لوگ ہیں جو لڑائی کے دوران لڑنے والے لوگوں سے زیادہ شور مچاتے ہیں تاکہ سب بدنام ہوجائیں.
ان کا تو کام ہی یہی ہے. یہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے اس طرح کے مباحثے کھڑے کرتے ہیں.
آپ نے دیکھا کیسے انھوں نے اپنا مقصد حاصل کیا.
مذہب کے اوپر سوالات شروع ہوگئے.
لوگوں کی زبان خراب ہونا شروع ہوگئی
لوگوں کا ذہن خراب ہونا شروع ہوا اور اصل مقصد کو بھی متنازع کردیا. یعنی اردو کانفرنس.
یہ چاہتے ہیں کہ لوگ انتشار کا شکار رہیں.
ان لوگوں کا واحد علاج ان سے بے توجہی ہے.
اللہ ہم سب کو بہتر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے.

کاشف نصیر کہا...

یاسر بھائی یہ کانفرنس ہوگی اور ضرور ہوگی۔ اب یہ ہماری ضد ہے۔

سید آصف جلال کہا...

اسلام اپنے ماننے کو بے تحقیق بات کرنے سے منع کرتا ہے۔

افتخار راجہ کہا...

حضور آپ ٹینشن نہ لیں، میرا نہیں خیال کہ حافظ سعید اور دفاع پاکستان کونسل جس میں جنرل حمیدگل جیسے دانشور بیٹھے ہوئے اس درجہ کے مباحثے پر توپیں کھڑی کرلیں گے، اگر وہ ایسا کریں گے تو قسمیں میرے اندر سے کچھ اور بت بھی ٹوٹیں گے۔ کانفرنس آپ لوگ ضرور کریں، امید نہیں ہے کہ اس میں فساد ہو، کہ یہ تو صرف اردو اور بلاگنگ کے بارے ہے۔ باقی ایجنڈا کا مجھے علم نہین۔ وللہ اعلم

Duffer Dee کہا...

میں پہلے بھی کہہ چکا اور اب بھی یہی بات دہرا رہا ہوں کہ امیچور قسم کے بابا جی کسی ایسے ٹین ایجر کی طرح بی ھیو کرتے ھیں جیسے سکول سے نکلا تازہ تازہ بچہ کالجی آزادی میں بدمعاشیاں کرتا پھرتا ہے

ali کہا...

اللہ خوش رکھے جی آپکو
میں راجہ صیب سے متفق ہوں

عبداللہ آدم کہا...

خوامخواہ اہمیت دینے والی بات ہے ۔۔۔۔۔ایک بندے نے (اب پتہ نہیں بندہ لکھنا چاہیے کہ نہیں ) دو تین نام لے لیے اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل کو کوئی ملا عمر کا نام لے لے گا تو پھر کیا کریں گے ؟؟ دفعہ کریں گولی ماریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں !!

منیر عباسی کہا...

ذرا سی تفصیل اور ہی بیان کر دیتے. میرے جیسے اور بھی کئی اینٹی سوشل قسم کے لوگ اب سوشل نیٹ ورکس پر نہیں پائے جاتے. ہمیں بھی کوئی اندازہ قائم کرنے میں آسانی ہو جائے. اس تحریر کا سیاق و سباق واضح ہو تو میں بھی پھر کچھ کہوں.

جو کام بلاگ پوسٹوں کے ذریعے کرنے کا تھا اب وہ سوشل نیٹ ورکس پہ ہوتا ہے. بلال محمود کی بات ٹھیک نکلی کہ یہ مواد تو ان ویب سائٹوں کا حصہ بن کر کہیں دفن ہو جاتا ہے. کسی کو پتہ ہی نہیں چلنا آپ نے کہا کیا اور کِیا کیا.

رائے ازلان کہا...

