تہذیبی نرگسیت کے شکار عزت کے بھیکاری

ہر پشتو بولنے والے کے ساتھ خان لگا ہوتا ہے، اگر پشتو نہیں بھی آتی تو آباؤ اجدا دپشتو بولنے والے تھے اس لئے خاندانی نام خان ہوتا ہے، قبیلہ وغیرہ کوئی ناکوئی مل ہی جاتا ہے کہ ہم اس قبیلے سے تھے،پنجاب میں عموماً لفظ چوہدری استعمال کیا جاتا ہے۔جب تک مویشی پالنا مویشیووں کا دودھ بیچنا روزگار ہوتا ہے تو قوم گجر ہوتی ہے اور اس کے بعد معاشی کامیابی کے بعد چوہدری ہو جانا میں نے اپنے دوستوں کو ہوتے دیکھا ہے۔محمد بوٹا کے والد صاحب درزی تھے اپنی کمسنی میں سونار کے پاس دور  غربت میں کمانے اور ہنر سیکھنے بیٹھ گئے۔
کچھ عرصہ جاپان میں فیکٹریوں میں کام کیا ،بھائی سمجھدار تھے ان کی کمائی سے دو چار دکانیں خرید لیں ،ایک سونار کی دکان اور  کچھ گارمنٹس کی دوکانیں کچھ عرصہ بعد ایک عدد پرائیویٹ سکول بھی کھل گیا۔ کیونکہ ہمارے تو پرانے دوست تھے اس لئے ہم اوئے  بوٹے ہی کہتے تھے۔کچھ سوچے سمجھے بغیر دوکان پر گئے اور کہا بوٹا ابھی تک نہیں آیا ۔ان کے بھائیوں نے نہایت تحمل سے پوچھا "چوہدری صاحب" کا پوچھ رہے ہیں؟
یہ بھائی بھی مجھے اچھے طرح جانتے تھے اور اپنے بھائی کا نام بوٹا بھی اچھی طرح جانتے تھے۔۔میرے لئے اشارہ ہی کافی تھا اس لئے نہایت مودبانہ طریقہ سے عرض کیا "چوہدری " صاحب ابھی تک تشریف  نہیں لائے؟
میرے الفاظ ایسے ہی تھے لیکن ان بھائیوں کے چہرے پر ایک اطمینان سا طاری ہو گیا اور کہا بھائی جان آپ تشریف رکھیں "چوہدری " صاحب ابھی آتے ہیں۔چوہدری صاحب آئے تو اکیلے میں ان سے پوچھا اوئے بوٹے تو چوہدری کہلواتا ہے؟
بوٹے نے ہنس کر کہا یا ر تو جاپان میں بستا ہے اس لئے سید ہونے کے باوجود شاہ جی کہلوانا برا محسوس کرتا ہے۔میرا یہاں پر جینا مرنا ہے ،عزت نا کروا و ں تو ہر دوسرا بندہ روزانہ بے عزت کر تا رہے گا۔ہمارے معاشرے میں  تعلیم کی کمی کی وجہ سے میرے جیسا بندہ  فلاں چوہدری صاھب فلاں شاہ صاحب فلاں خان صاحب کہنے  کےبجائے اوئے شاہ اوئے چوہدری اوئے پٹھانا ہی کہہ کر مخاطب ہو گا۔۔
اگر امریکی معاشرے کی طرح اعلی تعلیم  کے اثرات عام ہوں گے تو  میرے جیسا بندہ "ف" والے لفظ کے ساتھ کنگ لگا کر فلاں شاہ از مائی بیسٹ فرینڈ کہہ کر تعارف کرائے گا۔
راولپنڈی کے بازار میں جوتا گانٹھتے پٹھان سے کسی نے جوتا ٹھیک کروایا اور نراض ہو کر کہا کہ تو کیسا کام چور ہے کہ تو نے جوتا ٹھیک سے نہیں گانٹھا۔پٹھان غصے سے ماتھا کُوٹ کر بولا۔
خدا غارت کند امیر عبدالرحمن را، باغہا داشتیم ، چاہ ہا
دا شتیم ، پیشہ آبا سپہگری بُود ، بابا کفش دوزی ندا نم
یعنی اس پیشہ ور نے بد دعا امیر  عبدالرحمن  کودی کہ یہ پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ورنہ ہمارا پیشہ تو سپہ گیری تھا۔کفش دوزی یا جوتا گانٹھنا کوئی قابل ملامت پیشہ تو نہیں لیکن اگر رزق حلال کمانے والا خود ہی شرم محسوس کرے تو یہ پیشہ دوسروں کی نظر میں بھی شرم ناک ہو جاتا ہے۔۔جب میں اس طرح سے خاندانی و علاقائی  و لسانی حسب و نسب کے قیدیوں کو دیکھتا ہوں مجھے تہذیبی نرگسیت ہمارے معاشرے کے ذہنوں میں گھسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی ذہنیت  اگر صدیوں سے اس سطح کی ہوتو ہم قومِ اغیار سے تہذیبی تصادم  کا رونا کیسے رو سکتے ہیں؟

