آستین کے سانپ اور دین ہندی کا نظریہ ضرورت

توہم پرستی برصغیر ہند میں قدیم تر زمانے سے شدت کے ساتھ موجود تھی۔ہندو مذہب  کی بنیاد اور عمارت ماروائی قصے کہانیوں پر ہی ہے۔یہ قصے کہانیاں زیادہ تر رنگین اور سحر انگیز ہوتی ہیں۔
کچھ اس طرح کے عجیب و غریب  قصے یونان والے لیکر آگئے تھے۔یہاں کی عوام پر حکومت کرنے کیلئے انسانی درجہ بندی کچھ پہلے سے تھی اور مزید آریائی حکمرانوں نے شدت سے تخلیق کر لیں۔نچلے درجے کے ہندوں کو تو ہندو مذہب کی مقدس کتاب پڑھنے چھونے کی سختی سے ممانعت ہے تو اگر غلطی سے سن لے تو سزا ہے۔
جب مسلمانوں کا دور آیا تو صوفی ازم بھی اس ہند میں آگیا۔
اولیا اللہ نے تو خلوص دل سے عوام کی بہتری کیلئے جان ماری ۔لیکن ہندو وں سے مسلمان ہونے والے نو مسلم کے دلوں میں ہندو ازم کا "جوگی"  موجود تھا جو کہ صوفی ازم کی ایک غیر اسلامی شکل ہے۔
خواجہ غریب نواز جو کہ ایک بزرگ گذرے ہیں۔ان کا واقعہ سنا ہی ہوگا۔کہ ایک مرید سے بیعت لیتے وقت اس سے "اپنا " کلمہ پڑھایا۔اور جب مرید کلمہ پڑھ چکا تو اس سے کہا کہ یہ تو تیری آزمائش کیلئے تھا۔"میری " کیااوقات۔
اس واقعہ کے دفاع میں کہا جاتا ہے کہ ان پر "کیفیت" طاری تھی۔
یہ واقعہ جس کتاب میں لکھا ہوا ہے اس کتاب کا نام مجھے یاد نہیں،لیکن اتنا یاد ہے کہ یہ کتاب خواجہ صاحب کے کسی مرید نے تحریر کی ہے۔
عام مسلمان تو سوچ میں پڑجاتا ہے ،کہ صحابہ کرام جب چار جمع ہوتے تھے تو ایک کو امیر بنا لیتے تھے۔یعنی ایک کے ہاتھ بیعت کر لیتے تھے۔کسی صحابی کے عمل سے ہمیں علم نہیں ہوتا کہ کسی نے آزمائش کیلئے حالت کیفیت میں کسی سے اپنا کلمہ پڑھایا ہو۔
اور نا ہی خلفائے راشدین  نےمسلمانوں سے بیعت لیتے  ہوئے  ایسا کیا ۔
جب تک برصغیر ہند کے مسلمانوں میں دم خم تھا۔طاغوتی طاقتیں محتاط تھیں کہ "جوگی" سے ہندی نبی ہونے کا دعوی نہیں کرتے تھے۔
بابا گرونانک صاحب کے متعلق کہا جاتا ہے ،کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم مسلمان علما سے حاصل کی اور علم حاصل کرنے کیلئے مکے مدینے تک سفر کیا۔


