اللہ والے نکمے

آئیں کچھ دیر کیلئے ہی سہی۔ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں۔اگر مجھے کہا جائے کہ "تم کیسے پاکستانی معاشرے پر نظر ڈالو گے؟" یعنی جاپان میں بیٹھ کر پاکستانی معاشرے پر نظر ڈالنا میرےمجرم ہونے کیلئے یہی کافی ہے۔ ہو سکتا ہے مجھے طعنہ دے دیا جائے کہ میں پاکستان کے معاشرے کی معلومات صرف میڈیا کے ذریعے سے حاصل کر رہا ہوں۔
ہم دیار غیر میں برسوں سے بسنے والے ، صرف اس لئے کالے پانی کی قید کاٹ رہے ہیں ،کہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو اچھی زندگی گذارنے کے مواقعے میسر کریں۔ہمارے" گھر والے"  "بالغ" ہونے کے بعد ہم سے مختلف سٹارٹ لائن پر کھڑے ہوں۔اور زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد اچھی پوزیشن پر رہیں۔



ہماری خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کی پوزیشن ایسی ہو کہ ہمارے ہاتھوں کی طرف نا دیکھیں بلکہ اپنی زندگی میں خود مختار ہوں۔
معاشی معاملات میں  اپنی زندگی کے خود کفیل ہوں۔کسی کو پچیش بھی لگیں تو ہمیں فون نہ آئے کہ پچیش لگے ہیں کچھ کریں۔ جانا تو انہوں نے ڈاکٹر کے پاس ہی ہوتا ہے۔لیکن مالی معاملات میں پہلے ہی اے ٹی ایم چیک کرکے تسلی کر لیتے ہیں۔


پاکستانی معاشرے پر نظر ڈالنے کیلئے ہمارا اپنے گھریلو معاملات پر نظر ڈالنا ہی کافی ہوتا ہے۔چھوٹی ہمیشرہ کے کانوں کا مسئلہ ہے،ان کا آپریشن ہونا تھا۔لیبارٹی ٹیسٹ وغیرہ کا مجھے بتایا گیا تو مودبانہ عرض کیا ضرور کرائیں اور بل میں ادا کر دوں گا۔



ٹیسٹ وغیرہ ہوئے۔عید کے دوسرے دن فون آیا ۔کہ پرسوں  آپریشن ہے ۔میں نے کہا ضرور کرائیں۔مجھے بار بار کیوں بتاتے ہیں۔کوئی جانی خطرے والے بات بھی نہیں کہ مجھے ذہنی طور پر پہلے ہی کفن دفن کے اخراجات کیلئے تیار کر دیا جائے!
اعلی تعلیم دلوانے پر جو اخراجات ہوئے وہ گنگا رام میں بہہ گئے ،کہ  اسپتال میں داخل ہونے والے دن مبلغ اتنی رقم جمع کرانی ہے۔جو کہ کسی درمیانی طبقے کی سالانہ آمدن ہوتی ہے۔میں نے تو یہی کہنا تھا۔ بھئی جمع کرائیں نا کل آپ نے اسپتال داخل ہونا ہے۔تو ظاہر ہے۔آپ کے پاس اتنی رقم موجود ہے اسی لئے آپ نے ہفتہ دس دن پہلے نہیں بتایا!!
ظاہر ہے جن کے منہ سے نکلی خواہش پوری ہو جاتی ہو۔انہیں احساس کرکے پہلے ہی بتانے کی دردسری پالنے کی کیا ضرورت؟



دیر سے بتائیں یا پہلے بتائیں ان کا کام تو ہو ہی جانا ہوتا ہے۔اس دفعہ بھی مسئلہ حل ہو ہی گیا۔نا تو پہلے کبھی کوئی پلاننگ یا اندازہ لگانے کی تکلیف کی اور ناہی آئیندہ ایسا کرنے کی ضرورت کی طرف دماغ جائے گا۔۔اللہ بڑا بادشاہ۔۔ہمیشہ مسئلے مسائل حل کر دیتا ہے۔۔دماغ تو کھانے سونے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیلئے ہی دیا ہے ۔۔۔۔ہیں جی۔
یعنی ہمارا ہر مسئلہ اللہ میاں حل کر دیتے ہیں۔ہم مسلمان ہیں نمازیں پڑھتے ہیں قرآن کی تلاوت صبح شام کرتے ہیں۔اللہ میاں  ہمارے مسائل حل کرنے کیلئے اوپر سے جھانک رہے ہوتے ہیں!!

