ہیلو مسٹر اینڈ ملاں

ہمارا کام ایسا ہے کہ ھفتے میں ایک دو بار  ٹرانسپورٹ بیورو والوں کے دفتر کا چکر ضرور لگتا ہے۔ویسے ہفتہ ہفتہ کسی پاکستانی  کی شکل دیکھنے کو نہیں ملتی تو " بڑا سکون" رہتا ہے، ہمارا حال ایسا ہی ہے جیسے کوا چلا ہنس کی چال اپنی سے بھی گیا۔

یعنی عرصہ دراز پیلے ،چٹے کافروں کے ساتھ رہ کر آدھے تیتر آدھے بٹیر  ہو گئے ہیں،زیادہ وقت جاپانی دوستوں کے ساتھ ہی گذرتا ہے۔یا پھر روسی دوست ہیں جن سے کاروباری تعلق ہونے کی وجہ سے روزانہ ہی سکائپ یا فون پر بات ہو تی ہے۔

بس زیادہ تر دیسی شکل راہ چلتے کسی گاڑی میں بیٹھی نظر آجاتی ہے یا ٹرانسپورٹ بیورو والوں کے دفتر میں۔یا پھر پورٹ پر۔
جاپانیوں سے دوستی اس وقت ہوتی ہے جب دیکھتا ہوں کہ یہ بندہ اپنے مزاج کا ہے اور سوجھ بوجھ رکھتا ہے۔نا تو مجھے پینے پلانے کی دعوت دے گا اور ناہی کسی اور خرافات کی۔

اللہ کا شکر ہے لفظ صلاۃ جاپانی دوستوں کو بھی ازبر ہو گیا ہے کہ انہیں پتہ ہے "وقت" ہونے پر یہ جو ٹکریں مارتا ہے اس "عمل " کو صلاۃ کہتے ہیں۔جب تک یہ ٹکریں مارے خموشی اختیار کر لو جب فارغ ہو جائے  توادھم کرو یہ بھی ہمارے ساتھ "بونگیاں" مارے گا۔

روسیوں سے دوستی ہی کاروبار کی وجہ سے ہوئی ہے ،  جو اپنے مطلب کا بندہ نہیں اس سے کاروبار ہی نہیں کیا  ، کاروبار نہیں کیا  تو دوستی بھی نہیں ہوئی۔
روسیوں کو پتہ ہے مسلمان "صلاۃ " جسے کہتا ہے یہ نماز ہوتی ہے ،اور نماز لفظ کا مطلب روسی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اس لئے "عمل " کرکے دکھانے کی ضرورت کبھی محسوس ہی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ہیں جی

بس ان  روسیوں سے کاروباری "معاملات" کی وجہ سے اللہ میاں کی کرم نوازی ہے کہ ککڑی بکرا  روٹی چل رہا ہے۔اگر پاکستانیوں سے دوستیاں کرنا شروع کردوں جو کہ عرصہ دراز تک کرتا ہی آیا ہوں۔تو "بندے " کا چناو بہت مشکل ہے دوستی کیلئے ۔

پردیس میں  ہونے کی وجہ سے سب بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔اور بھائیوں میں عموماً معاملات "گندے" ہی رہتے ہیں۔بھائیوں کے معاملات مسجد ،مندر ، کلیسا میں بھی اور گلی کوچوں میں بھی ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ہیں جی

جاپان کیونکہ کالا شا کافر ملک ہے اس لئے یہاں پر حجاب کا تصور بالکل نہیں ہے(سوائے انتہائی دیندار مسلمانوں کی خواتین کے جو یا تو پاکستان سے یہاں آئی ہیں یا پھر میرے جیسے مسلمانوں کی بیویاں ہیں)۔ جاپانی خواتین  راہ چلتے ہوئے بھی اور دفاتر میں کام کرتے ہوئے بھی معزز ہی ہوتی ہیں۔

یہ معزز خواتین دفاتر میں کام کیلئے جائیں یا کہیں گھومنے پھرنے جائیں تو بھی سولہ سنگھار ضرور کرتی ہیں۔دفاتر میں کام کرنے والی خواتین" سادگی" سے سولہ سنگھار کرتی ہیں تو گھومنے پھرنے کے لئے شوخ  قسم  کا۔