سکھوں کی مذہبی کتاب میں مسلمان صوفی شعرا کا کلام شامل ہے،اور کئی صوفی  مسلمان شعرا بے چین تھے کہ ان کا کلام بھی اس مذہبی کتاب میں شامل کیا جائے۔
بابا گرو نانک ہندووں ،مسلمانوں کے مشترکہ " مرشد" تھے تو سکھ ازم کے بانی اور "ہوائی شخصیت" تھے۔لیکن باباگرو نانک نے مسیح موعود ،امام مہدی ، یا "حلول" ہو کر نبوت یا خدائی کا دعوہ کرنے کی ہمت نہیں کی۔
ہمارے سامنے ہے کہ بابا گرو نانک کے "ہندی دین" کے پیروکار ہندو پاک میں اب بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے نا ہی سکھ اپنے آپ کو مسلمانوں کا "فرقہ" ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔۔مسلمانوں کے کسی بزرگ نے بابا گرو نانک کی شان میں بڑی سے بڑی گستاخی اتنی ہی کی  کہ کہہ دیا " کہوڑا اتھے وئی کہوڑا تے مکے وئی کہوڑا"
اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے محسوس کیا کہ اس ملک میں سب سے بڑی مدافعتی طاقت مسلمان ہی ہے کہ یہ کمزور ہونے کے باوجود کسی وقت بھی بگڑ کر مرنے مارنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔برصغیر کے مسلمان جو کہ سخت انتشار کا شکار تھے۔کوئی سیاسی طاقت انہیں ایک جھنڈے کے نیچے جمع کرنے والی نہیں تھی۔ ہندووں کے ساتھ رہنے سے اکثیریت توہم پرستی کا شکار ہو چکی تھی اس توہم پرست عوام کو "روحانی غلام" بنانے کیلئے پڑھے لکھے "روشن خیال" مسلمانوں کیلئے سر سید احمد خان کو آگے کیا گیا اور جدید دور کی تعلیمی اہمیت کو ان کے دماغوں میں  گھسیڑنے کیلئے سر سید سے قرآن کی تفسیر لکھوانے تک کا کام  لیا گیا ۔سرسید احمد خان پہلے ہی انگریزوں کے حامی تھے۔
جو دیگر دین اسلام سے محبت کی وجہ سے جان و مال و دنیا کی پرواہ نا کرنے والے مسلمان تھے ان کیلئے ۔مولوی چراغ ، عبدالله چکڑالوی ، احمدالدین خواجہ امرتسری ، مولوی اسلم جیراج پوری اور پهر آخر میں اس مشن کا جھنڈا برٹش گورنمنٹ کے محکمہٴ انفارمیشن کے ملازم چوہدری غلام احمد پرویز نے اٹهایا اور کفر وگمراہی کے انتہائ درجات تک اس شیطانی تحریک کو پہنچایا۔
مسٹر غلام احمد پرویز نے حدیث کا انکار کیا اور ارکان اسلام کی نفی کرکے مسلمانوں کیلئے صرف قرآن کی پیروی کرنے کا کہا اور قرآن میں اللہ کے احکامات کو اپنے مطلب و مقاصد کے مطابق کیلئے توڑا مروڑا۔اس کے پیرو کار اپنے آپ کو اہل قرآن کہتے ہیں۔
ملعون مرزا قادیانی نے مجددیت، مہدیت ، کے بعد مسیح موعود ہونے کا دعوہ کیا اور آخر کار نبوت کے تخت پر چڑھ بیٹھا۔ یہ دونوں ایک ہی علاقے سے تھے۔
مقاصد ان سب کے ایک ہی تھے کہ کسی طرح بھی مسلمانوں سے جذبہ جہاد ختم کر دیا جائے کم از کم انتہائی کمزور کر دیا جائے۔
ابتدا اسلام سے ہی مسلمانوں میں   ختم نبوت پر اجماع ہے۔اہل تشیع اور دیگر فرقہ یا مسلک والوں میں ہزاروں اختلافات کے باوجود ختم نبوت کے عقیدے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
یہ دونوں طاغوتی طاقتوں کے زرخرید تھے۔ان کا طریقہ واردات انتہائی مکروہ تھا۔پہلے انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کا عالم دین باور کروایا جب ایک کثیر تعداد میں عقیدت مند جمع ہو گئے تو آہستہ آہستہ اپنے مشن پر کام شروع کیا اور مسلمانوں میں ایک نئے فرقے کی بنیاد ڈال دی۔
مرزا ملعون لعنتی نے وہی "جوگیوں" اور "اسلامی صوفیوں" والے عقیدہ وحد ت الوجود کو استعمال کیا اور "حلول در حلول " کی "کیفیت "کا ڈرامہ کرکے ایک کثیر تعداد میں شیطانوں کا ٹولہ اپنے ارد گرد جمع کر لیا۔یہ شیاطین اس وقت بھی مسلمانوں پر جو آزمائش آتی ہے اس کے اسی "خنزیر  لعنتی مرزے" کو نا ماننے کا عذاب کہتے ہیں اور مسلمانوں کی تکالیف دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
ان کی ذہنی غلاظت کی انتہا اس وقت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے ،جب ہمارے پیارے نبی خاتم الانبیا صلی اللہ و علیہ وسلم کی  ان کے سر پرست خبیث توہین کرتے ہیں اور مسلمانوں کے رد عمل پر ان کا مسلمانوں کو دہشت گرد شدید پسند ہونے کا طعنہ دینا ہوتا ہے۔
ان اپنی ہی غلاظت میں لتھڑنے والے "خنزیر لعنتی مرزے" کے پیروکاروں کو ہم مسلمانوں کی حب نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم کی سمجھ کیسے آئے گی کہ ان کا تو ہندی نبی بقول اس خبیث کے کہ وہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے۔
چٹی چمڑی والے ان کے خبیث نبی کے سرپرستوں کی تکلیف پر ان کا دھاڑیں مار کر رونا ہمیں تو سمجھ آتا ہے۔
اسلام کے اندر جب بھی غدار پیدا ہوئے ان کی سر پرستی ہمیشہ اسلام دشمن طاقتوں نے کی ،انیس سو پینتیس میں جب علامہ اقبال ؒ نے قادیانیت پہ چند مضامین لکھے تو "جواہر لال نہرو" نے اپنے ہندو ازم اور "قادیانیت" کی قربت محسوس کرکے "ہندوانہ ذہنیت "سے مجبور ہوکر "قادیانیت " کی حمایت میں ایک مضمون تحریر کیا۔


