ہم اور بھکشو جی کی لفاظی

بہت تھکاوٹ ہو رہی تھی سوچا ذرا ذہنی تفریح کیلئے اپنے پیارے بھکشو صاحب سے ہی ملاقات کرتے ہیں۔بھکشو صاحب کو فون کیا تو شاید ایک دو جام دن چڑھتے ہی نوش فرما چکے تھے۔ حال احوال پوچھنے کے بعد عرض کیا بھکشو صاحب آئیں ذرا ایک کپ چائے کا ہو جائے یا لنچ کیلئے ہی چلتے ہیں۔


بھکشو صاحب ایک دو جام نوشنے کے بعد عموماً بیدار مغز ہو جاتے ہیں۔میری دعوت ملنے کے بعد سرسری آواز میں گویا ہوئے۔صاحب کیا کوئی ٹینشن ہے جو مجھے دعوت دے رہے ہیں؟


ہم نے کہا ارے نہیں بھکشو صاحب آپ کا جب دل کرتا ہے ملنے آجاتے ہیں تو آج ہمارا دل آپ سے ملنے کو تڑپا تو شک کرنے لگے؟
بھکشو تیز آواز میں بولے نہیں ، نہیں ایسی کوئی بات نہیں میں لنچ پر آپ کے ساتھ ہوں گا۔ فون بند کرتے ہی منہ سے ایک دو عدد صلواتیں نکلیں چائے پینے نہیں لنچ کھانے ہی آؤ گے۔ واہ اوئے بھکشو دوسرے کی جیب سے مال نکلوانا کو ئی آپ سے سیکھے۔
بھکشو صاحب آئے تو وہی رونا سننے کو ملا کہ آجکل منتیں مانگنے والے مندر نہیں آتے اور نا ہی دعائیں کروانے والے بلاتے ہیں۔مرنے والے جو مرتے ہیں تو وہ بھی دوسرے فرقے والے ، دوسرے فرقے کے بھکشوؤں کی تو موجیں لگی ہوئی ہیں اور اپنا دھندا ٹھنڈا ہے۔


بھکشو صاحب کو دین مذہب سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے ،باپ دادا نے ٹیمپل بنا دیا تھا ، اسی سے دال روٹی چل رہی ہے، مزے کی بات جاپان میں مذہب کی عبادت گاہوں کیلئے ٹیکس وغیرہ نہیں ہوتا۔جو جیب میں آیا گول کری جاؤ والا نظام ہی چلتا ہے۔اس لئے  پاکستان کے ترقی یافتہ دانشور پاکستانی مساجد و مدارس کے گوشوارے جمع نا کروانے پر "تپیں" نا کہ ادھر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔صدقہ خیرات زکواۃ چندے پر  حکومت کا ٹیکس لگانا ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ،کہ لٹیرے ہر قسم کے مال کو حلال ہی سمجھتے ہیں۔

بھکشو صاحب کے پاس ہمیشہ کاروباری آئیڈیاز کا انبار ہوتا ہے ،بس بیچارے بوجہ ھڈ حرامی خود کچھ نہیں کر سکتے ۔مشورے دیتے اور لیتے ہی رہتے ہیں۔ہمیں تو بھکشو صاحب سے ذرا الفاظ کی چاند ماری کرنی تھی ۔ان کا رونا دھونا سننے کے بعد ہم نے اچانک پو چھ لیا۔
شیطان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(کچھ لمحوں کی خاموشی سے بھکشو صاحب کے کان کھڑے ہوگئے کہ شاید اس نے مجھے شیطان کا کہا ہے)
ہم قدرے خاموشی کے بعد گویا ہوئے۔
شیطان ۔۔۔کے مطلق آپ کے کیا خیالات ہیں؟
بھکشو صاحب  نےدیدے گھوما کر ہمیں گھورا اور شاید سمجھ گئے کہ ہم ان سے پھر کوئی انگلی کر رہے ہیں۔


اتنا بتا دوں کہ بھکشو صاحب مذاہب پر انتہائی وسیع معلومات رکھتے ہیں اور اسلام کے متعلق میرے جیسے مسلمانوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ یعنی بھکشو صاحب ٹھیک ٹھاک عالم صاحب ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ عموماً الم زدہ ہی رہتے ہیں۔ رام رام جپنا پرایا مال اپنا کا کلیہ اپنے من پسند انداز میں کام نہیں کرتا اس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھکشو صاحب بولے کہ شیطان بری مخلوق ہے،وہ بندوں سے برے برے کام کرواتاہے۔



ہم نے کہا بھکشو صاحب یہ برے برے کام کونسے ہو تے ہیں؟
بھکشو صاحب کچھ دیر خاموشی کے بعد بولے کہ برے کام تو سارے ہی برے ہوتے ہیں بس اپنے اپنے بسنے والے معاشرے کے مطابق کہیں یہ کام برے نہیں سمجھے جاتے اور کہیں اچھے نہیں سمجھے جاتے ۔میں سمجھ گیا کہ بھکشو صاحب طرح دے گئے۔


میں نے پھر پوچھا  ۔ مثلاً؟


جامِ مغرب اور جامِ محبت کو تمہارے معاشرے میں" نوش " کرنا برا سمجھا جاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں زندگی کا حصہ ہے!!


