روک تھام

جنگ عظیم دوئم کے بعد جاپان نے جیسے جیسے ترقی کی جاپان کا میڈیا بھی ترقی کرتا گیا۔

جاپان کا میڈیا  امریکی و یورپی میڈیا سے زیادہ متاثر ہے۔بلکہ ان کی نقل کرتا ہے۔جیسے جیسے معاشی ترقی ہوتی ہے میڈیا بھی سرمایہ کاری نظام کے زیر اثر آتا جاتا ہے۔

ٹیلیویزن کے پروگرام جتنے زیادہ مقبول ہوتے ہیں ،ان پروگرام کیلئے اتنے ہی زیادہ مہنگے اشتہارات ملتے ہیں۔

آج سے بیس پچیس سال پہلے جاپان کے میڈیا پر فحاشی عروج پر تھی ، پیسہ کمانے کی دوڑ میں ہر اخلاقی  اصول پامال کیا جاتا تھا۔

شریف النفس شہری پریشان رہتے تھے۔

ان با شعور شہریوں کی کوششوں سے  عوام کے منتخب نمائیند گان نے پارلیمنٹ میں میڈیا کو لگام لگانے کی قانون سازی کی۔

اگر یہ کہا  جائے کہ جاپان کا میڈیا انتہائی "مسلمان" ہے تو ایسا کچھ بھی نہیں  کیونکہ جاپان  کا ہر شہری اپنے پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔

اور جاپان کے آئین میں ہر شہری کو اپنے پسند کا مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے۔نا ہی کوئی کسی کو کچھ اپنانے پر مجبور کر سکتا ہے ۔اور نا ہی کسی مذہب کو اپنانے سے روک سکتا ہے۔

قانون اس وقت متحرک ہوتا ہے ،جب کوئی مخصوس "فرد" یا مخصوص  "مذہب" شہریوں کی تکلیف کا باعث بنے۔

عوام بھی کسی کے دین ایمان سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔جس کا جس کو دل کرے مانے بس دوسرے کو تکلیف نا دے۔

میں اگر نماز کے وقت رستے میں رکاوٹ بنے بغیر اپنی نماز پڑھنا شروع ہو جاوں تو مجھے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوگا۔

بلکہ  عوام کی اکثریت کوشش کرے گی کہ میری عبادت میں خلل  پیداناہو۔

کیوں کہ جاپان کے میڈیا پر مذہبی قوانین کے مطابق اخلاقی پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں بلکہ اس  کےلئے جو "جمہوریت" میں حدود ہوتی ہیں ۔

وہ ہی یہاں کے میڈیا کیلئے  لاگو ہیں۔کچھ جاپان کی اپنی معاشرتی ثقافت کے اصول ہیں ،جن کا شاید خیال کیا جاتا ہے۔

باقی جو کچھ یورپین یا امریکن دکھاتے ان سے کچھ بہتر ہی ہے۔"اسلامی جمہوری" قسم کی پاکیزگی یہاں کے میڈیا پر بھی دکھائی نہیں دیتی۔

بحرحال پاکستان کا ٹی وی ہم جاپان میں بسنے والے بھی پاکستان جا کر گھر والوں کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔

جاپان کا جو سرکاری ٹیلویزن چینل این ایچ کے ہے۔یہ ایک دیندار پکا مسلمان چینل ہے بلکہ اگر پاکستان کے ٹی وی چینل سے موازنہ کریں ۔

تو پکا نیک پروین حاجی ٹی وی چینل ہے۔باقی جو پرائیویٹ چینل ہیں وہ "آزادی کی حدود" کا خیال رکھتے ہوئے۔

سب کچھ دکھاتے ہیں۔اگر حد سے گذر جائیں تو جاپانی شہری فون کرکر کے ان کا ناطقہ بند کر دیتے ہیں ۔
جس کا نتیجہ ٹی وی چینل "ایسا پروگرام" بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کا میڈیا ہمارے معاشرے کی طرح بے مہار جانور وں کی طرح  ہےنا کوئی ضابطہ نا ہی کوئی قانون۔۔
عوام کے منتخب نمائیندگان کی ذہنی قابلیت کا اندازہ "واٹر کٹ " ایجاد کرنے والے  مسٹر وقار کے آگے پیچھے گھومنے والے بندروں کو دیکھ کر ہو جاتی ہے۔

اور جو اعلی تعلیم یافتہ و تربیت یافتہ اینکر حضرات یا اس میڈیا کو چلانے والے ہیں ان کی دماغ بیداری  بھی دکھائی دیتی ہے۔

بس دیکھنے والی آنکھ کی ضرورت ہے۔۔

آجکل جماعت اسلامی کے سابقہ امیر قاضی صاحب نے  میڈیا کی فحاشی کیخلاف تحریک چلائی  ہوئی ہے۔

لیکن پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بجائے۔

یہ کام بھی عدالت کے "چیف" صاحب کریں گے۔۔
عدالت فحاشی کے خلاف فیصلہ دے تو دے گی۔

کون بے غیرت ٹی وی دیکھنا چھوڑے گا؟

اور کون مہا بے غیرت عدالت کے فیصلے پر عمل کروائے گا؟

ایڈے وڈے مسلمان کون؟

 

 

 
روک تھام روک تھام Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:19 PM Rating: 5

3 تبصرے:

ٹوٹ بٹوٹ کہا...

خوب لکھا ہے جی ۔۔۔

Munir Abbasi کہا...

good question.

very thought provoking question and this question should be thought over in the context of recent efforts by channel owners and cable operators to pressurize this effort.

I guess there is no such aida wadda muslman in Islami Jamhooriya Pakistan.

ali کہا...

جاپانی صیب کیسی باتیں کرتے ہو؟
باقی مسئلہ اب فحاشی بچا ہے؟ ابھی ہمارے اونچے درجے والے لوگوں کو دوسرے ضروری کاموں سے فرصت نہیں اور نچلے درجے والے تو ویسے ہی نرگس کو پسند کرتےہیں۔
کتھوں دی فحاشی تے کیسی فحاشی؟
کبھی میں نے اپنی زندگی میں پاکستان کو کسی والد کو بچے کو سمجھاتے ہوئے نہیں کہا بیٹا خواتین کو اچھی نظر سے دیکھو وہ تمھاری ماں بہنیں ہیں، کسی والدہ کو سمجھاتے نہیں دیکھا کہ بیٹا بھوکے مر جانا حرام نہ کھانا یار پرانی نسل گزر گئی نئی کے کارنامے دیکھ رہے ہیں اور جو انکے بچے ہوں گے انکا اخلاق کیا ہوگا اندازہ لگا لیں۔
سوری میں ججباتی (جذباتی) ہو گیا لیکن مسئلہ صرف یہ ہے ہم خود گندے ہیں اور الزام دوسروں پر

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.