سن!! میں کیا میرا دل بولے ہے!

میں کہوں ، بچہ تھا، شعور کی آنکھ کھلی  تو سیکولر لبرل مادر پدر آزاد معاشرے نے کانوں میں بانگ دی،  مست جوانی نے  بانگ کی ساز پر گھنگرو چھنکانے سے پہلے ہی ذمہ داریوں کا احساس دلایا دیا۔زندگی کے دریا کی طغیانی نے کچھ سانس لینے کا موقع دیا تو یاد آیا.

جنم لیا تھا تو مسلمان تھا۔چلو مسلمانی مسلمانی کھیلو!!۔۔مسلمانی کے کھیل میں کچھ گھڑ سواروں سے ہم راہی ملی تو روندتےہو ئےبولے
اللہ ،رسول ۔قرآن و حدیث کے علاوہ ہمارے بتوں کو بھی مان ،نہیں تو جہنم کا ایندھن بنے گا گمراہ!!میں بولا اے ہم راہو۔۔۔تم خوش تو تمہارے بتوں کو بھی مانے ہوں!
بولے تقیہ کرتا ہے !! منافقا!!۔۔میں بولا جان کا ڈر تو نہیں۔۔تقیہ کروں یا تکیہ میری مرضی!!!بحرحال تنگ نا کرو تے جینے دو۔۔میں وئی مر ہی جانا اے!!
بولے یہ جنت کا حقدار مومن نہیں ہے۔
دل تڑپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں بھیگیں ، دل چیخا!
جنت کا حقدارمومن کہہ کر میری تحقیر نا کر
میں اچھا انساں ہوں مجھے مسلماں رہنے دے
(اصل شعر کی زمیں پر میرا قبضہ)

ناتواں ضرور ہوں۔دبتا نہیں، جو دبتا نہیں اسے مذہبی بدمعاش بھی تنگ نہیں کرتے!اللہ سب کو خوش رکھے۔
مذہبی شیطان بولے ہے تیرے پیارے اللہ کا وجود نہیں!! میں بولا مجھے وجود سے کیا لینا۔۔میرا اللہ مجھے بہت ہی پیارا ہے ،میرے  دل میں دھڑکن ہے تو نتھنوں سے آتی جاتی سانس !! تو مان یا نہ مان!!

بولے قرآن اللہ نے نہیں اتارا!!۔۔بولے تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہے۔ میں بولا جا! جو دل میں آئے بکواس کر میں قرآن پڑھوں تو میرا دل کا سکوں ٹھاٹھیں مارے، نام پیارے نبی صلی اللہ و علیہ وسلم  کا لوں تو دنیا میرے قدموں میں پالتو کتے کی طرح لوٹے!!
میں بولا جا اوئے شیطان ! تجھے کیا معلوم میرے جیسے مفلس نے کتنی راتیں کتنے دن اپنے پیارے اللہ اور پیارے پاک نبی سے باتیں کرتے گذرے! کہ لوگ بولے اے پاگل ہے ،دیواروں سے باتاں کرے ہے!!
میں بولا !! تجھے بتاوں میرے مالک نے مجھے نوازا اور میں شہنشاہ ہوں!!۔ تو مان یا نہ مان!!

میں دیکھوں ہوں!! پیارے اللہ سے باتاں نا کرنے والے دو انتہاوں پہ کھڑے ہیں!!
میں دیکھوں دو انتہائیں۔۔۔ایک چوک پر لڑ رہی ہیں۔۔
ایک انتہا نے چوک کا نام بھگت سنگھ رکھ دیا
کہ بھگت سنگھ آزادی کا شہید تھا۔!
سنگھوں کی کرمانوں سے ذبحہ ہو تے مسلمان انہیں یاد نہیں!!
تخت لاہور پر سنگھ جب بیٹھے تھے تو انہیں مساجد کا اصطبل بنا دی جانا یاد نہیں!
کرپانوں کا شرمگاہ کو چیر دینا یاد نہیں!
ہنڑ بنڑیا ای پاکستان کا طعنہ یاد نہیں!!

بھگت سنگھ ہندوستان کی آزادی کیلئے شہید ہوا تھا۔
تمہارے باپ کے پاکستان کو آزاد کراتے ہوئے شہید نہیں ہوا تھا(پکی گل پتہ نی شاید)
دوسری انتہا نے چوک پر ختم نبوت چوک کا بورڈ لگا دیا ہے
اور مر گئے لٹ گئے۔۔کا ماتم!!
پوچھوں لیکن ذرا ڈر ڈر کے
اوئے ماما ایتھے آکے نبوت ختم ہو گئی تھی؟
میں پوچھوں ہر طرف موقع پرستوں، لٹیروں،تاجروں ، جاگیر داروں ،خانوں، وڈیروں کے نام پر گلی کوچوں کا نام رکھے ہو۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نیا نام

(1)اسلامی جمہوریہ میاں محمد شریف
(2) اسلامی جمہوریہ بلاول زرداری بھٹو
(3)اسلامی جمہوریہ شوکت خانم اسپتال

کونسا ٹھیک رہے گا؟
میں بولوں میری اتنی ہی مان!!
الطاف حسین جس دن کراچی ائیر پورٹ پر اترے تو
طافو بھائی انٹر نیشنل ائیرپورٹ کردے!
سن!! میں کیا میرا دل بولے ہے! سن!! میں کیا میرا دل بولے ہے! Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:07 PM Rating: 5

6 تبصرے:

dohra hai کہا...