اللہ رسول اور دین اسلام سے محبت ہمارے معاشرے کی نفسیات میں گُندھی ہوئی ہے۔جس پر اعتراض کرنے کی ہمت تو خیر ہم میں قطعی نہیں۔ لیکن اگر ہم کسی دنیاوی معاملے میں عقل دماغ نام کے خیر ضروری اور غیر مرئی شے کے استعمال کی بات کر دیں تو سختی سے جسمانی تشدد نہیں تو الفاظی تشدد کا سامنا کرنا پڑھتا ہے۔اے ٹی ایم میں اللہ میاں نے روپے ٹھونس دیئے ہیں ، اے ٹی ایم کو کارڈ گھسیڑنے پر روپے باہر پھیکنے کا اختیار تو دیا ہے ،لیکن کسی کو عقل یا دماغ استعمال کرنے کا مشورہ دینے کا اختیار نہیں دیا۔۔۔



ایسے کرنے پر اے ٹی ایم کو مختلف نخرے برداشت کرنے پڑیں گے۔ اے ٹی ایم کو کسی قسم کے محسوسات نا رکھنے کے باوجودکھسیانہ کھسیانہ معذرت خوانہ رویہ اختیار کرنا پڑے گا۔یہ مجبوری اس لئے ہو جاتی ہے۔کہ اے ٹی ایم کو قرآن و حدیث سے ثابت کرکے یا ددہانی کرادی جاتی ہے کہ اس میں ٹھونسا گیا روپیہ اس کا نہیں ہے۔اللہ میاں کا ہے جنہوں نے اس میں ٹھونسا ہے۔ کون بدبخت انکار کرکے کافر ہونے کا فتوی وصولے گا؟ چپ کر تے برداشت کر۔ جنت تجھے مل ہی جانی ہے!!



روزمرہ زندگی سے لیکر کائنات کے دیوقامت پہاڑ ہوں یا حقیر ذرہ ہر بات اسلام پر ختم ہوتی ہے۔عالم سے لیکر جاہل تک ،کالم نگار سے لیکر گالم نگار تک ، رشوت خور پولیس سپاہی سے لیکر کام چور سرکاری کلرک تک، سربراہ مملکت سے لیکر ڈاکو تک، چوکیدار سے لیکر بھکاری تک، اور تو اور سورہ اخلاص نا پڑھ سکنے والے رمانڑ ملک تک کسی سے بات کرو یا اس کی بات سنو اس کا ایمان اٹل ہے۔



عوام کا ایمان اتنا اٹل ہونے کے باوجود ملک کے طول و عرض میں مذہبی تحریکیں دعوت دین، احیائےدین کیلئے مضطرب و پریشان پھر رہی ہوتی ہیں۔اور یہ اضطراب بڑھتا اس طرح نظر آتا ہے کہ ہر دوسرا بندہ حلیہ بدل کر قرآن و حدیث سنا رہا ہوتا ہے۔(یہ علیحدہ موضوع ہے کہ ان دینی تحریکوں کے مالکان اپنے اپنے ریوڑ میں اضافے کیلئے جان مار رہے ہوتے ہیں)
شاید آپ کا بھی مشاہدہ ہو۔کہ امامت کیلئے کسی کو کہنے کی آپ کو ضرورت ہی محسوس نا ہوئی ہو اور کوئی باریش مسلمانی لباس والے صاحب چھلانگ لگا کر مصلے پر کھڑے ہو جائیں اور جماعت کی صفوں کو درست کرکے نماز شروع کروا دیں۔آپ بے چینی اس وقت محسوس کریں جب امام صاحب زیر زبر پیش کا لحاظ کئے بغیر قرات شروع کریں۔ اور نا سمجھ آنے والی آسمانی زبان میں چھوٹی چھوٹی چند سورتوں سے  آپ کی جماعت مکمل کروائیں۔
سلام کے بعد مقتدیوں کیطرف نورانی چہرہ شریف موڑ کر ایک دو عدد احادیث مبارکہ سنا کر آپ کے ایمان کی تجدید کریں۔اور ایک عدد لمبی گڑگڑاتی دعا سے اللہ میاں سے آپ کی دنیا اور آخرت بخشوا کر آپ کو فارغ  کریں۔۔لیکن کوئی نمازی دوبارہ انہیں مصلے پر چھلانگ لگا کر پہونچنے سے روکنے کی ہمت نا کر  سکے گا۔۔
لیکن یہی صاحب جمعے والے دن سب سے پچھلی صف میں ہوتے ہیں۔خطبہ دیکھ کر بھی تو پڑھنا ہی ہوتا ہے نا جی۔