قادیانی ہمیشہ سے ہی محی الدین ابن عربی کے نظریات مکاشفات اور روحانی  تجربات کو غلط استعمال کرکے اپنے گمراہ کن غلیظ باطل عقائد کو سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
انیس سو پینتیس  میں قایانیوں کے ساتھ ان کی مذہبی حثیت کے بارے میں جب جمہور مسلمانوں کا نزاع شروع ہوا تو اقبال ؒنے اس میں امت مسلمہ کی نمائندگی میں نہایت عالی قدر محققانہ مضامین تحریر کیے۔
اس تحریری جنگ میں قادیانیوں نے اپنے گمراہ کن عقائد کے تحفظ کے لئے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے مکاشفات اور روحانی تجربات کی غلط تاویل کرنے کی کوشش کی تو اقبالؒ نے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قادیانیوں اور ان کے ہمنواوں کے گمراکن رویے کی نشاندہی کی اور ان کی سخت گرفت کرتے ہوئے شیخ اکبر کے نظریات ،مکاشفات اور روحانی تجربات کا انتہائی کامیاب دفاع کیا۔


 دلچسپ امر یہ ہے کہ محقیقین کے مطابق اقبالؒ وحدت الوجود کے  شدید مخالف تھے اور کہتے ہیں کہ آخر عمر میں  اقبالؒ کی انتہائی مخالف روش اعتدال میں بدل گئی تھی اور ان کے انتہائی سخت رویے میں قدرے نرمی آگئی تھی۔
قادیانیت کے متعلق ایک عمومی سوچ پائی جاتی ہے ،کہ یہ لوگ نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔
یہ اس وجہ سے خطرناک نہیں ہوتے کہ دلائل سے ایک سوجھ بوجھ رکھنے والے مسلمان کو قائل کرلیتے ہیں۔ان کی


