حقیقت پسندی

جرمن شکست سے نا آشنا تھے،کم سےکم انہوں نے اپنے قیدیوں اور محکوموں کو یہی تاثر دے رکھا تھا،دوسری جنگ عظیم کے آخری ایام پوری دنیا کے لئے ہنگامہ خیز ثابت ہوئے،نازی جنگ ہار چکے تھے،سوشلسٹ روسی افواج جرمنی میں داخل ہو چکی تھیں،امریکہ کی قیادت میں تمام طاقتوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ برلن کو شکنجے میں جکڑ لیا جائے۔جاپان بھی جنگ ہار چکا تھا، جاپان کے بدن میں آخری میخ انیس پینتالیس اگست میں ایٹم بم کے پہلے عملی تجربے کے ساتھ ٹھونک دی گئی۔

عہد بدل بدل کر اقتدار کی یہ جنگ صدیوں سے جاری ہے ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی  برصغیر آزاد ہوا ،اور بھارت ،پاکستان کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی وجود میں آیا۔ برطانیہ کی ملکہ بھی جمہوریت کے آتے ہی اپنے محل تک محدود ہو گئی۔جاپان کا شہنشاہ جس کا خدا ہونے کا دعوی تھا،اور جاپانی قوم  بھی جسے خدا کا درجہ دیتی تھی۔اس نے بھی واپس انسانی لباس پہن لیا۔
لیکن  برطانیہ کے بادشاہت کو بھی جاری رکھا گیا اور جاپان کی شہنشاہت بھی موجود ہے۔سیاست میں  برطانوی ملکہ اور جاپان کے شہنشاہ کا کوئی عملی کردار نہیں ہے۔دونوں کو ایک علامت کے طور پر ان کے محلات تک محدود کر دیا گیا ہے۔سماج یا معاشرے میں ان کا عمل دخل ایک نشانی یا قوم کو متحد رکھنے تک کا ہے۔یعنی عہدِ ماضی کی ایک علامت کے طور پر ان کی باد شاہت کو جاری رکھا گیا۔اور عملی طور پر ملک میں جمہوریت کو رائج کر دیا گیا۔

اسلام  میں حکومت کا تصور خلافت  ہے۔اور خلافت کا خاتمہ  انیس سو چوبیس میں ترکوں نے  آخری عثمانی خلیفہ  کوتمام عثمانی خاندان کے ساتھ مالٹا بدر کر کے ختم کر دیا۔اس  سےپہلے بھی مسلمانوں کو  خلیفہ کے سائے کے نیچے ہی جوڑ کر رکھا گیا تھا۔اس دور کے خلیفہ اور آج کی برطانیہ اور جاپان کی بادشاہت میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔
کوئی بھی مہم جو اٹھتا تھا کچھ علاقے فتح کرتا تھا۔اور خلیفہ سے سلطانی کی سند وصول کرکے کاروبار مملکت چلاتا تھا۔ان ممالک کے وزیر اعظم بھی ووٹوں کو فتح کرتے ہیں اور ملکہ اور شہنشاہ  کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں۔

عام سوجھ بوجھ رکھنے والا مسلمان جب اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے ،تو اسے خلافت راشدہ کے اخیر دور سے ہی اسلام میں اقتدار کی جنگ کی ابتدا نظر آتی ہے ،اور اس اقتدار کی جنگ کے ساتھ ہی اسلام میں عیسائی مذہب کی طرز کے مسالک یا فرقوں کی ابتدا بھی نظر آتی ہے۔ بعض لکھنے والے اسی قبائیلی تعصب کا یا قبیلہ پرستی کا نام دیتے ہیں۔

اسلامی خلافت کے خاتمہ سے پہلے بھی مسلمان کسی جگہ غلام تھے تو کسی جگہ کسی نا کسی صورت میں محکوم تھے،افلاس ،افراتفری عام مسلمانوں کو بے بس کئے ہوئے تھی۔خلافت عثمانیہ کے اختتام کے وقت  عالم اسلام کی عجیب حالت تھی کہ ایک برطانوی لارنس آف  عریبیہ کے نام سے عربوں کو ترکوں سے آزادی دلوا رہا تھا!!

