ہم ہیں مسلماں سارا جہاں ہمارا

 ہماری بیگم صاحبہ کی بچپن کی دوست موری موتو صاحبہ آجکل ہمارے یہاں بمعہ شرارتی بچوں کے تشریف لائی ہوئی ہیں۔یہ خاتونہ تاریخ دان ہیں اور یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔مزاج ان کا بھی ہماری بیگم صاحبہ کی طرح کافی طرحدار ہے۔


اس لئے میں اور بچے موقع ملتے ہی گھر سے بھاگ جاتے ہیں،جب ٹائم پاس ہو جاتا ہے یا بھوک لگتی ہے تو ڈرتے ڈرتے گھر واپس آہی جاتے ہیں۔ بچے تو کہتے ہیں اوئے "ماما" روٹی باہر کھلا لیکن ان بچوں کی اماں اور ہماری گھر والی ایسی خرافات کے سخت خلاف ہیں ۔


اس لئے ہم سب منہ بسورتے گھر کی ککڑی جو دال برابر ہوتی اسے ہی نوش فرماتے ہیں۔ گزشتہ دنوں فیس بک پر فہد کہر صاحب نے آیا صوفیہ پہلے چرچ بعد میں مسجد اور اب عجائب گھر کی پرانی فوٹو شاید حسرت سے لگائی  اور لکھا کہ آیا صوفیہ عجائب گھر سے پہلے جب مسجد ہوتی تھی۔


اس کے بعد ہم سب نے حسب توفیق ادھم مچایا۔ظاہر ہے ہم بقول خود بلکہ بقول شخصے بھی علامہ ہونے کی خوش فہمی کا شکار ہیں۔اس لئے ہم نے اپنی بات تو منوانی ہی ہوتی ہے کوئی مانے یا مانے۔


فہد کہر صاحب کو کیونکہ ہم محترم سمجھتےہیں اور جسے ہم محترم سمجھتے ہیں اس کا لکھا ہمارے لئے حرف آخر ہوتا ہے۔جب تک کوئی ہماری کھوپڑی کو ٹھیک ٹھاک ٹھونک بجا نا دے۔


جیسے آپ نے سنا پڑھا ہو گا کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو ذرا علامہ "شو" کرنے کے چکر میں موری موتو صاحبہ جو کہ پروفیسر ہیں ۔ان سے کھانے کے ٹیبل پر پوچھ بیٹھے "آنٹی" یہ بتائیں آپ کی نظر میں اسلامی تاریخ میں جو "ہمارے" مسلمان حکمران گزرے ہیں ان کا علم دوستی میں کیا رتبہ ہے؟


"آنٹی " جو جاپانی نوڈلز سڑوک رہیں تھیں انہوں نے دو چار لمبے لمبے نوڈلز کے سڑوکے مارے اور ہمیں ذرا گھورا۔۔۔۔


کوئی جاپانی کالے نینوں والی جادوگرنی نازنین ہمیں ایسے گھورتی تو شاید ہم تھوڑے خوش فہمی کا شکار ہوتے لیکن مقابل آنٹی تھیں جو ویسے ہی آجکل ہماری ایک گزشتہ سال کی ہوئی "مجاہدانہ واردات" کی وجہ سے سخت ناراض ہیں۔
بقول "آنٹی " گزشتہ بائیس سال سے وہ ہمیں وسیع القلب، امن وآشتی ، روادری کا جھنڈا سمجھتی رہی ہیں لیکن ہم نے ان کے دل کو انتہائی گہری ٹھیس پہنچائی ہے سال بعد آنے کی وجہ سے انہوں  نےہمیں پہلے ہی ایک ٹھیک ٹھاک لمبا سڑوکتا لیکچر دیا ہواتھا۔۔بس اس گھورکی نے ہمارے دل کو دہلا ہی دیا تھا۔


"آنٹی" نے نوڈلز سڑوکتے ہوئے "سڑے ہوئے لہجے" میں ہم سے پوچھا تمہارے مسلمان حکمران؟


ہم نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔


آنٹی نے مزید نوڈلز سڑوکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔


اسلام کی بنیاد اللہ ،رسول،اور قرآن ہے۔اس میں تو کوئی اختلاف رائے ہوہی نہیں سکتا اور نا ہی تمہارا ایمان اس کی اجازت دیتا ہے۔"چار فرقے" اور "ایک فرقہ " تو تم مسلمانوں کے مستتند ہیں۔باقیوں کا شمار خود کر لو۔