ہمارے مسلمان پاکستانی بھائی ان  راہ چلتی خواتین کو "صلاح" مارنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔نہیں تو کم ازکم ان کے حسن پر تبصرہ کرنا فریضہ سمجھتے ہیں۔عموماً  پاکستانیوں کےشورومز کی طرف پاکستانیوں کو مسلمان کرنے والی "گشتی " پارٹی چکر لگاتی رہتی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ٹرانسپورٹ بیورو والوں کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک "گشتی" پارٹی کے صاحب تشریف لائے اسلامی ہیلو ہائے کے کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوا کہ دفتر والی خاتونہ "شپیشل " قسم کی حسینہ ہیں ۔میرے دیکھتے دیکھتے ہی انہوں نے خاتونہ کو آپ بہت پیاری ہو کہا اور زیر زبر پیش لب مسکراتے ہوئے میری طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھا۔

مرتے کیا نا کرتے "واہ جی واہ" کہہ دیا ۔ان کا مقصد اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا کہ مجھے "سمجھانا" چاہتے تھے ۔پاغلا  "چول" اس طرح ماری جاتی ہے۔اب ہم کیا بتاتے کہ "باواجی" "لیول"  اپنا اپنا ہوتا ہے۔"گھوں" سونگھنے والا اور "حلوہ پڑی" کو بھی للچائی نظروں  سے دیکھنے کو گناہ بے لذت  سمجھنے والا ایک جیسا تو نہیں ہو سکتا نا۔۔(ایڈا نیک پروین وئی نی آں میں )۔۔ہیں جی

میرے اس دعوے کو کوئی جاپان میں بسنے والا پاکستانی "چیلنج  "نہیں کر سکتا ۔کہ یہاں پر میں  نے پختہ عمر کے پاکستانیوں کو اتنی گھٹیا "پونڈی" کرتے دیکھا ہے کہ گندے سے گندا اور غلیظ سے غلیظ جاپانی بھی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔جس علاقے میں ہماری رہائش ہے اس علاقے میں جو پاکستانیوں کا وقار جاپانیوں کی نظر میں ہے وہ  ہماری جاپانی خواتین دوست قصے سناتی رہتی ہیں۔ویسے بھی پاکستانیوں کو اس کا خوب اندازہ ہے، نا مانیں تو ۔۔۔۔سانوں کی ۔۔۔۔۔یہ خواتین ہماری میراتھن ریس یا جم یا پھر مٹی کے برتن بنانے والا گروہ کی ہوتی ہیں۔شروع شروع میں شرمندگی ہوتی تھی ۔اب ہنس کے ٹال جاتا ہوں۔

گزشتہ  اتوار ہمارے نزدیکی باغ میں باریش پاکستانی صاحب جو اپنی  "حجاب شدہ"  پاکستانی بیوی کے ساتھ گھومنے پھرنے گئے ہوئے تھے ۔ہماری ایک جاپانی دوست کو تفصیلاً اسلام میں چار شادیاں جائز ہونے کا لکچر دیا۔اس دن شام کو ان خاتونہ نے ہمارے گھر کھانے پر آنا تھا۔تو شام جب میں گھر لوٹا تو ہماری بیگم صاحبہ سے مل کر انہوں نے ہم  سےجرح کی کہ ان صاحب نے بلاوجہ "چار شادیوں" والا لکچر  "چیچڑ  " ہو کر کیوں دیا؟۔۔ہم  نے"تپ " کر کہا کہ تم نے بلاوجہ اسے لفٹ کیوں کرائی تھی؟۔اب مجھ سے کیا پوچھتی ہو؟۔وہ دیوث تو ذہنی مریض ہو گا۔ نام وغیرہ ہی پوچھ لیتی تو "حرامزادے " کا نام ہی یہاں لکھ دیتا۔اندازہ تو ہو گیا ہے کون تھا ۔۔ہیں جی

حجاب ڈے  پر دو "طبقوں" کے "جنگی " دلائل پڑھنے کو ملے۔ایک کا کہنا ہے یہ عربی رسم و رواج ہے۔اسلام میں پردہ اتنا ضروری نہیں ٹوپی پہن کر خواتین بیچ  پربھی جا سکتی ہیں دل کرے تو سمندر میں تیر بھی سکتی ہیں ٹوپی پہن کر ۔اسی طبقے کا کہنا ہے کہ حجاب تو بدیسی لفظ ہے ۔معاشرے کو عربی بنانے کے ٹھیکیدار حجاب ڈے منا رہے ہیں۔