امریکی  ، برطانوی ، اور دیگر یوروپی چاق و چوبند جدید اسلحہ سے لیس جنگووؤں کے مقابلے میں غلیلیں ہاتھ میں اٹھا ئے اپنے مدقوق نوجوانوں کو دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا ہوں کشمکش حیات  کے اس تصادم میں یہ کتنے دن ٹھہر سکتے ہیں؟ اہل  مغرب کا  مقابلہ کرنے کیلئے  اگر ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کو آگے لایا جائے تو میں موازنہ کرتا ہوں کہ اہل مغرب کا تعلیم یافتہ نوجوان بھی  فولادی جسم اور آہنی ارادے کا مالک ہوتا ہے ۔
ہمارے  تعلیم یافتہ نوجوان آہستہ خرام شان محبوبی سے چلتے ہیں،دلربائی کی تمام اداؤں کے حامل یہ نوجوان  داستان عشق کے زیب عنوان ہونے کے سوا کس کام آ سکتے ہیں؟یا پھر ڈگریاں اٹھائے بے روزگاری کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔"داستان ناکام عشق کا رونا یا بے روزگاری کا رونا"!!
جو آہنی ارادوں سے حملہ آور افواج سے لڑ رہے ہیں ،انہیں صحیح راہ دکھانے والا کوئی راہنما ہی میسر نہیں ۔تاریخ کے آباؤ اجداد کے کارناموں پر فخر کرتے ہیں اور ایسے کارنامے انجام دینے کیلئے کوئی تیاری نہیں کرتے بس ایک ہتھیار "ایمان" سے دشمن پر فتح حاصل کرنے کا یقین ہے۔حکمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ کہنا مشکل  ہے۔اتنا سوچنے کی فرصت ہی نہیں!!
طالبان پاکستان اور طالبان افغانستان ہمیشہ استعمال ہو جاتے ہیں۔۔اگر ملالہ کو طالبان نے نشانہ نہیں بنایا تو طالبان سازش کا شکا ر ہوئے ہیں۔۔ہر دو صورتوں میں ان کی کمزوری نظر آتی ہے۔اگر ملالہ پر حملہ طالبان کا کام ہے تو بھی یہ ایک نہایت بیوقوفانہ حرکت ہے کہ وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کا بہانہ مہیا کر رہے ہیں ۔اگر یہ حملہ طالبان کا نہیں تو بھی یہ اتنے کمزور ہیں کہ اس کا انکار بھی نہیں کر سکتے۔اپنے نظریاتی مخالف ایک کمسن لڑکی  پر گولی چلانا کسی طرح بھی قابل فخر حرکت نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم اپنے پر مسلط کئے ہوئے حکمرانوں کی نا اہلی کو رونا روتے ہیں تو ہمارے حکمران جو صدیوں پہلے گذرے ہیں ان کی اہلیت ہمیں قرطبہ کے کھنڈرات سے معلوم ہوتی ہے۔اگر نزدیک پر نظر ڈالیں تو ان حکمرانوں کی اہلیت ہندوستان کی بچی کھچی  شاہی تعمیرات  اور کھنڈرات سے معلوم ہو جاتی ہے۔