ترکوں نے  جب عرب سے تابوت وصولنے شروع کئے تو آخر کار واپس ترکی تک محدود ہوکر خلافت کے  خاتمے کے بعد انیس سو ساٹھ کی دہائی تک عربی  میں اذان اور عربی زبان پر ہی پابندی لگا دی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب "مظلوم یہودی" واپس فلسطین آنا شروع ہوئے تو  مہنگے داموں فلسطین میں زمینیں بھی فروخت ہوئیں اور مسلمان اپنی کمزوری کے باعث انہیں فلسطین میں گھسنے سے روک بھی نہ سکے، اس وقت کے اتحادی طاقتوروں نے یہودیوں کا ملک قائم کیا تو عرب مسلمان اپنی پوری طاقت جمع کرکے بھی اسرائیل کو قائم ہونے سے نہ روک سکے۔
اقتدار کی جنگ صدیوں سے جاری ہے اور صدیوں جاری رہے گی۔اگر مسلمان اپنے آپ کو ایک قوم کہتے ہیں ،تو مسلمانوں کو اپنے اندر سے قبائیلی ،نسلی ،لسانی ،فرقہ ورانہ تعصب ختم کرنا ہوگا۔یا پھر ایک ہی تکلیف دہ حل ہے ،کہ سیاست اور مذہب  کویورپ کی طرح علیحدہ کرنا ہوگا۔اس وقت کے یورپ نے بھی مسلکی ،نسلی تعصب سے ہی جان چھڑا کر امن  و امان حاصل کیا ہے۔جن مذہب پرستو ں کو ہولو کاسٹ سے ختم نا کرسکے انہیں عرب میں واپس پھینک کر ان جان چھڑائی۔

ایسا کوئی مسلمان نہیں جسے غزہ کے مسلمانوں کی تکالیف کا دکھ نا ہو۔لیکن جب ہم اپنے ہی مسلمانوں کو ایک دوسرے کی گردن زنی کرتا دیکھتے ہیں۔تو یہی سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنے گھر میں تو آگ لگائی ہوئی ہے اور امت محمدی کے نام پر کوسوں دور بسنے والوں کیلئے تڑپ رہے ہو؟!!
اگر وہ پاس ہوتے تو ان کے ساتھ بھی یہی سلوک نا کیا جاتا؟

مذہبی جماعتوں کی فرقہ پرستی کا ہمیں انتہائی شدید تکلیف کے  ساتھ علم ہے،ہماری مساجد تک مشترکہ نہیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کیطرف دیکھتے ہیں تو ہر سیاست دان اور اس سیاست دان کی پرستش کرنے والا اپنے مخالف کی برائیاں بیان کرنے سے نہیں تھکتا!!
زیادہ تر تو یہی دیکھنے میں آیا کہ یہ برائیاں اصل سے زیادہ الزامات اور بہتان ہوتی ہیں۔  جن قوموں کو اپنی کمزوری کا احساس ہوا انہوں نے اسے دور کیا اور اس وقت بھی عالمی معاشرے میں باوقار ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کی عوام مسلمانوں سے اسلام سے بغض کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی بکواس ہوگی!! ہماری عادات معاملات اتنے سطحی اور گھٹیا ہیں ،کہ یہ لوگ ہم سے فاصلہ رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ہم اپنے ملکی و قومی معاملات  کو ٹھیک کریں تو اس وقت کے غیر مسلم جتنے دکھی ہیں شاید ہم مسلمان اتنے دکھی نہیں!!! ہمارا کام تو اس دکھی انسانیت کو مرہم دینا ہے!! اور ہم خود جس شاخ پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ کاٹ رہے ہیں!!

اور رونا امت محمدی ﷺ کا روتے ہیں!!
اگر بھیڑ بکریوں کا ریوڑ دیکھیں تو ایک چھوٹا سا کتا ہوتا ہے جو کاٹتا تو نہیں صرف بھونکتا ہے اور سہمی ہوئی بھیڑ بکریوں  کوجس طرف یہ کتا بھگاتا ہے ادھر بھاگ رہی ہوتی ہیں۔ ہم مسلمانوں کی حالت اس ریوڑ کی طرح ہی ہے!!

