عنیقہ جی

الفاظ نہیں کہ دکھ کی شدت کا اظہار کروں۔
جب تک زندہ تھیں۔جینے کا حق ادا کرتی رہیں۔منافق نہیں تھیں۔
کسی کے ڈر سے اپنی بات کہنے  سےنہیں ڈرتی تھیں۔
دل سے یہی دعا نکل رہی ہے۔
اللہ میاں کے پاس خوش رہیں۔
اللہ تبارک تعالی مرحومہ کی مغفرت فرمائے۔اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
ہمیشہ ان سے نظریاتی اختلاف ہو جاتا تھا۔
لیکن ان کا لکھا پڑھے بغیر رہ بھی نہیں سکتے تھے۔
ان کی تحاریر کے مواد سے متفق نا ہونے کے باوجود ان کی تحاریر  کی کشش ہمیں ان کے در پر لے جاتی تھی۔
اردو بلاگستان میں رونق ہی ان کے دم سے تھی۔
زندگی میں شاید ہی کسی قیمتی اثاثے کے چھن جانے کا اتنا دکھ ہوا ہو۔
عجیب دلی حالت ہے۔نوالہ حلق سے نہیں اتر رہا تو آنکھیں خشک نہیں ہو رہیں۔
بار بار زبان سے یہی الفاظ نکل جاتے ہیں۔
عنیقہ جی ۔۔۔۔عجیب شخصیت تھیں آپ بھی۔
ہم تو ایسے مفلس ہیں کہ آپ کی یاد میں  کچھ لکھنے کیلئے  الفاظ ہی نہیں۔
عنیقہ جی عنیقہ جی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:31 PM Rating: 5

20 تبصرے:

عبدالقدوس کہا...

اللہ تعالٰی مرحومہ پر رحمت کرے اور مرحومہ کے پسماندگان کو صبر عطا کرے. آمین

عادل بھیا کہا...

نہ یقین آتا ہے اور نہ لکھنے کو الفاظ...... بلاگستان کیلئے اِنکی کمی کو شائید ہی اب کوئی بلاگرہ پورا کر سکے۔ کبھی اُنسے ہونے والی ہر بحث نہایت قیمتی لگنے لگتی ہے اور کبھی نہایت بُری لگنے لگتی ہے کہ ہم اتنی مختصر زندگی پر کیوں بحث میں اتنے آگے نکل جاتے تھے، آج اُن پر سب حقیقت واضح ہوگئی ہوگی اور بہت جلد ہم سب پر بھی ہوجائے گی :(

اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، اُنکے درجات بلند اور لواحقین خصوصاً بچی کو صبر جمیل اور خوشیاں عطا فرمائے۔
اللہ اُنکے وصال کو ہمارے لئے بھی باعثِ ہدایت بنائے (آمین)

سعود کہا...

آمین ثم آمین

ali کہا...

مرنے والوں سے جینے والے زیادہ قابل ترس ہیں کہ مر بھی نہیں چکتے اور جینا تو بذات خود موت سے زیادہ مشکل ہے۔
ہم لاچار سوائے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے کے اور کیا کرسکتے ہیں۔اللہ انکی بیٹی کو تمام آفات سے محفوظ رکھے اور مرحومہ کو بے حساب بخشے۔

بنیاد پرست کہا...

عنیقہ صاحبہ کے انتقال کی خبر میرے سمیت جس نے بھی سنی اسے اس بات پر یقین نہ آیا۔ مگر موت سے کس کو انکار ہے جی ؟ ہر کسی نے مرنا ہے، حق تو یہ ہے کہ موت ایسی ہونی چاہئے کہ جانے والے کو ہر کوئی اچھے لفظوں سے یاد کرے، جیسے عنیقہ صاحبہ کے ہم خیال اور مخالف سب ہی ان کے لیے دعا کررہے ہیں، اللہ انکی لغزشیں معاف فرماۓ، ہمیں اور ہمارے مخالف مکتبہ فکر کے لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم لوگ بھی ایسی شخصیت اور طرزعمل کے مالک ہیں کہ ہمارے جانے کے بعد کوئ ہمیں بھی ان لفظوں سے یاد کرے گا.؟

اظہرالحق کہا...

انا للہ و انا الیہ راجعون
واقعٰی موت ایسی حقیقت ہے جس کا یقین مرکر ہی آئے گا
عنیقہ ان منافقوں کی بھیڑ میں ایک بہت ہی اسٹیٹ فارورڈ تھیں
انکے ساتھ مرحومہ لکھتے بھی عجیب لگ رہا ہے
اللہ انکے درجات بلند کرے
آمین

غلام عباس مرزا کہا...

اللہ ان کی مغفرت کرے

قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور!! کہا...

[...] عنیقہ ناز چلی گئی عنیقہ جی یادیں عنیقہ ناز صاحبہ :مشابہ موضوعات ایملین پجٹ [...]

عمران اقبال کہا...

