تنزلی کا باعث تین کردار2

(1) سیاسی کردار

جس کے پاس "حرام" کا کچھ مال آجاتا ہے،اس نے ضرور سیاست میں حصہ لینا ہوتا ہے،اس سیاسی کردار کا مقصد عوام کی بہتری کیلئے کچھ کرنا نہیں ہوتا، ہر حال میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرکے اپنے قانونی و زیادہ تر غیر قانونی مفاد کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔جتنا زیادہ جھوٹا جتنا زیادہ منافق ، جتنا زیادہ یہ سیاسی کردار چرب زبان ہو گا اتنا ہی زیادہ یہ طاقتور ہوگا، کوئی سیاسی کردار کہے کہ وہ تو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ساری زندگی کام کرتا آیا ہے،تو وہ سب سے بڑا سیاسی کنجر ہو گا۔کیوں کہ عوام تو ویسے کے ویسے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں،اور اس سیاسی کردار کی اولادیں غیر ممالک میں اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلی حرام خوری کے گر بھی سیکھ رہی ہیں۔۔شاہی محلات تو ہر شہر،ملک  میں بن جاتے ہیں۔

یہ سیاسی کردار نسلی ،لسانی ، موقع ملنے پر مذہبی منافرت پھیلانے بھی گریز نہیں کرتا،اس کے ہاتھ پاؤں امن و امان کی فورسز سے لیکر تمام اشتہاری مجرم ، معاشرے میں قبضہ گروپ ، غنڈہ بد معاش سب ہو تے ہیں،ہر علاقے میں جو جتنا بڑا غنڈہ بدمعاش ہو گا،اس کا اتنا ہی اثر و رسوخ ہوگا۔اس سیاسی کردار کے حفاظتی گارڈ زیادہ تر غنڈے بدمعاش ، اشتعاری مجرم ہی ہوتے ہیں۔عوام ان سب کو جانتے ہیں،لیکن خاموش رہتے ہیں، لاوارث عوام ان کے خلاف آواز اٹھا کر جان ومال عزت و عصمت کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو دیکھ لیں، کسی میں جمہوریت نہیں ہے،ہر جماعت کا سربراہ تاحیات اس جماعت کا سربراہ رہتا ہے۔

مر جائے یا مارا جائے تو اسی کے خاندان کا کوئی بیٹا یا بیٹی یا جز وقتی طور پر اسی کنبے کا کوئی فرد جماعت کا سربراہ ہو جاتا ہے،عام سیاستدانوں کی سیاست بھی نسل در نسل چلتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں واحد جماعت ،جماعت اسلامی میں جمہوریت ہے اور اس کے کارکن اور جماعت کے کرتا دھرتاتربیت یافتہ  منظم اور سمجھدار لوگ ہیں،لیکن ان میں بھی پختگی نظر نہیں آتی ، ان کا بھی نہیں معلوم کہ مستقبل میں یہ کیا کریں گے، دوسری جماعت تحریک انصاف ہے، جو نئی جماعت ہونے کی وجہ سے اس کی کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی ،اس وقت تحریک انصاف میں بھی "آزمائے ہوئے" شمولیت اختیار کرتے اور "نکلتے" جا رہے ہیں۔اور یہ جماعت بھی فی الحال ایک فرد کی ہی جماعت ہے۔رہ گئی فوج تو وہ پینسٹھ سال سے آزمائے ہو ئے ہیں، یہ دن دکھانے میں فوج کا کردار سب سے زیادہ ہے۔اور عوام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر دوسرے بندے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چاہے سگا بھائی ہی کیوں نا ہو۔۔۔یہ بھی عوام کی مجبوری ہے،کہ اخلاقی تباہ حالی نے عوام کو ایک "مخصوص سوچ" اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
(2) مذہبی کردار
یہ ایسا خطرناک کردار ہے،کہ کتنا بھی نڈر بہادر بندہ ہو، جسے یقین ہو کہ اس نے کل مرنا ہے،محشر کے امتحان کا پر چہ حل کرنا ہے، جان و مال کی پرواہ نا کرتا ہو، لیکن یہ کردار اسے مجبور کر دیتا ہے، کہ اپنے مسلمان ہونے کی وضاحتیں کرتا پھرے۔اس سے "جان و مال " کی نسبت عوام کو اپنے ایمان کا خطرہ ہوتا ہے۔جتنے شیطانی وساوس یہ مذہبی کردار عوام کے ذہن میں پیدا کرتا ہے، شیطان یہ کام "ازل " سے نہیں کر سکا! یہ اپنے مخالفین پر مساجد میں بیٹھ کر قرآن ہاتھ میں اٹھا کر آیات کریمہ اور حدیث مبارکہ کا ورد کرکے اپنے مخالف کو دنیا کا غلیظ ترین "جانور" بنا دیتا ہے۔
اپنی کہی ہوئی بات سے مکرنا اس کیلئے کوئی مشکل کام نہیں،خطابت ، لفاظی میں اس کا کوئی ہم پلہ نہیں ہو سکتا،اس نے "لفاظی" کے گر سیکھے ہی اسی لئے ہوتے ہیں، کہ معاشرے میں اپنا اثر رسوخ قائم رکھے، کسی بھی بڑے سے بڑے "مذہبی " کردار کو معاشرے میں دیکھ لیں ،یہ کردار کوئی کام کاج یا کاروبار نہیں کرتا، چندے کے علاوہ " من فضل ربی" اسکا ذریعہ معاش ہے۔مذہبی منافرت ،مسلکی فساد یہ اللہ اور رسول ،اہل بیت کی محبت میں نہیں کرتا اس سے اس کی "دوکانداری" چلتی ہے۔