 
حقیقت پسندی حقیقت پسندی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:20 PM Rating: 5

11 تبصرے:

عمران اقبال کہا...

بہترین تجزیہ... آپ کی ہر بات سے اتفاق ہے... یہ اتفاق، اخلاقیات اور کردار کی کمی ہی ہے، جس نے ہمیں "مظلوم" بنا دیا ہے... اور ہم الزام "اسلام" کو دیتے ہیں... کہ مغرب کی "اسلام دشمنی" کی وجہ سے ہم پس رہے ہیں... ایسی کوئی کمینی قوم ہیں ہم کہ اپنی پست حالی کا الزام بھی لیتے ہوئے ڈرتے ہیں اور کوئی دوسری لاجک ڈھونڈتے ہیں اپنی کمزوری چھپانے کے لیے... اللہ تو ہماری مدد تب فرمائے نا جب ہم پہلے خود اپنی مدد کی ٹھان لیں... اور وہ تو ہمیں کرنی نہیں... کیوں کہ مدد کے لیے اپنی "تشریف" ہلانی پڑتی ہے... اور یہ مشکل کام تو ہم سے ہونے سے رہا...

وقاراعظم کہا...

بہت خوب نسخہ تجویز فرمایا ہے کہ مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا. ساتھ ہی یہ بھی خوب ہے کہ غزہ کے مظلوموں کا درد اپنی جگہ لیکن ان کی بات کرنے سے پہلے اپنے مظلوموں کا کچھ کریں. یعنی آرام کیے جائو، راوی چین ہی چین لکھے گا ہیں جی...
یعنی کہ نسل کشی اور سکیولر سیاست و فرقہ ورانہ فسادات میں کوئی فرق ہی نہیں ہے. جنگ زدہ علاقے اور آزاد و خودمختار ملک میں حکومتی آشیرباد دے ہونے والی شہروں پہ قبضے کی جنگ میں کوئی فرق نہیں واہ شاہ جی کیا بات ہے آپ کی. ویسے یہ نسخہ بڑا پرانا کہ کہ "تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو"....

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں یہ نسخہ اپنےلئے تکلیف دہ سمجھتا ہوں۔کہ مجھے اسلامی طرز حکومت ہی پسند ہے۔
یہ تو آپ کی آسانی کیلئے بتا دیا کہ بھائی اگر نہ اسلامی نہ جمہوریہ کے نام پر اسلام اسلام زندہ بادہ اور ہر گلی کوچے میں نکڑ والی مسجد کے نمازی مردہ باد کا نعرے ہے تو جان چھوڑ اور اُدھر چلے جاو۔
زرداری زندہ باد ،شریف زندہ باد ، عمران زندہ باد ،جماعت اسلامی زندہ باد۔۔بھائی طافو زندہ باد !!
یا المعشر المہاجرین ، یا المعشر الانصار ، یا المعشر الپٹھان ،یا المعشر الپنجابی ،یا المعشر السندھی، یا المعشر البلوچی۔۔۔۔یہ نعرہ مشرکانہ نہیں ؟۔۔یہ اسلام ہے یا جہالت؟ بت پرستی ؟ شخصیت پرستی ؟
باقی اگر اسلام ہی کو پسند کرنا ہے تو معاشرے کو گلی کوچے کی سطح پر اسلامی کرو، جب ہو گیا تو اسرائیلی کتے کیطرف صرف تھوک ہی دو گے تو وہ اپنی موت آپ مر جائے گا؛ڈڈ

جواد احمد خان کہا...

اگر یہ کہا جائے کہ غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کی عوام مسلمانوں سے اسلام سے بغض کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی بکواس ہوگی!! ہماری عادات معاملات اتنے سطحی اور گھٹیا ہیں ،کہ یہ لوگ ہم سے فاصلہ رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بپت عمدہ بات کہی ہے. اس بات کے ایک حد تک تو مکمل اتفاق کرتا ہوں.مگر آپ نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کو نظر انداز نہیں کرسکتے. خاص طور پر اسلامو فوبیا کو جس کی جڑیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب بجا فرمایا۔
اسلام فوبیا کے شکار جتنے بھی حضرات خاص کر خواتین سے ملاقات ہوئی تو اس کے پیچھے بھی ہمارے مسلمان نامی بھائی کے معاملات ہی کر فرما تھے۔

جواد احمد خان کہا...

