علم کا پھیلاؤ

ہر کوئی اگر روزمرہ زندگی کا مشاہدہ کرکے کچھ سیکھنا چاھئے تو غور و فکر کے اسباب بہت ہوتے ہیں۔ دیکھنے سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص نہایت شریف النفس ،ہمدرد ،رحمدل ، اعلی اخلاق والا، ہر کسی کا خیال رکھنے والا تھا۔ہر دوسرے بندے پر اس کے احسانات ہیں ۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
لیکن بیچارے کی اولادیں نہایت گھٹیا، بد چلن ، بد قماش ، راہنجار، بداخلاق ہیں۔ایک زمانہ ان سے تنگ ہے۔

ایک دوسرا رخ بھی دیکھنے سننے میں آتا ہے،فلاں شخص انتہائی درجے کا بد اخلاق ، بد قماش ،بد معاش ،جھوٹا، حرام خور ،دھنگا فساد کرنے والا لڑاکو  وغیرہ وغیرہ تھا۔۔رحیم و کریم اس کی مغفرت کرے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر بدمعاش ،لڑاکو  کی اولادیں پہلے جنتی مرحوم کی تمام خصلتیں اڑا لیتی ہیں۔جنتی مرحوم سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ لیکن شرافت میں ہر شریف النفس شخص کی خصو صیات دوسرے اللہ کی رحمت کے اصلی حقدار کی اولادوں میں پائی جاتی ہیں۔

انسان پیدائشی طور پر غور و فکر کرنے والا ڈنگر ہے، پیدا ہوتا ہے تو سوچنے سے سمجھ جاتا ہے ،کہ پیں پیں رونے سے اماں جی دودھ پلائیں گئیں۔

دونوں مرحوم اشخاص کیلئے آمین آمین کرنے کے ساتھ سوچنے والے ضرور سوچتے ہیں کہ ان اشخاص کی اولادوں میں ایسا تضاد یا فرق کیوں آگیا؟

سوچنے سے سمجھ یہی آتا ہے ،کہ پہلے جنتی مرحوم صاحب کیوں کہ انتہائی شریف اور رحمدل تھے۔اولاد کی چھوٹی بڑی کرتوتوں کو اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے خندہ پیشانی سے درگذر کر دیتے تھے۔بس ا س سے اولادخود سر ہو گئی ۔ اور اپنی کرتوتوں کے جھنڈے گاڑنا شروع ہو گئی۔
دوسرے رحیم کی رحمت کے مستحق صاحب کیونکہ بدمعاش ، بد اخلاق ، لڑاکو تھے۔ان کی اولاد ذرا سا الٹا کام کرتی تھی تو مرحوم پر اللہ رحم کرے ۔گالی گلوچ لات گھونسہ کے علاوہ الٹا لٹکا کر  خوب اچھی طرح تواضع کرتے تھے۔ اولاد کچھ چھوٹا موٹا اچھا برا کرنے سے پہلے ابا معصوم کا چہرہ شریف ضرور یاد کر لیتی تھی۔ بس اب اولاد نیک و فرمانبردار بھی ہے۔
اپنا تو مشاہدہ ہے۔کہ شریف اوررحمدل جنتی ابا حضور  بڑھاپے میں  اولاد کی لاپرواہی کا شکار رہے۔ایک کونے میں پڑے بیچارے شرافت سے کھانستے کھانستے جنت کو چل دیئے۔
اولاد نے دفنایا اور اپنی اپنی کرتوتوں میں مصروف ہو گئے۔

بد معاش ،بد اخلاق ابا معصوم تو لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ صاف ستھرا لباس پہنے کھانسی کے بجائے حلق شریف  سےگندی گندی گالیاں اگلتے رہے۔ٹہلکے کے ساتھ اولاد سے جوتیاں سیدھی کرواتے رہے۔اور آخر میں رحیم کے رحمت کے مستحق ہوئے۔

اولادوں نے چالیسویں تک سر سے نمازی نیک پروین ٹوپی نہیں اتاری جمعراتیں تک دھوم دھام سے کیں۔ اللہ ابا معصوم پر اپنا خصوصی رحم فرمائے۔
تقریباً ایک سال تک سوچتا رہا کہ مجھے کتا پالنا چاھئے کہ نہیں،ظاہر سی بات ہے کتا ناپاک جانور ہے۔آپ کہیں گے کہ اتنی بے رحمی سے ایسا مت کہو!! لیکن جناب حقیقت یہی ہے کہ یہ پیارا اور وفادار جانور گندہ ہی ہے۔اس میں اور کئی خوبیوں کے ساتھ ایک خوبی اس کی وفاداری ہے ۔جس کی وجہ سے ہم مسلمانوں کی قطعی نفرت کا شکار نہیں ہوا۔ورنہ اس کی بھی ایسی کی تیسی ہو جاتی۔