اس کردار کو "مذہبی مسلک" اور مذہب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔۔اس کا پیٹ اسے یہ سب اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اسکا ثبوت اس کردار کا مسجد پر "قبضہ" کرنا اور "مساجد" کا قبضہ چھڑانا قسم کے معرکے اللہ کی رضا کیلئے نہیں۔ان کی توند کیلئے ہو تے ہیں۔۔مساجد تو اللہ کا گھر ہوتی ہیں اور مخلوق اس میں رکوع و سجود کرتے ہیں۔یہ انسانوں کو محشر کے امتحان میں بیٹھنے سے پہلے ہی بتا دیتے ہیں، کہ ان کی مخالفت کی صورت میں وہ کافر اور جہنمی ہے۔بندے کے تمام رکوع و سجود ان کے لئے نا قابل قبول ہو جاتے ہیں، پیٹ کیلئے قتل و غارت دھونس دھمکی ہر طریقہ اختیار کرنا ان کیلئے " حق پرستی" ہوتا ہے۔اور یہی کردار معاشرے کے بگاڑ کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے،اپنے مذہبی جلسے جلوسوں کیلئے عوام کی زندگی اجیرن کرنے کو عین ثواب سمجھتا ہے۔یہی جلسے جلوس کسی حکومتی قانون سازی کے بغیر بھی یہ کردار کسی مخصوص جگہ پر کر سکتا ہے۔لیکن مسئلہ وہی ھٹ دھرمی اور اپنا ٹہلکہ دکھانا ہوتا ہے۔
اگر ان کے اخلاق اچھے، ان کا برتاؤ اعلی ، ان کے معاملات شفاف ، ان کا سلوک اچھا ، ان کی عادات شریف۔ ان کے طور طریقے اچھے ہوں تو میرے جیسا جاہل بیہودہ بے وقوف ان سے ضرور متاثر ہو گا اور ان کے ہاتھوں کو چومنا اپنے لئے عین سعادت سمجھے گا۔اگر اس کردار میں ان میں  سےکوئی بھی خاصیت نہیں تو یہ اسلام اور انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔میں اسے مذہبی کنجر کہنے کو قطعی برا نہیں محسوس کرتا۔اس کردار کو معاشرے میں سرعام ہونےوالی برائیاں نظر نہیں آتیں ،اور یہ صرف اپنے "مخالفین" کی برائیاں ہی تلاش کرتا رہتا ہے۔ پیرو مرشد ،جادوگر عامل وغیرہ جو کچھ سادہ لوح قابل رحم قسم کی مسلمان عورت سے کر رہے ہوتے ہیں ،یہ انہیں بالکل نظر نہیں آتا۔اخبارات میں اطلاع عام کی طرح دیئے جانے والے اشتہارات انہیں نظر نہیں آتے!!
اور یہ کفر کے فتوی اپنے مخالفین پر لگا رہے ہو تے ہیں۔
عام انتہائی گناہگار مسلمان کیلئے بھی ہم سوچ سکتے ہیں کہ رحیم و کریم اس کی  بخشش کر دے گا۔لیکن اس مذہبی کردار کا حال روز محشر دیکھنے کی شدید خواہش ہے۔ خالق اپنی مخلوق سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے ،تو یہ مذہبی کردار مذہب کے نام پر لوگوں کے دلوں  میں خالق کی مخلوق کیلئے نفرت کے بیچ بوتا ہے۔ ہر گندے غلیظ کام کو یہود و نصاری و قادیانیت کی سازش قرار دے کر ہاتھ جھاڑ لیتا ہے۔یہود و نصاری و قادیانیت کے دلوں میں جو بغض اسلام کیلئے ہے، وہ سب کو معلوم ہے، اور یہی کردار انہیں مزید سازشیں کرنے کا موقع دیتا ہے۔یہود و نصاری و قادیانیت  اس کردار کی حماقت کو دیکھ ۔۔کھی کھی کھی ہنستے ہیں۔