لیکن بھکشو صاحب یہ تو معاشرے میں برا سمجھنے کی نسبت مذہب میں منع ہے۔


ہر مذہب میں تو نہیں ! تمہارے مذہب میں منع ہونے کے باوجود یہی دو انعام اگلی زندگی میں پر کشش بنا کر بتائے جاتے ہیں!!!


لیکن بھکشو صاحب یہ دو انعام تو برے برے کاموں سے بچنے والے کو ملیں گے نا، اور برے برے کاموں کی  تفصیل کو گول کر گئے۔(ہم نے ذرا طنز کر دیا)
وہ میں نے بتایا جو ہے کہ اپنے اپنے معاشرے کے اصولوں کے مطابق کچھ کام اچھے ہونے کے باوجود برے اور کچھ کام برے ہونے کے باوجود اچھے ہو جاتے ہیں۔(بھکشو صاحب پھر صفائی سے بات گول کر گئے)۔


 بھکشو صاحب میں نے آپ سے شیطان کا پو چھا آپ نے فرمایا کہ وہ انسانوں سے برے برے کام کروانے والی مخلوق ہے۔اب آپ کہہ رہے ہیں کہ برے کام تو معاشرے کی نظریا ت یا اصولوں کا قصور ہو تے ہیں!!


ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر معاشرے کے شیطان بھی اپنے اپنے ہو تے ہیں۔ جیسے خدا اپنے اپنے!!!
بھکشو صاحب یہ کیا بات ہوئی؟ آپ تو یہ بھی مانتے ہو کہ کائنات کو ایک ہی "طاقت" چلا رہی ہے۔!!


ہاں ۔۔۔وہ میں مانتا ہوں۔۔۔۔۔لیکن دیکھو نا۔۔وہ طاقت۔۔تمہارے معاشرے میں اللہ ہے اور ہمار ا"کامی ساماں " ہندوؤں کا "بھگوان" اور عیسائیوں کا " گاڈ" وغیرہ ہوا نا!
بس اس طرح شیطان بھی اپنے اپنے ہیں۔
بھکشو صاحب یہ کیا سطحی سی بات کی آپ نے اپنی اپنی زبان میں یہ تو سب اللہ کے نام ہیں۔ یعنی اسی طاقت کے جو اس کائنات کا نظام چلا رہی ہے!!
بحرحال چھوڑیں یہ بتائیں ۔۔۔آپ بھی اگلی زندگی میں امید رکھتے ہیں کہ آپ کو بھی ہم مسلمانوں والے انعام ، جام مغرب و جام محبت ملیں گئے؟


کیوں نہیں!! میں ایک اچھا بندہ ہوں! مجھے بھی اگلی زندگی کے انعام ملیں گئے۔
او نہیں بھکشو صاحب !!! جو شخص اس کائنات کے خالق کے حقو ق ٹھیک طریقے سے ادا نا کرے وہ تو ان انعامات کا مستحق نہیں ہو سکتا!!
اور آپ تو مشرک بت پرست ہو!! اپنے مندر میں بت  بیٹھاکر پو جا کرتے اور کرواتے  ہو۔آپ کا ان انعامات پر کو ئی حق نہیں!!!(ہم نے بھکشو صاحب کو ایک عدد طنزیہ مسکراھٹ سے بھی نواز دیا)


بھکشو صاحب کسی  انتہائی  بڑےنقصان کے اندیشے  سے بیچین ہوئے ایسا لگا کہ ابھی وہ ہونے والے نقصان کاسوچ کر ہارٹ اٹیک کا شکار ہو جائیں گئے۔۔میں منتظر ہی تھا کہ ابھی بھکشو صاحب اپنے سینے کا "کھبا" پاسا پکڑکر "چیخاں" مریں گے۔۔
لیکن اچانک بھکشو صاحب کے چہرے پر اطمینان کی موجیں ٹھاٹھیں مارتی نظرآئیں!!اب پریشان ہونے کی میری باری تھی کہ بھکشو صاحب کے دماغ کو میں سمجھتا ہوں۔۔سو چا دیکھو کیا نکلتا ہے بھکشو صاحب کے منحوس منہ سے!!



