ایجاد

ٹوکیو کی ٹریفک رش بڑھی خطرناک ہوتی ہے۔ایک وقت تھا کہ جو ٹوکیو کی ٹریفک میں پھنس گیا سمجھو گیا۔


 تو کئی بار ایسا ہوا کہ چھوٹا پیشاب آیا تو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔


  موتر تو برداشت کرنا کافی مشکل کام ہے۔


 کسی نا کسی طرح وہیں پہ کھڑے کھڑے فراغت حاصل کی۔۔


 کسی کی نظر پڑی بھی تو "بے حیا " "بے شرم" " ڈھیٹ" بن گئے۔


 دل میں یہی سوچا " جا اوئے" تو ویں کہہ لے " " دیکھو کھوتاکھڑا موتر رہا ہے"


 ہماری دیدہ دلیری کی ایک وجہ جاپانی قوم کا "با شعور" ہونا بھی ہے۔


 کہ جو بات قدرتی علم سے ثابت شدہ ہے۔اس کا ہر کسی کو شعور ہے۔مجبور کی مجبوری دیکھ کر ہر کوئی پھنے خان بننے کا موقع نہیں "تاکتا" رہتا۔


اول تو جاپان کے کسی علاقے میں بھی چلے جائیں "پبلک ٹٹیاں" لازمی ہوں گی۔صفائی کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔


ٹائلٹ پیپر بھی لازمی ہوتے ہیں۔


بعض گندی بھی ہوتی ہیں۔لیکن ایسی بھی نہیں کہ پاکستان کے کسی ہوٹل یا پیٹرول و گیس پمپ پہ "فراغت "  کیلئے جائیں تو معدہ لازمی "خالی" کرتے واپس ہونا پڑتا ہے۔


"پبلک ٹٹیوں" کی سہولت ہونے کے باوجود بعض "باشعور" صاحبان کھڑے کھڑے "فراغت ضروریہ " حاصل کرنا اپنا قدرتی حق سمجھتے ہیں۔ "دکھائی " دیئے جانے والی بے حیائی کو بے حیائی میں شمار نہیں کیا جاتا۔


اس کی وجہ جیسے ہمارے معاشرے  میں مشترکہ خاندانی نظام ہوتا ہے جسے ہم جوائینٹ فیملی سسٹم کہتے ہیں اسی طرح جاپان میں مشترکہ حمامی نظام ہے۔ گرم قدرتی پانی کے حماموں میں غیر ملکی بیچارے بھی جھینپ رہے ہوتے ہیں۔۔


اس پاکستانی سیاسی نظام کی طرح کے جاپانی حماموں میں خاص کر مادر پدر آزاد "یورپین" کو شرماتے دیکھا جا سکتا ہے ، ہم پاکستانی تو ایسا موقع جانے نہیں دیتے اور کچھ نا سہی "ننگا" ہونے کا فخر ڈھنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔۔


اطلاعاً عرض کر دوں کہ یہ "بے حیائی" علیحدہ علیحدہ ہوتی ہے۔نا کہ مخلوط۔۔۔اس لئے پاسپورٹ جو آپ نے ہاتھ میں پکڑ لیا ہے اسے واپس رکھ دیں۔ کم از کم ماہ رمضان میں شرم کا روزہ ہی رکھ لیں۔


اوہ۔۔۔۔یاد آیا بات ہو رہی تھی  ٹوکیو کے ٹریفک رش کی ۔بندے کے جینیئس ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بات کچھ شروع کرتا ہے اور نکل کہیں اور جاتا ہے۔۔۔ہیں جی


ٹریفک میں پھنس کر جب موترنے کی شدت محسوس ہوتی تھی تو  ہماری "فطری حیا" ہمیں بہت تکلیف دیتی تھی۔


ضرورت تو ایجاد کی ماں جی ہے۔


تو ہم نے بھی ایک ایجاد کی تھی جسے فخریہ پیش کرتے ہوئے ہم کچھ " شرما" رہے ہیں شرمیلا فاروقی کی طرح۔۔۔۔ہیں جی


“ایک لیٹر والی پانی کی بوتل خریدیئے پہلے نوش فرمائے اور پھر استعمالئے اور پھر اسے گاڑی کے فیول ٹینک میں ڈالیے! ۔۔”(سائینسدان بھتیجا خوش ساڈی خیر اے)

ایجاد ایجاد Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:22 PM Rating: 5

12 تبصرے:

انکل ٹام کہا...

اونی چاں اگر کبھی وقت ملے تو جاپان کی ہاٹ سپرنگز اور انکی تاریخ پر بھی کچھ لکھ ماریں ۔

سعد کہا...

آپ تھوڑی اور تحقیق کرتے تو آخری فقرہ کچھ اس طرح ہو سکتا تھا:

“ایک لیٹر والی پانی کی بوتل خریدیئے پہلے نوش فرمائے اور پھر استعمالئے اور پھر اسے گاڑی کے فیول ٹینک میں ڈالیے! ۔۔”

محمد بلال خان کہا...

اس ایجاد میں مزید ترمیم کرکے ایک کٹ بنادیں اس کا کنکشن بیٹری سے دے دیں ۔ پھر بوتل کو کٹ سے کنکٹ کردیں ۔ بیت الخلاء بھی اور فیول بھی ۔

وقاراعظم کہا...

بہت اعلی پیرصیب...
کیا زبردست ایجاد ہے :D

جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔ کہا...

مبارک ہو پیر صاحب ۔ آپ نے تو ایجاد کو ایجاد کر دیا ہے ۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

اس لئے پاسپورٹ جو آپ نے ہاتھ میں پکڑ لیا ہے اسے واپس رکھ دیں
بندے کے جینیئس ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بات کچھ شروع کرتا ہے اور نکل کہیں اور جاتا ہے


اخیررررررررررررررر
مجھے یکدم پہلا خیال اگلا سفر جاپان کا کرنے کا آیا تھا
:D :D :D :D

dohra hai کہا...

بہت اعلی اور کمال تحریر ہے جناب کی

ali کہا...

بھائی جان بھلا پانی سے گاڑی کا انجن اچھا چلے گا یا ریفائن پانی سے جس کی طرف آپ نے اہم نشاندہی کی ہے؟

dr iftikhar Raja کہا...

مولانا صاحب حیا تو بندے کے اندر کی چیز ہے، پنجابی میں ایک لفظ ہے لنگ لتھے، بس جاپانی لوگ بمعہ یورپین کے حمام میں ہوتے ہیں اور جسمانی طور پر جبکہ ہمارے ہاں یہ مخلوق سیاست میں، حکمران طبقہ میں بلکہ عوام میں بھی بکثرت پائی جاتی ہے مگر روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر، حق بات یہی ہے کہ ہم لوگ اخلاقی طور پر ننگے ہیں، جسمانی طور پر چاہے کجے ہوئے ہی ہوں

ڈفرستان » تھُوک کٹ کہا...

[...] مافیا کی وجہ سے خاطرخواہ پذیرائی نہ مل سکی۔ اس کے بعد موتر کٹ اور واٹر کٹ سے گاڑی چلانے کی شہرہ آفاق پروپوزل اور [...]

فرخ کہا...

مولانا، شاپر کا استعمال زیادہ سستا اور آسان رہتا ہے... بوتل کا منہ اتنا کھلا نہیں ہوتا جتنا شاپر کا....

ابو عبد اللہ کہا...

بہت اچھی تحریر ہے آپ اپنی ایجاد رجسڑ کر وا لیں-

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.