وہ مسلمان حکمران تمارے نہیں تھے اسلام کے حکمران تھے،جنہوں نے انسانی تاریخ کو ورثہ دیا ہے۔


میں نے پھر زبان چلانے کی گستاخی کردی۔
لیکن "آنٹی" ان اسلامی حکمرانوں کے وقت  میں بھی تو یہ چار مسالک  اور ایک" پانچواں" اور کچھ دیگر قابل شمار فرقے تھے۔عصر حاضر کے مسلمانوں کو ہی اس کا الزام دینا زیادتی ہے۔
ہاں  سب کچھ تھا ،مسلکی مسائل پر لڑتے جھگڑتے بھی تھے،لیکن وسیع القلبی اور رواداری اس وقت کی نسبت مسلمانوں میں زیادہ پائی جاتی تھی۔اور سب سے بڑی بات وہ علم دوست تھے۔ عصر حاضر کے اسلام کے بعض فرقے تو مخصوص دینی کتب کے علاوہ کوئی کتاب پڑھنے سے ہی منع کرتے ہیں۔
آنٹی نے نوڈلز سڑوکتے ہوئے نگاہوں کو میری طرف اٹھایا اور طنزیہ انداز میں  گویا ہوئیں۔


رہ گئی بات آیا صوفیہ کے فوٹو کی کہ یہ اب عجائب گھر ہے اور پہلے مسجد تھی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔


تمہاری وسیع القلبی ، رواداری ، امن دوستی  مجھے اسطرح نظر آتی ہے کہ اپنے نظریاتی مخالفین کی مساجد میں بغلوں میں چھریاں اور ہاتھوں میں ڈنڈے لیکر مخالف کو ادھ موا کر دیتے ہو اور منتظر رہتے ہو کہ کوئی دوچار اور بھی تمہیں ہاتھ لگائیں کہ بغلی چھری نکال کرا ن کو  بھی ذبحہ کر دوں!!۔
آنٹی نے بات جاری رکھی اگر ماضی کے حکمرانوں کو اپنا مسلمان حکمران کہتے ہو اور ان کے چھوڑے ہوئے تاریخی ورثہ کا وارث ہونے کا دعوی کرتے ہو تو پہلے مجھے یہ بتاو،کہ تمہاری مساجد  جو مسلکی مساجد ہیں ان میں اور عیسائیوں ، یہودیوں یا بت پرستوں کی عبادت گاہوں میں کیا فرق ہے؟ تم خدا کی عبادت کرتے ہو اور وہ بھی خدا کی عبادت کرتے ہیں۔جنت کے اصلی حقدار وہ بھی اپنے آپ کو ہی سمجھتے ہیں اور تم بھی باقی سب ان کی نظر میں بھی جہنمی اور تمہاری نظر میں بھی!!!


مجھے اور کچھ سمجھ نا آیا ،آنٹی سے عرض کیا چھوڑیں جی ان باتوں کو اور سڑوکیں نوڈلز کو۔۔۔۔۔۔۔۔دل میں کہا "ایویں کھپ نا پا"


لیکن مجھے پرانے وقتوں کی بات یاد آگئی۔۔


 کہ ابھی ہمارے جاپان میں مساجد اکا دکا ہوتی تھیں تو لوگ ڈیروں پہ ہی با جماعت نماز پڑھ لیتے تھے۔ایک فیکٹری میں اکھٹے بارہ تیرہ بندے کام کرتے تھے تو انہوں نے ایک مخصوص کمرے کو نماز کیلئے وقف کر لیا تھا۔میں بھی کبھی کبھی ان کے پاس خوشی خوشی باجماعت نماز پڑھنے چلا جایا کرتا تھا۔


ایک ہی امام کو ماننے والے دو فرقوں کے مسلمان اکٹھے نماز پڑھتے تھے۔ حقیقتاً بڑا روح پرور ماحول تھا۔


جب بھی جاتا تھا نہایت خوشی خوشی واپس آتا تھا۔


ایک بار گیا تو ماحول میں نہایت گھٹن محسوس کی اور دیکھا کہ ایک گروہ نماز پڑھ کے فارغ ہوا تو دوسرے نے نیت کر لی باقاعدہ اقامت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اذان ایک ہی ہوئی تھی۔


پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کسی نے پاکستان سے ثواب کی نیت سے دو تختیاں بھیج دی تھیں۔ایک پہ یااللہ اور دوسری پہ یا محمد لکھا ہوا ہے۔


یا اللہ والی تختی کا کوئی پنگا نہیں تھا دوسری تختی کا مسئلہ کافی گھمبیر تھا، ایک گروہ کا کہنا تھا کہ یہ شرک ہے نماز والے کمرے میں یہ تختی نہیں لٹک سکتی دوسرے گروہ کے مطابق یہ گستاخ رسول ہیں تختی لٹکے گی۔


بات قتل غارت تک چلی جاتی لیکن اللہ بھلا کرے جاپان کا کہ سارے اوور اسٹے تھے لڑائی جھگڑا ہوتا تو پولیس آتی پولیس آتی تو سارے پاکستان واپس جاتے بس پیٹ پوجا نے فساد کرنے سے بچا دیا۔


تختی لگانے والے نے تختی لگائی جس نے نہیں لگانے دینی تھی اس نے بھی نہیں لگانے دی۔اسی فیکٹری میں ایک دوسرے کمرے میں  ایک اور عبادت خانہ بن گیا۔ہم ادھر تم ادھر۔ تو اپنا رانجھا راضی کر تے ساڈا اپنا رانجھا اے۔


میں نے مشورہ دیا تھا ،تختی لٹکائے بغیر بھی نماز ہو جائے گی۔اور لٹکانے سے بھی،  جو لٹکانے کی مخالفت کر رہے تھے ان سے بھی کہا تھا کہ آپ لوگوں کے مسلک میں اتنا خاص فرق نہیں ہے،لڑائی لڑائی معاف کرو اور مل جل کر رہو۔
بحرحال آنٹی نے مجھ پر اپنا غصہ نکالا یا سچی باتیں کیں ۔یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن میں جو پہلے ہی دماغی خلل کا شکار تھا ،اس میں اس نے اضافہ ضرور کردیا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت ہماری عمارات جنہیں ہم مساجد کہتے ہیں ۔


یہ اہلحدیثوں کی مسجد ہے ،یہ دیوبندیوں ، بریلویوں   اور  یہ اہل تشیع (امام بارگاہ)،کی مساجد ہم اپنی عبادت گاہوں کا تعارف اس طرح کراتے ہیں۔


میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ یہ سب مولوی ازم  یعنی مولوی اپنا ذریعہ معاش پکا کرنے کے چکر میں یہ سارا گھن چکر چلا رہا ہے اور عام مسلمان بیچارہ اس مولوی کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے۔


مولوی جس طرح فرقہ پرستی  کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے نفرت کے بیچ بو رہا ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری انگلش میڈیم نسل مذہب سے دور ہوتی جا رہی ہے اور قطعی طور پر دور ہو جانے کے امکانات نہایت روشن ہیں۔


اور میرا جیسا مسلمان جسے عموماً دقیانوس یا چودہ سو سالہ پرانی کھوپڑی والا کا طعنہ سننے کو ملتا ہے،وہ بھی ان عبادت گاہوں سے بیزار ہوتا جا رہا ہے۔میں تو برملا کہنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ میں ان عبادت گا ہوں سے سخت کراہت محسوس کرتا ہوں۔


ہر مسلک کی مسجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں ،لیکن جس عبادت گاہ کے مولوی کا فاسق و  فاجر ہونا نظر آجائے ادھر کا میں رخ نہیں کرتا۔


ہم نے اپنی عبادت گاہیں اسلام کے نام پہ تعمیر کی ہیں ،اور ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ یہ مساجد بن جائیں۔انفرادی طور  پرمیں تو یہی کر سکتا ہوں کہ ان عبادت گاہوں کا رخ کرنا چھوڑ دوں۔
اپنی عبادت گاہ بنانے کے بجائے گھر میں نماز پڑھ لوں۔ شاید اس  طرح مولوی ازم کو مات دی جا سکے۔جب لوگ ایک دکان سے خریداری کرنا چھوڑ دیں گے تو وہ دکان ناکام ہو جائے گی۔۔
اب یہ ہر مسلمان پہ ہے کہ وہ ناقص مال جس میں امن و آتشی ، وسیع القلبی ، رواداری نا ہو اس ناقص مال کو مہنگے داموں خریدتا رہے گا یا اسلام کی بنیاد کیطرف جانا چاھئے گا کہ اسلام تو آیا ہی امن و آشتی کیلئے تھا۔