(3) اکڑخانی کردار
اکڑ خانی کردار ہمارے معاشرے کا "غلیظ ترین" کردار ہے۔یہ اس ملک کے وسائل استعمال کرکے تعلیم حاصل کرتا ہے،اثر و رسوخ سفارش تعلقات رشوت کے استعمال سے حکومتی نوکری حاصل کرتا ہے۔جیسے ہی سرکاری نوکری کیلئے پہلے دن جاتا ہے۔اس کی کمر سے لیکر گردن تک سریا گھس جاتا ہے۔جیسے جیسے اپنے بڑوں کی چاپلوسی میں بڑتا جاتا ہے۔ اس کا سریا جو رفاع حاجت کے اخراجی دروازے سے حلق تک گھسا ہوتا ہے۔موٹاہی ہوتا جاتا ہے۔

جن سے اس کی "چاکری" کو خطرہ ہو اس کیلئے یہ ان کے تلوے چاٹنے کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے۔
رشوت حرام خوری ، ھڈ حرامی ،کام چوری میں یہ کردار اپنی مثال نہیں رکھتا۔ اگر کچھ اسے کہا جائے تو انتہائی ڈھٹائی سے اس کا کہنا ہو نا ہے ۔کہ سب  ایسا ہی کرتے ہیں، ایک میرے سدھرنے سے کونسا انقلاب آجائے گا۔