یاسر بھائی، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عنیقہ کے پائے کی اردو لکھاری شاید ہی دیکھی ہو... مرحومہ انتہائی بے باک اور بغیر کسی خوف کے اپنا موقف پیش کرتی تھی، جو شاید انہیں کا خاصہ تھا... جب سے میں نے یہ خبر سنی ہے، دل بہت ہی بجھا ہوا ہے... ایسا لگتا ہے کہ اپنا بہت ہی قریبی دوست کھو چکا ہوں، جبکہ ان سے ہماری بحثیں اور اختلافات ہمیں زندگی میں دوست نا بنا سکے... اللہ مرحومہ کو جوارِرحمت میں جگہ عطا فرمائے... اور ان کے سارے گناہ معاف فرمائے... اللہ تبارک تعالیٰ مشعل کو حوصلہ عطا فرمائے... اتنی چھوٹی عمر میں ماں کھو دینا ایک بہت بڑا سانحہ ہے...

م بلال م کہا...

نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر ڈاکٹر عنیقہ ناز عجب خاتون تھی، انہیں جو حق لگا، وہ کہہ دیا۔ نہ کوئی ڈر، نہ کوئی خوف۔ بہت ہی حوصلے والی اور بہادر خاتون تھی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔ آمین

مکی کہا...

واقعی الفاظ دکھ کی شدت کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں، اپنے آپ میں ہی ادارہ تھیں، زندگی وفا کرتی تو جانے کیا کیا کارہائے نمایاں سر انجام دیتیں.. یہ ان کی صلاحیتوں کی دلیل ہی ہے کہ دیرینہ رقیب بھی صفِ ماتم بچھائے بیٹھے ہیں..

طاہر بٹ کہا...

ہمارا ساتھ عنیقہ ناز کیساتھ بہت کم رہا مگر جتنا ہم نے دیکھا اس کے مطابق وہ بہت بہادر نڈر اور بے باک خاتون تھیں.
حقیقت میں آج اردو بلاگرز اپنے ایک اچھے ساتھی سے محروم ہو گئے ہیں.
اللہ عزؤجل مرحومہ کے درجات بلند کریں آمین

عمران اقبال کہا...

بے شک۔۔۔

ارتقاءِ حيات کہا...

انا للہ وانا الیہ راجعون۔
میرے لئے بھی یہ خبر نہایت غم انگیز ہے۔یقین نہیں آ رہا یہ سن کر۔کچھ گھنٹوں پہلے اپنے شوہر کی زبانی سنا پھر فیس بک پر تحریر پڑھی تو آنکھوں میں ان کی اپنی تحریروں پر ان کےتبصرے یاد آنے لگے،میرے بھی عنیقہ سے نظریاتی اختلاف تھے اتنے شدید نہ تھے کہ دل میں کدورت پیدا ہو واقعی وہ ایک معتبر اور قابل احترام شخصیت تھیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت نصیب کرے ، آمین
مشعل کو اللہ ان کی دی ہوئی تربیت پر عمل کرنا ان کی دکھائی ہوئی راہ پر چلنا اور علم و عمل میں آگے بڑھنا نصیب فرمائے
نیک اولاد صدقہ جاریہ ہوتی ہے اللہ ان کی اولاد کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرما
دیگر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرما۔

آمین

نورمحمد کہا...

انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر عطا کرے . آمین

شعیب سعید شوبی کہا...

اب کون ان کے جیسے انوکھے اور بولڈ سوالات کیا کرے گا؟ کون تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے لائے گا؟ ان کے نظریات سے لاکھ اختلافات کے باجود ان جیسی علمی گفتگو اب کون کرے گا؟ حقیقت میں اب فیس بک پر اردو کمیونٹی کے علمی مباحثوں کی رونق مانند پڑ جائے گی۔ فیس بک پر لاگ ان ہونے کے بعد ان کی کمی واضح محسوس ہو رہی ہے۔
اللہ کریم ان کے درجات بلند کرے۔ ان کی فیملی کو یہ سانحہ برداشت کرنے کا حوصلہ نصیب کرے! آمین!

shiz کہا...

کاش کہ کویہ یہ سوچے کہ یہ ذندگی عارضی ہے اللہ اور اسکے رسول ص کے طریقوں پر چلنا ہی اصل کامیابی ہے اللہ مرحومہ کی خطاؤں کی بخشش فرمائے اور ان کو جوار رحمت میں جگہ دے آمین

جواد احمد خان کہا...

عجیب بات تو یہ ہے کہ ہمیں اختلاف کرنے والے سراہنے والوں سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں. کیونکہ ایک تعلق چاہے منفی قسم کا ہی کیوں نا ہو ، پیدا ہوجاتا ہے. عنیقہ ناز کی زندگی میں اس تعلق کو ہم نے محسوس نہیں کیا مگر آج جب وہ ہم میں نہیں ہیں تو ہر دل اداس ہے. انکی کمی سیارہ پر بہت طویل عرصہ تک محسوس کی جاتی رہے گی.

رضی کہا...

.إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

فاروق درویش کہا...

انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حق مغفرت کرے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.