آہو جی آہو۔۔۔۔ہیں جی

جاپان بڑا زر خیز ہے۔ہرا بھرا پہاڑ دریا سمندر انتہائی حسین ملک ہے۔

میں بتانا چاہا رہا تھا کہ جاپان بڑا زرخیز ملک ہے، جب ہم سب محنت مزدوری کیلئے جاپان آئے تو میرے اور خاور سمیت ہم سب عموماً ریلوے سٹیشن سے ہی سیراب ہو جاتے تھے۔خاور کو اعتراض ہے تو اعتراض کرنے کا حق انہیں حاصل ہے ،مجھے اپنے کہے  کا اپنے پر کوئی اعتراض نہیں!!
عموماً ہم لوگ سیدھا سادا  "راستہ "  بھول جاتے تھے، کہ ہم نے  "فلاں" علاقے جانا ہوتا تھا ، لیکن غیر ملکی ہونے کی وجہ سے ہم " فلاں"  علاقے کا راستہ بھول جاتے تھے۔ اس " فلاں " علاقے میں ہمارا گھر ہوتا تھا۔ جس کی چابی ہمارے جیب میں ہوتی تھی۔ اور اس گھر کا اتہ پتہ ایک پرچی پر لکھ کر اپنے ہاتھوں سے ہم "اپنی " جیب میں رکھ لیتے تھے۔

آپ شش وپنج کا شکار ہو گئے نا؟ ایسا ہی ہوتا ہے ایسے کاموں میں!!
جب راستہ بندہ بھول جائے تو کسی سے پو چھنا ہی پڑتا ہے نا!! تو اس طرح ایک بار میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ  پاکستان میں سفر کر رہا تھا کہ ہم لوگ راستہ بھول گئے تو بھائی نے ایک راہ چلتی مخلوق کے پاس گاڑی  روکی اور راستہ پوچھا "اس " پیدل  " مخلوق " نے گاڑی والی " مخلوق" کو راستہ بتادیا۔وہ مخلوق راستہ بتا کر چل دی اور یہ مخلوق راستہ پوچھ کر چل دی۔

ان دو "مخلوقوں" کا مشاہدہ کرتی تیسری مخلوق جو میں تھا۔میں نے دیکھا پوچھنے والے نے پوچھنے کے بعد "مہربانی " ، " شکریہ" ادا نہیں کیا تو بتانے والی مخلوق نے کسی قسم کی امید بھی نہیں  رکھی!!  اگر آپ بھی تیسری مخلوق کیطرح  مشاہدہ کریں تو پاکستان میں بستی ہر دوسری مخلوق شاذونادر ہی کسی کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ اور اس مخلوق میں آپ  "مسٹر " ، اور "ملا" کے کردار کو ایک جیسا پائیں گے۔

آپ تجربہ بھی کر سکتے ہیں کسی کا شکریہ ادا کریں گے تو وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ یہ بندہ پاکستان میں بسنے والی مخلوق نہیں ہے!!! خاص کر کسی ترقی یافتہ مغربی ملک میں ہی بسنے والا ہے،سوائے انگلینڈ کے!!! کہ انگلینڈ "والے" کچھ پاکستانی مخلوق کے نزدیک نزدیک ہی ہیں!!

اوہ۔۔۔۔۔۔جینئس بندہ ہوں جی عموماً یاد نہیں رہتا کہ بات کیا ہو رہی تھی!!!ہاں تو عرض کر رہا تھا کہ "راہ" بھول جاتے تھے ، لوگ بمع اتہ پتہ لکھی پرچی  اور جیب  میں پڑی "اپنے " گھر کی چابی کے !!

جب راہ بھولتے تھے تو  "تاک "  کر راستہ پوچھتے تھے۔اس راہ پوچھنے پر راہ  بتانے "والی" گھر تک چھوڑ کر آتیں تھیں۔ تو پاکستانی کیونکہ انتہائی با اخلاق مہمان نواز  ہوتے ہیں ،ظاہر  ہے گھر آئے "مہمان" کو چائے پانی کھانے پینے کے بغیر تو نہیں جانے دیا جاسکتا نا!!!

تو یاد آیا کہ عرض کر رہا تھا کہ جاپان نہایت زرخیز ملک ہے!!اس زرخیزی کے ثمرات اس وقت ہمارے دوستوں کی نوجوان بچے ہمارے آس پاس " چاچو"  ، "چاچو " کرتے ہیں!!  یعنی کہ راہ پوچھنے پر اگر کوئی کسی غیر ملک میں رہنے والے پاکستانی کا شکریہ مہربانی وصول کر لے تو ہم پاکستانی ثمرات سے نواز دیتے ہیں۔
ذرا نم ہو تو بڑی زر خیز ہے یہ مٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں م بلال کے اردو انسٹالر کو  ایکسپریس والوں  نے "اپنے" نام سے استعمال کیا اور ہم اردو بلاگستان والے بلبلا اٹھے کہ کم ازکم شکریہ تو ادا کردو!!  "کرک نامہ" کی تحریریں لوٹ کر لے جانے پر بھی سب بلبلائے کہ کم از کم شکریہ تو ادا کردو!!!!
اور اب جاوید چوہدری نے اپنے جاوید گوندل صاحب کی تین تحریروں کو ایک ہی کالم میں ہڑپ کر لیا  تو  ہم سب کو انتہائی تکلیف ہوئی ۔۔میں نے فیس بک پر بہت اعلی جاوید چوہدری صاحب کہہ دیا۔۔او پائی جی شکریہ کی امید میں کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو
بحرحال اس  "مخلوق " کو بے عزت کرنے سے شاید تہذیب آجائے ورنہ سڑتے رہو تے بلبلاتے رہو۔۔۔
"شکریہ  " کسی نے ادا کر دیا تو ۔۔۔۔۔خیال رہے  یہ "مخلوق" جب شکریہ ادا کرتی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہو جی آہو
آہو جی آہو۔۔۔۔ہیں جی آہو جی آہو۔۔۔۔ہیں جی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:38 PM Rating: 5

6 تبصرے:

ali کہا...

ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

مکی کہا...

اب تو مجھے یہ یقین ہو چلا ہے کہ اصل میں ہم بلاگستان والے ہی چور ہیں.. ہیں جی؟

بنیاد پرست کہا...

آپ شکریہ کو رو رہے ہیں جی ‏‎ ‎:-D‎‏ آپ کو کچھ دیر پہلے کا واقعہ سناتا ہوں. میں جمعہ پڑھ کر نکلا تو مسجد کے باہر اک پٹھان ریڑھی پر سیب بیچ رہا تھا، اس سے سیب لینے لگا، اک سوٹڈ بوٹڈ بندہ آیا ریڑھی والے سے سیبوں کی قیمت پوچھی پھر کہنے لگا پتا نہیں میٹھے بھی ہوںگے کہ نہیں. ریڑھی والے نے کہا جناب آپ چیک کر لیں، اس بندے نے ریڑھی والے کے چھری نکال کر دینے سے پہلے اک بڑا سا سیب اٹھایا اور کھانے لگ گیا، پھر کہا میٹھا نہیں ہے اور مزے سے کھاتا کھاتا آگے چل دیا، میں نے ریڑھی والے سے کہا یار تم بولے ہی نہیں وہ ظالم کتنی بے غیرتی سے مفت کا سیب کھاتا جارھا ہے. وہ مسکرانے لگ گیا اور بولا کھانے دو یار ایسے روز ملتے ہیں اب بندہ کیا ان سے مسجد کے باہر لڑتا رہے، یہ لوگ جب تک حرام نہ کھاۓ انکا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا.
ظلم سہتے ہیں کچھ نہیں کہتے.
اہلِ دل بے زبان ہوتے ہیں.
‏‎:-)‎

dr iftikhar Raja کہا...

سادیوں یہ دنیا ہے، کت کت کا جنگل، ادھر نیکی کرنے والا بھگتا ہے اور بھگتتا رہے گا، جی وہ رستہ بتانے والی بیبیاں بگھت رہی ہیں، اسی طرح پوچھنے والے بھی انکو بھگت رہے ہیں۔

پاکستانی بہت سیانی قوم ہیں، نہ شکریہ آدا کرو، نہ ادا کرنے والے کا جواب دو، آپ اپنے گھر، اگلے اپنے ادھر، بچے اپنے اپنے،
اور سب بچے ہوئے بھی۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

محترم! یاسر بھائی۔
آپکا نہائت ممنون ہوں کہ آپ نے اس معاملے کی طرف توجہ دلائی۔اور باقی دوستوں کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے مفید مشورے دئیے ۔جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے۔ واللہ ۔اگر کوئی لفظ بہ لفظ بھی میری اسطرح کی تحاریر اپنے نام سے چھاپ دے تو بھی مجھے کوئی رنجش اور تکلیف شاید نہ ہو۔ کیونکہ میرا مقصد ہی اتنا سا ہے ۔ کہ اُن گوشوں کو بے نقاب کیا جائے۔ انھیں عام کیا جائے جو کسی وجہ سے قاری کی نظر سے مخفی رہے ہیں۔ تانکہ تاریخ اور دیگر معاملات کو ایک مختلف زاویے سے بھی دیکھا جا سکے۔ اور اگر کوئی اسے اپنے نام سے عام کرتا ہے تو الحمداللہ ۔ کم از کم مجھے اعتراض نہیں۔ مگر،،،
مگر تکلیف اور شکایت اس وقت ہوتی ہے۔ جب پاکستان میں تاریخ کے خلاصے لکھنے والوں کا انداز اپنایا جائے ۔ کہ فلاں وہ تھا ۔ ایسے پیدا ہوا ۔۔ وہاں گیا۔ وہ جنگ لڑی ۔ فلاں مہم سر کی ۔ بخار آیا اور مرگیا۔ وغیرہ۔
واللہ حیرت ہوتی ہے۔ میری قوم کے نصیب میں کسطرح کے بزعم خود قسم کے دانشور لکھے گئے ہیں۔

Rai M Azlan کہا...

Main shayad apny haliya dora e apakistan main har kisi ka shukria isi liyay ada kar rha tha k uk aa kar bhi hum ne england ka pani kam aor wales ka pani shayad zyada pee lia.
Ch seeeb ka kalam parhy huy mudat ho gai lekin un ki aala hazmi par mohet kala zaroo parhna chahon ga to hay koi Allah ka banda jo mujhy us kalam ka nam aor jahan se chapa gya hay us blog posts k link fraham de. Shukria

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.