مجھے تو ہمیشہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مسائل پیدا بھی یہی چھلانگ لگا کر مصلے پر کھڑے ہونے والی ذہنیت سے ہوتے ہیں اور یہی ذہنیت ہمارے ہر گھر گلی کوچے میں اجارہ کئے ہوئے ہے۔لیکن ہم میں ہمت نہیں کہ ہم اس چھلانگیں مارتی ذہنیت کو روک سکیں۔۔روکنے کی صورت میں کافر ملحد سے آگے کا کوئی فتوی ہے تو وہ بھی لگ جانے کا خوف ہمیں اس سے روکتا ہے۔جانڑ دو ساڈی خیر اے۔

اللہ والے نکمے اللہ والے نکمے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:24 PM Rating: 5

15 تبصرے:

قیصر شہزاد کہا...

اچھا لکھا ہے آپ نے! عنوان سے یاد آیا کہ کئی ممالک کے تبلیغی دوروں سے واپس آنے والے ایک صاحب کا قولِ زریں تھا کہ انہوں نے کئی قوموں کو ’’مصروفیت کے عذاب میں مبتلا‘‘ پایا ہے۔

ali کہا...

ہائے ہائے یاسر بھائی روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں بس یہی حال ہے

ظہیر اشرف کہا...

درست فرمایا جی مگر ان دنوں سارا پاکستان ہی غازی بننے کے چکر میں ہے اسلئے احتیاطا مجھے آپ کی ان باتوں سے ہرگز اتفاق نہیں. نکمے جناب ہیں کہ شکر نہیں کرتے کہ اللہ نے موقع دیا ہے کہ جاپانی کافروں میں رہ کر بھی ثواب کمانے کا موقع مل رہا ہے ، مزید آپ فورا ہمارے علاقے کی ایک مسجد کی تعمیر مکمل کروائیں تو ممکن ہے کہ آپ کی چھلانگ والی بات معاف ہو جائے ورنہ ایسا کفر بولنے پر تو . . ... . .... ہیں جی.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔شکر ہے مسجد تعمیر کروا چکا

افتخار اجمل بھوپال کہا...

یہ تو میں جانتا ہوں کہ آپ اے ٹی ایم ہیں ۔مجھے بھی ایک چیز بھیجی تھی جسے دیکھ کر میں گاتا ہوں
اپنی یاد دلانے کو ہمیں ۔۔۔ بھیج دی
جناب ۔ آپ نے بھی میری طرح سب کو بُری عادت ڈال دی ہے ۔ مجھے تو 3 دہائیاں قبل والد صاحب نے آزاد کر دیا تھا ۔ شاید اسی کے صدقے پھر آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوتے گئے
باقی آجکل دکھاوا زیادہ اور دین پر عمل کم ہے
اللہ مجھے سیھی راہ پر قائم کرے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اللہ مجھے سیدھی راہ پر قائم کرے
پچھلے تبصرے میں د کھا گیا تھا

dr iftikhar Raja کہا...

اللہ کے بندو، آپ ٹینشنن نہ لو، ہماری اس دنیا کا نظام جسکا نام پاکستان ہے ایسے ہی ہے۔ اور ایسے ہی رہے گا، جہاں پر ہر بندہ بارلوں کی طرح ہی دیکھتا ہے۔ انہی کو گالی وی دیتا ہے، انکو ملک کا دشمن بھی قرار دیتا ہے اور پھر انہی کی زمین پر قبضہ بھی کرتا ہے۔ مطلب:
اور اسکی گلی کے کتے میری ٹانگوں واڈتے ہیں
اوپر سے وہ بھی مجھ ہی کو گالی کاہڈتی ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بزرگو کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حجاب کہا...