بعض لوگوں کی عمر کوئی بھی ہو انکو عاد ہوتی ہے اپنے آپ کو سٹھیایا ہوا ثابت کرنے کی۔ لہزا ان پھڑ بازیوں کو اسی کھاتے ڈال دیا جائے۔ اگر میں پاکستان میں ہوتا تو کانفرنس پے ضرور جاتا کہ دیکھا جائے اپنا ایمان کتنے کو خطرے میں ہے۔ اپنے سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند، شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن نہیں دی جاتی۔ پہلے دیکھ تو لو کہ اصل رولا کیا ہے بعد میں معقول سیاپا کیا جائے اور دوسروں کے ایمان پر ماہرانہ رائے دی جائے، پر جیسا میں نے عرض کیا کچھ کو عادت ہوتی ھے۔۔۔
باقی راجا صاحب سے اتفاق کروں گا یہ دفاعِ پاکستان والے اتنے ویلے بیٹھے ہوئے ہیں کیا جو اس میں لات پھسا دیں گے۔

درویش خُراسانی کہا...

چند دن قبل ایک دوست سے کسی کام کے سلسلے ان کے گھر ملاقات ہوئی، اسکو معلوم تھا کہ میں بلاگ کے صفحے کالے کرتا رہتا ہوں۔چننچہ انہوں نے مجھے اپنی ایک ڈائری دکھائی۔جو کہ وہ وقتا فوقتا لکھتا رہتا ہے۔

مین نے اسکو ترغیب دلائی تھی کہ بھائی انہیں باتوں کو انترنیٹ پر لکھنے کو بلاگنگ کہتے ہیں۔ساتھ ہی اسکو اردو بلاگرز لاہور کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

دعوت دیتے ہوئے اسکا پہلا جواب یہ تھا کہ کانفرن کس کے خرچے پر منعقد ہورہی ہے۔ چونکے مجھے اس سلسلے میں کوئی معلومت نہیں تھیں ،اسلئے اسکو کوئیخاص جواب نہ دئے سکا۔

گوگل پلس ار ٹوئیٹر میں استعمال کرتا ہوں لیکن وہاں اس قسم کے حالات نہیں ہے۔نیز میں نے بھی کوشش نہیں کی کہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے مزید جان لوں ،بس صرف رجسٹریشن کروالی۔

شاہ جی صاحب آپکے اس کالم سے کسی گڑبڑ کا علم تو ہوا لیکن تفصیل معلوم نہ ہوسکی۔فیس بک کی مثال تو مداری کی مجلس کی سی ہے۔ ہر کسی سے ہر طرح کے سُننے کا احتمال ہوتا ہے۔ کسی کو اسکے کہے ہوئے بات پر پکڑ نہیں کر سکتے۔ لھذا گویا کوئی قابل عتماد شے نہیں ہے۔ہاں کسی محفل میں (چاہے اردو محفل ہی کیوں نہ ہو) یہ بات چھڑ جاتی تو اور بات ہے۔

آپ کی شخصیت سب کو معلوم ہے لھذا کوئی ٹینشن لینے کا نہیں۔نیز فیس بک میں مختلف ناموں کے فیک آئی ڈیز ہیں کسی کا بھی صداقت سے پتہ نہیں چلتا کہ یہ فلاں ہے۔مولوی جی لڑکی کا آئی ڈی بنائے گا اور ٹامی مولوی جی کے نام سے کمنٹس کرئے گا۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

میرے ہموطنوں میں سے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا مشغلہ پھڈے بازی ہے جس کے بعد وہ علیحدگی میں بیٹھ کر قہقہے لگاتے ہیں ۔ کہانیوں مین اس کردار کو بی جمالو کا نام دیا جایا کرتا تھا

محمد زہیر چوہان کہا...

کہاوت ہے کہ جو کسی دوسرے کے لیے گڑھا کھودتا ہے اس میں خود ہی گر جاتا ہے۔ درویش صاحب اور انکے ہمنواؤں کی بدولت دور دور تک کانفرنس کی دھومیں پڑ گئی ہیں اور ہر صاحب فہم ان پر لعن طعن کر رہاہے۔ آخری حربے کے طور پر اس گروپ نے ضدی بچے کی طرح "میں اپنے وڈے پرا نوں بلا کر لیاناں آن" حافظ سعید اور دفاع پاکستان کونسل کی دھمکیاں لگانا شروع کر دی ہیں۔ چلو اچھا ہے مزید مشہوری :) اب اگر اس طرف ٹی وی چینلز کی توجہ بھی مبذول کروا دی جائے تو پھر تو سمجھیں کانفرنس انعقاد سے پہلے ہی کامیاب ہوجائے گی اور دور نزدیک اردو بلاگنگ کی دھومیں پڑ جائیں گی۔

عادل بھیا کہا...