خطرناکی یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں مسلمانوں میں گھل مل جاتے ہیں اپنے آپ کو مسلمانوں کا فرقہ کہتے ہیں ، اپنے عقائد چھپاتے ہیں موقع ملتے ہی آستین کے سانپ کی طرح ڈس لیتے ہیں۔
پچھلی پوسٹ پر میں نے صرف اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔میرے کئی عزیزدوستوں نے بھی کہا کہ مسلمان کو انصاف پسندی اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاھئے ۔بحرحال یہ میرے جذبات حب نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم سے تعلق رکھتے ہیں جس کیلئے میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھا سکتا۔
لیکن ان قادیانیوں کا واویلا دیکھنے کے قابل ہے کہ انہیں تکلیف ہے کہ ہم مسلمان جو ختم نبوتﷺ پر کسی قسم کی  چھوٹ نہیں دیتے اور ان کے لعنتی جھوٹے مکار خبیث نبوت کے دعوی دار کا پول کھول دیتے ہیں۔جسے یہ لعنتی کی توہین سمجھتے ہیں۔
لیکن اپنے پیارے نبی ﷺ کی توہین پر  مسلمان سب کچھ تباہ کرنے پہ تل جاتے ہیں۔
تو ان کو یہ بتانا چاہوں گا۔ہم خنزیر کا شکار کرکے اسے جنگلی کتوں کے آگے تو پھینک دیتے ہیں نا ہی کھاتے اور نا ہی کسی قسم کا رحم اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔
بلکہ تھو تھو کرتے گھر آتے ہیں اور کہتے ہیں آج خنزیر مارا ہے ۔نہا کر طہارت حاصل کرنی ہے۔
ٹیچی ٹیچی کرتے خنزیر کی ہم کیوں عزت کریں؟
ہنڑ ارام اے؟
آستین کے سانپ اور دین ہندی کا نظریہ ضرورت آستین کے سانپ اور دین ہندی کا نظریہ ضرورت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:13 AM Rating: 5

26 تبصرے:

جعفر کہا...

ایں کار از تو آید، مرداں چنیں کنند

ابو عبد اللہ کہا...

شدت پسند ہوتے جا رہے ہیں آپ :ڈ:ڈ:ڈ

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ یاسر بھائی،
بہت ساری جگہیں اور مقامات ایسی آجاتی ہیں جہاں بحث و مباحثہ مزید فتنوں کی راہ کھولتا ہے.
لعین مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کے ماننے والوں پر کچھ اثر نہیں کرتا. نا اسکے جھوٹ، نا اسکی سرعام سبکیاں اور نا ہی اسکی کتابوں کے حوالے. اس لیے بحث فضول ہے. لعنت بھیجیے اور الگ ہوجائیے.

محمد سلیم کہا...

میرے جذبات حب نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم سے تعلق رکھتے ہیں جس کیلئے میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھا سکتا

آپ کے بلاگ سے منتخب یہ سطر آپ کے جذبات کی عکاس، آپ کے سچے اور پاکیزہ عقیدے کی مظہر اور مضموں کا حاصل۔

طاہر بٹ کہا...

یاسر بھائی اللہ آپ کی عزت میں اضافہ کرے اچھی تحریر ہے.
آپکی تحریر سے آپکے سچے مسلمان ہونے کا پتا چلتا ہے. اتنے عرصے سے جاپان میں رہنے کے باوجود آپکی باتوں سے وطن اور مذہب سے محبت کی خوشبو آتی ہے.

ali کہا...

بالکل صیح بات ہے ہم نہیں کرتے بحث اور ان کی کوئی بات نہیں مانتے دفع ہو جائیں

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

پسند کے کچھ لوگوں کی برائی بھی رہ گئی، ناپسندیدہ لوگوں کی کچھ اچھائی بھی رہ گئی اور نظریاتی موافقین سے انبائیسڈ ایویلیوئیشن کا سرٹیفیکیٹ بھی لیا ۔ انبائیسڈ تاریخ لکھ چھوڑنے کی ایک انبائیسڈ تاریخ بھی رقم کردی ہے ۔ سبحان اللہ، وللہ ۔ اللہ اللہ ۔

بنیاد پرست کہا...