اقتدار کی جنگ صدیوں سے جاری ہے اور صدیوں جاری رہے گی۔اگر مسلمان اپنے آپ کو ایک قوم کہتے ہیں ،تو مسلمانوں کو اپنے اندر سے قبائیلی ،نسلی ،لسانی ،فرقہ ورانہ تعصب ختم کرنا ہوگا۔یا پھر ایک ہی تکلیف دہ حل ہے ،کہ سیاست اور مذہب کویورپ کی طرح علیحدہ کرنا ہوگا۔اس وقت کے یورپ نے بھی مسلکی ،نسلی تعصب سے ہی جان چھڑا کر امن و امان حاصل کیا ہے۔جن مذہب پرستو ں کو ہولو کاسٹ سے ختم نا کرسکے انہیں عرب میں واپس پھینک کر ان جان چھڑائی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جناب عالی ! مذہب سے جان چھڑائے ہوئے تو کئی صدیاں گذر گئیں ہیں. اب تو صرف وضع قطع اور باتیں ہی رہ گئی ہیں. کونسا تیر مار لیا مذہب کو سیاست سے الگ کرکے سوائے ذلتوں میں اضافہ کے.
نسلی اور قبائل تعصب کوئی بری بات نہیں ہے. یہ تعصبات ہی ہوتے ہیں جو انسان کو بہادر بناتے ہیں.اور اسے فتح گیری سکھاتے ہیں. شہری معاشرت کی جتنی بھی تعریف کرلیں یہ ایک حقیقت ہے کہ شہری کی فطرت میں اطاعت رچ بس جاتی ہے جو وہ اپنے لائف اسٹائل کی قیمت پر ہر کسی کی کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے، چاہے کوئی مرد مومن ہو یا اول درجے کا فاسق ... بری چیز انصاف کا نا ہونا ہے. اور لوگوں کا بری بات کو برا کہنے کو ترک کرنا ہے محض تعصبات کی بنیاد پر..

جواد احمد خان کہا...

یاسر بھائی ،
انکاری ہونا اچھی بات نہیں ہے تو خود ترحمی کا شکار ہونا بھی صحت مندانہ علامت نہیں ہے. اگر ہمارا حال برا ہے تو انکا ماضی لرزہ خیز حد تک بھیانک ہے. وہ ایک دن ، ایک سال یا ایک صدی میں یہاں تک نہیں پہنچے اسکے پیچھے صدیوں کے جرائم اور ہولناک تباہیاں ہیں.

ali کہا...

بالکل بجا فرمایا ۔ہمارے اعمال ایسے اعلیٰ ہیں کہ کیا ہی کہنے۔پاکستان سنبھلتا نہیں ایک فلسطین کا غم ساتھ پالا ہوا ہے پہلے کشمیر کا تو کچھ کر لو کشمیر دور کی بات کراچی کا مسئلہ ہی حل کر لو کیا وہاں مسلمان نہیں بستے یا مسلمان مسلمان کو مارے تو جائز کافر مارے تو ناجائز؟؟

فاروق درویش کہا...

بہترین تجزیہ و تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن نہایت ادب کے ساتھ اس جملے سے شدید اختلاف رکھتا ہوں ۔
"اگر یہ کہا جائے کہ غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کی عوام مسلمانوں سے اسلام سے بغض کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی بکواس ہوگی!! "
اسلامی نظریات سے تو روشن خیالوں کو بھی چڑ ہے کلیسائیوں کو کہاں ہضم ہوں گے ۔۔
سدا خوش آباد

فضل دین کہا...

شکریہ جناب۔ اتنی عمدہ تحریر کے لئے۔۔۔

عمران ارشد کہا...

فرقہ پرستی نتیجہ ہی اسلام سے دوری کا ہے.. قرآن تو کہتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ بازی نہ کرو. . اسی آیت میں یہ بھی ہے بتایا ہے کہ جو فرقے بناتے ہیں وہ کن لوگوں جیسے ہیں.

مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں. شہید کراچی کا ہو یا کابل کا یا غزہ کا.. دکھ اور افسوس ایک جیسا ہے.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.