لا وارث عوام جن کے پاس نا تو رشوت ہوتی ہے، اور نا ہی کسی قسم کی سفارش اس کے لئے یہ غلیظ کردار کسی فرعون سے کم نہیں ہوتا۔
اگر یہ غلیظ کردار  جو سہولیات اسے میسر ہیں اس پر قناعت اختیار کر لے تو ہمارے معاشرے کے "نوے" فیصد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اگر یہ کردار حرام خوری و ھڈ حرامی  نا کرے تو کسی کو بھی سفارش اور رشوت کی ضرورت نہ رہے۔ اس غلیظ کردار کو دیکھنے کیلئے آپ کو محنت کی قطعی ضرورت نہیں،کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں،یہ وافر مقدار میں حاضر سروس ہے۔
پولیس ، تعلیمی ادارے ،سرکاری اسپتال،نادرا، پاسپورٹ آفس، اور دیگر انتظامی محکمے اسی کردار کی وجہ سے تباہ حالی کا شکار ہیں۔یہ غلیظ کردار انتہائی نا اہل اور بیوقوف ہے، اسے اگر سمجھ آجائے کہ اس کی ھڈ حرامی ،حرام خوری سے ریاست کمزور ہو رہی ہے،ریاست تباہ ہوئی تو سب سے پہلے یہی کردار ذلیل و خوار ہو گا، دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں سرکاری اہل کار زیادہ مراعت یافتہ ہوتے ہیں، ان اہل کاروں کی دیانت داری ، اپنے امور و فرائض کو سچائی و محنت سے ادا کرنے سے ریاست و معاشرہ مضبوط ہوتا ہے،جس یہ اہل کار بھی اپنی زندگیا ں باعزت طریقے سے گذارتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں سرکاری اہل کار کو پیٹھ پیچھے "یہ بھی حرام خور ہے" ہی کہا جاتا ہے۔

نوٹ :-  جو حضرات اپنے کاموں سے مخلص ہیں اور اس  میں سے کسی شعبہ سے ہی منسلک ہیں۔۔وہ  میرے لکھے کو اپنے اوپر نا لیں۔۔ان کو سزا و جزا دینے کا اختیا ر اللہ میاں کے پاس ہے۔
تنزلی کا باعث تین کردار2 تنزلی کا باعث تین کردار2 Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:08 PM Rating: 5

4 تبصرے:

محمد سلیم کہا...

آپ کی داستان جاری ہے اور ہم ہمہ تن بگوش سن رہے ہیں۔ ماشرے کے ہر کردار کی اتنی تفصیلی آگاہی کا شکریہ۔
بچپن میں ایک بار اپنی سائیکل پر دور کہیں نکل گیا۔ اتفاق سے ایک گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس گھر میں سے نکلتے ہوئے شخص کے موٹر سائیکل کے سامنے آ گیا۔ چوٹیں بھی مجھے لگیں اور وہ صاحب مزید موٹر سائیکل سے مجھے کچلتے رہے، ان کا غصہ تھا کہ تھم ہی نہیں رہا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ بڑا افسر ہے کسی سے نا کہنا اور واقعی میں نے کسی سے نا کہا۔ میری اس داستان کا جواب آپ کی تحریر کے اس فقرے میں بند ہے: لا وارث عوام جن کے پاس نا تو رشوت ہوتی ہے، اور نا ہی کسی قسم کی سفارش اس کے لئے یہ غلیظ کردار کسی فرعون سے کم نہیں ہوتا۔

جواد احمد خان کہا...

آپ عوام کے بارے میں کسی خوش فہمی کو جگہ نا دیں۔ پاکستان میں مکمل رزق حلال صرف ولی اللہ ہی کماتے ہیں۔

ام عروبہ کہا...

السلام علیکم
پاکستانیوں کا حال تو کافی بگڑا ہوا ہے پر سدھار بھی ادھر سے ہی آئے گا انشاءاللہ، مستقبل میں دو بڑے معرکوں میں سے ایک تو خراسان کی سر زمین ہو گی اور دوسری مڈل ایسٹ کی- کفر اور اسلام یہیں باہم دست و گریباں ہو رہے ہیں اور مزید ہوں گے-
اس وقت پاکستانیوں کا ایمان پری واش سائیکل پر لگا ہوا ہے اور فائنل سائکل میں یہ دھل کر نکھر جاءیں گے انشاءاللہ- شام میں فائنل سائکل چل چکا ہے - وہ لوگ بس ''اللہ اکبر اور حسبی اللہ و نعم الوکیل، اورعزت تو بس اللہ اور اسکے رسول اور مؤمنین کے لئے ہے''، کے علاوہ سب کچھ بھول چکے ہیں-
اللہ ہم سب کو حق والوں کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین-

کاشف کہا...

میرا خیال تھا کہ ممتاز مفتی صاحب فوت ھو چکے ھیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.