یاسر بھائی آپ کی اس اپنے روٹین سٹائل سے ھٹ کر لکھی تحریر کو دیکھ کر اک واقعہ یاد آرھا ہے، شاید عبدالحلیم شرر کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ بہت خود پسند اور مغرور شاھر تھے، اک دفعہ شراب کے نشہ میں نوجوانوں کی اک مجلس میں بیٹھے تھے، وہ لڑکے باری باری کسی شاعر کے بارے میں پوچھتے کہ آپ کا فلانے شاعر کے بارے کیا خیال ھے، یہ اس کے جواب میں اس شاعر پر متکبرانہ انداز میں تنقید کرتے ھوۓ اسے اپنے سے کمتر قرار دیتے، ساتھ شراب کا گھونٹ بھرتے جاتے. میر تقی میر، غالب ، درد جیسے شعرا کا تذکرہ آیا.. اک شریر نوجوان نے انکے تکبر اور نشہ کی حالت کو دیکھ کر پوچھ لیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ھو ؟.
آپ تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اک دم اٹھ بیٹھے، شراب کا گلاس اس لڑکے کے سر پر دے مارا اور بولے ' لوگ ھم سے ھماری آخری متاع بھی چھین لینا چاہتے ھیں، اک وھی تو در ھے جس سے ھم آس لگاۓ بیٹھے ہیں'. یہ کہہ کر روتے ھوۓ کمرے سے باھر نکل گۓ.

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ماشاءاللہ۔
یاسر بھائی! آپ نے دل خوش کر دیا ہے۔ مرزا مردود ملعون کذاب کے ماننے والے جہاں پرلے درجے کے احمق ہیں۔ وہیں اسلام۔ مسلمانوں اور پاکستان سے ازلی عناد اور بغض رکھتے ہیں۔ اور نت نئی حماقتیں کرتے ہیں۔
ایک بات جو سب مسلمانوں کو بتانا ضروری ہے کہ مرزئیوں کی منافقت سے ہوشیار رہیں۔ مرزائی اپنا کفر چھپا کر مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
جس طرح اللہ تعالٰی کے نام سےشیطان بھاگ جاتا ہے اسی طرح ان سے نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کروایا جائے تو یہ بھاگ جاتے ہیں اور ان کے کفر کا بھانڈہ پھوٹ جاتا ہے۔
بحث مباحثہ ششستہ اور نفیس لوگوں سے کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ مرزائی اور قادیانی مرزا ملعون کی طرح غلاظت اور جھوٹ کو مرزا قادیان مردو و ملعون کی پیروی کے طور کار ثواب سمجھتے ہیں۔ اس لئیے اگر کوئی قادیانی بحث کرنا چاہئیے تو اس مرزا مردود پہ لعنت بیجھ کر دفعہ کردینا زیادہ مناسب ہے۔
قادیانیوں کے بارے اب اس ویڈیو کا بیان بھی سن لین۔ خلیفہ ثانی مرذا محمود کی اپنی بیٹی کے ساتھ بد فعلی
http://www.youtube.com/watch?v=Lh3Be0vHUm8

Jameel کہا...

دلچسپ بات يہ ہے کہ بہترناری فرقہ آپس ميں تو ايک دوسرے کو کافر قرار ديکر گلے کاٹ رہے ہيں اور آج تک مسلمان کی تعريف پہ ہی متفق نہيں ہوسکے ليکن ايک جنتی فرقہ کے مقابل اپنا اجماع کرکے بہتر فرقوں والی حديث کے مطابق خود اپنے کفر پہ مہر لگا ديتے ہيں-

دلائيل سے عاجز آنے کے بعد اب گالم گلوچ شروع جيسا کہ کفار مکہ کا دستور تھا- يہ تو ثابت ہوگيا کون کس کا پيروکار ہے- چيل کے گھونسلہ ميں ماس کہاں- بہتر فرقہ ناری ہيں تو اس کی کوئی وجہ ہے نا-

Jameel کہا...