ٹوپی بھی درآمد شدہ سر کا پردہ ہے ۔ٹوپی پہن کر خواتین انگریز تو نہیں ہو سکتیں "گلابی انگریز " ہونے کے وہم کا شکار ضرور ہو سکتی ہیں۔لفظ "حجاب" اگر بدیسی لفظ ہے تو قرآن  لفظ بھی بدیسی ہے۔نماز لفظ اگر عربی نہیں تو دیسی بھی  نہیں ہے۔ماما پاپا لفظ اگر دیسی ہو سکتا ہے تو اماں ابا بھی دیسی ہو سکتا ہے۔سب سے بڑی بات کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت بھی بدیسی زبان میں ہی ہے۔اس کے علاوہ اس خطہ میں دیسی ہے کیا شے؟ ہمارا کردار ؟ کیامسٹر کیا ملاں دونوں کا کردار خالص دیسی ہے؟

دوسرا طبقہ سب عورتوں کو حجاب پہنانے کی ضد میں مبتلا ہے۔لیکن ایک بات بھول رہا ہے کہ ہمارے اندر کا گند اس  حجاب ڈے کے نام پر منایا جا رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ اتنا غیر محفوظ ہوچکا ہے کہ معاشرے کا کمزور ترین فرد اپنی حفاظت کیلئے اپنے آپ کو پردوں میں چھپا ئےنہیں تو اس کی جان مال عزت و عصمت محفوظ نہیں ہے۔

حجاب مخالف گروہ کو حق حاصل ہے کہ وہ حجاب کی مخالفت کرے میں نے یہی دیکھا ہے کہ ایسا گروہ قبول و ایجاب کا بھی منکر ہی ہوتاہے۔حجاب کروانے والے گروہ کے اندر کا گند سامنے بکھرا پڑا ہے کہ معاشرے میں اتنی کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود معاشرہ  خواتین کیلئے  غیر محفوظ ہے ۔اس حجاب گروپ سے گذارش ہے کہ ہر گلی ہر کوچے میں مسلمان بستا ہے تو ایک اکیلی عورت اتنی غیر محفوظ کیوں ہے؟
کفار کے ممالک میں "حجاب " کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔دوسرے اسلامی ممالک کا میں کچھ کہنے کا حق نہیں  رکھتا۔ لیکن پاکستان جو ہمارا ملک ہے ، اور ہم اس ملک کے لوگوں  کا  مزاج و کردار اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اپنا کردار ہماری نظروں کے سامنے ہے۔اس لئے ہماری عورتیں جو معاشرے کا کمزور ترین فرد ہوتی ہیں انہیں سات پردوں میں چھپا کر رکھنا چاھئے۔آجکل تو انڈین فلموں ڈراموں نے کیا جوان کیا بڈھا سب کے دماغ پر عشق کا بھوت سوار کیا  ہوا ہے۔پرانے وقتوں کے بے غیرت بھی اس دور کے شریف نظر آنے والے ملاں سے اچھے کردار کے تھے۔

پاکستانی معاشرے  میں رہنے کے باوجود  "حجاب" کی اہمیت کو نا سمجھنے والوں پر  مجھے تو ترس آتا ہے ،کہ بیچارے میری طرح آدھے تیتر آدھے بٹیر ہو چکے ہیں۔

اور  "ملاں" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچارہ ہے۔۔جانڑ دو مسٹر۔

 

 

 
ہیلو مسٹر اینڈ ملاں ہیلو مسٹر اینڈ ملاں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:31 PM Rating: 5

17 تبصرے:

dr iftikhar Raja کہا...