اسلاف کے ورثے کے دعوے دار تو سارے ہی فرقے ہیں ،لیکن دوسرے فرقے والے کو جنت میں حصہ دینے کیلئے تیار نہیں۔ ایک دوسرے کی مساجد میں نماز پڑھنے سے  نماز کے فاسق ہونے کا ڈر۔۔۔
یہ سب مسلک تو ہو سکتا ہے۔اسلام نہیں ہو سکتا۔اللہ کا دین تو علم اور عمل کا دین ہے۔


اور ہم علم اور عمل دونوں سے دور نام کے مسلمان اسلام کو بدنام کرنے  کے کام میں اپنا اپنا حصہ حسب توفیق ڈال رہے ہیں۔
یہ میرے  جیسےایک عام مسلمان کے محسوسات ہیں خاص مسلمانوں کا اپنا نظریہ ضرورت ہوگا ،کسی کا کسی سے متفق ہو نا ضروری نہیں!!
خصماں نوں کھاو تے سانوں کی !!

ہم ہیں مسلماں سارا جہاں ہمارا ہم ہیں مسلماں سارا جہاں ہمارا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:58 AM Rating: 5

8 تبصرے:

ali کہا...

آنٹی پہنچی ہوئی کھا تون لگتی ہیں جی جو ہمیں بھی جاپانی جاپانی کر گئی آنٹی کی یہ بات

خورشید آزاد کہا...

یاسر بھائی آپ کے خیالات پڑھ کر مجھے حقیقت میں بےحد خوشی ہوئی ہے۔ اس وقت خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کو انہی خیالات اور رویے کی ضرورت ہے۔

یوٹیوب پر ان فرقوں کے مناظرے دیکھیں یا انگلستان میں اپنے اپنے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کران فرقوں کے مناظرے دیکھیں، دونوں کے پاس چھوٹی چھوٹی کتابوں کا انبھار پڑا ہواہوگا اور دونوں طرف سے ان چھوٹی چھوٹی کتابوں میں سے ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے ثبوت پیش کررہے ہوں گے۔ اس وقت میں یہ سب دیکھ یہی سوچ ذہن میں آتی ہے کہ ایک قرآن اور ایک رسول کو چھوڑ کر اگر ہم اسی طرح بے شمار چھوٹے چھوٹے قرآنوں اور رسولوں کے پیچھے لگ گئے تو ہمارا انجام وہی ہوگا جو ہورہا ہے۔

انگلستان میں ہمارے گھر کے قریب بریلویوں کی ایک چھوٹی سی مسجد ہے، اس سے تھوڑی دور دیوبندیوں کی مسجد ہے اس میں ایک جمعہ کو میں خبطے کے دوران ہی واپس گھر آگیا محرم تھا اورمیں اتفاق سے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے مولوی نے کالے کپڑوں کے بارے میں ایسی بات کردی کہ میرا دل کھٹہ ہوگیا ، اس کے سامنے ایک اور مسجد ہے تو بریولیوں کی لیکن اس میں دو تین جمعے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی مسجد کا امام مولوی نہیں ہے، اس مسجد کی بالکل مخالف طرف میں یو کے اسلامک مشن جو پاکستان جماعت اسلامی والوں کی ایک شاخ ہے کی مسجد ہے، اسی مسجد کے سامنے ایک عظیم الشان بریولیوں کی مسجد ہے، اور اس سے آگے ایک اور عظیم الشان مسجد ہے جو لگتا ہے وہابیوں کی ہے۔

دوسری طرف یہاں ہانگ کانگ میں جہاں ختم نبوت والوں کی مسجد ہوگی اس کے سامنے یا قریب دعوت اسلامی والوں نے بھی اپنی دکان کھولی ہوئی ہے۔ ایک دفعہ تو یہاں ہمارے گھر قریب بالکل آمنے سامنے ان دونوں تنظیموں کی مسجدیں بن گئی تھیں۔ پہلے ایک ہی مسجد تھی لیکن مسجد کے مولوی نے گیارویں شریف کرنے کی اجازت نہیں دی تو جوگیارویں شریف کرنا چاہتے تھے انہوں نے اپنے لئے بالکل سامنے مسجد بنادی۔

dohra hai کہا...