بہت ساری جگہیں اور مقامات ایسی آجاتی ہیں جہاں بحث و مباحثہ مزید فتنوں کی راہ کھولتا ہے


يعني جب اپنے اسلاف کو ہی کافر قرار دينا پڑھ جائے تو راہ فرار اختيار کرنا ہی بہترہے؟ جب دلائيل کا جواب نہ ديا جاسکے تو حق کو ماننے کے بجائے غلط عقائيد پہ ڈٹے رہنا؟ اوپر سے شرمندہ ہونے کے بجائے فرسٹريشن ميں گالم گلوچ اور دہشتگردی شروع کردينا- اسی ليئے بہترناری فرقوں کو ايک جنتی فرقہ پہ غصہ بہت آتا کيونکہ دليل کوئی نہيں ہے- اس سے ان کے عقائيد کا پول خوب کھل جاتا ہے-

بنیاد پرست کہا...

تمہاری چناب نگر کی جنت میں آج کل سانپوں، کیڑوں کابسیرا ہے، کتے بھی اس جنت میں پیشاب کرنا پسند نہیں کرتے کہ مرزے کی نجاست سے کہیں ناپاک نہ ھوجائیں،
تمہارے پاس بہت علم ھے نا، ذرا اس لطیفے کا جواب تو دے کر دکھاؤ، آخر مرزے لعنتی کا کچھ تو تمہارے اوپر حق ھے.
http://bunyadparast.blogspot.com/2012/07/blog-post.html

Jameel کہا...

مولويوں کے پيروکاروں کو جہاد سے کس نے روکا ہے؟ بڑے شوق سے جہاد کريں- ليکن جب جاپاني ين کمانے کا جذبہ ملا عمر کے ساتھ دھکے کھانے کے جذبہ سے ذيادہ ہو تو اس ميں منافقت کس کی ہے؟ پھر بھی پارسائی کا ڈرامہ کرنے کے ليئے دوسروں کو الزام-

يہ اور بات ہے کہ ان جہاديوں نے آج تک اپنے ليئے جيتا کچھ نہيں- بے گناہ بھی مارے جارہے ہيں اور اسلام الگ بدنام-

سمجھدار لوگوں کے ليئے بات يہ ہے کہ اس زمانے کا جہاد يعنی علمی جہاد جو جماعت کررہی ہے اور اس ميں جو کاميابی حاصل کررہی وہ اپنے مولويوں سے ہی سن ليں۔ جب بہتر فرقوں کے تمام مشائخ، ملاؤوں، پيروں، حکيم الامتوں اور عالموں کی بولتی بند ہوتی ہے تو کونسی جماعت ہے جو يہ کام کرتي ہے اور کررہی ہے؛

http://www.youtube.com/watch?v=lnDXUOgIja4

رانا سایف کہا...

بہت اچھی پوسٹ ہے یاسر صاحب......
اور جمال صاحب ...
مسلمان کون ہے ور کون نہیں اور ٧٢ فرقے کا جو حال ہے ...
وو آپ قرآن دھیان سے پڑھ لیں تو پتا لگ جائے گا....
اور اگر آپ اس سوچ سے تعلق رکھتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کے قرآن عام انسان کی سمجھ میں نہیں اتا کسی کا "لڑ" پکڑنا
پڑھتا ہے تو پھر....آپ
شیخ عبدلقادر جیلانی کی کتاب "غنیت ال طلبین " پڑھ لینا تو بھی سمجھ ا جائے گی....

رانا سایف کہا...

اور ٧٢ نہیں اسلام میں ٧٣ فرقے کی بات ہے...

dohra hai کہا...

جناب بہت اچھی تحریر ہونے کے باوجود بہت سی جگہوں پر تاریخ کے ساتھ کچھ نااِنصافی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ تحریر کا انداز بھی کُچھ جگہوں پر ضرورت سے زیادہ متشددانہ سا لگا۔

Jameel کہا...

نبی سے محبت کا ثپوت گالياں دينا ہوتا ہے؟ نبي بھی يہ گالياں ديا کرتے تھے؟ نئے نئے پيمانے سامنے آرہے ہيں نبی سے محبت کے-

Jameel کہا...