باہر ممالک میں روپے کیا درخت پہ لگتے ہیں ؟؟؟؟

dohra hai کہا...

ہمیں تو تجربے نے یہی دکھایا کہ اکثر نکمے اللہ سے بہت بہت پیار کرتے ہیں اب اللہ کو یہ کِتنے پیارے ہیں یہ تو خیر اللہ ہی جانے یا پھِر atm machine

زینب بٹ کہا...

سوچ بدل نہیں سکتی اور اے ٹی ایم بند نہیں ہوسکتے
لیکن اپنے حصے کا دیا جلاتے رہنا چاہیے

جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ جناب.....
انسان کے لیے خود کو مکمل طور پر تبدیل کرلینا تقریبآ نا ممکن ہوتا ہے. انسان کا خمیر نسیان سے اور کمینے پن سے بنا ہے. ان بنیادی جواہر کو اپنی ذات سے مکمل طور پر ختم کرلینا انسان کے بس میں نہیں.اگر آٹے میں نمک سے بھی کم کچھ لوگ تبدیل کر بھی لیتے ہیں تو صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کی توفیق اور اپنی اچھی نیت کی بنیاد پر. ایک اللہ والی ہستی بھی ان اوصاف کو ختم نہیں کر پاتی بلکہ قابو پا کر دبا دیتی ہے. جسکے لیے برسوں کی ریاضت درکار ہوتی ہے.
اللہ والے تو نکمے ہو ہی نہیں سکتے جناب کیونکہ وہ تو خواب و خیال تک پر پہرے بٹھا کر زندگی بھر مجاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ مبادا کوئی خواہش بھولے بھٹکے دل میں نا آجائے کوئی خیال غلط عمر بھر کی ریاضتوں کو برباد نا کردے.
ڈھونگیوں کی بات الگ ہے. ہم سب ڈھونگی ہی تو ہیں. اپنی مرضی کا خدا اپنی مرضی کی شریعت اور اپنی مرضی کی اخلاقیات کون نہیں ڈھونڈ رہا ہے.

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
پتہ چلا کہ آپ کا شمار بھی دل جلوں میں ہوتا ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ کی یہ تحریر اگر پاکستان میں پڑھ لی گئی تو آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں ۔۔
بہر حال ۔ آپ کی بات نکتہ افروز ہے۔ کہ آخر ہم ہر شئے اللہ تعالٰی پہ چھوڑ کر کیوں اسقدر بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ اور خود اللہ تعالٰی کے احکامات سے صرف نظر کر لیتے ہیں ۔ جس میں اللہ تعالٰی نے محنت کرنے اور مسلسل جدوجہد کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس سے مسلمان عزت پاتے ہیں۔ بہر حال ۔۔ ۔۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

شرمندہ تو میں خود ہوں اپنی شرمندگی دُور کرنے کی کوشش میں حماقت کر بیٹھا ہوں ۔ ویسے منتظر ہوں اُس دن کا جب آپ کی زیارت ہو گی ۔ آپ نے 2 سال ہلکا سا وعدہ کیا تھا اور میں خوش ہو گیا تھا کہ آپ میرے ڈیرے کو چند لمحوں کی رونق بخشیں گے ۔ اُس دن کی انتظار میں ہوں (غریب خانہ کہنا مجھے پسند نہیں کہ اللہ کے برگزیدہ بندے جھونپڑوں میں رہ کر شاداں تھے)

عمران اقبال کہا...

اوئے ہوئے۔۔۔ میں نے یہ پوسٹ پہلے کیوں نا پڑھی۔۔۔

یقین کریں کہ جو کچھ آپ نے لکھا، میرا بھی یہی ذاتی تجربہ اور سوچ ہے۔۔۔ ڈاکٹر جواد صاحب اللہ والے بندے ہیں۔۔۔ انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ زبردست اور حقیقت آشنائی۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.