" پولیس آتی تو سارے پاکستان واپس جاتے بس پیٹ پوجا نے فساد کرنے سے بچا دیا۔" حقیقت میں بس یہی ٹاپ نمبر پوجا ہے کہیں بچا لیتی ہے تو کہیں مروا دیتی ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!
مسلمان قوم پچھلی تین صدیوں سے علم و تحقیق کو رخصت کئیے محض دو اینٹوں کی مسجد اور دو کمروں پہ مشتمل مکتب سے گزر بسر کر رہی ہے۔
اسلام میں مختلف مسالک دین کو سمجھنے کے مختلف مکاتب تھے۔ جنہیں ہم نے اپنی ذاتی اغراض و مقاصد کے لئیے گود لے لیا ہے۔اور آئے دن قتل و غارت اور دھینگا مشتی کرتے ہیں۔ جبکہ شاید کم لوگوں کو علم ہوگا کہ مختلف فقہ کے امام کا رشتہ آپس میں استاد شاگرد کا رہا ہے۔ اور انہوں نے اسلام کو سمجھنے کے لئیے اپنی اپنی سی وضاحت عام مسلمانوں کو کی ہے۔ جسے ہم نے اسلام کو سمجھنے میں مدد لینے کی بجائے اپنی کم علم اور جہالت کے ہاتھوں ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کے لئیے استعمال کیا ہے۔ جسے کچھ اغیار اور اسلام دشمن طاقتوں سے کئی صدیوں سے ہوا دی ہے۔ کیونکہ اسلام پسند قوتوں کی کمزوری میں اسلام پسند طاقتیں توانائی پاتیں ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ علم (جس کے وسیع تر معنی میں تحقیق لازم ہے) کو عام کیا جائے ۔ اور وہ مولوی حضرات جو پاکستان ۔ بھار ۔ بنگلہ دیش سے آکر کم علم مسلمانوں کے رہبر و رہنماء بن بیٹھے ہیں اور مختلف مساجد پہ قابض ہیں۔ انکے اعمال پہ گہری نظر رکھی جائے ۔ کہ آیا وہ خدا نخواستہ مسلمانوں کو اسلام کی بجائے فرقہ پرستی اور فرقہ واریت پہ مبنی نفرت کی تعلیم تو نہیں دے رہے ۔ اگر یوں ہو تو انہیں تمام تر ممکن طریقوں سے ایسا کئیے جانے سے روکنا بیرون ملک اسلام کی خدمت ہے۔ ورنہ آنے والی مستقبل کی مسلمان نسلیں اسلام سے دور ہو کر معدوم ہوجائیں گی۔
جہاں تک پاکستان کے اندر فرقہ واریت اور اسمیں ایک سازش کے تحت تشدد کا شامل کیا جانا ہے اس سازش کے تانے بانے توڑنا سب سے پہلے حکومتِ وقت کا فرض ہے۔ جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک سازش اور پروگرام کے تحت مختلف تعصبات جیسے صوبائی تعصب۔ لسانی تعصب۔ گروہی تعصب۔ نسلی تعصب۔ برادری تعصب۔ سیاسی تعصب کو ہوا دی گئی ہے اسی طرح فرقہ واریت کو متشدد کیا گیا ہے۔ جس قوم کو مسلسل تقسیم اور منتشر رکھا گیا ہے۔ تانکہ جب ساری قوم اندھی ہو گی تو کانے آسانی سے راجہ کہلوا سکیں گے۔ اور انکے اقتدار و اختیار کو کوئی آنکھوں والا ۔ علم و حکمت کی بینائی رکھنے والا چیلنج نہ کر سکے۔
جہاں تک جاپانی مائی یعنی مذکورہ تاریخ دان مائی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بصد احترام گزارش ہے کہ یہ وہی بولی ہے جو یوروپ اور امریکہ میں دانشوران اسلام کے لتے لینے کے لئیے بولتے ہیں اور یہ لوگ اس کسب میں کمال رکھتے ہیں۔ یہ انکا فن ہے اور اسمیں یہ خاصے طاق ہیں۔اور اس پہ ہمیں بد دل ہونی کی ضرورت نہیں۔ ہماری ضرورت محض اپنی صفیں درست رکھنا ہے ۔ اتحاد ۔ یگانگی اور اخوت کو قائم کرنا اور معاشرے اور عام زندگی میں احترام، برداشت اور تحمل کو رواج دینا ہے۔

dr iftikhar Raja کہا...