بھکشو صاحب باچھیں چیرتی مسکراھٹ سے بولے ،فرشتوں کے سردار نے جب آدم کو سجدہ نا کیا تو اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
میں نے کہا لعنتی و ملعون ہوا اور خدا کے دربار سے نکال دیا گیا!!
بھکشو صاحب مسکرائے اور بولے ،ثابت ہوا میں کوئی برا کام نہیں کرتا! میں اچھا آدمی ہوں!خدا نے خود شرک کرنے کا کہا اور ہم بھی آدم کی ہی مورت کو پوجتے ہیں نا۔تو خدا کا حکم یہی ہے نا!! اس لئے میں بھی انعامات کا مستحق ہوں!!
او بھکشو صاحب قرآن میں ایساکرنے والوں کو جہنمی کہا گیا ہے۔


قرآن تو تمہاری مذہبی کتاب ہے ،ہماری نہیں!!!
میرا دل کیا کہ چکن تکہ کاٹنے والے کانٹے سے بھکشو صاحب کا دماغ کھول کر دیکھوں کہ اس میں بھو سا بھرا ہے یا خناس!!!


اس لئے مزید مزے لینے کے ارادہ پر میں نے لعنت بھیجی اور بل ادا کرکے گھر کو چلدیا۔
یہ ایسی ہی بات ہے ،ہم کہیں اللہ میاں تو اپنی چال چلتا ہے۔
اور کوئی شیطان کا چیلا  ،مذہب سے محبت کرنے والوں  کے جذبات سے کھیلنے کیلئے کہے کہ اللہ تو چال باز ہے!!!
یہ تو الفاظوں کے ہیر پھیر سے زیادہ کچھ نہیں۔۔کوئی عالم یا علم والا۔جب ذہنی پستی میں گرنا شروع ہو تاہے تو ایسے ہی الفاظ کے ہیر پھیر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۔ اور اللہ میاں کی سزا یہی کافی نہیں کہ لوگوں کے دلوں سے ایسا شخص کا احترام ختم کردے؟!!
ہم اور بھکشو جی کی لفاظی ہم اور بھکشو جی کی لفاظی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:20 PM Rating: 5

7 تبصرے:

وقاراعظم کہا...

بھکشو صاحب کی کان کے نیچے لگانا تھا :D

عبدالرؤف کہا...

ڈور سلجھا رہا ہوں ، سِرا نہیں ملتا
فلسفی کو بحث میں خدا نہیں ملتا

بہت ہی عمدہ تحریر ہے، یاسر بھائی، دراصل دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ محض الفاظ کے ہیر پھیر سے اپنے دل میں پوشیدہ بُغض کو اپنے تیئں انتہائی کمالِ ہوشیاری سے صاحبِ کلام کو اُسی کے کلام سے جھوٹا اور مکار ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

کوئی پوچھے کہ بھلا چاند کو داغ دار کہنے سے کیا اُسکی افادیت میں کوئی کمی ہوجائے گی؟ اور چاند تھوکنے سے بھلا چاند کا کیا نقصان؟ اُلٹا اپنا ہی تھوکا خود اپنے چہرے پر آگِرتا ہے۔ مگر ایسی عام سی باتیں سمجھنے کے لیئے نامنہاد عقلمندوں کو شیطان کی شاگردی چھوڑنی پڑتی ہے، جو کہ ایسوں کے لیئے شائد ناممکن ہے۔

خالد حمید کہا...

ہممممم

ali کہا...

بھکشو صاحب واقعی بھکشو صاحب نکلے۔پر یاسر بھائی ہم سب گناہ کیے جارہے ہیں اور خود کو مختلف طریقوں سے اپنی دانست میں بچا بھی لیتے ہیں کہ بے نمازی کہتا ہے میں شراب تو نہیں پیتا، شرابی کہتا ہے میں زانی سے اچھا ہوں ، زانی کہتا ہے میں حقوق العباد پورے کرتا ہوں ،بندوں کے حقوق غضب کرنے والا کہتا ہے ہر کلمہ گو جنت میں جائے گا۔وہ تو پھر بھی غیر مسلم ہیں ہم نے اپنے دلوں میں بت بٹھائے ہوئے ہیں اگر مشرکوں نے بت پوجے تو کیا برا کیا۔
اللہ معاف کرے جی بس باقی جی ہم پوری سوری کی کھڑے ہیں