یہ سب دیکھتے جانتے ہم کیسے نسلی خاندانی علاقائی شجروں پر فخر کرتے ہیں ؟ کیا  یہی تہذیبی نرگسیت نہیں؟ یا ہم ابھی تک ماضی میں ہی بس رہے ہیں؟ بچے تو جنم دے رہے ہیں لیکن ہمارا وقت ماضی میں ہی گذر رہا ہے؟

جو کل ہم سے پیچھے تھے آج آگے نکل گئے، جو آج پیچھے ہیں کل وہ بھی آگے نکل جائیں گے۔اور ہم شجروں کا فخر ماضی کا فخر ہاتھ میں لئے سینہ تانے حال سے بے فکر احتجاج رونا دھونا  ہی کرتے رہیں گے؟

حکمرانوں کا کیا کہنا کہ اگر ہمیں اپنے ماضی پر فخر ہے تو ان حکمرانوں کی نا اہلیت ہمیں کھنڈرات سے معلوم ہوتی ہے ۔کھنڈرات پر فخر کرو یا پھر حقیت پسندی اختیا ر کرو!
علما کرام ہماری ذہنی تربیت کرنے کے بجائے صدیوں سے اپنے اپنے مسلک کے فروغ کیلئے محنت کر رہے ہیں ،اب تو فیس بک پر بھی وضاحتی مضامین نظر سے گذرتے ہیں کہ یہ مسجد فلاں مسلک کی تھی لیکن وہ مسلک اس کا انتظام سنبھال نہیں سکتا  تھا اور انہوں نے اس مسلک والوں کے حوالے کر دی تھی،لیکن ہم  نےدوبارہ حاصل کر لی۔ اور ساتھ میں اس متبرک معرکے کی تفصیلات بھی لکھی ہوتی ہیں کہ کتنے بندے دشمن کے زخمی ہوئے اور کتنے  "مسلمانوں"  کےزخمی ہوئے۔

بندہ سوچتا ہے ،خدایا یہ تیرا گھر ہے اور "توں" کہاں بستا ہے ؟،  تیری عبادت کرنے والے تیرے گھروں پر ایک دوسرے کا قبضہ چھڑا کر قبضہ در قبضہ کرتے ہیں۔مندر کلیسا اور مسجد میں فرق کیا ہے؟

اگر مسلکی مسلمان ہونے کا فخر ہے تو پریشانی ہی ختم ہو جاتی ہے کہ ڈرون حملوں یا "مجاہدین" کے ہاتھو ں مارے جانے والے ہمارے مسلک کے نہیں !!مسجد اگر مشترکہ نہیں ہو سکتی تو مسلمانی کیسے مشترکہ ہو سکتی ہے؟

ہمارے معاشرے کو حقیقت پسند بننا ہو گا، اپنے آپ کو کمی سمجھنا ہو گا،،۔۔۔۔اگر یہ نہیں کر سکتے تو "کمین " تو ہم سب ہی ہیں۔اپنے اپنے حصے کا کمینہ پن ہم ہر طبقہ میں بااحسن خوبی دکھا رہے ہیں۔

 
تہذیبی نرگسیت کے شکار عزت کے بھیکاری تہذیبی نرگسیت کے شکار عزت کے بھیکاری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:35 PM Rating: 5

8 تبصرے:

ali کہا...