ابھی میں نے کچھ لکھ دینا ہے اور پھر مولبی لوگ ادھر ڈانگ لئے پھرتے ہونگے آپ کے بلاگ پر مجھے ڈھونڈتے ہوئے،
صاحب گزشتہ پانچ صدیوں سے اسلام کی شکل کو مسخ کردیا گیا، چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم معاملات کو اہم اور اہم معاملات کو غیر اہم بنا دیا گیا،حدیث نبوی ہے "طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة" علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، آپ کسی بھی مولبی سے پوچھیں تو کہے گا کہ جناب اس سے مراد علم دین ہے، میں پوچھتاہوں حضرت صاحب جامعیت واکملیت نے پھر طلب العلم الدین کیوں نہیں کہا، اگر طلب العلم کہا تو پھر اس سے مراد علم ہی ہے، یہ وہ فرض جس پر کبھی بات نہیں ہوتی، اگرہوتی تو ہم اس حال میں نہ ہوتے کہ آپ ادھر جاپان میں، علی پولینڈ میں اور میں اٹلی میں کھجل ہورہے ہوتے

عظمت حیات کہا...

اچھی تحریر ہے ۔ ہمارے معاشرےکی ایک بہت بڑی بیماری جس نے عوام الناس کو انتہائی سختی سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اور وہ لوگ جنہیں نماز کے فرائض تک کا پتا نہیں ہوتا وہ بھی اس بیماری میں مبتلاء ہیں۔
اللہ آپکو جزائے خیر دے لیکن اس بیماری کی بڑی وجہ جہاں دو روٹیوں کے امام ہیں وہیں میں اور آپ بھی ہیں۔ ہم لوگ ایک 50 روپے کا جوتا خریدتے وقت 100 جگہوں سے اس کی قیمت کی تصدیق کرتے ہیں جب کہ اتنے قیمتی دین کے لئے ہمیں 2 منٹ کے لئے بھی تحقیق و جستجو کی توفیق حاصل نہیں ہے۔ آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ بڑا مجرم کون ہے مسجد کی چار دیواری میں مقید مولوی یا پھر ہم خود۔ تحقیق کے دروازے کھلے ہیں اور دوسری بات کہ فروعی مسائل پہ بحث علماء کا حق ہے کہ علم کے نئے دریچے اور اسلام میں چھپے نئے نکتے ظاہر ہوتے ہیں نہ کہ عوام الناس کا۔ ہم اگر الجھیں گے تو یہ دو وقت کے مولوی ہمیں الجھائے گے اور اگر انہیں یہ احساس ہو جائے کہ ہمارے اندر تحقیقی مادہ ہے اور ہم دین کو جاننے اور سمجھنے کا شوق رکھتے ہیں تو ان دو رکعت کے مولویوں کا خودہی خاتمہ بالخیر ہو جائے

سعود کہا...

عظمت صاحب نے بالکل بجا لکھا.

لیکن اپنی اپنی مسجد نہیں بنائیں گے تو اسی مسجد کے لیے جھگڑیں گے جس سے خون خرابہ ہو گا وہ بھی ٹھیک نہیں۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ اثر و رسوخ آسانی سے اُسی کا پھیلے گا جس کے ہاتھ میں مسجد کی باگ دوڑ ہو گی۔ کریں تو کیا کریں؟؟؟

عمیر ملک کہا...

جرمنی میں اور خاص طور پر جس شہر میں میں اسوقت رہ رہا ہوں اس میں دو یا تین مساجد ہوں گی۔ کوئی ترکیوں کے زیر انتظام تو کوئی عربیوں کے زیر انتظام۔ سچ پوچھیں تو اتنا اچھا لگتا ہے جب میرے دائیں اور بائیں کھڑے حضرات مختلف مسلک کے ہوں۔ ایک بار تو عجیب سی سرخوشی ہوتی ہے جب پورے کمرے میں مجھے کسی ایک شخص کی زبان بھی سمجھ نہیں آ رہی ہوتی لیکن اللہ اکبر کی آواز آتے ہی سارے کے سارے جیسے کسی آفاقی زبان میں بات کر رہے ہیں۔ سب کو سمجھ آ رہی ہے، سب وہی کر رہے ہیں جو اللہ کہہ رہا ہے۔ یہ پہلو پاکستان میں نہ کبھی نظر آیا، نہ کبھی یہ سرخوشی محسوس ہوئی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.