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ہا ہا ہا ہا ہا
یاسر بھائی!۔ آپ نے ناحق بل بھر اور بھکشؤ صاحب آپ کو طرح دے گئے۔
عقل نہائت عیار ہوتی ہے۔ جب اسکے سامنے دل دیوار بن کر نہ کھڑا ہو تو یہ سینکڑوں بہانے تراش لیتی ہے۔ جبک بھکشؤ صاحب کے حالات جو آپ نے بیان کئیے اسکے بعد یہ ظاہری سی بات ہے کہ وہ اپنے پیٹ پہ تو لات مارنے سے رہے۔
دنیا میں لمبی ترین کریجوئشنز میں سے ایک کھیتولک پادری حضرات کی ہوتی ہے۔ جسکا دورانیہ حال میں ہی ویٹی کان ۔۔ گیارہ سال سے سات سال کیا ہے۔ آپ زرا تصور کرسکتے ہیں کہ ان سات سالوں میں انھیں کیا پڑھایا جاتا ہےـ ان سالوں میں بائبل کے علاوہ جہاں فلسفہ اور دیگر علوم کے علاوہ دیگر ادیان یعنی دوسرے مزاھب اور خاصکر اسلام کے بارے بھی اپنے مخصوص زاویہ سے روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اور اسکے بعد انھیں گلی محلے کے چرچ میں کھیتولک فرقے میں چرچ کے سب سے چھوٹے اہلکار کے طور پادری مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک پورا نظام ہوتاہے۔ اور پادری مقرر کرنے کے بعد ان پہ مذہبی چیک ہوتا ہے ۔ جو تاحیات ان پہ مسلط رکھا جاتا ہے۔ جس کی بناء پہ انکی ترقی یا تنزلی ہوتی ہے اور دنیا بھر کے کھیتولک چرچ کا سب سے بڑا عہدہ ویٹی کان میں پاپائے روم ہوتے ہیں۔ جہاں سے آخری فیصلے اور احکامات دنیا بھر میں رہنے والے کھیتولک چرچ کو ترسیل کئیے جاتے ہیں۔ یعنی بظاہر ایک سادہ سا مزھبی معاملہ اپنے اندر کسقدر پیچیدہ اور ریاستی نظام رکھتا ہے۔اور یوں ہزاروں سالوں سے ہوتا آرہا ہے۔اسکی تاریخ ہزاروں سالوں پہ مشتمل ہے
اسی طرح کا معاملہ تقریبا باقی دیگر نصرانی فرقوں کے ساتھ بھی ہے۔
یہ بھی ایک وجہ تھی اور ہے کہ درس نظامی اور اہل تشعیع میں آئت اللہ نامی خطاب اور ڈگری ۔ کا دورانیہ لمبا اور اس میں علمائے دین کی مکمل تیاری کی جاتی رہی ہے۔
ایران میں آئت اللہ نامی تعلیمی سلسلے کو نہ صرف مظبوط کیاگیا ہے بلکہ دنیائے جدید کے چیلنجوں کے پس منظر میں اپنے آئت اللہ اکرام کو علم کا پورا بدوبست کیا ہے۔ جب کہ برصغیر اور پاکستان میں خاصکر بجائے اس کے کہ درس نظامی کے لئیے علماء دین کو سہولیات بہم پہنچانے کے الٹا ان کو بد قسمتی سے مذاق بنا دیا گیا۔
کیونکہ ۔ علم ہی ایک وہ ایسی طاقت ہے جو دیگر مزاھب کے علماء کو قائل یا لاجواب کر سکتی ہے۔ اور علماء ہی اپنی قوم کے دینی اعتماد کو بحال رکھتے ہیں۔

ٹوٹ بٹوٹ کہا...

متضاد کیفیت کی حامل تحریر.... . دہریوں کے لئے سکون آوور ، مشرکوں کے لئے تسلی بخش ، کچے مسلمانوں کے اذہان کے لئے انتہائی خطرناک ( کیونکہ وہ اس تحریر سے منفی نتیجہ اخذ کر سکتا ہے ) .

نوید حسین کہا...

"بھکشو صاحب بولے کہ شیطان بری مخلوق ہے،وہ بندوں سے برے برے کام کرواتاہے۔" :) یہ بھی بھکشوؤں کا پھیلایا مغالطہ ھے کیونکہ برے کام شیطان کرواتا نہیں کیوں کہ شیطان کی کیا مجال کہ خدا کی بنائی کسی مخلوق پر وہ زبردستی کرجاۓ برے کام تو انسان خود بڑے شوق سےکرتا ھےشیطان تو بس بری راہیں مزین کرکے دیکھاتا ھے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.