جی بالکل دُرست فرما رہے ہیں۔۔۔ فی الحال اِن سے بے توجہی ہی اِسکا واحد علاج ہے۔

عادل بھیا کہا...

کاشف بھیا معذرت لیکن کبھی کبھی آپ بھی ہمارے سیاستدانوں جیسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ آپکو یوں کہنا چاہئیے تھا کہ ’’اِنشاءاللہ یہ کانفرنس ہوگی۔‘‘ اور اگر آپ زیادہ جذباتی ہیں تو ’’اِنشاءاللہ یہ کانفرنس ضروررر ہوگی‘‘

اِس کانفرنس کا مقصد اُردو اور بلاگستان کی فلاح ہونا چاہئیے نہ کہ اَنا، غصہ اور ضد۔۔۔۔ اگر ہم اپنے مقاصد کے مطابق کانفرنس مرتب کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ضروری نہیں یہ کانفرنس ضرور ہو بلکہ ہم کسی بھی وقت کہیں بھی باہمی مشاورت سے ایک بار نہیں سینکڑوں مرتبہ یہ کانفرس مرتب کر سکتے ہیں

پردیسی کہا...

چلیں دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے.....
اللہ بہتر کرے گا.
سید بادشاہ فکر نہ کریں.. انشااللہ کانفرنس ضرور ہو گی

امانت علی کہا...

عجیب حال درویش کا۔۔۔ انوشکہ شرما فین کلب لائک کرتے ایمان پر کوئی ضرب نہیں پڑی، لیکن کوئی اور اگر کسی قادیانی سے میل ملاپ رکھے تو کافر۔۔۔۔۔ یہ درویش ہی جعلی ہے۔ آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں۔

فاروق درویش کہا...

تصویر کا دوسرا رخ ........ لعنت اللہ علی الکاذبین والمنافقین ..........
ہم سب محب وطن پاکستانی، دفاع پاکستان کونسل، جماعت اسلامی، سنی تحریک سمیت تمام مذہبی جماعتوں، سیاسی راہنماؤں، اس ملک کی محافظ سیکورٹی ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والے حساس اداروں سے معاملات کی مکمل چھان بین اور تحقیقات کرنے اور اسے پاکستان اورسوشل میڈیا کے خلاف گھناونی سازش ثابت ہونے پر، پرامن طریقے سے روکنے کیلئے ہر مثبت اقدامات کی اپیل کرتے ہیں ۔

http://farooqdarwaish.com/blog/?p=2553

ظہیر اشرف کہا...

میرے خیال میں تو پاکستان کے موجود حالات میں ایسی دہمکیوں کو ٹھٹھوں میں اڑایا نہیں جانا چاہیے. قادیانیوں کے نام پر تو ان کی توپیں بھی باہر نکل آتی ہیں جو لفظ قادیان یا قادیانی سے بھی درست طور پر واقف نہیں ہوتے. اجتماع ضرور ہونا چاہیے ، رہی سازش کی بات تو جن صاحبان کو اس میں کسی قسم کی سازش کا کی بُو آتی ہے وہ اس میں شرکت فرما کر اس سازش کا پردہ چاک کریں.
واقع سے قبل ہی اس کے نتائج کا ڈھنڈورا پیٹنا ہرگز عقل مندی نہیں.

خرم ابن شبیر کہا...

میں سوچ رہا ہوں کہ کیا لکھوں۔ خیر چھوڑیں جو ہوا سو ہوا۔ آپ کو ہم جانتے ہیں یہ کافی ہے

کارواں کے دل سے .. | طفل مکتب کہا...

[...] ٹھان لی. شعیب کے ایس ایم ایس کے ایک دو دن بعد سید یاسر کی بلاگ پوسٹ شائع ہوئی تو لگا کہ معاملہ کچھ اور ہے. میں نے وہاں [...]

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.