صد فیصد درست فرمایا یہی تو رونا ہے جو کمی جاگیردار کے ظلم سے آزاد ہوا اس نے اسی جاگیردار کو اپنا ماڈل بنا کر ویسا ہی رہنا شروع کر دیا۔ یہاں تو ایسے لوگ ہیں جن کا فیملی نام کا اردو ترجمہ درزی، دھوبی ، میراثی بنتا ہے مگر مجال ہے کبھی انہوں نے شرم محسوس کی ہو۔ہمارے ہاں تو ذاتیں بھی پیسوں کے اعتبار سے تبدیل ہوتی ہیں۔مصطفیٰ زیدی صاحب نے اسی لیے فرمایا تھا شاید
ایک تم پر نہیں موقوف آج کل تو دنیا میں
زیست کے بھی مذہب ہیں موت کی بھی ذاتیں ہیں
المختصر ہم خود ہی سب سے گندے ہیں۔بس (سوری آپ نے ہمیں بھی ججباتی (جذباتی) کر دیا)

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔۔آپکی تحریروں میں گہرائی اور معنویت ایک سادہ سا انداز لیے ہوئے ہوتی ہے اسی لیے اچھی لگتی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ایک تم پر نہیں موقوف آج کل تو دنیا میں
زیست کے بھی مذہب ہیں موت کی بھی ذاتیں ہیں
واہ علی بھائی دل کی گہرائی اترنے والا شعر ہے ۔۔آج کی پوسٹ کا صلہ مل گیا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈاکٹر صاحب حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ

م بلال م کہا...

پیسا آنے اور پھر ذات تبدیل ہونے پر یہ کہوں گا۔
واہ رے مایا تیرے کتنے نام
پرسو، پرسا، پرس رام
کسی بندے کا نام ”پرس رام“ تھا مگر وہ غریب تھا تو سب اسے ”پرسو“ کہہ کر بلاتے تھے۔ پھر اس کے پاس پیسا آنا شروع ہوا تو لوگ اسے پرسو کی بجائے ”پرسا“ کہنے لگے اور جب وہ امیر ہو گیا تو پھر لوگ اس کا اصل نام ”پرس رام“ بلانے لگے۔

باقی تہذیبی نرگسیت کا نام نہ لو جی۔ ہم تو بس پدرم سلطان بود اور جذبے کی افیون کھا کر سوئے ہوئے ہیں۔

fikrepakistan کہا...

بندہ سوچتا ہے ،خدایا یہ تیرا گھر ہے اور “توں” کہاں بستا ہے ؟، تیری عبادت کرنے والے تیرے گھروں پر ایک دوسرے کا قبضہ چھڑا کر قبضہ در قبضہ کرتے ہیں۔مندر کلیسا اور مسجد میں فرق کیا ہے؟

اگر مسلکی مسلمان ہونے کا فکر ہے تو پریشانی ہی ختم ہو جاتی ہے کہ ڈرون حملوں یا “مجاہدین” کے ہاتھو ں مارے جانے والے ہمارے مسلک کے نہیں !!مسجد اگر مشترکہ نہیں ہو سکتی تو مسلمانی کیسے مشترکہ ہو سکتی ہے؟ بہت خوب لیکھا ہے یاسر بھائی جواب نہیں۔ شرم انکو مگر پھر بھی نہیں آتی۔

رائے محمد اذلان کہا...

کیا خھوب کمبل میں لپیٹ کر ٹھکائی لگائی ہے۔ پڑھنے کے بعد کئی وہ "راجپوت" یاد آئے جو پہلے "کچھ" اور تھے لیکن تقسیم کے بعد پاکستان آئے تو بھٹی ہوئے اور راجپوتی کی پھوکی شان میں اپنے آپ کو رنگ لیا۔ رھا سوال باقی ان مسائل کا جن پر آپ نے بات کی ہے یتنا ھی کہنا چاہوں گا کہ جن احساس کمتری آپ کے دل و دماغ میں گھس جاتا ہے تو پھر اس قسم کی چولیں انسان فرض سمجھ کر مارنے لگتا ہے۔

غلام عباس مرزا کہا...

ہمیں خدا نے بتا دیا ہے کہ ہم میں سے اعلی وہ ہے جو پرہیزگار ہے، اور پرہیزگاری سے مراد صرف صوم صلواۃ کی پابندی نہیں۔ مگر یہ تو دوسروں کو سنانے کے لیے ایک اچھی بات ہے اور بس۔ ہم تو پیسے اور عہدے والے کی ہی عزت کریں گے، غریب کی عزت ہم سے نا ہو گی جناب!!۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.