گیس کا اخراج

جاپان اور چین کا ایک متنازعہ جزیرہ سینکوک  ہے، اس جزیرہ میں پینے کا میٹھا پانی بھی نہیں ہوتا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب چین پر  قبضے کے بعد چین میں  جو جاپانی مقیم  تھے انہوں نے چین سے بھاگتے وقت وقتی طور پر اس جزیرے پر پناہ لی تھی۔یہ جزیرہ نجی جائداد تھی،اور اس جزیرے کا مالک ٹوکیو میں مقیم تھا،ٹوکیو کی حکومت نے اس جزیرے کو خرید نے کیلئے چندہ اکٹھا کرنا شروع کیا  تھا۔جب کروڑوں ین جمع ہو گئے ،تو اچانک حکومت جاپان نے اس جزیرے کو قومیا لیا۔

یہاں پر سینکوک جزیرے کی معلومات دیکھئے http://en.wikipedia.org/wiki/Senkaku_Islands

چین میں اس جزیرے کے قومیائے جانے  کے خلاف احتجاجی مظاہرے زورو شور سے شروع ہوئے تو چین چین ہے تو چینی چینی ہیں ،نام تو میٹھا ہے لیکن جن کا چینوں کے ساتھ واہ پڑا وہ جانتے ہیں ۔کہ اگر چینی کو ئی انتہائی غلط موقف بھی اختیار کرے تو دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے چینی نے اپنا موقف نہیں بدلنا ہوتا۔

میرے جیسے "دانشور علامے" جو عموماً اپنی قوم کی جہالت ،بیوقوفی، جھوٹ ، دھوکہ دہی وغیرہ وغیرہ کا رونا روتے ہیں ،ان سے صرف اتنی گذارش ہے کہ صرف ایک مہینہ اگر چین میں چینیوں کے ساتھ رہ کر آجائیں تو پاکستانی سارے  کےسارے  فرشتے نظر آئیں گے۔ اگر میری بات سے اختلاف ہے تو "چین جاتے کیوں نہیں؟" جانے سے ایک فائدہ تو ہو گا ہی کم ازکم صدیوں پر محیط چین کی دانش ہی دیکھنے کو مل جائے گی۔

چین میں جاپان مخالف مظاہروں میں جو توڑ پھوڑ ہوئی وہ تو ہمارے  پاکستانی ماڈرن قومی اخبارات میں ایک ننھی سی خبر میں بھی نظر نہیں آئی،چین میں جاپانی کمپنی ٹیوٹا کی برانچ جلا دی گئی،جاپانی سپر مارکیٹز ، ریستوران وغیرہ کی توڑ پھوڑ بھی ہوئی اور لگے ہاتھو ں مغربی ممالک کی املاک کو بھی نقصان پہونچایا گیا۔جاپان کی ایمبیسی کا ان مظاہرین  نےمحاصرہ کیا جس کی حفاظت چین کی پولیس  وغیرہ نے کی۔ لیکن پانی کی بوتلیں  ، گندے اور صاف انڈے ایمبیسی پر پھینکے گئے۔اس وقت چین اور جاپان کے سیاسی حالات انتہائی کشیدہ ہیں،آجکل جو جاپانی چین آجا رہے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ  چینی امیگریشن جاپانیوں کو ایک لائن میں کھڑا کرکے انتظار کرواتی ہے اور دوسرے ممالک والوں کو  ٹھپا ٹھپ مہریں لگا دیتی ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جاپان میں قیام پذیر غیر ملکیوں میں چینیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے،اور ایسی کوئی خبر سننے کو نہیں ملی کہ کسی چینی کی املاک یا چینی کو کوئی نقصان پہونچایا گیا  ہو۔اگر یہ کہا جائے کہ جاپانی متعصب نہیں ہوتے تو ایسی کوئی بات نہیں جاپانی متعصب ترین قوم ہے،امریکی ،برطانوی ، جرمن ، "گورے " کے علاوہ سب ان کیلئے بس " ایویں " سے ہی ہیں ۔لیکن ان تین اقسام کے گوروں کے سامنے جاپانیوں کا انداز کسی کارٹون سے کم نہیں ہوتا،

جاپانی جو خاموشی سے یہ سب تماشہ دیکھ رہے ہیں ،تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپانی میں ایک لفظ ہے " گٗسً نُکًی"  gas  nuki