آپ کی ہر پوسٹ صرف ٹینشن میں اضافہ کرنے کو ہی ہوتی ہے، ہمارے پورے معاشرے کا دھڑن تختہ ہوچکا، قوموں کی تربیت صدیوں میں ہوتی ہے اور بگڑتی بھی صدیوں میں ہیں، گزشتہ صدیوں میں بس بگاڑ ہی چل رہا ہے اور ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ سب بھیڑ چوری کرنے کے چکر میں ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

راجہ جی
میں نے مزاح لکھا ہے اور آپ ٹینشن لے رہے ہیں۔
قسمے مجھے تو قصور ادھر کا لگ رہا ہے۔
بس اب میں صرف مزاح لکھا کروں گا؛ڈ

ali کہا...

حالانکہ میں بھی پاکستانی ہوں لیکن ہمارے اور آپکے پاکستانیوں کے بارے خیالات ملتے جلتے ہیں۔ باقی یہ حجاب وجاب سب اپنا گند چھپانے کی کوشش ہے کہ اللہ گواہ ہے ہم نے برقع والیوں کو بھرے بازار بے عزت ہوتے دیکھا ہے اور پوچھنے پر جواب ملا یہ برقع والی ہی اصل بے حیا ہوتی ہے ، سبحان اللہ کیا کیا بہانے گھڑ رکھے ہیں ہم نے بھی

ڈفر کہا...

مجھے لگے راجہ جی مذکورہ کسی "کردار" میں فٹ آ گئے ھیں :D

ڈفر کہا...

ہمارے ہاں بے غیرتی اور بے حیائی کس حد تک بڑھ گئی ہے اسکا اندازہ آپ میرے جیسوں کو دیکھ کر کر سکتے ہیں۔ معاشرے کو اتنا "پریس" کر دیا مولویانہ سوچ نے کہ اب پریشر کُکر سیچوئشن ہو گئی۔ تو فیر گند تو اُبلے گا ہی نا۔
یہی صورتحال رہی تو پھٹنے کا انتظار کرو، کُکر یار

عبدالرؤف کہا...

“پاکستانی معاشرے میں رہنے کے باوجود “حجاب” کی اہمیت کو نا سمجھنے والوں پر مجھے تو ترس آتا ہے ،”
یہ تو کافی تلخ جملہ ہے، پھر بھی اگر آپ اسکو مزاح کہتے ہیں تو ہم بھی زیر لب مسکرا لیتے ہیں۔
باقی رہا حجاب کا مسئلہ تو میں تو صرف اتنا کہوں گا کہ یہ قرآن کا حکم ہے، حوالے کے لیئے سورۃ الاحزاب دیکھ لیں، اسکے بعد ماننا یا نا ماننا ، عمل کرنا یا نا کرنا ، اسکا مذاق بنانا یا نا بنانا سب آپ کے اختیار میں ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبدالراوءف صاحب
ہم اتنے بھولے اور نادان مسلمان بھی نہیں ہیں کہ ہمیں حکم خداوندی کا علم نا ہو۔
نا ماننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مسئلہ وہی دو انتہاوں کا ہے۔
سیدھا سادہ مسلمان بیچارہ کچومر بنا ہوا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

راجہ جی کسی کو کیوٹ کہنے والے کردار پہ غصہ کر گئے ہوں گے ؛ڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

علی بھائی اس گند اور عزت بے عزت کا اسلام سے تو خیر کوئی تعلق نہیں۔
سارے اپنی اپنی جگہ پر ڈھٹے ہوئے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بس آج نہیں تو کل پھٹے ہی پھٹے

dohra hai کہا...

"یہاں پر میں نے پختہ عمر کے پاکستانیوں کو اتنی گھٹیا “پونڈی” کرتے دیکھا ہے کہ گندے سے گندا اور غلیظ سے غلیظ جاپانی بھی ایسی حرکت نہیں کرے گا" اور"جاپانی خواتین راہ چلتے ہوئے بھی اور دفاتر میں کام کرتے ہوئے بھی معزز ہی ہوتی ہیں۔" جناب ایسی باتیں آپ بِلا خوف لِکھ کیسے دیتے ہیں کم از کم از کم میرا تجربہ تو یہ کہتا ہے کہ اِدھہر آپ نے لِکھا اُدہر لعنت فیکٹریاں سٹارٹ سرکو بی کے لئے۔

dohra hai کہا...