جناب آپ کی بات بچا مگر اپنی کم عقلی کی وجہ سے کُچھ باتیں پر غیر واضح ہے۔ مُسلمانوں کا قتل عام ہوا سِکھوں نے کیا درست بہت غلط ہوا۔ مگر اِ س میں بھگت سِنگھ کا کیا قصور۔۔ اُس ذاتی کِردار اور عمل آنے والوں کا کے عمل کا جواب دہ نہیں ہے ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور مُسلمانوں کے لئے بُرا تھا۔ مانا۔ مگر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں سِکھوں کے ساتھ کیا زیادتیاں نہیں کی گئیں تھیں؟ کیا اُس دور میں ظُلم کی داستانیں رقم نہیں ہوئییں تھییں؟ سِکھ مزہت کے جدِ امجد بابا گُرو نانک ظُلم اور نفرت کا پرچارک قظعا نہیں کیا ۔ مگر بعد کے دور میں حالات اور ہماری تنگ نظری نے ہمیں ڈانگ سوٹے چُکنے پر مجبور کیا۔

dohra hai کہا...

جناب آپ کی بات بجا مگر اپنی کم عقلی کی وجہ سے کُچھ باتیں مجھ پر غیر واضح ہیں۔ مُسلمانوں کا قتل عام ہوا سِکھوں نے کیا درست۔ بہت غلط ہوا۔ مگر اِ س میں بھگت سِنگھ کا کیا قصور۔۔ اُس کا ذاتی کِردار اور عمل آنے والوں کے عمل و کِردار کا جواب دہ نہیں ہے ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور مُسلمانوں کے لئے بُرا تھا۔ مانا۔ مگر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں سِکھوں کے ساتھ کیا زیادتیاں نہیں کی گئیں تھیں؟ کیا اُس دور میں ظُلم کی داستانیں رقم نہیں ہوئییں تھییں؟ سِکھ مزہت کے جدِ امجد بابا گُرو نانک ظُلم اور نفرت کا پرچارک قظعا نہیں رہے ۔ وہ تو آپسی جھگڑوں اور نفرتوں کو ختم کرنے کا درست دیتے رہے ہیں۔ ۔ مگر بعد کے دور میں حالات اور ہماری تنگ نظری نے مُسلمان اور سِکھوں کو آپس میں ڈانگ سوٹے چُکنے پر مجبور کیا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دوھراھے صاحب میں نے بھگت سنگھ کو قصوروار نہیں کہا۔
دو انتہاون کی بات کی ہے۔اگر تعصب کا احساس پیدا ہو رہا ہے تو معذرت خواہ ہوں۔
بابا گرو نانک نے شاید حالات سے تنگ آکر ہی نبوت کا دعوی نہیں کیا اور ایک بالکل علیحدہ مذہب لیکر آئے۔اورنگزیب کے دور کے علاوہ بھی رعایا۔ہمیشہ حالات سے تنگ ہی رہی ہے۔
بس اورنگزیب کے دور میں سکھوں کی بار بار آزادی یا بغاوت کی کوششوں کی وجہ سے سکھ کچھ زیادہ زیر عتاب رہے۔
لیکن اسی اورنگزیب کے دور میں بار بار معافی کے باوجود سکھ وعدہ خلافی کرکے لوٹ مار قتل و غارت کرتے تھے۔تو جناب بھگت سنگھ کے نام سے بے شک چوک ہو نا چاھئے۔مجھے کو ئی اعتراض نہیں۔

جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ یاسر بھائی،
اس وقت نظریاتی پراگندہ خیالی کی جو کیفیت ہماری قوم میں ہے وہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے.
ہمیں ابھی تک اس بحث سے آگے ہی نہیں بڑھ رہے کہ ہمارے باپ داداکیا کرنا چاہتے تھے، ہمیں کیا کرنا چاہیے، کون دوست ہے اور کون دشمن اسکا اندازہ ہی نہیں ہے. یہ ملک نظریات اور خیالات کا مچھلی بازار بنا ہوا ہے.

فضل دین کہا...

کیا کہنے یاسر صاحب، دل موہ لیا آپ کی اِس تحریر نے۔ خدا سلامت رکھے اور آپ کے قلم کو مزید طاقت عطا فرمائے۔ بہت شکریہ اس پوسٹ کیلئے۔۔

فضل دین کہا...

کیا کہنے یاسر صاحب، دل موہ لیا آپ کی اِس تحریر نے۔ خدا سلامت رکھے اور آپ کے قلم کو مزید طاقت عطا فرمائے۔ بہت شکریہ اس پوسٹ کیلئے۔۔.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.