لیکن اسے ناپاک کیوں کہا گیا۔جب تک آپ کتورے پالنا شروع نہیں کریں گے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔اس کے منہ ڈالنے پر برتن کو سات بار دھونے کی عقلی وجہ بھی آپ کو سمجھ آجائے گی۔ یہ بھی خنزیر کی طرح صفائی پسند ہوتا ہے۔اگر آپ اس کی تربیت نا کریں تو یہ اپنا ہضم کیا ہوا گند فوراً سے پیشتر ہڑپ کر جاتا ہے۔
ہر جگہ منہ مار ہی دیتا ہے۔پتہ نہیں کوئی نفیس شخص اس کی ہزار خوبیوں کے باوجود گھر کے اندر کیسے پال لیتا!!

اس کے حلال نا ہونے کی وجہ بھی سمجھ آتی ہے۔سوچ و فکر نا کرنے والا ڈنگر ہونے کے باوجود انتہائی سمجھدار اور ذہین ہوتا ہے۔تین دن میں "بیٹھ " جا اور "انتطار" کر سیکھ جاتا ہے۔اپنا گند کھانے پر دو تین کان کے نیچے لگا دیں۔یہ سمجھ جائے گا کہ یہ کام کرنے کا نہیں۔ بس اس کے بعد یہ آپ کا وفادار و فرمانبردار ہو جائے گا۔ سختی اور تشدد کے باوجود تا حیات فرمانبردار ہی رہے گا۔ ہر وقت کھانا پینا اور دم ہلانا  نہیں بھولے گا۔

اگر آپ نے بھی اپنے کتورے ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرت  بچے کو فرمانبردار بنانا ہے۔ تو  یہ جو آپ کی بغل میں کتورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔معذرت۔بچہ بیٹھا ہے اس کے کان نیچے بغیر کسی وجہ کے ایک لگا دیں!!امید ہے بات اس کی سمجھ میں آہی جائے گی۔
میں جیسے جیسے ہی اپنے بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ ۔۔۔۔معذرت کتورے کی پرورش سے علم حاصل کرکے سیکھتا جاوں گا تو آپ کے کتورے ۔۔۔۔۔۔اوہ۔۔معذرت بچے کی تربیت کیلئے اپنا علم ضرور بانٹوں گا۔
امید ہے آپ اپنے کتورے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔معذرت بچے کو بتانا نہیں بھولیں گے کہ اس کی تربیت میں چاچا خوامخواہ جاپانی کا حصہ بھی ہے۔
علم کا پھیلاؤ علم کا پھیلاؤ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:29 PM Rating: 5

4 تبصرے:

ali کہا...

آئی ابجیکٹ :)
کیوں بیچارے بچوں کی شامت لانے کا سوچ رہے ہیں۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

لکھنے پڑھنے کے لحاظ سے اچھا ہے مگر ماننے کیلئے نہیں ۔ میں نے اپنے بچوں کی کبھی پٹائی نہیں کی تھی ۔ لیکن ان کی تربیت ان کو اچھا کیا اور برا کیا ہے سمجھا کر کی ۔ اب وہ اپنے بچوں سے ایسا ہی کر رہے ہیں ۔ لیکن یہ سب پیدا کرنے والے کی مہربانی ہے ۔ اصول یہ ہے کہ اللہ کو یاد رکھیں اور اللہ کے بتائے ہوئے طریقے استعمال کریں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترم بزرگوار
یہ میں کچھ مخصوص اعلی فیملیز کے متعلق لکھا ہے صرف مزاح کے طور پر۔
ہمارے اباجی نے بھی کبھی پٹائی نہیں کی۔۔ایک دو بار ہوئی بھی تو چھوٹی ہمیشرہ کو چپت رسید کرنے پر ہوئی۔؛ڈ

dohra hai کہا...

جناب آپ نے بات تو خوب کی ہے گو کہ مزاح میں کی ہے مگر کی باِلکل ٹھیک ٹھیک بات ہے۔ میں ڈاگ لور ہوں اور کُنے کے پلے پالنےکا تجربہ رکھتا ہوں۔ اور میرا یہ تجربہ بچے پالنے میں بھی بہت کام آیا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کتا بہت ہی وفادار جانور ہے۔ اور بے شک کُتے کی خصلت میں بہت کی بُری عادتیں بھی ہیں مگر خوبیاں اُن پر حاوی ہیں۔ میں کُتے کو گھر کے اندر کمروں میں رکھنے کا باِلُکل بھی حامی نہیں ہوں ۔ ہمارمےمعاشرے میں کُتوں کے مُتعلق اکژ خیالات تنگ نظری کی وجہ سے پھیلے ہوئے ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.