واہ واہ، نبی کی توہين کرتے ہوئے شراب بھی پی ليں گے اور پھرنبی کی محبت کا دعوی بھي- بہتر فرقوں کا نبی سے محبت کا دعوی ايسا ہی منافقانہ ہے- سارے کرتوت ويسے ہی ليکن جب دوسرے کی گردن مارنی ہے يا زمين چھيننی ہے يا ويسے بدمعاشی کرنی ہے يا سستے نمبر بنانے ہيں تو نبی کا نام ياد آجاتا ہے-

dr iftikhar Raja کہا...

آجکل ہر پاسے احمدیت کے خلاف مہم چل رہی ہے، آپ بھی بہت پونچے ہوئے بزرگ ہیں مگر آج کل کے مولبی طاہر القادری کا ذکر کرنا شاید بھول گئے۔ ہیں جی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ دیکھ لیں ۔۔قادیانی پاغل کتے کی طرح باولا ہوا جا را ہے۔۔۔۔ہیں جی

Jameel کہا...

لو جی ختم نبوت والے ہار گئے- تمام تحريريں مٹادی گئيں- جن کے اپنے اسلاف ختم نبوت کے منکر ہيں اور جنکے اپنے مولوی شکست قبول کررہے ہيں ان بيچاروں کے پاس جھوٹ، گالم گلوچ اور دہشتگردی کے علاوہ اور کيا باقی رہ جاتا ہے؟ ليکن يہ سارے دلائل انٹرنيٹ اور سيٹیلائيٹ پہ موجود ہيں، کہاں تک چھپاؤ گے ختم نبوت کے جھوٹو- آخري چند دن ہيں گزارلو شامت قريب ہے- اپنے ہی مولوی يہ مان رہے ہيں کہ قوم عذاب کا شکار ہوچکی ہے-

انکل ٹام کہا...

ہمارے تو نہیں لیکن آپ کے نبی مرزا صیب گالیاں ضرور دیتے تھے ، ویسے اگر انکو جمع کیا جائے تو ایک الگ مضمون بن جاٗے گا ۔

بنیاد پرست کہا...

جمیل تم نے تہتر فرقوں والی حدیث کی رٹ لگائی ھوئ ھے، کبھی تم نے وہ حدیث پوری پڑھی بھی ھے. میں بتاتا ھوں اس میں خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے میری امت تہتر فرقے پیدا ھوں گے ان میں سے صرف وہ جنت میں جائیں گے جو میری سنت اور میرے خلفا وصحابہ کے طریقے پر ھوں گے .. تم قادیانی تو مرزے کی بدعت اور اس کے خلفا کی ضلالت پر ھو، تمہیں اس حدیث کا حوالہ دیتے شرم نہیں آتی. بے شرموں.! تمہارے لیے تو تیس دجال کذاب نبی پیدا ہونے کی پیشن گوئ والی حدیث ھے.
تم نے اگر جنت میں جانا ھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے خلاف کیے گئے جہاد کے طریقے پر اپنے کذاب نبی مرزا قادیانی کے خلاف جہاد شروع کردو ورنہ تمہارا حشر بھی وھی ھوگا جو مسیلمہ کذاب کے ساتھیوں کا ھوا.

بنیاد پرست کہا...

امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ شرابی فاسق توبہ کرکے یا اپنی سزا بھگت کر کبھی نہ کبھی جنت میں چلا جاۓگا خاتم الانبیا صلی اللہ کے بعد کسی دجال کذاب مرزے کو نبی ماننے والا مرتد و زندیق کبھی جنت میں نی جاسکتا. تم اپنی خیر مناؤ...
فرق تم دیکھ سکتے ھو اس سے شراب کے نشے میں بھی حضور کی توہین برداشت نہیں ھوئی، تم حالت حواس میں خود نبی کی توہین کے خلاف احتجاج کرنا تو دور کی بات، جو کررہے ہیں ان کو تم دہشت گرد قرار دے رہے ھو.

وقاراعظم کہا...