ماننے یا نہ ماننے کا سوال پیدا ہو نا ہو اِلزام تو پیدا کر دیا جا تا ہے محط خود کو دُنیا اور آخرت کا چمپئن بنانے کے واسطے۔ ایسی صورت میں پردے کے حکم کی روح فوت ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو لوگ اپنے مرد کے پیچھے موٹر سائکل پر بیٹھی اور کالے بُرقعے میں لِپٹی ہوئی خاتون کے اندر کا تصوراخاکہ مِنٹوں میں ببان لیتے ہیں۔ وہ بھلا پاکبازی پر لیکچر دیتے یا سُنتے کیسے لگتےہوں گے آپ خود ہی بہتر بیان کر سکتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

واہ میری بات دوراہا جی سمجھ گئے!!
جاپانی خواتین اس لئے معزز ہوتی ہیں کہ
جناب مجھے بھی تو حجاب کرنے کا حکم ہے نا۔
اگر اپنے حجاب کا مجھے احساس ہو گا تو
فحاشہ بھی میرے لئے معزز ہوگی۔
اس لئے ڈرتا نہیں ہوں کہ اپنے لکھے کا مجھے پتہ ہے کہ ذمہ داری قبولنی ہوگی۔

عبدالرؤف کہا...

یہ سیدھا سادا مسلمان کون ہوتا ہے؟ ہم نے تو شعیہ ، سنی، دیوبندی ، بریلوی ، اہلحدیث ، ، صوفی ، وہابی
، اسماعیلی ، آغا خانی، زیدی ، علوی ، لاہوری ، اور قادیانی لوگوں کا سن رکھا ہے کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہونے کے باوجود بھی مسلمان ہونے کا اور اسلام پر عمل کرنے کے دعویدار ہیں۔

میرے پہلے تبصرے میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو حکم خداوندی کا نا جانتا ہو تو وہ اسکو مان بھی نہیں سکتا ہے اور اسکا مذاق بھی اڑا سکتا ہے، مگر جسکو کسی بات کے بارے میں یہ علم ہو کہ وہ حکم خداوندی ہے تو پھر اسکو مان لینے کے بعد اسکا مذاق نہیں بناسکتا ہے۔ اسکو بعد صرف کسی بھی ایسے شخص یا معاشرے کے رویئے پر تنقید تو کی جاسکتی ہے جوکہ حکم خداوندی کا پیروکار ہونے کا دعویدار ہع مگر اسکا عمل اسکے بروعکس ہو۔ مگر نام نہاد پیروکاروں کے سبب جانت بوجھتے کسی بھی حکم خداوندی کا مذاق نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

Jameel کہا...


یہ سیدھا سادا مسلمان کون ہوتا ہے؟ ہم نے تو شعیہ ، سنی، دیوبندی ، بریلوی ، اہلحدیث ، ، صوفی ، وہابی
، اسماعیلی ، آغا خانی، زیدی ، علوی ، لاہوری ، اور قادیانی لوگوں کا سن رکھا ہے کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہونے کے باوجود بھی مسلمان ہونے کا اور اسلام پر عمل کرنے کے دعویدار ہیں۔


http://ireport.cnn.com/docs/DOC-836986

Jameel کہا...

http://ireport.cnn.com/docs/DOC-836986

عمران اقبال کہا...

واللہ۔۔۔ اسلام کو جتنا نقصان ہم مسلمانوں نے پہنچایا ہے۔۔۔ سارے کے سارے یہودی، عیسائی اور ہندو بھی مل کر نہیں پہنچا پائے۔۔۔ کہیں پڑھا تھا کہ اسلام بہترین مذہب ہے لیکن اس کے ماننے والے بدترین انسان"۔۔۔ اور یہ سچ ہے۔۔۔ پردگی اور بے پردگی کو بھی انتہا تک پہنچا دیا۔۔۔ نماز روزے کو بھی ایک رہنے نا دیا۔۔۔ حد ہو گئی ہے۔۔۔ اسلام کو آسمان سے لٹکی ایک رسی بنا دیا ہے۔۔۔ جہاں جس کا جتنا دل چاہے اپنی مرضی کے مطابق اتار لیتا ہے۔۔۔ افسوس ہے ہم پر۔۔۔ واللہ افسوس ہے ہم سب پر۔۔۔ افسوس ہے مسلمانوں پر۔۔۔ بدقسمت قوم۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.