اس لفظ کا مطلب گیس کا اخراج ہو تا ہے۔جب گیس ٹربل کا کوئی کہتا ہے تو ہم اسکا مطلب یہی سمجھتے ہیں کہ اس بندے کے گیس کے اخراج کا نظام گڑ بڑ ہے۔گیس کا اخراج ہو گیا تو شانت ہو جائے گا۔پاکستان میں بھی آپ نے عموماً دیکھا ہوگا جس کو کچھ  ایسا معاملہ ہوتا ہے تو آسان علاج پیپسی سپرائیٹ یا سیون اپ  سے کر دیا جاتا ہے۔

جاپانی اس معاملہ کو غور سے دیکھ رہے ہیں لیکن شور شرابا نہیں کر رہے کہ گیس نکلنے دو کونسا جزیرہ ہم نے واپس کرنا ہے یا چین چھیننے کی کوشش کر ے گا۔ہنگامے ہو رہے ہیں تو چین میں ہو رہے ہیں۔جاپان میں تو شانتی ہی شانتی ہے۔سستی سبزیاں شاید کچھ عرصے کیلئے ملنا بند ہو جائیں لیکن وہ بھی چین آپے ہی بھیجنا شروع کر دے گا کہ عوام کیلئے روزگار اور پیسہ چین کو چاھئے ہی ہے۔ تے سانوں کی

اگر جاپان ہی غصے میں آکر چین کی پروڈکٹ پر پابندی لگا دے تو؟ پریشان کون ہو گا ؟ اس کا اندازہ چین کی حکومت کو بھی ہے۔ جاپان پابندی لگائے گا تو امریکہ بہادر بھی کچھ ایسا ہی کرے گا۔یعنی جنگ کی کوشش کرنے کی صورت میں "دنیا گول گول" ہی ہے۔ جس کا ڈنڈا اس کا زور ہے۔گلوبل ویلیج کے چوہدریوں کے ہاتھوں میں ہی مسجد کا مولوی اور ڈنڈا رہتا ہے۔ رعایا کی گیس ٹربل کا حل گیس کے اخراج  سے ہو جاتا ہے۔دوبارہ جب گیس ٹربل ہوتی ہے تو دوبارہ خارج  کر دی جاتی ہے۔ٹرائی ٹرائی اگین ۔۔۔ یہ احتجاج نعرے بازیاں اچھل کود گیس کے اخراج کیلئے استعمال کیا جانے والا آسان نسخہ ہے۔

اس سے پہلے بھی یورپی اخبارات  اور سوشل نیٹ ورک پر توہین آمیز کارٹون شائع ہوئے تھے ،اس طرح شورشرابا ہوا تھا۔جب گیس کا اخراج ہو گیا تو  توہین آمیز کارٹون شائع ہوتے ہی رہے۔اور جاننے والے دبے لفظوں مسلسل احتجاج کرتے ہی رہے۔اب جرمنی نے قانون بھی بنا دیا ہے کہ توہین آمیز کارٹونز کی اشاعت کی جاسکتی ہے۔ دوسرے ممالک میں کونسا پہلے ہی یہ کام غیر قانونی تھا ؟۔
اس دفعہ فلم بنی احتجاج نے اس وقت تیزی پکڑ لی جب لبییا والوں نے سفارت کار مار دیئے۔پاکستان میں حکومت نے مجبوراً عشق ڈے کی چھٹی منائی اور وزیر خارجہ صاحبہ  نےامریکی خدشات  کے تحفظ کا بیان دے دیا۔ عوام کی گیس کا اخراج ہو گیا۔اور حکومت اقوام عالم کے سامنے بھی سر خم ہو کر سرخ رو ہو گئی۔عوام اب گھروں میں بیٹھے تمام سیاسی جماعتوں کے بیانات سن رہے ہیں کہ  دوسری پارٹی کا تو کوئی سیاسی رہنما احتجاجی ریلی میں شامل ہی نہیں ہوا۔سیاسی جماعتیں اس احتجاج کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔

دیکھئے کون سی فنکار سیاسی جماعت یہ کارڈ کیش کرواتی ہے۔

یہ مسئلہ جوں کا  توں ہے۔اسلامی ممالک کے حکمران بیانات تو دے رہے ہیں ،لیکن کسی قسم کی مشترکہ کوشش  کرنے کی تحریک نظر نہیں آرہی ۔یہ توہین آمیز مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی حرکات مستقبل میں بھی چلتی رہیں گی۔جب تک تمام مسلم ممالک کے حکمران مشترکہ طور پر کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔
اور عوام بھی سوچ لے کہ اس طرح  کی گیس جب خوب بھر جایا کرے گی تو یہی طریقہ علاج  پسند ہے یا کوئی ایسا علاج کہ گیس ٹربل سے ہی جان چھوٹ جائے؟

ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی عوام تیسری دنیا کے معاملات کو نہایت سرد مہری سے دیکھتے ہوئے  یہی کہتے ہیں گیس کا اخراج ہو رہا ہے، ان حکومتوں اور حکمرانوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں،کہ عوام کو ایسا مواقعے فراہم کرکے ان کی فرسٹریشن دور کر دی جائے۔

 

 
گیس کا اخراج گیس کا اخراج Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:09 PM Rating: 5

7 تبصرے:

ali کہا...

بہت خوب، آپکی اس بات سے ہمارا اتفاق ہے کہ واقعی چینی خر دماغ ہیں اور کرپشن میں بھی واہ واہ ہیں-یہ چین اور چینی اور میٹھا سے ہمکو لگ رہا ہے ہمارے بارے بات کری ہے تو حضور اگر ہم نہ کہتے چینی لڑکیاں میٹھی ہیں تو یار لوگ خاک پڑھنے آتے ہمارے بلاگ پر ۔آپ نے انکا برا رخ دکھایا ہم نے اچھا کیوں کہ ہماری اپنی مجبوری تھی آپکی اپنی سوچ :ڈڈڈڈڈ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ جی۔۔۔آپ ٹھڑکی ہو جی
اور ہمیں اب بابا بننے کا شوق ہے۔۔
یعنی کہ آپ میٹھا میٹھا کھانے کے چکر میں رہتے ہیں
اور ہم نہایت شریفانہ زندگی گذار رہے ہیں؛ڈڈ

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

عمدہ معلوماتی مضمون ہے۔
پاکستانی گریبان میں جھانکنے بلکہ گریبان میں رہنے کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ پوری دنیا میں انہیں کوئی کمینہ نظر آتا ہے تو وہ تھوڑی دیر کے لیے حیران ہو جاتے ہیں۔

ڈفر کہا...

مسلم ممالک مل کر کچھ کریں؟
مسلم ملک کی تعریف کیا ہے؟
جو "مسلم ممالک" اس مشترکہ لائحہ عمل میں سرکردہ کردار ادا کر سکتے ھیں وہ سارے کے سارے امریکہ اور ان مغربی ممالک کو اپنے پستانوں سے لگائے دودھ پلا رہے ہیں

سعود کہا...

جنوب مشرقی ایشیا، برصغیر،حتی کہ سنگاپور، چین، جاپان، عرب، اور ملائشیا جیسے ممالک کے لوگ بھی گوروں کو دیوتاؤں کی صورت کیوں سمجھتے ہیں؟؟؟

dohra hai کہا...

سو فی صدی آپ کی بات سے ایگری کرتا ہوں۔ بس دُعا ہے کہ ہم لوگ مِل کر اِس گیس ٹربل کا مُسقل حل نِکال لیں ۔ بس اللہ ہمیں اور ہمارے لیڈروں کو بے سِمتے قدم اُٹھانے کی بجائے درست فیصلوں کی توقیق عطا فرمائے۔ آمین۔

las artes کہا...

بہرحال ہم "تُزک استاد پونکوی" سے آپ کے لیے ایک سبق آموز واقعہ ضرور پیش کریں گے۔ چاہے اس میں ہمار ےہاتھ ہی کیوں نہ قلم اور منہ ،بلم ہوجائے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان چکے ہیں کہ استاد کو مچھلی کے شکار کا ہوکا تھا۔ اور بقول ان کے کائنات میں ان سے بڑا مچھلی کا شکاری نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ پیدا ہونے دیں گے۔اس بات کا مطلب نہ توہمیں اس وقت سمجھ آتا تھا اور نہ ہی اب آتا ہے جبکہ ہم قابل شرم حد تک لفنگے اور واہیات بھی ہوچکےہیں!

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.