لوجی ختم نبوت والے ہار گئے اور لعنتی مرزے کے چیلے جیت گئے کیا بات ہے۔۔۔۔
ہم مسلمان عذاب خداوندی کا شکار ہیں اور یہ قادیانی۔۔۔ ان کے لیے ان کے شہر ہی جہنم بن گئے۔ خود ہی دہائی دیتے پھرتے ہیں کہ بہت ظلم ہورہا ہے ان پہ۔

یہ بہتر تہتر فرقوں کا فسانہ بھی بڑا دلچسپ ہے، مولانا مودودی (رح) نے بہت پہلے اس کی حقیقت کچھ یوں بیان کی تھی کہ:

اسلامی حکومت کے معاملے میں 73 فرقوں کے افسانے کی حقیقت بھی آج کھول دوں جس سے خواہ مخواہ ناواقف لوگ اپنے ذہن کو بھی الجھاتے ہیں اور دوسروں کے ذہنوں میں بھی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلمان فرقوں کی وہ کثیر تعداد جس کا ذکر کتابوں میں ملتا ہے، اسکا بہت بڑا حصہ کاغذی وجود کے سوا نہ پہلے کوئی وجود رکھتا تھا اور نہ اب۔ جس شخص نے بھی کوئی نرالا خیال پیش کیا اور اس کے سو پچاس حامی پیدا ہوگئے اسے ہمارے مصنفین نے ایک فرقہ شمار کرلیا اس طرح کے فرقوں کے علاوہ کافی تعداد ایسے فرقوں کی بھی ہے جو گذشتہ چودہ سو برس میں پیدا ہوئے اور مٹ گئے اب صرف چھ سات ہیں جنہیں اصولی بنیاد پر فرقہ کہا جاسکتا ہے لیکن دنیا میں بڑے مسلم فرقے صرف دو ہی ہیں ایک سنی، دوسرا شیعہ۔ ان میں امت کا سواد اعظم سنیوں پر مشتمل ہے اور کے ضمنی فرقوں میں جو اصولی اختلاف رکھتا ہو یہ صرف مذاہب فکر (اسکول آف تھاٹ) ہیں جن کو مناظرہ بازیوں نے خواہ مخواہ فرقوں کی شکل دے رکھی ہے۔ اگر کوئی عملی سیاست دان دنیا کے کسی ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہے تو ان اختلافات کی موجودگی کہیں بھی رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔

ہمارے ملکوں میں بے سکونی دہشت گردی تمہارے آقائوں اور تم قادیانیوں کی وجہ سے ہے۔ بہت جلد ہم ان سے بھی اور تم سے بھی نمٹ لیں گے۔ پھر کیا ہوگا؟ یہ دنیا تو زیادہ تر قادیانیوں کے لیے جہنم ہی ہے اور رہیگی۔ اور روز آخر میں بھی تمہارا ساتھ اسی مرزے مردود کے ساتھ ہوگا۔۔۔۔ ;)

ارتقاءِ حيات کہا...

مسلمانوں کو اس امر کا احساس کرناچاہئے کہ آج ان کے پیغمبر کی توہین اس لئے ہورہی ہے کہ وہ دنیا میں کمزورو ناتواں ہیں اور بین الاقوامی سطح پران کاکوئی وزن اور ان کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔ اگر آج وہ تنکے کی طرح ہلکے نہ ہوتے تو کس کی مجال
تھی کہ ان کے پیغمبرﷺ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا احتساب کریں ، اپنی کمزوریاں دور کریں اور اسبابِ ضعف کا خاتمہ کریں ۔ اپنے دین سے محکم وابستگی اختیار کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں احکامِ شریعت پر عمل کریں کہ یہی ان کے لئے منبع قوت ہے اور گہرے ایمان اور برتراخلاق کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی متحد ہو کر آگے بڑھیں اور طاقتور بنیں تاکہ دنیاان کی بھی قدر کرے اور ان رہنمائوں کی بھی جنہیں وہ مقدس سمجھتے اور محترم گردانتے ہیں ۔

ہو اگر عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
(اقبال)
http://tehreemtariq.wordpress.com/

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.